موضوع: بہترین عیادت
فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:اَفْضَلُ الْعِیَادَۃِ سُرْعَۃُ الْقِیَامِ یعنی بہترین عیادت جلد اُٹھ جانا ہے۔ ([1])
شرحِ حدیث
اس حدیثِ مبارک میں عیادت کے آداب میں سے ایک ادب بیان کیا گیا ہے کہ مریض کے پاس زیادہ دیر تک نہ بیٹھیں بلکہ جلد اٹھ جائیں۔حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:بیمار کے پاس اس کی عیادت کے وقت کم بیٹھنا اور کم شور کرنا سنت ہے۔([2]) البتہ!حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:یہ تمام اس صورت میں ہے جب بیمار کو اس کے بیٹھنے سے تکلیف ہو۔([3])
کیا مریض کے پاس زیادہ دیر بیٹھنا مطلقاً منع ہے؟
مریض کے پاس زیادہ دیر بیٹھنا مطلقاً منع نہیں بلکہ یہ اسی صورت میں ہے جب اس سے مریض یا اس کے گھر والوں کو آزمائش ہو۔لیکن اگر کوئی مریض کی تیمار داری کرنے کے لئے زیادہ دیر ٹھہرتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔یونہی اگر تیمار داری نہیں کرتا لیکن مریض خود چاہتا ہے کہ وہ اس کے پاس زیادہ دیر بیٹھے، اس سے اچھی اچھی باتیں کرے جس سے مریض کے دل کو راحت ملتی ہے تو اس صورت میں بھی زیادہ دیر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں۔جیسا کہ علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:جس وقت یہ گمان ہو کہ مریض اس شخص کے زیادہ بیٹھنے کو ترجیح دیتا ہے،مثلاً:وہ اس کا دوست یا کوئی بُزرگ ہے یا وہ اس میں اپنی مصلحت سمجھتا ہے،اسی طر ح کوئی اور فائدہ ہو تو اس وقت مریض کے پاس زیادہ دیر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں۔([4])
ممانعت کی وجوہات:
مریض کے پاس زیادہ دیر بیٹھنے سے منع کرنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں:
1-مریض کو چونکہ آرام کی حاجت ہوتی ہے،لہٰذا زیادہ دیر مریض کے پاس بیٹھنے سے اسے آزمائش ہو سکتی ہے۔
2-عُموماً مریض اپنی بیماری کے سبب زیادہ گفتگو نہیں کر پاتایا اس کا زیادہ گفتگو کرنے کا دل نہیں کرتا۔اب اگر اس کے پاس زیادہ دیر تک بیٹھیں گے تو مجبوراً اس کو بات چیت کرنی پڑے گی اور یوں وہ آزمائش میں پڑ جائے گا۔
3-بعض لوگ مریض کے پاس بیٹھ کر آپس میں باتیں کرتے، آواز بلند کرتے اور شور کرتے ہیں۔ظاہر ہے اس سے بھی مریض کو تکلیف ہوتی ہے۔
4-یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عیادت کرنے والا اگر دیر تک بیٹھا رہے تو مریض کے رشتے داروں بالخصوص خواتین کو آزمائش ہو گی،انہیں زیادہ دیر پردے میں رہنا پڑے گا۔
5-یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مریض کو کوئی حاجت ہو لیکن وہ عیادت کرنے والوں کی موجودگی کے سبب کسی سے کھل کر اپنی حاجت بیان نہ کر سکے۔
دینِ اسلام کی عظمت اور حسن کس قدر نمایاں ہے! مذکورہ حدیثِ مبارک سے بھی اس کی دل آویزی جھلکتی ہے کہ اسلام ہمیں صرف عبادات کا پابند بناتا ہے نہ یہ محض نماز اور روزے کی تعلیم دینے پر اکتفا کرتا ہے، بلکہ یہ معاملات واخلاق کے بنیادی اصول بھی سکھاتا ہے۔ یعنی ہمارا دین ہمیں یہ بتاتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ کیسے رہنا ہے، مختلف حالات میں کس سے کس طرح پیش آنا ہے اور ایک معاشرے کا ذمہ دار فرد بن کر کس انداز سے زندگی گزارنی ہے۔انہی معاشرتی تقاضوں میں سے ایک نہایت اہم عمل مریض کی عیادت ہے۔عیادتِ مریض محض ایک معاشرتی فریضہ نہیں بلکہ حضور کی نہایت پیاری سنت بھی ہے۔دینِ اسلام نے نہ صرف اس کے فضائل بیان کیے ہیں بلکہ اس کے آداب وطریقے بھی واضح فرمائے ہیں، تاکہ ہم نیکی کرتے ہوئے کہیں انجانے میں کوئی ایسا طرزِ عمل اختیار نہ کر بیٹھیں جو ثواب کے بجائے وبالِ جان بن جائے۔
عیادت کی فضیلت پر فرامینِ مصطفےٰ:
کسی مریض کی عیادت کرنا کتنا عظیم اور ثواب کا کام ہے،اس کا اندازہ ان مبارک احادیث سے بخوبی ہوتا ہے۔پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے لئے صبح کو جائے تو شام تک اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہیں اور اس کے لئے جنت میں ایک باغ ہو گا۔([5])ایک روایت میں ہے:جو کسی مریض کی بیمار پُرسی کرے تو وہ رحمت میں غوطے لگاتاہے یہاں تک کہ بیٹھ جائے۔جب بیٹھ جاتا ہے تو رحمت میں ڈوب جاتا ہے۔([6])
وہ تو نہایت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا
ہم مفلس کیا مول چُکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے
پیارے آقا کا اندازِ عیادت:
حضور اپنے صحابہ کرام کی دلجوئی فرماتے، ان کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے اور ان کے لئے نہ صرف دعائیں ارشاد فرماتے بلکہ شفایابی کی دعائیں بھی تعلیم فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی بیمار ہوئے تو حضور ان کی مزاج پرسی کے لئے تشریف لائے اور انہیں یہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی: اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْئَلُكَ تَعْجِیْلَ عافِیَتِكَ وَ صَبْراً عَلٰی بَلِیَّتِكَ وَ خُرُوْجًا مِّنَ الدُّنْیَا اِلٰی رَحْمَتِكَ یعنی اے اللہ!میں تجھ سے تیری عافیت کے جلد حاصل ہونے کا،تیری طرف سے آئی ہوئی آزمائش پر صبر کی توفیق کا اور دنیا سے تیری رحمت کی جانب منتقل ہو جانے کا سوال کرتا ہوں۔([7])پھر حضور نے ارشاد فرمایا:جب تم یہ دعا پڑھ لو گے تو اللہ پاک تمہیں ان تین میں سے ایک نعمت ضرور عطا فرمائے گا(یعنی جلد صحت یابی، بیماری پر صبر کی توفیق یا دنیا سے اللہ پاک کی رحمت کی طرف کامیابی کے ساتھ منتقلی)۔([8])
یاد رہے!مریض کی عیادت کرنا اگرچہ ثواب کا باعث ہے۔لیکن افسوس!بعض لوگ عیادت کی نیت سے تو جاتے ہیں،مگر اپنی بے احتیاطی اور نا مناسب طرزِ عمل کے باعث مریض کے لئے مزید آزمائش کا سبب بن جاتے ہیں۔یوں وہ نیکی کے ارادے کے باوجود ایسی حرکت کر بیٹھتے ہیں جو نہ صرف مریض کے لئے تکلیف دہ ہوتی ہے بلکہ اللہ پاک کی ناراضی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔جیسا کہ حضور نے ایسے رویّے کی سخت مذمت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:جس نے (بلا وجہ)کسی مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ پاک کو تکلیف دی۔([9])
بے وقوفوں کا عیادت کرنا:
حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بے وقوف لوگوں کا مریض کی عیادت کرنا اس کے گھر والوں پر اس کے مرض سے بھی زیادہ بھاری ہوتا ہے،کیونکہ وہ بے وقت آتے ہیں اور دیر تک بیٹھے رہتے ہیں۔([10])
عیادت کرنے والوں سے متعلق دلچسپ حکایات
حضرت علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر چند حکایات نقل کی ہیں، جن میں سے دو پیشِ خدمت ہیں:
1-ایک شخص مریض کی عیادت کو گیا اور کافی دیر بیٹھا رہا، آخر مریض نے کہا:لوگوں کی بھیڑ سے ہمیں تکلیف ہو رہی ہے۔وہ شخص بولا:کیا میں اٹھ کر دروازہ بند کر دوں؟مریض نے جواب دیا:ہاں، لیکن باہر سے!
2-چند لوگ ایک مریض کے پاس کافی دیر تک بیٹھے رہے اور اٹھتے وقت کہنے لگے:ہمیں وصیت کیجئے!مریض نے کہا:میری وصیت یہی ہے کہ جب کسی مریض کے پاس جاؤ تو زیادہ دیر نہ بیٹھو۔([11])
عیادت اور خواتین کی نادانیاں:
اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض خواتین عیادت کے لئے جاتی ہیں تو دیر تک بیٹھی رہتی ہیں اور باہمی گفتگو میں وقت گزار دیتی ہیں۔بعض اوقات یہ گفتگو غیبت،چغلی یا بے جا باتوں پر مشتمل ہوتی ہے،جس سے نہ صرف گناہ بڑھتا ہے بلکہ مریضہ کو بھی تکلیف اور ذہنی پریشانی ہوتی ہے۔کئی مرتبہ یوں بھی ہوتا ہے کہ وہ مریضہ کے سامنے اس کی بیماری کا ذکر ایسے انداز میں کرتی ہیں کہ بجائے دل مضبوط ہونے کے،اس کی ہمت مزید ٹوٹ جاتی ہے؛ مثلاً یہ کہنا کہ یہ بیماری بہت خطرناک ہے یا اس میں بچنے کی امید کم ہوتی ہے وغیرہ۔حالانکہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ مریض کے پاس جائیں تو حوصلہ افزائی اور دلجوئی کی باتیں کریں۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے:جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو لمبی عمر اور خیریت کی بات کرو، اس سے اس کا غم ہلکا ہو جاتا ہے(یعنی تقدیر تو اپنے وقت پر پوری ہو گی،مگر مریض کا دل خوش اور مطمئن ہو جاتا ہے)۔ ([12])
عیادت کرنے کا طریقہ:
حضور کی عادتِ کریمہ تھی کہ جب کسی مریض کی عیادت کو تشریف لے جاتے تو یہ فرماتے:لَا بَاْسَ طَہُوْرٌ اِنْ شَآءَاللہ(کوئی حرج کی بات نہیں۔اللہ پاک نے چاہا تو یہ مرض (گناہوں سے)پاک کرنے والا ہے) ([13])اگر مریض کو ناگوار محسوس نہ ہو تو حسبِ موقع اس کی پیشانی یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مزاج پوچھنا بھی سنت ہے،جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے: مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی اس کی پیشانی یا اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر مزاج پوچھے۔([14]) حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:مریض کے سر یا پیشانی پر ہاتھ رکھ کر عیادت کرنا اس وقت ہے جب کوئی شرعی رکاوٹ نہ ہو اور مریض کی خود خواہش ہوورنہ اُس کے سر پر ہاتھ نہ رکھے۔ ([15]) مزید یہ کہ جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کی موت کا وقت قریب نہ ہو اور سات مرتبہ یہ دعا پڑھے:اَسْأَلُ اللہ الْعَظِیْمَ،رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ(میں عظیم اللہ پاک، مالکِ عرشِ عظیم سے تیرے لئے شفا کا سوال کرتا ہوں) تو اللہ پاک اسے اس مرض سے شفا عطا فرمائے گا۔([16])
عیادت کے چند مزید آداب
عیادت کے چند مزید آداب یہ ہیں:1 مریضہ کے سامنے اپنے چہرے پر رنج و غم کی کیفیت ظاہر کیجیے۔2گفتگو کا انداز ایسا نہ ہو کہ مریضہ یا گھر والوں کو یہ محسوس ہو کہ آپ ان کی پریشانی پر خوش ہیں۔3 مزاج پرسی کیجیے اور صحت و عافیت کی دعا دیجئے۔4مریضہ سے اپنے لئے بھی دعا کروائیے کہ اس کی دعا قبولیت کے قریب ہوتی ہے۔5عیادت کے لئے مناسب وقت کا انتخاب کیجئے؛مثلاً:ایسے وقت نہ جائیے جب مریضہ آرام کر رہی ہو۔6اگر ہوسکے تو عیادت کے ساتھ کچھ رقم بھی پیش کیجئے تاکہ حقیقی ضرورت پوری ہو سکے۔7اس موقع پر پھل یا تحائف کے بجائے رقم دینا زیادہ مفید ہے،تاکہ مریضہ اپنی ضرورت کے مطابق اسے استعمال کرے۔8 موقع کی مناسبت سے نیکی اور نماز کی پابندی کی ترغیب بھی دیجئے۔9عیادت کے دوران علاج بتانے یا اس پر اصرار کرنے سے گریز کیجئے اور بار بار یہ بھی نہ پوچھئے کہ میں نے جو علاج بتایا تھا کیا وہ کیا یا نہیں؟کیونکہ علاج ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہی ہونا چاہیے۔اپنی طرف سے ایسا نسخہ دینا درست نہیں جو نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہو۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں عیادت کرنے کے آداب پر عمل کرتے ہوئے بیمار مسلمانوں کی عیادت و غمخواری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ ٹیچر ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مجلس جامعۃ المدینہ گرلز
[1] شعب الایمان،6/543،حدیث:9221
[2] مشکاۃ المصابیح،1 /303،حدیث:1589
[3] مراۃ المناجیح،2/433
[4] مرقاۃ المفاتیح،4/60، تحت الحدیث:1591
[5] ترمذی، 2/290، حدیث: 971
[6] مسند امام احمد،22 /162،حدیث:14260
[7] مسند شہاب،2/334،حدیث: 1470
[8] احیاء علوم الدین، 2/262
[9] معجم اوسط،2/ 387،حدیث: 3607
[10] حلیۃ الاولیاء ، 4/348 ، رقم :5817
[11] مرقاۃ المفاتیح،4/60، تحت الحدیث : 1591
[12] ترمذی، 4/25،حدیث:2094
[13] بخاری،2/505،حدیث:3616
[14] ترمذی،4/335،حدیث:2740
[15] بہارشریعت ، 3/505 حصہ:16
[16] ابوداود، 3/251، حدیث: 3106

Comments