جمعۃ المبارک کی عبادت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع: جمعۃ المبارک کی عبادات

راجح قول کے مطابق ہفتے کا پہلا دن جمعہ ہے۔

اس کے تلفظ میں تین لغات ہیں:

1ـ۔  جُمُعَۃ جیم اور میم کی پیش کے ساتھ۔یہ لغت معروف اور کثیرُ الاستعمال ہے ۔

2ـ  ۔جُمْعَۃ:میم کے سکون یعنی جزم کے ساتھ۔

3ـ۔جُمَعَۃ:میم کے فتح یعنی زبر کے ساتھ ۔

اس دن تمام مخلوقات کو ان کی کامل صفات سے نوازا گیا۔ عربی زبان میں اس دن کا نام یومِ عروبہ تھا،بعد میں جمعہ رکھا گیا۔سب سے پہلے جس نے اس دن کا نام جمعہ رکھا وہ  کعب بن لؤی تھے۔اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مختلف اقوال ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسے جمعہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس دن نماز کے لئے لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے۔([1])

حضرت انس بن مالک  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ رسولِ پاک  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:حضرت جبرائیل  علیہ السلام  ہتھیلی میں سفید آئینہ لئے میرے پاس حاضر ہوئے اور کہا:یہ جمعہ ہے،جو آپ پر آپ کے رب نے فرض فرمایا ہے تاکہ یہ آپ کے لئے اور آپ کے بعد آپ کی اُمت کے لئے عید بن جائے۔میں نے پوچھا:اس میں ہمارے لئے کیا ہے؟انہوں نے بتایا کہ اس میں آپ کے لئے ایک بھلائی والی گھڑی ہے جس نے اس میں ایسی بھلائی کی دعا کی جو اس کی قسمت میں تھی تو اللہ پاک وہ اسے عطا فرمائے گا یا اس کی قسمت میں نہیں تھا تو اس سے بڑی چیز اس کے لئے جمع کی جائے گی یا ایسی برائی سے پناہ مانگی جو اس کے لئے لکھ دی گئی ہے تو اللہ پاک اسے اس سے بڑی برائی سے پناہ عطا فرمائے گا اور یہ ہمارے نزدیک تمام دنوں کا سردار ہے اور آخرت میں ہم اسے یوم المزید یعنی زیادہ ثواب کا دن کے نام سے پکاریں گے۔میں نے پوچھا:اس کی وجہ کیا ہے؟تو انہوں نے کہا:بے شک آپ کے رب نے جنت میں ایک وادی بنائی ہے جو سفید مشک سے زیادہ خوشبو دار ہے۔ جب جمعہ کا دن ہو گا تو اللہ پاک اپنی شان کے مطابق لوگوں کے لئے اپنی تجلی ظاہر فرمائے گا یہاں تک کہ لوگ اس کے دیدار سے مشرف ہوں گے۔([2])

شبِ جمعہ کی عبادات

اللہ پاک چونکہ ہر شبِ جمعہ(یعنی جمعہ اور جمعرات کی درمیانی رات) شروع سے آخر تک آسمانِ دنیا کی طرف تجلی فرماتا ہے اور فرشتے کو حکم دیتا ہے جو یہ اعلان کرتا ہے:ہے کوئی مانگنے والا؟میں اسے دوں،ہے کوئی توبہ کرنے والا؟میں اس کی توبہ قبول کروں،ہے کوئی مغفرت چاہنے والا؟میں اسے بخش دوں۔ ([3])لہٰذا شبِ جمعہ سے متعلق چند عبادات یہ ہیں :

نوافل کی ادائیگی:

1۔جو کوئی شبِ جمعہ بعد نمازِ مغرب دو رکعت یوں ادا کرے کہ ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۂ فاتحہ اور 15مرتبہ سورۂ زِلْزال پڑھے تو  اللہ  پاک اس پر سکراتِ موت آسان فرما دے گا، اسے عذابِ قبرسےمحفوظ رکھے گا اور بروزِ قیامت پل صراط سے گزرنا بھی اس کے لئے آسان ہوگا۔([4])

2۔جو جُمعہ کی رات دو رکعت اس طرح پڑھے کہ ہررکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد 25  مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے،پھر یہ دُرود ِپاک صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الاُمِّیّ ہزار مرتبہ پڑھے تو آنےوالے جمعہ سے پہلے خواب میں حضور کی زیارت کرے گا اور جس نے حضور کی زِیارت کی اللہ  پاک اس کے گناہ مُعاف فرما دے گا۔([5])

3۔امام زُہری   فرماتے ہیں:جو  شبِ جمعہ غسل کر کےدو  رکعت یوں ادا کرے کہ اُن میں ہزار مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے تو اُسے خواب میں حضور کی زیارت ہوگی۔([6])

تلاوتِ قرآن:

1۔جو شبِ جمعہ سورۂ یٰس پڑھےاس کی مغفرت ہوجائے گی۔([7])

2۔ایک روایت میں ہے:جو شبِ جمعہ سورۂ کہف پڑھے اس کے لئے وہاں سے کعبے تک نور روشن ہوگا۔([8]) جبکہ قوت القلوب،جلد 1 صفحہ نمبر  122 پر یہ بھی مذکور ہے کہ دوسرے جمعے تک اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں بلکہ مزید تین دن کے گناہ بھی نیز 70 ہزار فرشتے اس کے لئے صبح تک  دعائے رحمت کرتے ہیں اور اسے بیماری،پیٹ کے پھوڑوں،پہلو کے درد،برص،کوڑھ کے مرض نیز دجال کے فتنے سے محفوظ رکھا جائے گا۔

درودِ پاک کی برکت:

1۔جو مجھ پر روزِ جمعہ اور شبِ جمعہ سو بار درودِ پاک پڑھے اللہ پاک اس کی سو حاجتیں پوری فرمائے گا، 70 آخرت کی اور 30 دنیا کی ۔ ([9])

اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِكْ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍالنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الْحَبِیْبِ الْعَالِی الْقَدْرِ الْعَظِیْمِ الْجَاہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ جو شخص ہر شبِ جمعہ اس درودِ پاک کو پابندی سے کم از کم ایک بار پڑھے گا موت کے وقت حضور کی زیارت کرے گا یہاں تک کہ وہ دیکھے گا کہ حضور اسے قبر میں اپنے رحمت بھرے ہاتھوں سے اتار رہے ہیں۔([10])

اوراد و وظائف:

1۔جو جمعہ کے دن نما زِ فجر سے پہلے 3 با ر اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ اَتُوبُ اِلَيْهِ پڑھے اس کے گنا ہ بخش دیئے جا ئیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔ ([11])

جمعہ کا دن

حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:حضور  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: بہتر دن جس پر آفتاب طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے؛اسی میں حضرت آدم  علیہ السلام   پیدا کیے گئے،اسی میں جنت میں داخل کیے گئے ،اسی میں انہیں جنت سے اترنے کا حکم ہوا اور قیامت بھی جمعہ کے دن قائم ہو گی۔([12])

ایک اور روایت میں ہے:ہم(دنیا میں)سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے(آگے) ہوں گے، سوائے اس کے کہ انہیں(اہلِ کتاب کو) ہم سے پہلے کتاب دی گئی۔پھر یہی وہ دن(جمعہ)تھا جو ان پر (عبادت کے لئے) فرض کیا گیا تھا،مگر انہوں نے اس میں اختلاف کیا، پس اللہ پاک نے ہمیں ہدایت دی(یعنی روزِ جمعہ کی پہچان کرا دی)۔اب لوگ اس معاملے میں ہمارے پیچھے ہیں۔ ([13])

معمولاتِ یوم الجمعہ

غسلِ جمعہ:

امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے محبوب  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اس کے گناہ اور خطائیں معاف کر دی جاتی ہیں۔([14])

زینت اختیار کر نا:

جمعہ کے دن زینت اختیار کرنا مستحب ہے اور یہ تین چیزوں میں موجود ہوتی ہے:

(1)لباس

(2)جسمانی صفائی

(3) خوشبو لگانا۔([15])

ناخن تراشنا:

حضرت عبدُ اللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں:جو جمعہ کے دن ناخن کاٹے اللہ پاک اس سے بیماری نکال کر شفا داخل کر دیتا ہے([16])

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:جمعہ کے دن ناخن ترشوانا مستحب ہے، ہاں اگر زیادہ بڑھ گئے ہوں تو جمعہ کا انتظار نہ کرے کہ ناخن بڑھا ہونا اچھا نہیں کیونکہ ناخنوں کا بڑا ہونا تنگیِ رزق کا سبب ہے۔([17])

نیا لباس پہننا:

جب کبھی نیا لباس سلوائیں تو جمعہ کے دن سے پہننا شروع کریں کہ حضور عام طور پر نیا لباس جمعہ کے دن زیبِ تن فرمایا کرتے تھے۔([18])

درودِ پاک کی کثرت کرنا:

جمعہ کے دن کی جانے والی نیکیوں میں سے ایک اہم نیکی حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر درود و سلام پڑھنا بھی ہے۔یوں تو کسی بھی دن یا وقت درودِ پاک پڑھنا اجر و ثواب سے خالی نہیں، مگر کئی روایات میں خاص جمعہ کے دن درود شریف پڑھنے والوں پر خصوصی انعامات و اعزازات مروی ہیں:

1۔جمعہ کے دن مجھ پر  درودِ پاک کی کثرت کرو کیونکہ یہ یَومِ مشہود ہے،اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔جو مجھ پر درودِ پاک پڑھے تو درودِ پاک سے فارغ ہونے سے پہلے اس کا درودِ پاک مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔([19])

2۔ہر جمعہ کے دن مجھ پر درودِ پاک کی کثرت کرو کہ میری امت کا درود مجھ پر  ہر جمعہ کے دن پیش کیا جاتا ہے۔ان میں سے جو سب سے زیادہ درودِ پاک پڑھنے والا ہوگا وہ مرتبے کے اعتبار سے میرے زیادہ قریب ہو گا۔([20])

3۔جو شخص روزِ جمعہ مجھ پر سو بار درودِ پاک پڑھے گا جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے ساتھ ایک ایسا نور ہوگا کہ اگر وہ ساری مخلوق میں تقسیم کر دیا جائے تو سب کو کفایت کرے۔ ([21])

4۔جو جمعہ کے دن مجھ پر 200  بار درودِ پاک پڑھے اس کے  200  سال کے گناہ بخشش دئیے جاتے ہیں۔([22])

5۔جو مجھ پر روزِ جمعہ درودِ پاک پڑھے قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا۔ ([23])

6۔شیخ عبدُ الحق مُحَدِّث دِہلوی    رحمۃ اللہ علیہ  نقل کرتے ہیں: جو جُمعہ کے دن ایک ہزار بار یہ دُرُود شریف اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِنِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  پڑھے تو حضور کی خواب میں زِیارت کرے گا یا جنت میں اپنی منزل دیکھ لے گا۔اگر پہلی بار مقصد پورا نہ ہوتو دوسرے جمعہ بھی پڑھ لے،اِن شاءَ اللہ پانچ جمعوں تک خوش کرنے والا خواب دیکھے گا۔([24])

تلاوت کرنا:

1۔جو روزِ جمعہ سورۂ کہف پڑھے اس کے لئے دونوں جمعوں کے درمیان نور روشن ہو گا۔([25])

2۔جو شبِ جمعہ یا روزِ جمعہ سورۂ دُخان پڑھے اللہ پاک اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ ([26]) ایک روایت میں ہے کہ اس کی مغفرت ہو جائے گی۔([27])

3۔جو جمعہ کے دن وہ سورت پڑھے جس میں آلِ عمران کا  ذکر کیا گیا ہے تو اللہ پاک غروبِ آفتاب تک اس پر رحمت نازل فرماتا رہتا ہے اور اس کے فرشتے اس بندے کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں۔([28])

روزہ رکھنا:

1۔خصوصیت کے ساتھ تنہا جمعہ یا صرف ہفتہ کا روزہ رکھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔ہاں اگر کسی مخصوص تاریخ کو جمعہ یا ہفتہ آ گیا تو کرا ہت نہیں۔مثلاً 15شَعْبَانُ الْمُعَظَّم،27 رَجَبُ الْمُرَجَّب وغیرہ۔سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:روزۂ جمعہ یعنی جب اس کے ساتھ پنجشنبہ (یعنی جمعرات)یا شنبہ(ہفتہ کا روزہ)بھی شامل ہو مروی ہوا کہ دس ہزار برس کے روزوں کے برابر ہے۔([29])

جمعہ کا روزہ ہر صورت میں مکروہ نہیں،مکروہ صرف اسی صورت میں ہے جبکہ کوئی خصوصیت کے ساتھ جمعہ کا روزہ رکھے۔ چنانچہ جمعہ کا روزہ کب مکروہ ہوتا ہے اس ضمن میں فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ جلد 10 صفحہ 559 سے سوال جواب ملاحظہ ہوں :

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ جمعہ کا روزۂ نفل رکھنا کیسا ہے؟ایک شخص نے جمعہ کا روزہ رکھا دوسرے نے  اس سے کہا: جمعہ عیدُ المومنین ہے اس دن روزہ رکھنا مکروہ ہے اور بَاِصرار بعد دوپہر کے روزہ تڑوادیا۔

جواب: جمعہ کا روزہ خاص اس نیت سے کہ آج جمعہ ہےاس کا روزہ بالتخصیص چاہئے مکروہ ہے مگر نہ وہ کراہت کہ توڑنا لازم ہوا، اور  اگر خاص بہ نیتِ تخصیص نہ تھی تو اصلاً کراہت بھی نہیں،اس دوسرے شخص کو اگر نیتِ مکروہہ پر اِطِّلاع نہ تھی جب تو اعتراض ہی سرے سے حماقت ہوا،اور روزہ توڑ دینا شرع پر سخت جُرْأَت اور اگر اِطِّلاع بھی ہوئی جب بھی مسئلہ بتا دینا کافی تھا نہ کہ روزہ تڑوانا،اور وہ بھی بعد دوپہر کے،جس کا اختیار نفل روزے میں والدین کے سوا کسی کو نہیں، توڑنے والا اور تڑوانے والا دونوں گناہ گار ہوئے،توڑنے والے پر قضا لازم ہے کفارہ اصلاً نہیں۔ واللہ تعالی اعلم ([30])

اوراد  و وظائف  پڑھنا:

1۔اعلیٰ حضرت  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:سب گھر والوں میں اتفاق کے لئے بعد نمازِ جمعہ لاہوری نمک پر ایک ہزار ایک بار یَا وَدُوْدُ پڑھیں،اول آخر دس دس بار درود شریف، اور اس وقت سے اس نمک کا برتن زمین پر نہ رکھیں،وہ نمک سات دن گھر کی ہانڈی میں ڈالیں،سب کھائیں، مولیٰ تعالیٰ سب میں اتفاق پیدا کرے گا۔ہر جمعہ کو سات دن کے لئے پڑھ لیا کریں۔ ([31])

اَللّٰھُمَّ اَغْنِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاکْفِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ۔جمعہ  کے دن70 مرتبہ یہ کلمات پڑھنے سے رزق میں برکت ہو گی۔ ([32])

3۔خاص کر جمعہ کے دن عصر کی نماز کے بعد یَا اللہ،یَا رَحْمٰنُ یَا رَحِیْمُ نماز کی جگہ بیٹھ کر پڑھتے رہیں یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے پھر جب سورج ڈوبنے کا یقین ہو جائے تو اب دعا مانگیں گڑگڑا کر اللہ کی جناب میں دعا کریں جو پھنسی ہوئی رقم ہے وہ اللہ ملوا دے اِن شاءَ اللہ اس کی برکت دیکھیں گے۔([33])

4۔حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان  رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:رات میں روزانہ قَبولیّتِ دعا کی ساعت(یعنی گھڑی) آتی ہے مگر دنوں میں صرف جمعہ کے دن۔مگر یقینی طور پر یہ نہیں معلوم کہ وہ ساعت کب ہے،غالب یہ کہ دو خطبوں کے درمیان یا مغرب سے کچھ پہلے۔ایک اور حدیثِ پاک کے تحت مفتی صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:اس ساعت کے متعلق علما کے چالیس قول ہیں،جن میں دو   قول زیادہ قوی ہیں،ایک اسی وقت(دو   2 خطبوں کے درمیان) کا،دوسرے آفتاب ڈوبتے وقت کا۔ ([34])

اللہ پاک ہمیں جمعہ کے دن  کی خوب  برکات لوٹنے کی سعادت عطا فرمائے۔

 اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین



[1] تفسیر خازن،4/265

[2] قوت القلوب،1/117

[3] کتاب النزول للدار قطنی،ص79،حدیث:4

[4] نور اللمعۃ فی خصائص الجمعۃ،ص 114

[5]  القول البدیع،ص383

[6] تاریخ ابنِ عساکر،9/301

[7] ترغیب و ترہیب،1/298،حدیث:4

[8] دارمی، 2/ 546، حدیث:  3407

[9] شعب الایمان،3/111،حدیث:3035

[10] افضل الصلوات علی سیّد السادات ،  ص151 ملخصاً

[11] معجم اوسط،5 /392،حدیث:7717

[12] مسلم، ص331،حدیث:1977

[13]  بخاری،1/303،حدیث: 876

[14] مجمع الزوائد ،2/391،حدیث:3062

[15] احیاء علوم الدین،1/244

[16]  قوت القلوب،1/ 119

[17] بہار شریعت،3/582، حصہ:16

[18] جامع صغیر،ص408،حدیث: 6563

[19] ابن ماجہ،2/291 ، حدیث:1637

[20] سنن کبری للبیہقی،3/353،حدیث:5995

[21] طبقات الاولیاء،8/49،حدیث:11341

[22] جمع الجوامع، 7/ 199، حدیث:  22353

[23] جمع الجوامع ، 7/  199، حدیث:  22352

[24] جذب القلوب،ص 242 ماخوذاً

[25] سنن کبریٰ للبہیقی، 3/  353،  حدیث:  5996

[26] معجم کبیر، 8/  264، حدیث: 8026

[27] ترمذی، 4/  407،  حدیث:  2898

[28] معجم کبیر، 11/ 40، حدیث:11002

[29] فتاویٰ رضویہ،10/653

[30] فيضان جمعہ، ص 13 تا 15

[31] فتاوی رضویہ، 26/ 612

[32] تعلیم المتعلم، ص 130

[33] ماہنامہ فیضان مدینہ جولائی 2022،ص1

[34] مراۃ المناجیح، 2/319 ،320


Share