موضوع:میت کی رسومات (قسط 7)
غسلِ میت کی رسومات مکمل ہوچکی ہیں،اب کفن دفن وغیرہ کے متعلق معاملات و رسومات ملاحظہ فرمائیے:
حدیثِ پاک میں ہے:اپنے مُردوں کو اچھا کفن دو کہ وہ اپنی قبروں میں آپس میں ملاقات کرتے اور(اچھے کفن پر)فخر کرتے ہیں۔([1])عورت کے کفن کے متعلق بہارِ شریعت میں ہے کہ کفن اچھا ہونا چاہیے کہ عورت جیسے کپڑے پہن کر میکے جاتی تھی اس قیمت کا ہونا چاہئے۔([2])یعنی جان چھڑانے والا انداز نہ ہو بلکہ توجہ کے ساتھ اسے کفن دیا جائے۔
سفید رنگ کے کفن کو ضروری سمجھنا:
ہمارے معاشرے میں عام رواج ہے کہ میت کو سفید کفن دیا جائے۔احادیثِ طیبہ میں بھی سفید کپڑوں کا کفن دینے کی ترغیب دی گئی ہے اور افضل بھی یہی ہے۔البتہ!اگر سفید کے علاوہ کسی اور رنگ کا کفن دے دیا تو یہ بھی جائز ہے،بشرطیکہ وہ رنگ ایسا نہ ہو جو دنیا میں مرد کو پہننا جائز نہیں۔جہاں سفید رنگ معروف ہو،وہاں اہلِ علاقہ کے رواج کے برعکس کسی اور رنگ کا کفن دینا مکروہ ہے۔([3])بہارِ شریعت میں یہ بھی ذکر ہے کہ جو کپڑا زندگی میں پہن سکتے ہیں، اسی کا کفن دیا جا سکتا ہے۔([4])
کفن کا بچا ہوا کپڑا استعمال نہ کرنا:
بعض علاقوں میں یہ غلط رواج پایا جاتا ہے کہ میت کے کفن کا بچا ہوا کپڑا منحوس سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے،حالانکہ ایسا کرنا شرعاً درست نہیں۔اگر کپڑا قابلِ استعمال ہو تو اسے کسی بھی جائز مصرف میں استعمال کیا جا سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔صرف کفن سے متعلق ہونے کی وجہ سے اسے برا شگون سمجھ لینا اور پھینک دینا نا جائز اور اسراف ہے۔پھر اگر کفن میت کے مال سے خریدا گیا ہو تو بچا ہوا کپڑا ترکہ میں شمار ہوگا اور اگر کسی نے اپنی ذاتی رقم سے خریدا ہو تو وہ اسی کی ملکیت رہے گا اور اس کی اجازت سے کہیں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔خلاصہ یہ کہ کفن کا بچا ہوا کپڑا بھی عام کپڑوں ہی کی طرح ہے، لہٰذا اسے ضائع کرنا ہرگز درست نہیں۔([5])
کفن کے کپڑے کو سینا:
بعض جگہ کفن میں ضرورت پڑنے پر بھی سلائی لگانا معیوب سمجھا جاتا ہے،یہاں تک کہ اگر کپڑا چوڑائی میں کم ہو تو بھی سلائی سے اجتناب کیا جاتا ہے۔یہ طرزِ عمل درست نہیں۔اگرچہ بلا ضرورت کفن میں سلائی نہ کرنا بہتر ہے، لیکن جب ضرورت ہو تو کفن کے کپڑے کو ہاتھ سے یا سلائی مشین سے سینا شرعاً بالکل جائز ہے،اس میں کوئی حرج نہیں۔([6])
اپنی زندگی میں کفن تیار رکھنا:
بعض افراد اپنی زندگی ہی میں اپنا کفن خرید کر محفوظ رکھ لیتے ہیں جس میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:کفن پہلے سے تیار رکھنے میں حرج نہیں۔ ([7]) اس عمل کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ موت کی یاد دلاتا ہے اور موت کی یاد آخرت کی تیاری کی طرف لے جانے والی ہے۔ حدیثِ مبارک میں بھی موت کو کثرت سے یاد کرنے اور آخرت کی تیاری کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔([8])
شادی شدہ عورت کا کفن میکے سے ہونا:
بعض علاقوں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ شادی شدہ عورت کا انتقال ہو جائے تو اس کا کفن میکے کی طرف سے لایا جاتا ہے اور اس پر خاص زور بھی دیا جاتا ہے،یہاں تک کہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو اعتراضات کیے جاتے ہیں۔حالانکہ شرعاً حکم یہ ہے کہ اگر شادی شدہ عورت کا انتقال ہو اور اس کا شوہر زندہ ہو تو بیوی کا کفن شوہر پر واجب ہے، چاہے عورت نے اپنا مال چھوڑا ہو۔اگر شوہر زندہ نہ ہو تو عورت کے ترکے سے کفن دیا جائے گا، اور اگر ترکہ نہ ہو تو وہ شخص ذمہ دار ہوگا جس پر اس کی کفالت لازم تھی۔اور اگر ایسا بھی کوئی نہ ہو تو جس جس مسلمان تک خبر پہنچے، ان پر اس کا کفن دینا لازم ہو جاتا ہے۔([9])
کفن میں اضافی چیزیں رکھنا:
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں:عورت کے لئے پانچ (سنت کپڑوں)کے سوا کفنی میں کوئی اور تہبند یا رومال دینا بدعت و ممنوع ہے۔سرمہ،کنگھی اگر فقیر کو بطورِ صدقہ دیں تو حرج نہیں اور کفن میں رکھنا حرام ہے۔([10])
کفن میں شلوار پہنانا:
بعض جگہ عورت کے کفن میں سلی ہوئی شلوار پہنانے کا رواج پایا جاتا ہے اور اسے لازمی سمجھا جاتا ہے، یہاں تک کہ منع کرنے پر گھر کی بڑی خواتین بحث و تکرار پر اتر آتی ہیں۔یہ صحیح نہیں، کیونکہ کفن کے کپڑے کو زندگی کے لباس پر قیاس کیا گیا ہے۔زندگی میں شلوار چلنے پھرنے کی وجہ سے ستر کی مضبوط حفاظت کے لئے ضروری ہوتی ہے، جبکہ موت کے بعد ایسی ضرورت باقی نہیں رہتی۔لہٰذا سلی ہوئی شلوار کو کفن کا ضروری حصہ سمجھنا شرعاً درست نہیں ہے۔([11])
کفن میں احرام کی چادر تبرکاً استعمال کرنا:
بعض خواتین حج وعمرہ کے احرام کی چادریں سنبھال رکھتی ہیں اور وصیت کرتی ہیں کہ ان کے کفن میں ان میں سے ایک چادر ضرور شامل کی جائے۔یہ عمل شرعاً جائز ہے،چاہے اس احرام میں متعدد حج و عمرے ادا کیے گئے ہوں۔البتہ!اگر چادر میلی ہوچکی ہو تو اسے دھو کر صاف کرلینا چاہیے،کیونکہ ستھرا اور پاکیزہ کفن رکھنا پسندیدہ عمل ہے۔([12])
آبِ زم زم کا دھلا ہوا کفن:
سفرِ حرمین کے دوران بہت سی خواتین پہلے سے کفن خرید کر لے جاتی ہیں اور وہاں اسے آبِ زمزم میں بھگو کر لاتی ہیں۔یہ عمل اچھا ہے، اس طرح کفن مکہ و مدینہ پاک کی نسبت اور برکت سے مشرف ہوجاتا ہے۔البتہ! نچوڑتے وقت یہ احتیاط ضروری ہے کہ آبِ زمزم کا کوئی قطرہ نالی میں ضائع نہ ہو،بلکہ اسے کسی پودے میں ڈال دینا چاہیے۔ ([13]) کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وقت کی کمی کے باعث کفن کو بھگو تو دیا جاتا ہے مگر اسے خشک نہیں کیا جاتا، بلکہ گیلا ہی شاپر میں بند کر کے لایا جاتا ہے۔پھر یہ برسوں رکھا رہتا ہے اور اس پر دھبے پڑ جاتے ہیں، جو استعمال کے وقت نا خوشگوار محسوس ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں کفن کو دھو کر صاف کرلینا چاہیے، کیونکہ کفن کا پاکیزہ اور ستھرا ہونا پسندیدہ ہے۔
احرام والی عورت کا کفن میں منہ نہ ڈھانپنا:
حج یا عمرہ میں کوئی حالتِ احرام میں وفات پا جائے تو عام عورتوں کی طرح حالتِ احرام میں اس عورت کا بھی منہ اور سر کفن سے چھپایا جائے گا اور اس کو خوشبو بھی لگائیں گے۔([14])
غسلِ میت کی جگہ چالیس دن لائٹ نہ جلانا:
بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ میت کے غسل کی جگہ چالیس روز تک لائٹ نہیں جلائی جاتی، حالانکہ اس کی کوئی شرعی اصل نہیں۔اندھیرا رکھنے سے گھر والے،خصوصاً بچے خوف اور بےچینی محسوس کرسکتے ہیں، لہٰذا وہاں بلب جلانا بالکل جائز ہے۔اگر بچوں کو رات میں واش روم جاتے ہوئے ڈر لگے تو پوری رات لائٹ روشن رکھنا بھی درست ہے۔البتہ!بلا وجہ مسلسل لائٹ جلائے رکھنا اسراف ہے، اس سے بچنا چاہیے۔([15])
کفن پر مقدس تحریرات لکھنا:
کفن پر کلمہ طیبہ، دعا یا عہد نامہ وغیرہ لکھنا جائز اور مستحب ہے،بہتر یہ ہے کہ شہادت کی انگلی سے بغیر روشنائی کے لکھا جائے۔([16])اس کے علاوہ کچھ مقدس تحریرات بھی میت کو عذابِ قبر اور سوالِ نکیرین سے محفوظ رکھنے کے لئے کفن میں رکھی جاتی ہیں۔ان کی تفصیل جاننے کے لئے مکتبہ المدینہ کی کتاب تجہیز و تکفین کا طریقہ صفحات 105 تا 107 ملاحظہ کیجئے۔
کفن میں تبرک رکھنا:
یہ جائز و مستحسن ہے۔اُمِّ عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت حضور کی صاحبزادی کا انتقال ہوا تو آپ نے بعدِ غسل اپنا تہبند مبارک عنایت کرکے فرمایا:اس کے بدن سے متصل رکھو۔([17])
عورت کے کفن پر پھول ڈالنا:
غسل وکفن کے بعد میت پر پھول کی پتیاں یا چادر ڈالنا جائز ہے۔اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں: پھولوں کی چادر بالائے کفن ڈالنے میں شرعاً اصلاً حرج نہیں بلکہ نیتِ حسن سے یہ حسن ہے جیسے قبور پر پھول ڈالنا۔([18])البتہ اگر نیت صرف زینت کی ہو تو یہ مکروہ ہے۔([19])
عورتوں کا جنازے میں شرکت کرنا اور قبرستان جانا:
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:عورتوں کو جنازہ کے ساتھ جانا، نا جائز و ممنوع ہے۔([20]) عورتوں کے لیے بعض علما نے زیارتِ قبور کو جائز بتایا،دُرِّ مختار میں یہی قول اختیار کیا،مگر عزیزوں کی قبور پر جائیں گی تو جزع و فزع کریں گی ، لہٰذا ممنوع ہے ([21])
ایصال ثواب:
اپنے کسی نیک عمل کا ثواب کسی دوسرے مسلمان کو پہنچانا ایصالِ ثواب کہلاتا ہے۔شریعتِ مطہرہ میں اپنے کسی بھی نیک عمل کا ثواب کسی فوت شدہ یا زندہ مسلمان کو ایصال کرنا جائز و مستحسن ہے۔([22])ایصالِ ثواب کا کھانا خود بھی کھا سکتے ہیں اور اپنے عزیز و اقربا و احبّا،اغنیا و فقرا سب کو کھلاسکتے ہیں۔([23])
تیجہ، دسواں، چالیسواں وغیرہ کا کھانا:
فوت شدہ مسلمانوں کے ایصالِ ثواب کے لئے عموماً قرآن خوانی،محفلِ ذکر و نعت اور کھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔اگر یہ اہتمام فوت ہونے کے دوسرے یا تیسرے روز ہو تو تیجہ،دسویں روز دسواں، چالیسویں روز چالیسواں یا چہلم اور سال کے بعد ہو تو برسی کہلاتا ہے۔ایک دو دن آگے پیچھے بھی ہوجائیں تو دسواں،بیسواں یا چالیسواں ہی کہلاتے ہیں۔([24])
رشتہ دار یا اہلِ محلہ کھانے کی تیاری کرتے ہیں اور جنازے کے بعد اعلان کیا جاتا ہے کہ حاضرین کھا کر جائیں۔ایامِ سوگ کے پہلے تین دن میں کھانے کی دعوت دینا، چاہے گھر والے دیں یا اہلِ محلہ نا جائز،ممنوع اور بدعتِ سیئہ و قبیحہ ہے کہ دعوت خوشی کے موقع پر ہوتی ہے،موت اس کا محل نہیں،اگر کھانے کا اہتمام ہو تو وہ صرف فقرا کے لئے کھانا جائز ہے۔
سوگ کے تین دن کے بعد کھانے کا اہتمام جائز اور مستحب ہے۔فقرا کے ساتھ اغنیا بھی کھا سکتے ہیں، کیونکہ مقصد میت کے لئے ثواب حاصل کرنا ہے۔البتہ فقرا کو کھلانے کا ثواب زیادہ ہے اور بہتر یہی ہے کہ ایصالِ ثواب کے لئے فقرا کو ترجیح دی جائے تاکہ مرحوم کو زیادہ ثواب پہنچے۔چالیسواں یا سالانہ کھانے میں بھی یہی اصول ہے،یعنی فقرا کو ترجیح دینا مستحب ہے اور اگر اغنیا بھی شامل ہوں تو جائز ہے۔
کھانے کا اصل مقصد مرحوم کے لئے نیک اعمال کے ثواب کا حصول اور دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنا ہے۔فقرا کو ترجیح دے کر دین کی تعلیمات اور اخلاصِ نیت کے مطابق ثواب وصول کرنا مرحوم کے لئے زیادہ مفید ہے۔ یوں تیجہ،دسواں،چالیسواں اور سالانہ کھانے کا اہتمام میت کے ایصالِ ثواب کے لئے اور دینِ اسلام کے مطابق کرنے سے مرحوم کی روح کے لئے برکت حاصل ہوتی ہے اور اہلِ ایمان کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلز ای ون جوہر ٹاؤن لاہور
[1] مسند فردوس،1/98،حدیث:318
[2] بہار شریعت، 1/818، حصہ:4
[3] فتاویٰ اہلسنت غیر مطبوعہ، فتویٰ نمبر:WAT-3124
[4] بہار شریعت، 1/819، حصہ:4
[5] فتاویٰ اہلسنت غیر مطبوعہ، فتویٰ نمبر:WAT-3074
[6] تجہیز و تکفین کا طریقہ، ص 105
[7] فتاویٰ رضویہ، 9/265
[8] میت کے احکام، ص 70
[9] فتاویٰ اہلسنت غیر مطبوعہ، فتویٰ نمبر:WAT-2633
[10] فتاویٰ رضویہ، 9/608
[11] فتاویٰ اہلسنت غیرمطبوعہ، فتویٰ نمبر:Aqs:1029
[12] میت کے احکام، ص 73
[13] رفیق الحرمین، ص 30
[14] فتاویٰ ہندیہ،1/161
[15] کیا غسلِ میت والی جگہ لائٹ نہیں جَلا سکتے؟، ص 1
[16] میت کے احکام ،ص 89
[17] بخاری، 1/ 425، حدیث:1253
[18] فتاویٰ رضویہ، 9/ 135
[19] فتاویٰ رضویہ، 9/ 137 ماخوذاً
[20] بہار شریعت، 823/1، حصہ:4
[21] ابو داود، 3/294، حدیث:3236
[22] بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت، ص 95
[23] بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت، ص 98
[24] بنیادی عقائد اور معمولاتِ اہلسنت، ص 97
Comments