موضوع: خواتین کا اندازِ گفتگو کیسا ہو؟
فرمانِ الٰہی ہے:
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ(۳۲)(پ22،الاحزاب:32)
ترجمہ: اے نبی کی بیویو!تم اور عورتوں جیسی نہیں ہو۔اگرتم اللہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اورتم اچھی بات کہو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
تفسیر
امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:اللہ پاک نے خواتینِ امت کو یہ تاکید فرمائی ہے کہ ان کی گفتگو میں عفت و وقار کی جھلک ہو۔ان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ مضبوط اور فیصلہ کن ہو،جس میں کسی قسم کا شک یا غیر ضروری لچک نہ ہو۔مقصد یہ ہے کہ آواز کی نزاکت اور لہجے کی دلربائی دلوں میں کوئی ایسی کشش یا لگاؤ پیدا نہ کرے جو کسی کمزور دل شخص کو ہوس یا گناہ کی طرف مائل کرے۔یہ اس رویے سے بچنے کے لئے ضروری ہے جو عرب کی خواتین کا تھا کہ جو مردوں سے ہم کلام ہوتے وقت آواز کو باریک اور ملائم کر لیتی تھیں۔یہ ایسا طرزِ تخاطب تھا جو بدنام اور شک و شبہ میں پڑی ہوئی عورتوں کا شیوہ سمجھا جاتا تھا۔لہٰذا ربِّ کریم نے خواتین کو اس اندازِ کلام سے قطعی طور پر منع فرما کر انہیں گفتگو کا ایسا انداز اختیار کرنے سے منع فرمادیا۔ ([1])
اُمہات المومنین اس حکمِ الٰہی پر اس قدر شدت سے کاربند تھیں کہ جب وہ کسی غیر محرم سے مخاطب ہوتیں تو کمالِ حیا کے سبب اپنا ہاتھ مبارک اپنے منہ پر رکھ لیتیں اور اپنی آواز کو جان بوجھ کر تبدیل فرما دیتیں۔یہ اہتمام صرف اس خوف سے تھا کہ کہیں سننے والا ان کی آواز کی فطری باریکی اور نزاکت کو محسوس نہ کر لے۔گویا ان کا ہر عمل آواز کے پردے کا عملی نمونہ تھا۔شریعت نے غیر محرم سے گفتگو کے وقت خواتین کے لئے لہجے کی پختگی اور اندازِ بیان کی سنجیدگی اختیار کرنے کو ان کی امتیازی خصوصیات میں شامل فرما کر اسے ان کی عفت و حیا کا مظہر قرار دیا ہے۔ ([2])
علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضور کی مقدس بیویاں امت کی مائیں ہیں اور انسان اپنی ماں کے بارے میں بری اور شہوانی سوچ رکھنے کا تصور تک نہیں کر سکتا، اس کے باوجود انہیں بات کرتے وقت نرم لہجہ اپنانے سے منع کیا گیا تا کہ جو لوگ منافق ہیں وہ کوئی لالچ نہ کر سکیں کیونکہ ان کے دل میں اللہ پاک کا خوف نہیں ہوتا جس کی بنا پر ان کی طرف سے کسی برے لالچ کا اندیشہ تھا،اس لئے نرم لہجہ اپنانے سے منع کر کے یہ ذریعہ ہی بند کر دیا گیا۔ ([3])
اس سے واضح ہوا کہ جب حضور کی مقدس بیویوں کے لئے یہ حکم ہے تو بقیہ کے لئے یہ حکم کس قدر زیادہ ہو گا!
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اپنی عفت اور پارسائی کی حفاظت کرنے والی خواتین کی شان کے لائق یہی ہے کہ جب انہیں کسی ضرورت،مجبوری اور حاجت کی وجہ سے کسی غیر مرد کے ساتھ بات کرنی پڑ جائے تو ان کے لہجے میں نزاکت نہ ہو اور آواز میں بھی نرمی اور لچک نہ ہو بلکہ ان کے لہجے میں اجنبیت ہو اور آواز میں بیگانگی ظاہر ہو،تا کہ سامنے والا کوئی برا لالچ نہ کر سکے اور اس کے دل میں شہوت پیدا نہ ہو۔
جب حضور کے زیرِ سایہ زندگی گزارنے والی اُمت کی ماؤں اور عفت و عصمت کی سب سے زیادہ محافظ مقدس خواتین کو یہ حکم ہے کہ وہ نازک لہجے اور نرم انداز سے بات نہ کریں تا کہ شہوت پرستوں کو لالچ کا کوئی موقع نہ ملے تو دیگر عورتوں کے لئے جو حکم ہو گا اس کا اندازہ ہر عقل مند انسان آسانی کے ساتھ لگا سکتا ہے۔
اللہ پاک اپنے نبی کی بیویوں کو آدابِ گفتگو سکھاتا ہے لیکن تمام امت کی عورتوں کے لئے بھی اسی ادب کو ملحوظِ خاطر رکھنا لازم ہے کیونکہ یہ ان کی ماتحت ہیں۔معاشرے میں جو بگاڑ پیدا ہوتا ہے اس کا پہلا سبب عورت کا مردوں سے نرم لہجے میں گفتگو کا سہارا لے کر مردوں کو گمراہ کرنا ہے۔قرآن نے سکھا دیا کہ عورت کو اگر غیر مرد سے گفتگو کی ضرورت پڑ جائے تو لہجہ نرم نہ رکھے کہ یہ فتنے کا سبب بن سکتا ہے ۔
افسوس!ہمارے معاشرے میں آزادی،روشن خیالی اور معاشی ترقی کے نام پر عورتوں کو غیر مردوں کے ساتھ باتیں کرنے کے نت نئے مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں بلکہ عورتوں کو نازک لہجے اور نرم انداز سے بات کرنے کی باقاعدہ تربیت دے کر ایجوکیشن،میڈیکل،ٹریولنگ،ٹریڈنگ،میڈیا اور ٹیلی کام وغیرہ شعبہ جات میں استعمال کیا جاتا ہے یہاں تک کہ دنیوی شعبہ جات میں عوامی راہ نمائی اور خدمت کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جہاں تربیت یافتہ عورت موجود نہ ہو۔
عورت اور اس کی آواز میں فطری کشش
اللہ پاک نے عورت کی شخصیت میں ایسی کشش رکھی ہے جو مرد کو اپنی جانب مائل کرتی ہے،اسی لئے اسےپر دہ کرنے اور نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ عورت کی آواز میں نرمی،نزاکت اور کشش فطری طور پر موجود ہے۔اس لئے عورت کو ہدایت دی گئی کہ وہ غیر محرم مرد سے بات کرتے وقت ایسا لہجہ اختیار کرے جس میں نرمی اور کشش نہ ہو بلکہ مضبوطی اور سنجیدگی ہو۔یہ حکم صرف حضور کی مقدس بیویوں کے لئے مخصوص نہیں،بلکہ تمام مسلمان عورتوں کے لئے عام ہے،کیونکہ حضور کی بیویاں تمام امت کی عورتوں کے لئے بہترین نمونہ ہیں ۔
عورت کو مرد کے ساتھ بقدرِ ضرورت گفتگو کی اجازت ہے نہ کہ بے تکلفی کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے کی ۔جیسا کہ علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ہم وقتِ ضرورت اجنبی عورتوں سے کلام کو جائز سمجھتے ہیں۔البتہ!یہ جائز قرار نہیں دیتے کہ وہ اپنی آوازیں بلند کریں،گفتگو کو بڑھائیں،نرم لہجہ رکھیں یا مبالغہ کریں ،کیونکہ اس طرح تومردوں کو اپنی طرف مائل کرنا ہے اور ان کی شہوات کو ابھارنا ہے،اسی وجہ سے تو عورت کا اذان دینا جائز نہیں ۔ ([4])
اندیشۂ فتنہ و خلوت نہ ہونے کی صورت میں نا محرم رشتہ دار سے ضروری بات کرنے کی اجازت سے متعلق اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا کہ کتنے شخص ایسے ہیں جن سے عورتوں کو گفتگو کرنا اور ان کو اپنی آواز سنانا جائز ہے؟ تو آپ نے فرمایا: تمام محارم اور حاجت ہو اور اندیشۂ فتنہ نہ ہو،نہ خلوت ہو تو پردہ کے اندر سے بعض نا محرم سے بھی ۔ ([5])
امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:عورت کو چاہیے کہ غیر مرد سے بات کرنی پڑے تو ایسی آواز ر کھے جس میں نرمی اور لچک نہ ہو،بلکہ بِالکل سادہ اور نارمل ہو،نہ مسکرائے،نہ ہنسے اور نہ ہی ایسی لفٹ دے کہ جس سے اگلا آزمائش میں مبتلا ہو۔البتہ ایسا انداز نہ ہو کہ سامنے والے کو غصّہ آ جائے اور وہ جھگڑا کرنے لگے۔ ([6])
اللہ پاک ہمیں جو اندازِ گفتگو سکھایا گیا اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلز فیضانِ اُمِّ عطار
[1] تفسیر قرطبی،7/130،جزء:14ملخصاً
[2] تفسیر روح المعانی،جزء:22/254ملخصاً
[3] حاشیہ صاوی، 5/1637ملخصاً
[4] رد المحتار، 2/ 97
[5] فتاویٰ رضویہ، 22/ 243
[6] پیٹ کی بیماریوں کا علاج،ص3


Comments