موضوع:کامل مسلمان کون؟
بخاری شریف میں ہے:(کامل)مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر یعنی ہجرت کرنے والا وہ ہے جو اللہ پاک کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے ۔([1])
شرحِ حدیث
یہ حدیث جوامعُ الکلم میں سے ہے یعنی اس کے الفاظ مختصر لیکن مفہوم بہت وسیع ہے۔ان چند الفاظ میں گویا حقوقُ العباد اور حقوقُ اللہ کی تمام جزئیات کو بیان کر دیا گیا ہے۔پہلا حصہ بندوں کی حق تلفیوں سے بچنے کی طرف راہ نمائی کرتا ہے تو دوسرا حقوقُ اللہ کے حقیقی تقاضوں پر عمل کا ذہن دیتا ہے۔
کامل مسلمان کون ہے؟
حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ پاک کے تحت علامہ خطابی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہاں حدیثِ پاک میں مسلمان سے مراد افضل مسلمان ہے جو کہ مکمل طور پہ اللہ پاک اور مسلمانوں کے حقوق ادا کرے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس حدیثِ پاک میں مسلمان کی وہ علامت بیان کر دی گئی ہو جس سے اس کے مسلمان ہونے پر استدلال کیا جائے اور وہ علامت اپنی زبان اور اپنے ہاتھ سے مسلمانوں کو محفوظ رکھنا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد بندے کا اپنے رب کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے پر ابھارنے کی طرف اشارہ ہو کیونکہ جب بندہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا تو یقینی طور پر وہ اپنے رب کے ساتھ اچھا معاملہ کرے گا۔([2]) علامہ ابنِ بَطَّال رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:اس حدیث سے مراد مسلمانوں کو زبان اور ہاتھ کے ذریعے بلکہ ہر قسم کی تکلیف دینے کو چھوڑنے پر ابھارنا ہے،اسی وجہ سے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:نیک لوگ وہ ہیں جوچھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کو بھی تکلیف نہیں دیتے۔([3])
ہاتھ اور زبان کا ذکر کرنے کی وجہ:
مسلمان کو تکلیف دینا خواہ کسی بھی طریقے سے ہو،جائز نہیں۔لیکن حدیثِ مبارک میں بالخصوص زبان اور ہاتھ کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ زیادہ تر تکلیف انہی کے ذریعے دی جاتی ہے۔کیونکہ انسان کے دل میں جو بھی بات ہوتی ہے وہ اسے زبان کے ذریعے ہی ادا کرتا ہے، اسی طرح اکثر کام ہاتھ کے ذریعے ہی انجام دیئے جاتے ہیں تو تکلیف بھی زیادہ تر انہی کے ذریعے ہی دی جاتی ہے۔
زبان سے تکلیف دینے کی کچھ صورتیں:
زبان سے بے شمار گناہ ہوتے ہیں،مثلاً:زبان سے ہی گالی دی جاتی ہے،برا بھلا کہا جاتا ہے اور مذاق اڑایا جاتا ہے،نیز غیبت،چغلی اور تہمت وغیرہ بھی اسی سے لگائی جاتی ہے۔لہٰذا زبان کی حفاظت کرنا اور اس کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ایک بزرگ کا فرمان ہے:زبان درندے کی طرح ہے؛ اگر تم نے اسے باندھ کر نہ رکھا تو یہ تم پر حملہ کر دے گا اور تمہیں اس کی برائی پہنچ کر رہے گی۔([4])
کسی نے کیا خوب کہا ہے:اِحْفَظْ لِسَانَکَ لَا تَقُوْلُ فَتَبْتَلِیْ اِنَّ الْبَلَاءَ مُوَکَّلٌ بِالْمَنْطِقِ ترجمہ:اپنی زبان کی حفاظت کرو،نہ بولو،نہ مصیبت میں پڑو۔کیونکہ مصیبت بولنے سے جڑی ہے۔([5])
ہاتھ سے تکلیف دینے کی کچھ صورتیں:
ہاتھ سے تکلیف دینے کی بھی کئی صورتیں ہیں،مثلاً:کسی کو مارا،کسی کا مال لوٹا،چوری کی،ڈاکہ ڈالا وغیرہ۔یہاں تک کہ اگر ہاتھ کے ذریعے کوئی ایسا اشارہ کیا جس سے کسی کو تکلیف پہنچے یہ بھی تکلیف دینے میں شامل ہے۔پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمان ہے:کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی طرف ایسی نظر کے ساتھ دیکھے جسے وہ نا پسند کرتا ہے۔([6]) بلکہ ایک روایت میں ہے کہ لوگوں کو(اپنے)شر سے محفوظ رکھو، کیونکہ یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو گے۔([7])
نیز یاد رکھئے کہ مسلمانوں کو جو بھی بلا وجہ تکلیف دے اس کے متعلق ارشاد ہے:
وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۸) (پ22، الاحزاب: 58)
ترجمہ:اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بغیر کچھ کئے ستاتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھا لیا ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
جبکہ ایک روایت میں ہے:جس نے کسی مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ پاک کو تکلیف دی ۔ ([8]) یعنی جس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی بالآخر اللہ تعالیٰ اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔([9])
مسلمان کو تکلیف دینے کی کچھ مثالیں:
مسلمان کو تکلیف دینا بہت بڑا گناہ اور بہتان ہے۔لیکن فی زمانہ اکثر لوگ اس معاملے میں انتہائی غفلت سے کام لیتے ہیں اور پروا نہیں کرتے کہ ہمارا کلام یا عمل کسی مسلمان کے لئے کس قدر تکلیف کا باعث ہے۔ دوسروں کو تکلیف دینے کی ویسے تو کئی مثالیں ہیں لیکن یہاں وہ چند مثالیں ذکر کی جاتی ہیں جو تفسیر صراط الجنان میں مذکور ہیں اور ان میں سے اکثر کا تعلق خواتین کے ساتھ بھی ہے:
(1)شادیوں میں شور شرابا،غل غپاڑہ کرنا اور رات کے وقت آتش بازی کا مظاہرہ کرنا(2) گلیوں میں کچرا اور غلاظت ڈالنا (3) (ایک دوسرے کو)دل شکنی والے الفاظ سے پکارنا(4) گھر میں شور شرابا کرنا اور بلند آواز سے ٹی وی اور گانے وغیرہ چلا کر پڑوسیوں کو تنگ کرنا۔(5)پڑوسیوں کے گھر میں تانک جھانک کرنا اور ان کے عیبوں کی تلاش میں رہنا(6)عورت کا اپنے گھر سے بھاگ کر اور مرد کا اسے بھگا کر شادی کرنا(7) رشتہ نہ ملنے پر لڑکی والوں سے متعلق اذیت بھرے کلمات کہنا (8)ساتھی کو تکلیف یا مصیبت پہنچنے پر خوشی کا اظہار کرنا(9) گالیاں دینا، لعنت کرنا،تہمت اور بہتان لگانا(10)بد گمانیاں پھیلاتے پھرنا اور بلا وجہ کسی کے پوشیدہ عیبوں کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنا۔([10])
اس کے علاوہ خواتین کا شوہر کے ساتھ بد زبانی کرنا یا سسرال میں ساس،نندوں وغیرہ کے ساتھ تلخ کلامی کرنا، والدین کے ساتھ بد تمیزی کرنا،چھوٹے بہن بھائیوں کی حق تلفی کرنا وغیرہ یہ تمام صورتیں تکلیف دینے میں داخل ہیں۔
حقیقی مہاجر کون ہے؟
علامہ ابنِ بَطَّال مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:جب ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا تو صحابہ کرام میں سے بعض اصحاب ہجرت کی فضلیت سے محروم ہونے پر غمگین تھے۔اس پر حضور نے انہیں بتایا کہ حقیقی مہاجر وہ ہے جس نے اللہ پاک کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دیا۔([11])
باطنی ہجرت کیا ہے؟
ہجرت کی دو اقسام ہیں:ایک ظاہری یعنی ایمان کی حفاظت کے لئے ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جانا اور ایک باطنی یعنی گناہوں کو چھوڑنا۔مذکورہ روایت میں ہجرت سے مراد باطنی ہجرت ہے۔اگر ہم اس حدیثِ مبارک میں مذکور دونوں باتوں یعنی حقوقُ اللہ اور حقوقُ العباد کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنے والیاں بن جائیں تو معاشرے سے بد امنی،ناچاقی، لڑائی جھگڑوں اور اختلافات کا خاتمہ ہو جائے اور ہر طرف امن کی فضا قائم ہو جائے۔اللہ پاک ہمیں کامل مسلمان بننے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ ٹیچر ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مجلس جامعۃ المدینہ گرلز
[1] بخاری،1 /15،حدیث:10
[2] فتح الباری،2/51،تحت الحدیث:10
[3] شرح ابنِ بطال،1/62
[4] دین و دنیا کی انوکھی باتیں،1/ 172
[5] دین و دنیا کی انوکھی باتیں،1/ 174
[6] الزھد لابن مبارک،ص240،حدیث 689
[7] بخاری،2 /150،حدیث:2518
[8] معجم اوسط،2 /387،حدیث:3607
[9] فتاویٰ رضویہ،24 /426
[10] تفسیر صراط الجنان،8/92،91ملتقطاً
[11] شرح ابن بطال،1/ 62


Comments