63 نیک اعمال(نیک عمل نمبر 37)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


(63 نیک اعمال)

(نیک عمل نمبر 37)

رضائے الٰہی کی خاطر کسی سے محبت کرنا اور دین کی خاطر بھائی چارہ قائم کرنا نہ صرف افضل ترین نیکی ہے بلکہ سب سے خوبصورت اخلاقی عادت بھی ہے۔ایسے لوگ،جو اللہ پاک کی رضا کے لئے دوسروں سے محبت کرتے ہیں،اللہ پاک کے نزدیک محبوب سمجھے جاتے ہیں اور ان کے دل نفرتوں اور حسد سے پاک و صاف رہتے ہیں۔اچھے اخلاق کی بدولت معاشرے میں الفت، محبت اور بھائی چارہ قائم ہوتا ہے، جبکہ برے اخلاق اور خود غرضی حسد،دشمنی اور جدائی کو جنم دیتی ہے۔حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو چیز سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی وہ خوفِ خدا اور اچھا اخلاق ہے۔([1])ایک اور روایت میں ہے:قیامت کے دن میرے نزدیک سب سے محبوب اور قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں، جن کے پہلو دوسروں کے لئے نرم ہیں،جو دوسروں سے محبت کرتے ہیں اور جن سے محبت کی جاتی ہے۔([2])

یہی وجہ ہے کہ رضائے الٰہی کے لئے ایک دوسرے سے دوستی رکھنا اور محبت کرنا نہ صرف اچھی عادت ہے بلکہ عبادت کے مترادف ہے۔جب دو شخص اللہ پاک کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو اللہ پاک کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے دوست سے زیادہ محبت رکھتا ہے،([3]) کیونکہ یہ محبت خالص اور غیر مشروط ہوتی ہے۔اس طرح کا تعلق نہ صرف دلوں کو نرم کرتا ہے بلکہ معاشرتی رشتوں میں استحکام اور تعاون پیدا کرتا ہے اور دین کی خدمت میں آگے بڑھنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

ذاتی دوستیاں اور تنظیمی ترقی

ذاتی دوستیاں اور قریبی تعلقات بلا شبہ زندگی میں سکون اور خوشی کا ذریعہ ہیں، مگر دینی یا تعلیمی اداروں، گروپ یا تنظیمی کاموں میں یہ تعلقات بعض اوقات رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ جب افراد ذاتی تعلقات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں یا اپنی پسند ناپسند کو ترجیح دیتے ہیں تو مجموعی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔چنانچہ کسی بھی تنظیم کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنے ذاتی تعلقات کو ایک طرف رکھ کر کام کے اصولوں اور مقصد کو ترجیح دے۔اس طرح نہ صرف ادارے کی کارکردگی بہتر ہو گی بلکہ ہر رکن کی شخصیت میں نظم وضبط، ایمان داری اور پیشہ ورانہ رویہ بھی پروان چڑھے گا۔لہٰذا اسی بات کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ  نے نیک اعمال کے رسالے میں یہ سوال عطا فرما کر درست راہ متعین کرنے کی ترغیب دلائی ہے کہ کیا آ پ  کی کسی ایک یا چند سے دنیوی طور پر  ذاتی دوستی ہے؟( ذاتی دوستیاں اور گروپ، تنظیمی کاموں کی ترقی میں عام طور پر رکاوٹ بنتے ہیں۔)

امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ نے اخلاقیات کے تزکیہ اور معاشرتی حُسنِ سلوک کے لئے یہ نیک عمل عطا فرمایا اور اُمتِ محمدیہ پر احسان عظیم کیا۔کہا جاتا ہے کہ رضائے الٰہی کے لئے بھائی چارہ قائم کرنے والے جب ایک شخص کو بلند مقام حاصل ہوتا ہے تو وہ اپنے بھائی کو بھی اسی مقام پر لے آتا ہے۔اس طرح کا تعلق بالکل اسی طرح مضبوط ہوتا ہے جس طرح اولاد اور اہلِ خانہ ایک دوسرے کے قریب اور جڑے رہتے ہیں  یعنی جب اللہ پاک کی رضا کے لئے بھائی چارہ قائم کیا جائے تو یہ نسبی رشتوں سے کسی طور کم نہیں ہوتا۔قیامت کے دن اللہ پاک فرمائے گا:میرے جلال کی خاطر آ پس میں محبت کرنے والے کہاں ہیں؟آج جبکہ میرے عرش کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں میں انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرماؤں گا۔([4])

یہ سب فضیلتیں انہیں ملیں گی جو اللہ پاک کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کریں گے۔لیکن آجکل ہمارے معاشرے میں اکثر دوستی ذاتی مفادات کے لئے کی جاتی ہے،کسی ایک یا چند افراد کے ساتھ۔ایسے تعلقات کے نتائج اکثر منفی نکلتے ہیں۔ اصل دوستی کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ ہر ایک کے ساتھ یکساں محبت اور حسنِ اخلاق ہو۔تعلقات میں آگے بڑھنے کا جذبہ ہو اور دینی کام اخلاص کے ساتھ کیے جائیں۔یہی راستہ تنظیمی کاموں کی ترقی اور ادارے کے عروج کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن موجودہ ماحول میں اکثر دوستی صرف ذاتی مفاد کے لئے ہوتی ہے۔دوست کے ساتھ وقت گزارنا، غیبت یا چغلی کا موقع دینا اور برائیوں کی طرف مائل کرنا اس کے منفی پہلو ہیں۔

سچا دوست وہ ہوتا ہے جسے دیکھ کر اللہ پاک یاد آئے۔وہ گناہوں سے نفرت کرنے والا اور نیکی کی رغبت دلانے والا ہو۔ایسا دوست نہ ہو جو نیکی کے راستے سے ہٹا کر برائی کی طرف لے جائے اور دنیا وآخرت دونوں تباہ کر دے۔

الحمد للہ!ہم دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ ہیں۔ یہاں کا دینی ماحول انسان کو نیک بننے اور بنانے میں مدد دیتا ہے۔دوست کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ مصیبت کے وقت ساتھ دینے والا ہو۔جیسا کہ ایک شخص اپنے دوست کے پاس گیا اور اس کے دروازے کو کھٹکھٹایا، کیونکہ اس پر چار سو درہم قرض تھے۔دوست نے فوراً وہ رقم نکال کر اس کے حوالے کر دی اور روتا ہوا واپس آیا۔بیوی نے پوچھا:اگر رقم دینا اتنا بھاری تھا تو دی ہی کیوں؟اُس نے جواب دیا:میں اس لئے روتا ہوں کہ مجھے اس کا حال اس کے بتائے بغیر معلوم نہ ہو سکا،اسے مجبور ہونا پڑا کہ وہ میرا دروازہ کھٹکھٹائے۔([5]) واقعی!سچا دوست وہی ہے جو مصیبت میں ساتھ دے، دل سے مدد کرے اور اخلاص کے ساتھ کام آئے۔

اچھی دوستی جو صرف رضائے الٰہی کے لئے ہو، اس کی بے شمار فضیلتیں ہیں۔ہمارا آپس کا تعلق ایسا ہونا چاہیے کہ ہر ملاقات، ہر محفل میں محبت صرف اللہ پاک کے لئے ہو۔ورنہ بری صحبت دین ودنیا دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔پیارے آقا  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنتوں کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے نیک صحبت اپنانا ضروری ہے۔

اچھی دوستی جو صرف رضائے الٰہی کے لئے ہو، اس کی فضیلتیں بے شمار ہیں۔ہمارا آپس کا تعلق اور باہمی محبت صرف اللہ پاک کے لئے ہو۔نیک صحبت انسان کو برائیوں سے دور رکھتی ہے اور نیکی کی راہ پر ثابت قدم بناتی ہے،جبکہ بری صحبت دین و دنیا دونوں کے لئے نقصان دہ ہے اور نیکی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔حضور کی سنتوں کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے نیک دوست کا انتخاب بے حد ضروری ہے،کیونکہ سچا دوست وہ ہے جو مصیبت میں ساتھ دے،نیکی کی طرف راغب کرے اور برائی سے دور رکھے۔اس نازک دور میں دعوتِ اسلامی کا دینی ماحول اصلاحِ امت کے لئے بہترین پلیٹ فارم ہے،یہاں اسٹوڈنٹس صرف علم نہیں پاتے بلکہ محبت، اخلاص اور صبر کے عملی اسباق بھی سیکھتے ہیں۔امیرِ اہلِ سنت کے عطا کردہ سوالات اور نیک اعمال کے رسالے پر عمل کر کے ہم اپنی ذاتی تربیت کو مضبوط بنا سکتی، گناہوں سے نفرت پیدا کر سکتی اور ایمان کی حفاظت میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔



[1] ترمذی،3/404،حديث:2011

[2] مکارم الاخلاق للطبرانی، ص 314، حديث:6

[3] معجم اوسط،2/165،حدیث:2899

[4] مسلم، ص1065، حدیث:6548

[5] احیاء علوم الدین،3/311


Share