حضرت یوشع علیہ السلام کے معجزات و عجائبات (قسط : 01)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضرت یوشع علیہ السلام کے معجزات و عجائبات(قسط1)

حضرت یوشع بن نون  علیہ السّلام  حضرت یوسف  علیہ السّلام  کے پڑپوتے اور حضرت ہود  علیہ السّلام  کے چچا زاد ہیں۔([1])آپ حضرت موسیٰ  علیہ السّلام  کے رفقا میں حضرت ہارون  علیہ السّلام  کے بعد  سب سے بلند مرتبہ اور عظیم الشان ساتھی تھے۔ آپ حضرت موسیٰ پر ایمان لائے،ان کی رسالت کی تصدیق کی اور ہر مرحلے میں ان کے ساتھ وفادارانہ طور پر وابستہ رہے۔حضرت خضر  علیہ السّلام  سے ملاقات کے لئے ہونے والے سفر میں بھی آپ حضرت موسیٰ کے ہمراہ تھے اور ان کے وصالِ ظاہری تک ساتھ نبھایا۔ حضرت ہارون میدانِ تیہ میں حضرت موسیٰ سے دو سال قبل ہی وصال فرماگئے تھے،دو سال بعد میدانِ تیہ میں ہی حضرت موسیٰ کا بھی وصال ہوگیا۔ حضرت موسیٰ  علیہ السّلام  کے بعد آپ نے ہی بنی اسرائیل کے معاملات کو سنبھالا اور ان کے مشن کو آگے بڑھایا،قومِ جبارین کے خلاف جہاد کیا اور اللہ پاک کے فضل سے کئی فتوحات حاصل کیں۔ذیل میں حضرت یوشع بن نون  علیہ السّلام   کے معجزات و عجائبات ذکر کیے جا رہے ہیں۔

اوصافِ مبارکہ:

حضرت یوشع  علیہ السّلام اللہ پاک سے ڈرنے والے، اس کے انعام یافتہ بندے اور انتہائی بہادر و نڈر تھے۔ یوں تو سبھی انبیائے کرام اللہ پاک کا خوف رکھنے والے اور انعام یافتہ بندے ہوتے ہیں لیکن قرآنِ مجید میں حضرت یوشع بن نون  علیہ السّلام  کا یہ وصف بطورِ خاص کچھ یوں بیان ہوا ہے:

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَۚ- (پ 6،المائدۃ:23)

ترجمہ: اللہ سے ڈرنے والوں میں سے وہ دو مرد جن پراللہ نے احسان کیا تھا انہوں نے کہا:(شہر کے)دروازے سے ان پر داخل ہو جاؤ۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

دو شخصوں میں سے ایک حضرت یوشع بن نون اور دوسرے حضرت کالب بن یوقنا تھے۔([2])واقعہ کچھ یوں ہے کہ حضرت موسیٰ  علیہ السّلام  نے قومِ جبارین کے احوال معلوم کرنے کے لئے چند افراد کو بھیجا تھا جن میں حضرت یوشع بھی شامل تھے۔آپ نے انہیں تنبیہ فرمائی تھی کہ قوم کے احوال خاموشی سے صرف مجھے بتانا،مگر حضرت یوشع اور کالب کے علاوہ دیگر سرداروں نے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ساری قوم کو ان کے احوال اس انداز سے بتا دیئے کہ دشمنوں کی طاقت وقوت اور جسامت کو سن کر پوری قوم ڈر گئی اور حضرت موسیٰ کے ساتھ جہاد کرنے سے انکار کر دیا،جبکہ حضرت یوشع و کالب نے حکم کے مطابق صرف حضرت موسیٰ ہی کو بتایا تھا۔([3])جب قوم نے دشمن سے مرعوب ہوکر جنگ لڑنے سے انکار کر دیا تو حضرت کالب و یوشع نے انہیں حوصلہ دیتے ہوئے فرمایا کہ تم ایک بار ان کے دروازے سے اندر داخل تو ہوجاؤ پھر دیکھنا تم ہی غالب ہو گے! مگر قوم کی آنکھوں پر دشمن کی ہیبت وطاقت کی ایسی پٹی بندھ گئی تھی کہ وہ کسی صورت لڑنے کو تیار نہ ہوئے۔اسی واقعے کے ضمن میں مذکورہ آیتِ مبارکہ میں حضرت یوشع  علیہ السّلام  کے خائفِ کبریا اور انعام یافتہ بندے ہونے کا وصف بیان کیا گیا۔

سمندر میں گھوڑا ڈال دیا:

حضرت یوشع حضرت موسیٰ کے خدمتگار اور انتہائی قریبی ساتھی تھے اور ہر مرحلے پر ان کے ساتھ رہے۔ چنانچہ فرعون کی غرقابی کے وقت جب حضرت موسیٰ سمندر کے کنارے پہنچے تو حضرت یوشع بھی ساتھ تھے، انہوں نے عرض کی:اے موسیٰ!اللہ پاک نے آپ کو کس سمت جانے کا حکم فرمایا ہے؟(کیونکہ سامنے تو سمندر ہے اور سمندر میں کیسے چلا جا سکتا ہے؟)حضرت موسیٰ نے اپنے سامنے سمندر ہی کی طرف اشارہ فرمایا،یہ سنتے ہی حضرت یوشع نے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا، جب گہرائی تک پہنچے تو وہ واپس لوٹ آئے،پھر پوچھا:کہاں کا حکم ہے؟(یعنی سمندر میں تو کوئی راستہ نہیں)پھر سمندر کی طرف اشارہ فرمایا،یوں تین مرتبہ سمندر کی گہرائی تک جا کر واپس آئے مگر کوئی راستہ نظر نہ آیا،عرض کی:حضور آپ کے رب نے کہاں سے نکلنے کا حکم دیا تھا؟اللہ پاک کی قسم!میرا ایمان ہے کہ نہ آپ نے جھوٹ کہا ہے نہ آپ سے جھوٹ بولا گیا ہے۔تو اللہ پاک نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ اے موسیٰ! اپنا عصا سمندر پر مارو تو اس میں راستے بن جائیں گے۔ ([4])یعنی جانا تو اسی راستے سے ہے مگر ایسے نہیں بلکہ نبی کا وسیلہ ضروری ہے تاکہ لوگوں پر نبی کی شان و عظمت خوب ظاہر ہو جائے کہ ایک عام بندہ نبی کے برابر ہرگز نہیں ہوسکتا۔اس واقعے سے حضرت یوشع کے مضبوط اعتقاد اور بھروسے کا بھی علم ہوا کہ وہ حضرت موسیٰ کے ایک اشارے پر ہی سمندر کی گہرائی میں تشریف لے گئے۔

تلاشِ خضر کے ساتھی:

اسی طرح جب حضرت موسیٰ حضرت خضر سے ملاقات کے لئے تشریف لے گئے تو اس وقت بھی حضرت یوشع ہی ان کے ساتھ تھے۔چنانچہ جب حضرت خضر کے مقام کی نشانی معلوم ہونے کے بعد حضرت موسیٰ نے ان کی تلاش میں نکلنے کا ارادہ فرمایا تو حضرت یوشع کو اپنے ساتھ لیا، کھانے کے لئے روٹی اور نمکین بھنی ہوئی مچھلی اپنے ساتھ رکھی۔ جب مطلوبہ مقام پر پہنچے تو حضرت موسیٰ آرام فرمانے لگے اور حضرت یوشع وضو میں مشغول ہوگئے،اسی دوران مچھلی زندہ ہو کر پانی میں گرگئی،حضرت یوشع نے یہ دیکھ لیا تھا مگر بتانا یاد نہ رہا یہاں تک کہ اگلے دن آپ کو یاد آیا تو اس کا ذکر کیا بالآخر وہ دونوں اپنے ہی قدموں کے نشانات کی پیروی کرتے ہوئے واپس اسی مقام تک پہنچ گئے۔([5])(اس کا تفصیلی واقعہ حضرت موسیٰ  علیہ السّلام  کے معجزات کے ضمن میں پڑھا  جاسکتا ہے۔)

نیابتِ موسیٰ:

حضرت موسیٰ نے اپنی ظاہری زندگی میں ہی حضرت یوشع کو بنی اسرائیل پر اپنا جانشین مقرر فرما دیا تھا،([6]) نیز آپ حضرت موسیٰ کی مبارک زندگی میں ہی نبوت سے سرفراز ہو گئے تھے۔ البتہ! آپ کی بعثت وفاتِ موسیٰ کے بعد ہوئی۔([7])

حضرت سعید بن عبدُ العزیز  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:جب حضرت موسیٰ احکامِ الٰہی کی بیعت کے لئے بنی اسرائیل کے درمیان آتے تو حضرت یوشع کا سہارا لئے ہوتے،پھر جب بیعت ہو جاتی تو آپ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے بیٹھ جاتے اور حضرت یوشع آپ کے سرہانے کھڑے رہتے،پھر جب حضرت موسیٰ پر وصال سے ایک سال قبل وحی کا سلسلہ رُک گیا اور حضرت جبریل حضرت یوشع پروحی لائے تو لوگ بیعت کے لئے نکلے،اس بار حضرت یوشع حضرت موسیٰ کا سہارا لئے آگے ہوئے اور لوگوں   سے بیعت لی،پھر جب بیعت ہوگئی تو آپ لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے لگے اور حضرت موسیٰ آپ کے سرہانے کھڑے رہے۔پس حضرت موسیٰ نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:الٰہی!میں   ان تمام کمزوریوں   کو نہیں   جھیل سکتا،لہٰذا تو مجھے اپنے پاس بُلا لے۔ ([8]) مگر بارگاہِ الٰہی میں محترم ہونے کے باعث حضرت موسیٰ کی روح اس وقت تک قبض نہیں کی گئی جب تک کہ آپ کے دل میں موت کی محبت نہ ڈال دی گئی۔([9])

(جاری ہے۔۔۔)





[1] البدایہ و النہایہ،1/421

[2]تفسیر خازن،1/481

[3] تفسیر نسفی،ص 277 مفہوماً

[4] تفسیر طبری،1/315،رقم:909مفہوماً

[5] بخاری،3/265،حدیث:4725 مفہوماً

[6] الانس الجلیل،1/ 197

[7] المنتظم ،1/377

[8] حلیۃ الاولیاء،6/ 135،رقم:8079

[9] تاریخ ابن عساکر،74/267


Share