شرح شجرہ قادریہ، رضویہ،ضیائیہ، عطاریہ (قسط: 05)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ،ضیائیہ،عطاریہ(قسط 5)

5

بَہْرِ مَعروف و سَرِی معروف دے بے خُودسَری

جُنْدِ حق میں گِن جُنیدِ باصَفا کے واسِطے

مشکل الفاظ کے معنی:بہر:واسطے۔ معروف: نیکی، بھلائی۔ بے خود سَری:عاجزی،فرمانبرداری۔جندِ حق:حق کا لشکر۔گن: شمار کر۔باصفا:خالص،پاکیزہ،ستھرا۔

مفہومِ شعر:اے اللہ پاک!مجھے حضرت معروف کرخی  رحمۃ اللہ علیہ  کے وسیلے سے اپنی پہچان،نیکی اور بھلائی کی توفیق عطا فرما اور حضرت سری سقطی  رحمۃ اللہ علیہ  کے وسیلے سے عاجزی و انکساری کا پیکر بنا؛عشقِ الٰہی اور اپنے قرب کی ایسی لذت عطا فرما کہ میں تیری محبت میں اپنی خواہشات اور اپنے نفس کو بھول جاؤں نیز حضرت جنید بغدادی  رحمۃ اللہ علیہ  کے صدقے میں مجھے اپنے مخلص بندوں کی جماعت میں شامل فرما۔

شرح:پہلے مصرعے میں لفظ معروف دو مرتبہ آیا ہے؛پہلا معروف تو بزرگ کا نام ہے اور دوسرے معروف کے معنی نیکی و بھلائی کے ہیں۔اسی طرح لفظ سَری(حضرت سری سقطی کے نام) اور بے خود سَری ان دونوں میں لفظی مناسبت(س،ر،ی) ہے۔ جبکہ دوسرے مصرعے میں جُنید(حضرت جنید بغدادی کے نام) اور جُند  ان دونوں میں لفظی مناسبت(ج،ن ، د) ہے۔

اس شعر میں سلسلۂ عالیہ،قادریہ،رضویہ،عطاریہ کے نویں، دسویں اور گیارھویں شیخِ طریقت یعنی حضرت شیخ معروف کرخی، حضرت سری سقطی اور حضرت جنید بغدادی  رحمۃ اللہ علیہم کے وسیلے سے دعا مانگی گئی۔

حضرت شیخ معروف کرخی

آپ کی ولادت مقامِ کرخ میں ہوئی۔ آپ کا نام اسدُ الدین،کنیت ابو محفوظ اور القاب عارفِ اسرارِ معرفت،قطبِ وقت اور بدرِ طریقت ہیں۔البتہ!آپ اپنے اصل نام کے بجائے معروف کرخی کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔آپ کے والد کا نام فیروز ہے۔پہلے آپ غیرمسلم تھے، مگر بچپن سے ہی آپ کے دل میں اسلام کی بےحد محبت تھی، آپ مسلمان بچوں کے ساتھ نماز پڑھتے اور اپنے ماں باپ کو اسلام کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔اس کے نتیجے میں آپ کو کافی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا،بالآخر ایک دن آپ حضرت امام علی رضا  رحمۃ اللہ علیہ  کے دستِ مبارک پر مسلمان ہونے میں کامیاب ہو گئے اور آپ کی کوشش سے آپ کے والدین بھی داخلِ اسلام ہو گئے۔آپ کی وفات 2 محرمُ الحرام 200 ہجری میں ہوئی۔ آپ کا مزار بغدادِ مُعَلّٰی میں ہے۔([1])

حضرت ابو الحسن سری سقطی:

آپ 155ہجری بغداد شریف میں پیدا ہوئے۔آپ کا نام سرّ الدین اور کنیت ابو الحسن ہے۔سری سقطی کے نام سے مشہور ہیں۔آپ کی وفات  13 رمضان 253 ہجری کو ہوئی،آپ کا مزار  بغداد کے علاقے شونیز میں ہے۔

حضرت جنید بغدادی:

آپ کی ولادت 218 ہجری بغداد شریف میں ہوئی۔آپ کا نام جنید،کنیت ابو القاسم اور القابات سیدُ الطائفہ،طاؤسُ العلما اور لسانُ القوم ہیں۔27 رجب شریف 297 ہجری میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا مزارِ مبارک بھی بغداد شریف کے علاقے شونیزیہ میں واقع ہے۔

اللہ پاک ان بزرگوں پر اپنی خاص رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے اور ان کے صدقے اس شعر میں جو دعا مانگی گئی ہے اسے ہمارے حق میں بھی قبول فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* کراچی




[1] شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ ،عطاریہ،ص 67 تا  69 ملخصاً


Share