خواتین کو قرآنی نصیحت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:خواتین کو قرآنی نصیحت

اللہ پاک کا فرمان ہے:

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ22،الاحزاب:33)

ترجمہ:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر

اس آیتِ مبارکہ میں اللہ پاک اپنے نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی بیویوں کو آداب سکھاتا ہے اور چونکہ تمام عورتیں انہی کے ماتحت ہیں،اس لئے یہ احکام تمام مسلمان عورتوں کے لئے ہیں۔تفسیر روح البیان میں ہے کہ اگرچہ یہ خطاب نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی ازواجِ مطہرات سے ہے،لیکن اس حکم میں دیگر تمام مومن عورتیں بھی شامل ہیں۔پھر ایک فارسی شعر ذکر فرماتے ہیں جس کا ترجمہ کچھ ہوں ہے:غیر مردوں کے لئے عورت کی آنکھ اندھی ہو جانی چاہیے اور جب وہ گھر سے باہر نکلے تو اسے گویا قبر میں ہونا چاہیے(یعنی جس طرح قبر میں موجود انسان کسی کو نظر نہیں آتا اور نہ کسی کو دیکھتا ہے،اسی طرح عورت جب کسی مجبوری کے سبب گھر سے نکلے تو وہ پردے میں ایسی چھپی ہو کہ اس کا وجود دوسروں کے لئے پوشیدہ رہے۔)امام راغب فرماتے ہیں:ثوب متبرج اس کپڑے کو کہتے ہیں جس پر بروج(مینار یا نقش و نگار) بنے ہوں اور وہ خوبصورت لگے۔جب عورت مردوں کے لئے اپنی زینت اور محاسن (خوبصورتی کے مقامات)کو ظاہر کر کے مردوں کی مشابہت اختیار کرے تو اسے تبرج کہا جاتا ہے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ تبرج کا مطلب عورت کا اپنے برج یعنی محل سے باہر نکلنا یا چال میں لچک اور تکبر پیدا کرنا  ہے۔کاشفی فرماتے ہیں:صحیح بات یہ ہے کہ جاہلیتِ اولیٰ حضرت ابراہیم  علیہ السلام  کا زمانہ ہے،جب عورتیں موتیوں سے بنے لباس پہنتی تھیں اور راستوں میں مردوں کے سامنے خود کو پیش کرتی تھیں۔ایک قول یہ بھی ہے کہ جاہلیتِ اخریٰ سے مراد وہ لوگ ہیں جو آخری زمانے میں پہلے لوگوں جیسے کام کریں گے۔([1])

حضرت آدم  علیہ السلام  کی اولاد کے دو گروہ تھے:ایک میدانی علاقےمیں رہتا تھا اور دوسرا پہاڑوں میں۔پہاڑی علاقے کے مرد خوبصورت تھے اور عورتیں بد صورت تھیں،جبکہ میدانی علاقے کی عورتیں خوبصورت تھیں اور مرد بد صورت تھے۔ابلیس ایک لڑکے کی شکل میں میدانی علاقے کے ایک شخص کے پاس آیا اور خود کو مزدوری کے لئے پیش کیا،چنانچہ وہ اس کی خدمت کرنے لگا۔ابلیس نے ایک بانسری بنائی جیسے چرواہے بجاتے ہیں اور اس سے ایسی آواز نکالی کہ لوگوں نے اس جیسی آواز کبھی نہ سنی تھی۔ یہ خبر آس پاس پھیل گئی اور لوگ اسے سننے کے لئے ٹوٹ پڑے۔  انہوں نے سال میں ایک عید مقرر کر لی جس میں وہ جمع ہوتے تھے۔اس موقع پر عورتیں مردوں کے لئے بے پردہ ہو کر نکلتیں اور مرد بھی عورتوں کے لئے سج دھج دکھاتے۔پہاڑی علاقے کا ایک شخص ان کی عید کے موقع پر اچانک وہاں پہنچ گیا،اس نے عورتوں کو اور ان کے حسن و جمال کو دیکھا تو واپس اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور انہیں اس کی خبر دی۔چنانچہ وہ لوگ بھی ان عورتوں کی طرف منتقل ہو  کر ان کے ساتھ آ کر  رہنے لگے اور ان میں بے حیائی پھیل گئی۔([2])

ایک قول یہ ہے کہ اگلی جاہلیت سے مراد اسلام سے پہلے کا زمانہ ہے جس میں عورتیں اتراتی ہوئی نکلتی اور اپنی زینت اور محاسن کا اظہار کرتی تھیں تاکہ غیر مرد انہیں دیکھیں،لباس ایسے پہنتی تھیں جن سے جسم کے اعضاء اچھی طرح نہ ڈھکیں اور پچھلی جاہلیت سے آخری زمانہ مراد ہے جس میں لوگوں کے افعال پہلوں کی مثل ہو جائیں گے۔([3])

حضور غوثِ پاک  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:اس حکمِ الٰہی کا بنیادی مقصود یہ ہے کہ حضور کی مقدس بیویاں اور تمام مومن خواتین اپنے گھروں کو اپنا اصل مرکز اور جائے سکون بنائیں، کیونکہ ان کا بلا ضرورت لوگوں کے سامنے ظاہر نہ ہونا ہی ان کے اس بلند مرتبے اور وقار کے شایانِ شان ہے جو اسلام نے انہیں عطا کیا ہے۔اللہ پاک خواتین کو خبردار فرماتا ہے کہ اگر کبھی کبھار کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلنا بھی پڑے تو ان کی چال ڈھال ایسی نہ ہو جس سے زینت کا اظہار ہو یا دیکھنے والوں کے جذبات میں ہیجان پیدا ہو۔انہیں جاہلیتِ اولیٰ یعنی کفر کے اس قدیم دور کی روش سے بچنا چاہیے جہاں عورتیں بے حیائی اور بغیر کسی پردے کے مردوں کے سامنے بن سنور کر آتی تھیں اور اپنے ناز و انداز سے انہیں فتنے میں ڈالتی تھیں۔  اس بری روش کے بجائے خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو اللہ پاک کی عبادت،خصوصاً نمازِ پنجگانہ اور نوافل کے لئے وقف کریں تاکہ انہیں قربِ الٰہی حاصل ہو۔ نیز اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر کے اپنی جانوں کو کنجوسی اور دنیا کی محبت جیسی باطنی بیماریوں سے پاک رکھیں،تاکہ ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ قائم ہو سکے جو جاہلیت کی ہر قسم سے مکمل طور پر پاک ہو۔([4])

عورتوں کا گھروں سے نکلنا اور نماز کا مسئلہ

حضرت عبدُ اللہ ابنِ مسعود  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ عورتوں کو گھروں میں روکو کیونکہ عورتیں پردے میں رکھنے والی چیزیں ہیں۔ جب عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ بلا شبہ جب تو کسی کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ تجھے دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔([5])

شریعت کو پردے کی حرمت کا بے حد لحاظ ہے۔جیسا کہ حضور کی ظاہری زندگی میں عورتیں مسجدوں میں باجماعت نماز ادا کرتی تھیں،پھر تبدیلیِ حالات کے سبب علمائے کرام نے عورتوں کو مساجد کی حاضری سے منع فرما دیا۔حضرت عائشہ صدیقہ بھی اپنے زمانے کی عورتوں کا مسجد میں آنا پسند نہیں فرماتی تھیں۔جیسا کہ آپ سے منقول ہے کہ جو باتیں عورتوں نے اب پیدا کی ہیں،اگر حضور ان باتوں کو دیکھ لیتے تو مسجدمیں آنے سے انہیں ضرورمنع فرمادیتے۔([6]) اب تو عورتوں کی عریانیت اور ان کی آزادی بہت بڑھ چکی ہے۔امیرالمومنین حضرت عمر فاروقِ اعظم  رضی اللہ عنہ  نے عورتوں کا حال دیکھ کر انہیں مسجد میں آنے سے منع فرما دیا حالانکہ اس زمانے میں اگر ایک عورت نیک ہے تو ان کے زمانہ مبارکہ میں ہزاروں عورتیں نیک تھیں اور ان کے زمانہ میں اگر ایک عورت فاسقہ تھی تو اب ہزاروں عورتیں فاسقہ ہیں اور حضرت عبدُ اللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  فرماتے تھے کہ عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ خدائے پاک کے قریب اپنے گھر کی تہہ میں ہوتی ہے اور جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس پر نگاہ ڈالتا ہے اور حضرت عبدُ اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہ ما  جمعہ کے دن کھڑے ہو کر کنکریاں مار مار کر عورتوں کو مسجد سے باہر نکالتے اور حضرت امام ابراہیم نخعی تابعی  رحمۃ اللہ علیہ  اپنی مستورات کو جمعہ اور جماعت میں نہیں جانے دیتے تھے اور حضرت امام اعظم ابو حنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ  اور دیگر مُتَقَدِّمین نے اگرچہ بوڑھی عورتوں کی فجر، مغرب اور عشا کی جماعتوں میں شرکت کو جائز ٹھہرایا تھا لیکن مُتاَخِّرِین نے بوڑھی ہو یا جوان ہر عمر کی عورتوں کو سب نمازوں کی جماعت میں دن کی ہو یا رات کی شرکت سے منع فرما دیا اور ممانعت کی وجہ فتنے کا خوف ہے جو حرام کا سبب ہے اور جو چیز حرام کا سبب ہوتی ہے وہ بھی حرام ہوتی ہے۔ظاہر ہے کہ جب فسادِ زمانہ کے سبب اب سے سینکڑوں برس پہلے مسجدوں میں حاضر ہونے اور جماعتوں میں شرکت کرنے سے عورتیں روک دی گئیں،حالانکہ ان دونوں باتوں کی شریعت میں بہت سخت تاکید ہے تو اس زمانے میں جب کہ فتنہ و فساد بہت بڑھ چکا ہے بھلا عورتوں کا بے پردگی کے ساتھ سڑکوں،پارکوں اور بازاروں میں گھومنا پھرنا اور نا محرموں کو اپنا بناؤ سنگار دکھانا کیونکر جائز و درست ہو سکتا ہے ۔ ([7])

گھر میں ٹھہرنے کی فضیلت اور عقلی مثال

حضرت اُمِّ حُمید نے عرض کی:یا رسول اللہ!ہمارے شوہر ہمیں آپ کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکتے ہیں لیکن ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتی ہیں۔حضور نے فرمایا:تمہارا اپنے گھروں میں نماز پڑھنا اپنے بیرونی کمروں میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا بیرونی کمروں میں نماز پڑھنا اپنی حویلیوں میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا اپنی حویلیوں میں نماز پڑھنا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔([8])حضرت اُمِّ سَلَمَہ فرماتی ہیں: حضور نے فرمایا:عورتوں کی سب سے بہتر نماز وہ ہے جو ان کے گھروں کے اندرونی حصے میں ہو۔([9])حضرت انس فرماتے ہیں: عورتوں نے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی:یا رسولَ اللہ!مرد راہِ خدا میں جہاد میں شریک ہو کر فضیلت لے گئے،کیا ہمارے لئےایسا کوئی عمل نہیں جس کے سبب ہم مجاہدین کے عمل کا ثواب پالیں؟تو حضور نے فرمایا:تم میں سے جو اپنے گھروں میں ٹھہری رہے وہ ان مجاہدین کا درجہ حاصل کر لے گی۔ ([10]) اس روایت سے ان عورتوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے جو بلا ضرورت بازاروں کی رونق بنی رہتی ہیں۔

یاد رہے!اسلام میں عورت کو گھر میں رہنے کا حکم اسے قید کرنا نہیں،بلکہ اس کی عزت و عصمت کا تحفظ ہے۔اسے یوں سمجھئے کہ جس کے پاس قیمتی ترین ہیرا ہو وہ اسے لے کر سرِ عام بازاروں میں نہیں گھومتا بلکہ اسے مضبوط لاکر میں رکھتا ہے تاکہ لٹیرا اسے لوٹنے کی کوشش نہ کرے اور عقلِ سلیم میں یہ عمل قابلِ تعریف ہے۔قیمتی ہیرے کا زیادہ تحفظ اسے لاکر کے اندر رکھنے میں ہے اور اسی طرح عورت کی عصمت کا زیادہ تحفظ اس کا گھر کے اندر رہنے میں ہے۔وہ لوگ جو اسے قید قرار دے کر اعتراض کرتے ہیں،وہ حقیقت میں دانش سے دور اور کافروں کے طرزِ زندگی سے مرعوب ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ عورت اپنی عصمت کی دولت تک لٹیروں کی رسائی آسان کر دے۔([11])

گھر سے باہر نکلنے کی احتیاطیں

حضرت عمر فاروق  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ عورتوں کے بارے میں کم لباس سے مدد لو،کیونکہ جب ان کے کپڑے زیادہ اور زینت عمدہ ہوتی ہے تو انہیں باہر نکلنا اچھا لگتا ہے۔([12])

شرعی اجازت کی صورت میں گھر سے نکلتے وقت عورت غیر جاذبِ نظر کپڑے کا ڈھیلا ڈھالا برقع اوڑھے،ہاتھوں میں دستانے اور پاؤں میں جُرابیں پہنے۔مگر دستانوں اور جُرابوں کا کپڑا  اتنا باریک نہ ہو کہ کھال کی رنگت جھلکے۔جہاں کہیں غیر مردوں کی نظر پڑنے کا امکان ہو وہاں چہرے سے نقاب نہ اٹھائے، مثلاً: اپنے یا کسی کے گھر کی سیڑھی اور گلی محلہ وغیرہ۔ نیچے کی طرف سے بھی اس طرح برقع نہ اٹھائے کہ بدن کے رنگ برنگے کپڑوں پر نظر پڑے۔عورت کے سر کے بال،بازو، کلائی،گلا،پیٹ یا پنڈلی وغیرہ اجنبی مرد پر بلا اجازتِ شرعی ظاہر نہ ہو،بلکہ اگر لباس ایسا پتلا ہے جس سے بدن کی رنگت جھلکے یا ایسا ٹائٹ ہے کہ جسمانی ابھار ظاہر ہوں،یا دوپٹہ اتنا باریک ہے کہ بالوں کی سیاہی چمکے تو یہ بھی بے پردگی ہے۔اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:جو وضْعِ لباس (لباس کی بناوٹ)و طریقۂ پَوشِش(پہننے کا انداز) اب عورات میں رائج ہے کہ کپڑے باریک جن میں سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بالوں یا گلے یا بازو یا کلائی یاپیٹ یا پِنڈلی کا کوئی حصّہ کُھلا ہو یوں تو خاص مَحارِم کے جن سے نکاح ہمیشہ کو حرام ہے کسی کے سامنے ہونا سخت حرامِ قطعی ہے۔([13])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دار شعبہ ماہنامہ خواتین




[1] تفسیر روح البیان،7/170

[2] تفسیر در منثور،6/106

[3] تفسیر صراط الجنان،8/21

[4] تفسیر جیلانی،4/87،86 ملخصاً

[5]تفسیر در منثور،6/600

[6] بخاری،1/300،حدیث:869

[7] فتاویٰ فیض الرسول،2 /635،636

[8] معجم کبیر،25/148،حدیث:356

[9] مسند امام احمد،44/195،حدیث:26570

[10] مسند بزار،13/339،حدیث:6962

[11] تفسیر صراط الجنان،8/21،20ملخصاً

[12] مصنف ابن ابی شیبہ،9/501،حدیث:18007

[13] فتاویٰ رضویہ جدید،22/217


Share