تہجد اور نفلی روزے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع: تہجد اور نفلی روزے

جب رات کی خاموشی دنیا پر چھا جاتی ہے اور ہر طرف سکون کی فضا راج کرتی ہے  تب ربِّ کریم اپنے بندوں کو اپنی رحمتوں میں ڈوبنے کا موقع عطا فرماتا ہے۔انہی پر سکون لمحات میں دل کی دنیا جاگتی اور روح تازگی محسوس کرتی ہے۔یہ وہ وقت ہے جب دنیا کی ہلچل مدھم ہو جاتی ہے، دل کی صدا بلند ہوتی ہے،دعائیں قبول ہوتی ہیں،گناہوں کی معافی کے دروازے کھل جاتے ہیں اور انسان اپنے خالق کے قریب ہو جاتا  ہے۔نمازِ تہجد اسی قربِ الٰہی کو پانے کا حسین ذریعہ ہے۔

اسی طرح اللہ پاک کی رضا اور روحانی ترقی کے لئے نفلی روزے بھی ایک عظیم ذریعہ ہیں۔ یہ روزے انسان کے دل کو پاکیزگی عطا کرتے ہیں،نفس کو قابو میں رکھتے ہیں اور بندے کو اللہ پاک کے قریب کر دیتے ہیں۔نفلی روزوں کی برکت سے انسان میں صبر،تقویٰ اور قربِ الٰہی کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو زندگی کو نورانی بنا دیتی ہیں۔یوں تہجد کی خلوت بھری راتیں اور نفلی روزوں کی با برکت بھوک انسان کو وہ روحانی سکون عطا کرتی ہے جو دنیا کے کسی ذائقے میں نہیں۔  

تہجد کا معنی اور حکم  

معنی:تہجد عربی لفظ”ہَجَدَ“سے ہے جس کے معنی ہے: رات میں نماز پڑھنا۔اصطلاح میں رات میں سونے کے بعد بیدار ہوکر پڑھی جانے والی نفل نماز کو تہجد کہتے ہیں۔

حکم:شروعِ اسلام میں تہجد کی نماز تمام مسلمانوں پر فرض تھی،پھر امت سے فرضیت منسوخ ہوگئی لیکن حضورِ اکرم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لئے تہجد کی نماز فرض ہی رہی،آپ روزانہ 6 فرض نمازیں ادا فرماتےتھے جن میں تہجد کی نماز  بھی شامل تھی۔اُمت کے لئے یہ نماز سنتِ مستحبہ ہے،اس کو ترک کرنے والا اگرچہ فضلِ کبیر و خیرِ کثیر سے محروم ہے مگر گناہگار نہیں۔([1])

تہجد کے فضائل

*نوافل میں سب سے افضل اور اللہ پاک کے نزدیک سب سے محبوب نماز”نمازِ تہجد“ہے۔یہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کا خاص شعار تھا۔آپ اس کی اتنی پابندی فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے۔اللہ پاک نے خود اپنے حبیب  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کو تہجد کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ﳓ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا(۷۹) (پ15،بنی اسرائیل: 79)

ترجمہ: اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو یہ خاص تمہارے لیے زیادہ ہے۔قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو ایسے مقام پر فائز فرمائے گا کہ جہاں  سب تمہاری حمد کریں  ۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

چند فرامینِ مصطفےٰ

* رات میں قیام کو اپنے اوپر لازم کر لو کہ یہ اگلے نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور تمہارے کریم رب کی طرف قربت کا ذریعہ اور گناہوں کو مٹانے والا اور گناہ سے روکنے والا ہے۔([2]) *قیامت کے دن لوگ ایک میدان میں جمع کیے جائیں  گے، اس وقت پکارنے والا پکارے گا:کہاں ہیں وہ جن کی کروٹیں خواب گاہوں سے جدا ہوتی تھیں؟وہ لوگ کھڑے ہوں گے اور تھوڑے ہوں  گے یہ جنت میں  بغیر حساب داخل ہوں گے پھر اور لوگوں کے لئے حساب کا حکم ہوگا۔([3])* جنت میں  ایک بالا خانہ ہے کہ باہر کا اندر سے دکھائی دیتا ہے اور اندر کا باہر سے۔حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ  نے عرض کی:یا رسول اللہ!وہ کس کے لیے ہے؟ ارشاد فرمایا:اس کے لئے جو اچھی بات کرے،کھانا کھلائے اور رات میں  قیام کرے جب لوگ سوتے ہوں۔([4])

ان فرامینِ مصطفےٰ سے واضح ہوتا ہے کہ نمازِ تہجد اللہ پاک کے نزدیک نہایت محبوب عبادت ہے اور بندے کو نہ صرف اس کی قربت عطا کرتی ہے بلکہ گناہوں سے پاک بھی کرتی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس سنہری موقع کو ضائع نہ کرے، اپنی راتیں اللہ پاک کی عبادت میں گزارے اور تہجد کو اپنی زندگی کا معمول بنائے۔یہ صرف نفل عبادت نہیں،بلکہ اللہ پاک کی محبت،قربت اور روحانی سکون کا ذریعہ ہے۔آج سے ہی دل میں نیت کیجیے کہ ان شاء اللہ رات کے کچھ لمحات اپنی روحانی تربیت،اللہ پاک کے قرب اور تہجد کی برکتوں سے بھرپور فائدہ حاصل کرنے کے لئے وقف کریں گی۔

نفلی روزوں کے فضائل  

ماہِ جمادی الاُخریٰ،رجب اور شعبان رحمت و مغفرت کے خاص مہینے ہیں جن میں عبادت اور نیک اعمال کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ان مہینوں میں روزے رکھنے کا بھی بڑا  اجر ملتا ہے۔یوں تو روزہ ایسی عبادت اور نیک عمل ہے کہ جب تک شریعت منع نہ کرے کسی بھی دن رکھا جاسکتا ہے مگر خاص طور پر ان مہینوں اور ان دنوں میں روزوں کا خاص اہتمام کرنا چاہئے جن میں روزہ رکھنے کی خصوصی ترغیب اور فضیلت احادیثِ مبارکہ میں بیان کی گئی ہو۔جیساکہ حرمت والے مہینے کہ ان میں  روزے رکھنے کی ترغیب  اورفضیلت بیان کی گئی ہے۔روایتوں میں ہے کہ حضرت عُروہ بن زبیر  رحمۃُ اللہ علیہ نے حضرت عبدُ اللہ بن عمر   رضی اللہ عنہما  سے پوچھا:کیا نبیِ پاک  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم    رجب شریف میں روزہ رکھتے تھے؟ارشاد فرمایا:ہاں۔اور اسے اہمیت بھی دیتے تھے۔([5]) مشہور تابعی بزرگ حضرت ابو قِلابہ رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: رجب کے روزہ داروں کے لئے جنت میں ایک محل ہے۔ ([6])

اسی طرح شعبان  شریف میں رسولُ اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا معمول تھا کہ آپ پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے اور فرماتے کہ اپنی استطاعت کے مطابق عمل کرو کہ اللہ پاک اس وقت تک اپنا فضل نہیں روکتا جب تک تم اُ کتا نہ جاؤ۔ ([7]) ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسولُ اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ماہِ شعبان میں روزے رکھنا تمام مہینوں سے زیادہ پسندیدہ تھا کہ اس میں روزے رکھا کرتے،پھر اسے رَمَضان سے ملا دیتے۔([8])

امیرِ اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس  عطار قادری  دامت  برکاتہم العالیہ  عاشقانِ رسول کو نمازِ تہجد کی ادائیگی اور نفلی روزے رکھنے پر خصوصی زور دیتے ہیں۔خاص طور پر آپ ماہِ رجب،شعبان اور رمضان میں عاشقانِ رسول کو تہجد  اور نفلی روزوں کی ادائیگی کی ترغیب دینے کے لئے مختلف تحریکیں اور مہمات چلاتے ہیں تاکہ ہر مسلمان رات کے پرسکون لمحات میں اللہ پاک کی یاد،دعاؤں اور استغفار کے ذریعے اپنی زندگی کو منور کر سکے۔آپ کی ترغیب پر پچھلے سال رجب شریف 1446ھ میں 98 ہزار 357 اسلامی بہنوں نے نفل روزے رکھنے کی سعادت پائی تھی۔

اس بار بھی امیرِ اہلِ سنت  دامت  برکاتہم العالیہ  کی جانب سے تہجد و روزے رکھنے کی ترغیب دلائی جارہی ہے۔آپ بھی نیت کیجئے اور جتنا ممکن ہوسکے تہجدو نفل روزوں کی بہاریں لوٹیے۔ اللہ پاک آپ کو یہ بہاریں مکے مدینے میں بھی لوٹنا   نصیب فرمائے۔اٰمین بجاہِ النبی الامین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ناظم آباد، کراچی



(1)فتاویٰ رضویہ،7/400

([2]) ترمذی،5/323،حدیث:3560

([3])شعب الایمان،3/169،حدیث:3244

([4]) مستدرک، 1 / 631، حدیث: 1240

([5])کنز العمال،4/301،جزء:8،حدیث: 24596

([6]) شعب الایمان ، 3 / 368 ، حدیث : 3802

([7]) بخاری،1/648،حدیث:1970

([8])ابو داود،  2 / 476 ، حدیث :2431


Share