شرح قصیدہ معراجیہ (قسط:08)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:شرح قصیدۂ معراجیہ (قسط 8)

30

یہ جوششِ نور کا اثر تھا کہ آبِ گوہر کمر کمر تھا

صفائے راہ سے پھسل پھسل کر ستارے قدموں پہ لوٹتے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:جوشش:تیزی۔آبِ گوہر:موتیوں کا پانی۔صفائے راہ:راہ کی صفائی۔

مفہومِ شعر:نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی نورانیت میں جب جوش پیدا ہوا تو موتی پگھلنے لگے یہاں تک کہ ان کی پشت تک پانی آ پہنچا اور راستے اس قدر صاف وشفاف تھے کہ ستارے اس پر پاؤں رکھتے تو پھسل پھسل کر حضور کے قدموں میں لوٹنے لگتے۔

شرح:اندازِ رضا پہ قربان جائیے!امامِ اہلِ سنت فرماتے ہیں: جب حضور کو معراج کی سعادت نصیب ہوئی تو آپ کے چہرۂ مبارک کے نور کی تاب کوئی چیز نہ لا سکی آسمان کو تپ چڑھ گئی تو جنت کے موتی آپ کے مبارک حسن کی تاب نہ لاتے ہوئے پگھلنے لگے اور پگھل پگھل کر نور کا پانی ان کی پشت تک آ پہنچا۔ نیز حضور کی آمد کی خوشی میں راستوں کو اتنا صاف اور شفاف کیا گیا کہ ستارے پھسلنے لگے اور پھسل پھسل کر آپ کے قدموں میں قربان ہونے لگے۔

31

بڑھا یہ لہرا کے بحرِ وحدت کہ دھل گیا نامِ ریگِ کثرت

فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت یہ عرش و کرسی دو بلبلے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:بحرِ وحدت:توحید کا سمندر۔ریگِ کثرت: ریت کے بےشمار ذرے۔

مفہومِ شعر:وحدت کا سمندر جب بڑے جوش کے ساتھ آگے بڑھا تو ریت کے ذروں کا نام و نشان بھی مٹ گیا، اور اس منظر کے سامنے بلند و بالا آسمان کی کیا حقیقت تھی یہاں پر تو عرش و کرسی بھی دو بلبلوں کی مانند تھے۔

شرح:معراج کی رات اللہ پاک نے حضور کو اپنے دیدار کے لئے طلب فرمایا تو بحرِ وحدت میں ایک ایسی موج اٹھی، اس کی تجلیاں ایسے آگے بڑھیں کہ ریت کے سارے ذرے دھل گئے،ان کا نام و نشان بھی نہ رہا،جیسا کہ جب پانی کی موج آتی ہے تو ساری ریت بہا لے جاتی ہے،یا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اس موج کے سامنے عالمِ امکاں ریت کے ذروں کی طرح فنا ہوگیا جیسے ریت کے ذرے سمندر کی موج سے فنا ہوجاتے ہیں اور اس منظر کے سامنے آسمان کی بھی کیا حقیقت تھی یہاں تو عرش وکرسی بھی دو بلبلوں کی مانند نظر آرہے تھے قرآن نے اس منظر کو یوں بیان فرمایا ہے:

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹)

(پ 27، النجم:9)

ترجمہ:پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یعنی اللہ کریم نے اپنے حبیب  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا۔([1]) اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ پاک اپنے لطف ورحمت کے ساتھ اپنے حبیب سے قریب ہوا اور اس قرب میں  زیادتی فرمائی۔ اس کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں حضور نے ارشاد فرمایا:اور جبار رب العزت قریب ہوا۔([2])

32

وہ ظل رحمت وہ رخ کے جلوے کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتے

سنہری زربفت اودی اطلس یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:ظلِ رحمت:رحمت کا سایہ۔ رخ:چہرہ۔ زربفت، اودی اور اطلس:عمدہ قسم کے قیمتی کپڑے۔

مفہومِ شعر:حضور کے نور کی تجلی اور رخِ انور  کے جلووں کی چمک دمک کے سامنے تارے چھپ رہے تھے نہ کھل پارہے تھے، ستاروں کی یہ آنکھ مچولی دھوپ چھاؤں کا  ایسامنظر پیش کررہی تھی گویا عمدہ قیمتی کپڑوں کے تھان بچھے ہوں۔

شرح:حضور کے چہرے کی چمک اور نور کی تجلی کے آگے ستارے چمکنا چاہتے تھے مگر ان کی روشنی ماند پڑ جاتی تھی، وہ کُھل کے چمک نہیں پا رہے تھے اور ان کے کبھی چمکنے اور کبھی ماند پڑنے سے ایسا منظر بن رہا تھا گویا سنہری زربفت یا اودی اطلس کے تھان بچھے ہوئے ہوں، یہ دونوں قیمتی چمکیلے کپڑے ہیں، ان میں سونے، چاندی اور ریشم کے تار ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ان میں چمک پیدا ہوتی ہے، ایسے کپڑے کو جب ہلائیں تو یہ کبھی چمکتے اور کبھی ماند ہوتے دکھائی دیں گے جیسا کہ دھوپ چھاؤں کا منظر ہو، یہاں بھی اسی وجہ سے تشبیہ دی گئی ہے کہ رخِ والضحیٰ کے سامنے ستاروں کے یوں چھپنے اور کھلنے سے دھوپ چھاؤں کا ایسا منظر بن رہا تھا کہ گویا زربفت اور اطلس کے پورے پورے تھان بچھا دیئے گئے ہوں۔

حضور کا چہرہ مبارک تو ٹھنڈی چھاؤں سے بھی زیادہ انس و تسکین والا تھا اتنا سکون ٹھنڈی چھاؤں میں کہاں جو حضور کے چہرہ انور کو دیکھ کے نصیب ہوتا،خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں حضور کی زیارت نصیب ہوئی حضور کا چہرہ مبارک چاند سے بھی زیادہ  حسین تھا۔حضرت  جابر فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میں نے حضور کو چاندنی رات میں دیکھا،میں کبھی چاندکی طرف دیکھتا اور کبھی حضور کے چہرۂ انور کو دیکھتا تو مجھے آپ کا چہرہ چاند سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آتا تھا۔([3])

33

چلا وہ سرو چماں خراماں نہ رک سکا سدرہ سے بھی داماں

پلک جھپکتی رہی وہ کب کے سب این و آں سے گزر چکے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:سروِ چماں:باغ کا ایک درخت جو سب سے لمبا اور سیدھے قد والا ہوتا ہے۔یہاں اس سے مراد قد مبارک ہے۔خراماں:آہستہ/ناز و انداز سے چلنا۔سدرہ: بیری کا درخت مراد سدرۃ المنتہیٰ۔داماں:دامن۔این و آں: یہ اور وہ، اشارۂ قریب وبعید۔

مفہومِ شعر:سرو کی طرح قد وقامت رکھنے والے حضور جب آہستہ آہستہ ناز سے عرش کی طرف چلے تو سدرہ پہ  بھی نہ رکے، بلکہ پلک جھپکنے میں تمام منزلیں طے کر لیں۔

شرح:سرو قد والے محبوب ناز و انداز سے چلتے ہوئے سدرہ پر بھی نہ رکے، بلکہ جبریل رکے تو حضور نے فرمایا:اے جبریل! مجھ سے الگ نہ ہو،عرض کی:اے میرے آقا!ہماری رسائی بس ایک معلوم مقام تک ہے۔اگر میں انگلی کے ایک پورے برابر بھی مزید قریب ہوا تو جل جاؤں گا۔([4])الغرض حضور نے پلک جھپکنے کی دیر میں تمام منزلیں طے کر لیں اور سدرۃ المنتہی جہاں پہ فرشتے آپ کے دیدار کے لئے جمع تھے  حضور بغیر رکے وہاں سے بھی آگے تشریف لے گئے۔

سرو کا درخت اپنے قدو قامت کی وجہ سے مشہور ہے جوکہ دراز قد اور سیدھا ہوتا ہے تو یہاں حضور کے قد مبارک کو سرو سے تشبیہ دی گئی۔حقیقت میں دیکھا جائے تو سرو تو کیا ہے حضور کا قد تو کائنات کی ہر چیز سے اونچا اور بلند ہے۔ امامِ عشق و محبت کیا خوب فرماتے ہیں:

ترا قدِ مبارک گلبنِ رحمت کی ڈالی ہے

اسے بوکر تِرے رب نے بِنا رحمت کی ڈالی ہے

حضرت عائشہ صدیقہ طیّبہ طاہرہ   رضی اللہ عنہا  فرماتی ہیں:نور والے آقا  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  جب بھی لمبے قد والے آدمیوں کے درمیان چلتے تو آپ ان سے اونچے ہی دکھائی دیتے تھے مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ جیسے اُن لمبے قد والوں سے جدا ہوتے تو آپ کا قد مبارک درمیانہ دکھائی دیتا تھا۔([5])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ڈبل ایم اے (اردو، مطالعہ پاکستان)

گوجرہ منڈی بہاؤ الدین



[1] تفسیر خازن،4/191

[2] بخاری،  4/ 581، حدیث:7517

[3] ترمذی،4/ 370،   حدیث:9

[4] تاریخ خمیس، 1/311 

[5] خصائص کبریٰ، 1/116


Share