سیدہ زینب بنتِ جحش (تیسری اور آخری قسط)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:سیدہ زینب بنتِ جحش (تیسری و آخری قسط)

گزشتہ سے پیوستہ:

ازواجِ انبیا میں حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے سیدہ زینب بنتِ جحش  رضی اللہ عنہا  کا ذکرِ خیر جاری ہے۔ اس سلسلے کی آخری قسط پیشِ خدمت ہے:

فرمانِ مصطفےٰ پر عمل:

سیدہ زینب بنتِ جحش  رضی اللہ عنہا حضور کے مبارک فرامین پر سختی سے عمل کرتی تھیں۔چنانچہ حضور نے حجۃ الوداع میں اپنی مقدس بیویوں سے فرمایا:یہ حجِ اسلام ہے، جو گردن سے ساقط ہوگیا، اس کے بعد تم بوریا کو غنیمت سمجھنا۔(یعنی بلا ضرورت گھر سے نہ نکلنا)چنانچہ حضور کے وصال کے بعد حضرت سَوْدَہ اور حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام مقدس بیویاں حج کرنے جاتی تھیں لیکن یہ دونوں حضورکے فرمان پر عمل کرتے ہوئے نہ نکلیں۔([1])

ایک روایت میں ہے کہ جب آپ کے بھائی کا انتقال ہوا تو (غَالِباً تین دن کے بعد)آپ نے خوشبو منگوا کر لگائی اور فرمایا: اللہ  پاک کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہیں،مگر میں نے حضور کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ پاک اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والی کسی عورت کو یہ جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے مگر شوہر کا سوگ چار ماہ اور دس دن ہے۔([2])

شوقِ عبادت:

آپ شب بیدار خاتون تھیں اور خصوصاً رات میں کثرت سے نوافل میں مشغول رہتی تھیں۔چنانچہ ایک بار حضور مسجدِ نبوی میں داخل ہوئے تو دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھے ہوئے دیکھی تو پوچھا:یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے عرض کی:یہ امُّ المومنین حضرت زینب بنتِ جحش    رضی اللہ عنہا  کی رسی ہے۔جب(رات کی نمازمیں)تھک جاتی ہیں تو اسے تھام لیتی ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا:اس رسی کو کھول دو۔تم میں سے ہرشخص اپنی تازگی کی مقدار رات کی نماز پڑھے، جب تھک جائے تو بیٹھ جائے۔([3])

مروی احادیث کی تعداد:

احادیث کی رائج کتب میں آپ سے مروی احادیث کی تعداد 11 ہے جن میں سے 2 مُتَّفَقٌ عَلَیْه (بخاری و مسلم دونوں میں)اور بقیہ 9 دیگر کتب میں ہیں۔([4])

وصال  و تدفین:

حضور کے پردۂ ظاہری فرمانے کے تقریباً 10 سال بعد 20ہجری میں زمانۂ خلافتِ فاروقی میں آپ کا وصال ہوا۔وصال سے پہلے آپ نے وصیت کی کہ میں نے اپنا کفن تیار کر رکھا ہے؛ممکن ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی کفن بھیجیں،اگر وہ بھیجیں تو کسی ایک کو صدقہ کر دینا اور مجھے قبر میں اتارنے کے بعد اگر میرا پٹکا بھی صدقہ کر سکو تو کر دینا۔ نیز مجھے حضور کی چارپائی پر اٹھایا جائے اور اس پر نعش (جنازے کی چارپائی پر درخت کی ٹہنیوں کو باندھ کر کپڑا ڈال دیا جاتا ہے جس سے جنازہ قبے کی طرح بن جاتا ہے)بنایا جائے۔چنانچہ آپ کے وصال کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خزانے میں سے آپ کے  کفن کے لئے چن کر 5 مختلف کپڑے بھیجے،لہٰذا آپ کو انہی کپڑوں کا کفن دیا گیا اور جو کفن آپ نے خود تیار کر رکھا تھا وہ آپ کی بہن حضرت حمنہ  رضی اللہ عنہا  نے وصیت کے مطابق صدقہ کر دیا۔([5])اسلام میں سیدہ خاتونِ جنت وہ پہلی خاتون تھیں جن کے جنازے کی چارپائی کو(اس انداز میں)ڈھانپا گیا، ان کے بعد ام المومنین حضرت زینب بنتِ جحش  رضی اللہ عنہا  کو یہ شرف حاصل ہوا۔([6])انتقال  کے وقت آپ کی عمر مبارک 50 یا 53 سال تھی۔([7])

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت زینب  رضی اللہ عنہا  کی وفات کا علم ہوا تو آپ نے حکم دے دیا کہ مدینے کے ہر کوچہ و بازار میں یہ اعلان کر دیا جائے کہ تمام مدینے والے اپنی مقدس ماں کی نمازِ جنازہ کے لئے حاضر ہو جائیں۔([8])حضرت عمر نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور 4 تکبیریں کہیں۔([9])

آپ کے جنازے میں آپ کے نابینا  بھائی حضرت ابو احمد بن جحش رضی اللہ عنہبھی چارپائی اٹھائے روتے جا رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اے ابو احمد!آپ چار پائی سے دور ہو جائیے تاکہ لوگوں کی بھیڑ آپ کو تکلیف میں نہ ڈالے۔ انہوں نے کہا:اے عمر!یہ وہ خاتون ہیں کہ ہمیں ہر بھلائی انہی کے وسیلے سے ملی ہے اور ان کے جنازے کی چارپائی کو اٹھا کر چلنا اس دکھ کی گرمی کو ٹھنڈا کر دے گا جو میں ان کی جدائی کی وجہ سے محسوس کرتا ہوں۔اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:پکڑے رکھو،پکڑے رکھو۔([10]) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سخت گرمی پڑنے کی وجہ سےآپ کی قبرِ مبارک پر خیمہ لگا دیا تھا۔یہ پہلا خیمہ تھا جو جنت البقیع میں کسی قبر پر لگایا گیا۔ ([11])

جب آپ کو دفن کرنے کے لئے قبر کے پاس لایا گیا تو حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے آپ کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر حمد و ثنا کے بعد فرمایا:جب یہ پاک بی بی بیمار ہوئیں تو میں نے حضور کی دیگر مقدس بیویوں کے پاس ایک نمائندے کو یہ پوچھنے کے لئے  بھیجا کہ ان کی تیمار داری اور دیکھ بھال کون کرے گا؟انہوں نے فرمایا:ہم کریں گی۔تو میں نے جان لیا کہ انہوں نے سچ کہا ہے۔پھر جب ان کا انتقال ہو گیا تو میں نے نمائندے کو پوچھنے کے لئے بھیجا کہ کون انہیں غسل دے کر خوشبو لگائے گا اور کفن پہنائے گا؟انہوں نے فرمایا:یہ سب کام ہم کریں گی، تو میں نے جان لیا کہ انہوں نے سچ کہا ہے۔ پھر میں نے ان کی طرف نمائندے کو بھیجا کہ کون ان کی قبر میں اتر سکتا ہے؟انہوں نے فرمایا:جسے ان کی حیاتِ ظاہری میں ان کے پاس آنا جائز تھا، تو میں نے جان لیا کہ انہوں نے سچ فرمایا ہے۔اتنا فرمانے کے بعد آپ نے لوگوں کو ان کی قبرِ مبارک کے قریب سے ہٹا دیا۔([12])

دفن کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور اکابر صحابہ کرام اُمُّ المومنین حضرت زینب بنتِ جحش  رضی اللہ عنہا  کی قبرِ مبارک کے پاؤں کی طرف کھڑے تھے جبکہ ان کے بھائی حضرت ابو احمد بن جحش رضی اللہ عنہ قبر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔پھر سیدہ زینب کے بھتیجے حضرت عمر بن محمد بن عبد الله  بن جحش، حضرت عبد الله  بن ابو احمد بن جحش، سوتیلے بیٹے حضرت اسامہ اور  بھانجے حضرت محمد بن طلحہ بن عبید الله رضی اللہ عنہم نے قبر میں اتر کر سیدہ زینب  رضی اللہ عنہا  کو قبر میں اتارا۔([13])

آپ نے وراثت میں کوئی درہم و دینار نہیں چھوڑا، کیونکہ جو چیز آپ کے ہاتھ لگتی آپ اسے صدقہ کر دیتی تھیں۔البتہ صرف ایک مکان چھوڑا تھا جسے مسجدِ نبوی کی توسیع کے وقت آپ کے گھر والوں نے ولید بن عبد الملک کو  50 ہزار دراہم کے بدلے بیچ دیا۔([14])

آپ کے وصال پر حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  بہت افسردہ ہوئیں اور فرمایا:ہائے!ایک قابلِ تعریف عورت جو سب کے لئے نفع بخش تھی اور یتیموں اور بوڑھی عورتوں کا دل خوش کرنے والی تھی، آج دنیا سے چلی گئی!میں نے بھلائی، سچائی اور رشتہ داروں کے ساتھ مہربانی کے معاملے میں حضرت زینب سے بڑھ کر کسی عورت کو نہیں دیکھا۔([15])



[1]مسند امام احمد،44/332،حدیث:26751

[2]بخارى، 1/433، حديث:1282

[3]بخاری، 1/390، حدیث:1150

[4]مدارج النبوت، 2/479

[5]طبقات ابن سعد، 8 /86، 87ملتقطاً

[6]اسد الغابہ، 7/244

[7]سیرت رسول عربی، ص615

[8]مدارج النبوت، 2/478، 479

[9]طبقات ابن سعد، 8/87

[10]مستدرك، 5/31، حديث:6847

[11]مستدرك، 5/31، حديث:6846

[12]طبقات ابن سعد، 8/87، 88

[13]طبقات ابن سعد، 8/90

[14]مستدرک، 5/31، حدیث:6848

[15]سیرت مصطفی، ص673


Share