موضوع:کرنے والے کام کیجئے
حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا:آپ نے یہ بلند مقام کیسے حاصل کیا؟فرمایا:میں نے بے مقصد کام کو چھوڑ دیا اور ہمیشہ رہنے والی ذات(اللہ پاک)سے اُنْس حاصل کیا۔([1])
معلوم ہوا کہ ٹائم پاس کے نام پر فضولیات یا گناہوں بھری مصروفیات پالنا مسلمان کے شایانِ شان نہیں،اس پر حق ہے کہ اللہ پاک سے اُنْس حاصل کرے یعنی نیکیوں میں دل لگائے اور رضائے الٰہی والے کاموں میں مصروف رہے۔
الحمدُ للہ!ہم اشرفُ المخلوقات ہیں اور ہماری زندگی کا مقصد محض کھانا پینا یا بے مقصد جینا نہیں،بلکہ اپنے رب کی عبادت کرنا ہے تاکہ آخرت میں اس کے فضل سے جنت اور دیدارِ الٰہی کی سعادت حاصل ہو۔اس عظیم مقصد کو فراموش کر کے فضولیات اور گناہوں میں وقت ضائع کرنا سراسر نقصان ہے۔ ہماری زندگی کا ہر لمحہ قیمتی ہے،اس لئے ہمیں چاہیے کہ اپنے وقت کو ذِکرُ اللہ اور نیکیوں میں صرف کریں،گناہوں کی پہچان حاصل کریں تاکہ جہالت کے سبب ان میں مبتلا نہ ہوں،ماضی کے گناہوں سے سچی توبہ کریں اور آئندہ ان سے بچنے کا پختہ عزم رکھیں۔اپنے اعمال کا مسلسل محاسبہ کریں اور ایسے کاموں سے بچیں جن کا نہ دنیا میں فائدہ ہو نہ آخرت میں۔
موبائل فون آج کے دور میں وقت ضائع ہونے کا بڑا سبب ہے،لیکن اگر انسان خود پر کچھ سختی کرے،غیر ضروری رابطے ختم کر دے اور فضول اسکرولنگ سے بچے تو اس کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔موبائل کو صرف ضروری رابطے،مستند دینی لٹریچر پڑھنے اور علمِ دین حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جائے تو دنیا و آخرت کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔بری صحبت سے بچیں اور اچھی صحبت اپنائیں،ورنہ تنہائی بہتر ہے۔اچھی صحبت وہ ہے جو نیکی کی طرف لے جائے۔حضور نے اچھے لوگوں کی نشانی بیان کرتے ہوئے فرمایا:جنہیں دیکھنے سے ربّ یاد آئے۔([2])
زندگی اللہ پاک کی بڑی نعمت ہے،لہٰذا ہمیں چاہیے کہ وقت کی قدر کریں،گناہوں اور فضول کاموں سے بچیں اور رضائے الٰہی والے اعمال کریں،کیونکہ معلوم نہیں کب سانسوں کی مالا ٹوٹ جائے اور یہ نعمت واپس لے لی جائے۔
اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ نیکیوں میں گزارنے کے لئے اچھی نیتوں کی عادت ڈالیں،کیونکہ جتنی اچھی نیتیں زیادہ ہوں گی،اتنا ثواب بھی زیادہ حاصل ہوگا۔*مباح کاموں میں بھی نیک نیت کریں،جیسے کھانا کھاتے،پیتے،سوتے یا ٹہلتے ہوئے، کیونکہ ہر مباح نیتِ حسن سے مستحب ہو جاتا ہے۔*گھریلو کام، جیسے کھانا بناتے یا صفائی کرتے ہوئے ذکر و درود جاری رکھیں، دل میں یادِ مدینہ بسائیں اور قبر و آخرت کو یاد رکھیں۔*سنتوں کو اپنی زندگی میں نافذ کریں،کھانے پینے،چلنے،بیٹھنے،بات کرنے اور سونے جاگنے میں سنتوں کا لحاظ رکھیں۔*وضو کی عادت ڈالیں کیونکہ جب تک وضو رہے گا،فرشتے نیکیاں لکھتے رہیں گے۔([3]) *آسان نیکیاں اپنائیں،مثلاً:اذان کا جواب دیں اور ہر جائز کام سے پہلے بِسْمِ اللہ کہیں کہ اس کے بدلے ہزاروں نیکیاں، درجات اور گناہوں کی بخشش ملتی ہے۔اللہ پاک ہمیں فضولیات سے بچ کر اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی سعادت عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی

Comments