موضوع:کیا واقعی ہم کوشش کرتی ہیں؟
حضرت رابعہ بصری رحمۃُ اللہ علیہا کے بارے میں منقول ہے کہ ایک روز آپ کسی ضروری کام کے باعث (بغیر حجاب کے) گھر سے نکلیں کہ اچانک ایک نا محرم سامنے آ گیا۔غیر کی نظر نہ پڑے؛اس پاکیزہ جذبہ حیا کے تحت آپ تیزی سے گھر کی طرف پلٹیں،مگر اچانک پاؤں کسی چیز میں الجھ گیا اور آپ گر پڑیں۔ اس گرنے میں آپ کا دستِ مبارک ٹوٹ گیا۔
اس تکلیف دہ حالت میں بھی آپ نے نہ شکوہ کیا،نہ ملال ظاہر کیا،بلکہ بارگاہِ الٰہی میں عرض کی:اے اللہ!میں پہلے ہی غریب اور بے سہار ا تیرے در کی بندی بن کر زندگی گزار رہی ہوں،اب ہاتھ بھی ٹوٹ گیا۔پھر بھی میری خواہش صرف تیری رضا ہے۔کاش!مجھے معلوم ہو جائے کہ تُو مجھ سے راضی ہے یا نہیں؟ابھی آپ کی التجا پوری نہ ہوئی تھی کہ غیب سے آواز آئی:اے رابعہ!غم نہ کر،کل قیامت کے دن تجھے ایسا بلند رتبہ عطا کیا جائے گا کہ مقرب فرشتے بھی تجھ پر رشک کریں گے۔ یہ بشارت سن کر آپ مسرور و مطمئن ہو گئیں۔([1])
سبحان اللہ!حضرت رابعہ بصریہ کا رضائے الٰہی کے لئے گناہوں سے بچنے کا واقعہ نہایت عبرت خیز اور روح پرور ہے۔ نا محرم کی نظر سے بچنے کے لئے ان کا فوراً پلٹ جانا،حیا کی حفاظت کے لئے تیزی سے دوڑنا، جسمانی تکلیف برداشت کرنا اور اس کے باوجود صرف اللہ پاک کی رضا کی طلب میں ثابت قدم رہنا؛یہ سب اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ گناہوں سے بچنا اور حیا کو قائم رکھنا ایک سخت اور عظیم جہاد ہے۔
خواتین کو چاہیے کہ حضرت رابعہ بصری کے پاکیزہ طرزِ عمل سے راہ نمائی لیتے ہوئے ہر حال میں گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں۔دنیاوی آسائشوں، مشکلات یا خطرات کی پروا کیے بغیر قدم قدم پر اپنے آپ کو گناہ سے محفوظ رکھنے کی تدبیر کریں۔یقین رکھیں کہ ایسی مجاہدانہ کوششوں کا صلہ اللہ پاک ضرور عطا فرماتا ہے اور دنیاوی تکالیف کے باوجود آخرت میں بلند مقام مرحمت فرمایا جاتا ہے۔
اس واقعے سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ جو خواتین پرہیزگاری کے لئے بھرپور کوشش کرتی ہیں،اللہ پاک ان کے لئے ہدایت کے راستے کھول دیتا ہے۔جیسا کہ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری ہے:
وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠(۶۹)
(پ21،العنکبوت:69)
ترجمہ:اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:علم سیکھنے سے آتا ہے، تَحَمُّل مِزاجی بہ تَکَلُّف برداشت کرنے سے پیدا ہوتی ہے اور جو بھلائی حاصل کرنے کی کوشش کرے،اسے بھلائی دی جاتی ہے اور جو شر سے بچنا چاہتا ہے،اسے بچایا جاتا ہے۔([2])
سبحان اللہ! کیا ہی جامع اور بامعنی حدیثِ مبارک ہے، یوں محسوس ہوتا ہے گویا سمندر کو کوزے میں بند کر دیا گیا ہو۔ اگر ان مختصر الفاظ کے وسیع تر معانی میں غور کیا جائے تو حقیقت یہی سامنے آتی ہے کہ سارا دار و مدار کوشش پر ہے۔
البتہ!یہ حقیقت پیشِ نظر رہے کہ کوشش وہی معتبر ہے جو واقعی کوشش ہو،نہ کہ صرف زبانی دعویٰ۔اکثر ہم ارادہ کرتی ہیں اور کبھی نصیحت کرنے والیوں کو بھی یہ کہہ کر مطمئن کر دیتی ہیں کہ میں کوشش کروں گی؛نماز کی پابندی کروں گی، روزے رکھوں گی،شرعی پردہ اختیار کروں گی،دینی اجتماعات میں شریک ہوا کروں گی،علمِ دین کے لئے جامعۃ المدینہ میں داخلہ لوں گی وغیرہ۔لیکن جب عملی زندگی پر نظر ڈالیں تو اکثر ان ارادوں کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔یعنی یہ ارادے در اصل کوشش نہیں بلکہ صرف خواہش ہوتے ہیں، اور محض خواہش سے کچھ حاصل نہیں ہوتا جب تک عملی جدوجہد شامل نہ ہو۔اسی حقیقت کی طرف قرآنِ کریم یوں توجہ دلاتا ہے:
اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ(۲۴)
(پ27،النجم:24)
ترجمہ:کیا انسان کو ہر وہ چیز حاصل ہے جس کی اس نے تمنا کی؟
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اور اسی سورت میں مزید فرمایا:
لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ(۳۹)
(پ27،النجم:39)
ترجمہ:اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا جس کی اس نے کوشش کی۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
معلوم ہوا!صرف خواہش کوئی فائدہ نہیں دیتی؛اصل مطلوب کوشش ہے اور کوشش بھی وہ جو جتنی ہونی چاہیے اتنی ہو۔اسی مضمون کو مزید واضح کرتے ہوئے فرمایا گیا:
وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹)
(پ15،بنی اسرائیل:19)
ترجمہ: جو آخرت چاہتا ہے اور اس کیلئے ایسی کوشش کرتا ہے جیسی کرنی چاہیے اور وہ ایمان والا بھی ہو تو یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
غور کیجئے کہ کتنے ایسے دنیاوی کام ہیں جنہیں آپ کرنے کا ارادہ کریں تو کر ہی لیتی ہیں۔خود اسکول، کالج و جامعہ جانے یا بچوں کو وقت پر اسکول بھیجنے کے لئے آپ صبح سویرے بیدار ہو ہی جاتی ہیں۔عید، بقر عید،شادی،بیاہ اور دیگر تقریبات کے لئے کپڑوں،زیورات اور لوازمات کا اہتمام کرنا ہو تو اس کے لئے بھی آپ پوری لگن سے کوشش کرتی ہیں اور آخرکار وہ تیاری مکمل ہو ہی جاتی ہے۔اسی طرح ذاتی گھر بنانے، شادی کے انتظامات کرنے اور زندگی کے دیگر معاملات میں جو کوشش آپ کرتی ہیں،وہ عموماً نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے،کیونکہ ان امور کے لئے آپ واقعی وہ محنت کرتی ہیں جو کرنے کا حق ہے۔لیکن لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ کیا آپ اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے بھی اسی درجے کی کوشش کرتی ہیں؟کیا گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کو اپنانے کے لئے بھی دل سے محنت کرتی ہیں؟اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنتوں پر عمل کے لئے بھی کیا آپ پوری سنجیدگی سے کوشش کرتی ہیں؟دین کا علم حاصل کرنے کے لئے؛تاکہ احکامِ شریعت سے واقف ہو کر عمل کر سکیں،کیا آپ نے کبھی ویسی ہی جدوجہد کی ہے جیسی دنیاوی تعلیم کے لئے کرتی ہیں؟اسلامی پردے پر قائم رہنے کے لئے کیا آپ کوئی عملی کوشش کرتی ہیں؟موبائل فون اور دیگر آلات پر گناہوں بھرے مواد سے خود کو بچانے کے لئے کیا کبھی حقیقی کوشش کی ہے؟
اللہ پاک نے کوشش کرنے والیوں کو راہ دکھانے کی خوش خبری تو عطا فرمائی ہے،لیکن ساتھ ہی کماحقہ کوشش کرنے کی تاکید بھی فرمائی ہے۔لہٰذا آپ کو چاہیے کہ جس طرح آپ دنیاوی معاملات سنوارنے کے لئے کوشش کرتی ہیں،اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر کوشش اپنی آخرت بنانے کے لئے بھی کریں،کیونکہ بالآخر دنیاوی زندگی ختم ہو جانے والی اور آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔لہٰذا یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ دنیا کی کامیابی عارضی اور آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے۔اگر آپ اپنے دل میں پختہ نیت کر لیں تو اللہ پاک آپ کی ہر نیکی کی راہ آسان فرما دے گا۔بس ضرورت یہ ہے کہ آپ سچی تڑپ کے ساتھ قدم بڑھائیں اور اللہ پاک پر کامل بھروسا رکھیں۔جو عورت اپنے رب کی رضا کے لئے کوشش کرتی ، گناہوں سے بچتی،نیکی کی طرف بڑھتی اور حضور کی سنتوں کو اپنانے کا عزم رکھتی ہے،اللہ پاک اس کی ہر کوشش کو دیکھتا ہے اور اس کا بہترین بدلہ بھی عطا فرماتا ہے۔ آخرت کو سنوارنے کی کوشش آج ہی سے شروع کیجیے، کیونکہ کل کا کوئی بھروسا نہیں۔اللہ پاک ہمیں اپنی راہ میں کما حقہ کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری کوشش قبول فرمائے۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی
Comments