موضوع:بری عادتیں (قسط 17)
علمِ دین کے حصول میں حائل رکاوٹوں کا سلسلہ جاری ہے ، ذیل میں بیان کردہ دو باتیں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں:
مہنگائی کا بہانہ
دینی مدارس وہ پاکیزہ اور روشن مراکزِ علم ہیں جہاں قرآن و سنت کی تعلیم کے زیرِ سایہ امت کے لئے راہ نما، مبلغات اور راسخ العقیدہ عالمات تیار ہوتی ہیں۔یہ وہ مبارک ادارے ہیں جن کی بدولت دینِ اسلام کی روشنی صدیوں سے قائم ہے اور آج بھی قلوب و اذہان کو منور کر رہی ہے۔مگر افسوس کہ ایسے عظیم مقصد کے باوجود بعض دینی اسٹوڈنٹس مہنگائی اور مالی مشکلات کو بہانہ بنا کر تعلیم میں کوتاہی کرنے لگتے ہیں۔حالانکہ موجودہ دور میں جب عزیمت،استقامت اور دینی خدمت کی ضرورت سب سے زیادہ ہے، اس وقت یہ بے توجہی نہ صرف علمی نقصان کا سبب ہے بلکہ روحانی کمزوری اور جذبۂ طلبِ علم میں کمی کی علامت بھی ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ تسلیم شدہ ہے کہ آج مہنگائی عام ہو چکی ہے، ضروریاتِ زندگی کے نرخ کئی گنا بڑھ چکے ہیں اور آمدن کے ذرائع محدود ہو گئے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا مہنگائی نے ایمان کی مضبوطی، ارادے کی پختگی، تَوَکُّل کی کیفیت اور شوقِ علم کی حرارت کو بھی مہنگا کر دیا ہے؟
جب ایسے اسٹوڈنٹس سے سبق میں کوتاہی، عدم دلچسپی یا تعلیم چھوڑنے کی وجہ پوچھی جائے تو عموماً جواب ملتا ہے: حالات خراب ہیں، مہنگائی بڑھ گئی ہے، کتابیں نہیں خرید سکتے، اس لئے پڑھائی جاری رکھنا ممکن نہیں۔بے شک مہنگائی ایک حقیقی مسئلہ ہے،مگر اسے علم چھوڑنے کا جواز بنانا درست نہیں۔تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ بے شمار عالمات و طالبات نے شدید غربت، فاقہ کشی، مشقت اور تنگ دستی کے باوجود علم کی شمع روشن رکھی۔ انہوں نے کبھی حالات کو عذر نہیں بنایا،بلکہ صبر،شوق اور توکل کے ساتھ علم حاصل کیا۔یہی وہ روشن مثالیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ استقامت رکھنے والا طالبِ علم مشکل سے نہیں ٹوٹتا بلکہ مشکل سے مضبوط ہوتا ہے۔
قرآن و سنت کی روشنی میں
اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِب
(پ28،الطلاق:3،2)
ترجمہ:اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان بھی نہ ہو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلے اللہ پاک اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔([1])
دینی علم کے راستے میں مشکلات آنا کوئی نئی بات نہیں۔ ہمیشہ سے محنت، صبر اور آزمائش اس سفر کا حصہ رہے ہیں۔مگر جس دل میں ایمان اور یقین ہو وہ رکاوٹوں سے نہیں رکتا، بلکہ ہر مشکل کو پہلا قدم بناتا ہے۔
موجودہ دور کے مسائل
آج کے زمانے میں ایک کمزوری نمایاں ہو گئی ہے کہ بہت سے دینی اسٹوڈنٹس دنیاوی سہولتوں کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ذرا سی کمی پر حوصلہ بیٹھ جاتا ہے۔کھانا پسند کا نہ ہو تو مزاج بگڑ جاتا ہے،موبائل نہ ہو تو پڑھائی میں دل نہیں لگتا، جیب خرچ کم ہو تو مایوسی چھا جاتی ہے اور اگر کتابیں یا یونیفارم مہنگے ہوں تو فوراً یہ جملہ زبان پر آ جاتا ہے:مہنگائی بہت ہے، پڑھائی مشکل ہے!حالانکہ یہ سوچ زیادہ تر حوصلے کی کمی کی علامت ہوتی ہے، نہ کہ حقیقی مجبوری۔
ایسے طلبہ وطالبات کو چاہیے کہ اپنے نفس کو مضبوط بنائیں۔ مہنگائی ہے تو صبر کریں، مالی کمی ہے تو دعا اور محنت کا سہارا لیں اور اگر کوئی ظاہری مددگار نہیں تو اللہ پاک کی مدد پر بھروسا کریں۔وہی حقیقی مددگار ہے۔
سچے طالبِ علم کا معیار
سچے دینی طلبہ وطالبات اپنا مقصد دنیا سے نہیں جوڑتے بلکہ اللہ پاک کی رضا سے جوڑتے ہیں۔انہیں معلوم ہوتا ہے کہ
*غربت وقتی ہے، مگر علم دائمی سرمایہ ہے۔
*دنیاوی آسائشیں عارضی ہیں، مگر علمِ دین ایک دائمی نور ہے۔
*جو اللہ پاک کے لئے قربانی دیتا ہے، اللہ پاک اسے بے حساب عطا فرماتا ہے۔
علمِ دین عبادتِ عظیم ہے اور عبادت میں آزمائش آ ہی جاتی ہے۔کامیاب وہ ہے جو ان آزمائشوں میں ثابت قدم رہے۔مہنگائی ایک وقتی رکاوٹ ہے، مگر علمِ دین وہ خزانہ ہے جسے پانے والے کو اللہ پاک دنیا وآخرت دونوں میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔
مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے عملی طریقے
*قناعت اپنائیے:کم پر خوش رہنا سب سے بڑی دولت ہے۔
*محنت اور خود داری:چھوٹے موٹے کام کر کے تعلیم جاری رکھنا عار نہیں۔
*دعائیں اور توکل:اللہ پاک کے حضور رزق و آسانی کی دعا کرتے رہیے۔
*تعاون کا نظام:اسٹوڈنٹس آپس میں تعاون کریں، ڈریسز، بکس اور نوٹس شیئر کریں۔
*شکر گزاری:جو میسر ہو، اسی پر شکر ادا کیجئے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ دینی اسٹوڈنٹس مہنگائی کو بہانہ بنانے کے بجائے محنت، صبر، قناعت اور توکل کو اپنا زادِ راہ بنائیں۔ جو علم اللہ پاک کے لئے حاصل کرتا ہے،اس کے لئے اللہ پاک خود راستے آسان فرما دیتا ہے۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمارے دینی طلبہ وطالبات کے لئے طلبِ علم کی تمام رکاوٹیں دور فرمائے،انہیں صبر،قناعت اور استقامت عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
کلاس روم میں کھانے پینے کے نقصانات
دینی ادارے در اصل وہ مقدس تربیت گاہیں ہیں جہاں اسٹوڈنٹس علمِ نبوت کے وارث بننے کی تیاری کرتے ہیں۔ یہاں صرف کتابیں نہیں پڑھائی جاتیں بلکہ ادب،وقار اور روحانیت سے بھرپور ماحول میں کردار سازی بھی کی جاتی ہے۔ ایسی پاکیزہ فضا میں معمولی سی بے احتیاطی بھی دینی آداب کے منافی سمجھی جاتی ہے۔انہی آداب میں سے ایک اہم ادب یہ بھی ہے کہ کلاس روم میں کھانے پینے سے پرہیز کیا جائے، کیونکہ اس کے نہ صرف تعلیمی بلکہ اخلاقی اور روحانی نقصانات بھی ہوتے ہیں۔
علمی نقصان
کلاس روم علم حاصل کرنے کی جگہ ہے، نہ کہ کھانے پینے کا مقام۔جب اسٹوڈنٹس کھانے میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ان کی توجہ سبق سے ہٹ جاتی ہے،دماغ علمی گفتگو کی بجائے خواہشات کو پورا کرنے میں مشغول ہو جاتا ہے اور ٹیچرز کے الفاظ دل ودماغ میں اترنے کے بجائے محض پسِ منظر کی آواز بن جاتے ہیں۔یوں قیمتی علمی اوقات ضائع ہو جاتے ہیں، جو دوبارہ حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
روحانی نقصان
دینی تعلیم محض الفاظ کا علم نہیں بلکہ نورِ علم ہے۔جب انسان بے ادبی یا غفلت کے ساتھ علم حاصل کرتا ہے تو دل کی نورانیت متاثر ہوتی ہے، برکتیں کم ہو جاتی ہیں اور وہ روحانی اثر حاصل نہیں ہوتا جو اخلاص، احترام اور ادب کے ساتھ علم حاصل کرنے سے ملتا ہے۔ایسے میں علم صرف یادداشت تک محدود رہ جاتا ہے اور دل و دماغ پر اس کا حقیقی اثر نہیں پڑتا۔اس کے علاوہ ادب اور احترام کی کمی سے استاد اور ماحول کی برکتیں بھی متاثر ہوتی ہیں اور طلبہ میں روحانی شوق ولگن کمزور ہو جاتی ہے۔لہٰذا علم حاصل کرنے کے دوران ادب، توجہ اور خلوص کو ہر حال میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ علمی اور روحانی دونوں فوائد یکجا حاصل ہوں۔
ادارے کے وقار کو نقصان
دینی ادارے کا ماحول عام دنیوی اداروں سے ممتاز اور پاکیزہ ہوتا ہے۔اگر وہاں کھانے پینے کی آزادی ہو جائے تو ماحول میں سنجیدگی اور روحانیت کمزور ہو جاتی ہے۔اس کا اثر نہ صرف ذاتی رویے پر پڑتا ہے بلکہ دیگر اسٹوڈنٹس بھی بے ادبی اور لاپروائی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔مزید برآں آنے والے مہمان اور زائرین پر یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ یہ ادارہ نظم و ضبط اور ادب سے خالی ہے۔یوں ایک فرد کی لاپروائی پورے ادارے کی ساکھ اور وقار پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اور ادارے کی تقدس بھری فضا متاثر ہو جاتی ہے۔
ٹیچرز کے احترام میں کمی
جب ٹیچرز سبق پڑھا رہے ہوں اور اسٹوڈنٹس کھانے میں مشغول ہوں تو یہ نہ صرف بے ادبی ہے بلکہ ٹیچرز کے علم اور مقام کی توہین کے مترادف بھی ہے۔ادب اور احترام کے بغیر علم کا حقیقی فیض حاصل نہیں ہوتا،کیونکہ شاگرد کے دل میں ادب نہ ہو تو استاد کے الفاظ دل و دماغ میں اثر نہیں چھوڑ پاتے۔ اسی لئے کلاس روم میں ادب اور ٹیچرز کے احترام کو اولین ترجیح دینا نہایت ضروری ہے۔
کلاس روم میں کھانے سے صفائی و صحت کے مسائل
کلاس روم میں کھانے کے دوران ٹکڑے،ریزے اور چھینٹے فرش یا قالین پر گر جاتے ہیں،جس سے چیونٹیاں، کیڑے مکوڑے اور بدبو پیدا ہو سکتی ہے۔یہ نہ صرف دیگر اسٹوڈنٹس کے لئے تکلیف دہ ہے بلکہ صحت کے مسائل کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اسلام میں صفائی ستھرائی پر خصوصی زور دیا گیا ہے، لہٰذا گندگی اور بے ترتیبی نہ صرف جسمانی بلکہ روحانی ماحول کو بھی متاثر کرتی ہے۔
وقت کا ضیاع
سبق کے دوران یا اس کے آغاز و اختتام پر کھانے پینے میں لگنے والا وقت اگرچہ معمولی لگتا ہے،مگر روزانہ کے معمولات میں جمع ہو کر قیمتی مطالعے کا وقت ضائع کر دیتا ہے۔اس سے نظم وضبط متاثر ہوتا ہے اور اسٹوڈنٹس میں سستی اور بے وقت عادات پیدا ہو جاتی ہیں۔
نفسیاتی اثرات
جب کچھ اسٹوڈنٹس کھاتے ہیں اور کچھ نہیں، تو دوسروں کے دل میں احساسِ محرومی پیدا ہو سکتا ہے۔اس سے اجتماعی ماحول میں عدمِ یکسانیت اور بے اطمینانی جنم لیتی ہے۔یوں دینی جماعت کے لئے ضروری اتحاد متاثر ہوتا ہے۔
کلاس روم کی اہمیت اور ادب
کلاس روم عبادت گاہ کی مانند ہے، جہاں علمِ دین کے جواہر بانٹے جاتے ہیں۔ایسے مقام پر کھانے پینے سے نہ صرف علمی برکت کم ہوتی ہے بلکہ روحانی وقار بھی متاثر ہوتا ہے۔دینی اسٹوڈنٹس کے شایانِ شان یہی ہے کہ وہ درس کے وقت ادب،خاموشی اور یکسوئی کے ساتھ بیٹھیں۔کھانے پینے کا وقت مخصوص وقفے میں اور مخصوص جگہ پر ہونا چاہیے تاکہ علم کا احترام قائم رہے اور نظم وضبط بھی برقرار رہے۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں اور خاص طور پر ہمارے دینی اسٹوڈنٹس کو ادب، وقار اور نظم و ضبط نصیب فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* لاہور
Comments