موضوع: رات کو جلدی سونے کے فوائد
نیند اللہ پاک کی عظیم نعمت ہے،کیونکہ انسان کی تمام راحتیں اسی پر منحصر ہیں۔کسی کے پاس دنیا کا مال و دولت کثیر بھی ہو، لیکن اگر آنکھوں میں بے خوابی ہو اور راتوں کو سکون کی نیند نہ آئے،تو وہ مال اس سکون کا نعم البدل نہیں بن سکتا جو نیند سے حاصل ہوتا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:
وَّ جَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًاۙ(۹) (پ 30، النبا:9)
ترجمہ:اور تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اس نعمت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اپنا سکون ضائع نہ کریں۔ نیند کو اپنے مقررہ وقت یعنی رات میں پوری کریں، کیونکہ ربِّ کریم نے رات کو آرام کے لئے بنایا ہے۔سورج کے چھپنے اور اندھیرے کے ساتھ آنکھوں کو نیند میں جانے کے لئے مناسب ماحول فراہم کیا اور دن بھر کی تھکان کو دور کرنے کے لئے سکون عطا فرمایا۔جیسا کہ ارشادِ ربانی ہے:
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ (پ11،یونس:67)
ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تاکہ اس میں سکون حاصل کرو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
ان آیات میں اللہ پاک نے نیند کو بڑی نعمت قرار دیا اور اس کا اصل سکون رات میں رکھا۔
رات جلدی سونے کے فائدے
ایک زمانہ تھا جب لوگ رات کو جلد سو جاتے اور صبح سویرے بیدار ہو کر ہشاش بشاش نظر آتے تھے۔وہ آج کے لوگوں کی نسبت زیادہ طاقتور اور محنتی ہوتے تھے۔خواتین نمازِ فجر کے بعد اپنے دن کا آغاز کرتی اور دوپہر سے پہلے کپڑے دھونا،مصالحے پیسنا،چکی چلانا،آٹا گوندھنا،روٹیاں پکانا،گھر کی صفائی اور بچوں کی دیکھ بھال جیسے تمام کام نمٹا لیتی تھیں۔اس کے باوجود ان کے پاس دوپہر کے اوقات میں دیگر گھریلو کام یا ہنر سیکھنے اور محارم کی مدد کے لئے وقت ہوتا۔رشتہ داروں سے ملاقات،بیماروں کی جسمانی و روحانی دلجوئی اور باہمی تعلقات بھی مضبوط رہتے۔ مغرب کے بعد کھانا کھایا جاتا،عشا کی نماز ادا کر کے جلد آرام کیا جاتا اور صبح جلد بیداری معمول تھی۔مائیں بچوں سے پہلے اٹھ کر رب کے حضور سجدہ ریز ہوتیں اور دن کی ذمہ داریوں کے لئے خود کو تیار کرتیں۔سردیوں میں گھر کے سب افراد اکٹھے بیٹھ کر بات چیت اور خشک میوہ جات سے لطف اندوز ہوتے۔پھر وقت بدلا،پہلے ٹی وی آیا،رات دیر تک جاگنے کا رجحان بڑھا،اور اب موبائل نے نیند کو مزید متاثر کر دیا۔رات دن اور دن رات بن گیا، فطرت کے خلاف طرزِ زندگی نے ذہنی دباؤ،ڈپریشن اور مختلف بیماریوں کو جنم دیا، یہاں تک کہ خطرناک امراض میں بھی اضافہ ہونے لگا۔
دن کی نیند رات کی نیند کا نعم البدل نہیں بن سکتی،کیونکہ جو ذہنی سکون اور جسمانی آرام رات کی نیند سے حاصل ہوتا ہے وہ دن میں ممکن نہیں۔ماہرینِ طب کے مطابق انسانی جسم کی حیاتیاتی گھڑی دن اور رات کے مطابق کام کرتی ہے۔اس فطری نظام کے خلاف چلنے سے ذہنی وجسمانی توانائی متاثر ہوتی ہے اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
رات دیر سے سونے کے نقصانات
دینی نقصانات:
رات دیر تک جاگنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اکثر فجر کی نماز قضا ہو جاتی ہے۔بڑی تعداد میں مسلمان رات دیر تک جاگنے کی وجہ سے فجر کے وقت آنکھ نہیں کھول پاتے اور بعض تو فجر کے وقت سونے ہی جا رہے ہوتے ہیں۔ یاد رہے!نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد سونے سے وقت نکل جاتا ہے اور نماز قضا ہو جاتی ہے،جو گناہ ہے۔فجر میں دخولِ وقت سے پہلے بھی سونے کی اجازت نہیں ہو سکتی،جب کہ اکثر حصہ رات کا جاگنے میں گزرا ہو اور ظن ہے کہ اب سو گیا تو وقت میں آنکھ نہ کھلے گی۔([1])امام طحاوی فرماتے ہیں کہ جب ڈر ہو کہ صبح کی نماز کا وقت ختم ہو جائے گا تو رات دیر تک جاگنا مکروہ ہے۔ ([2])
مروی ہے کہ اللہ پاک ہر رات کے آخری تہائی حصے میں آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے اور پکارتا ہے:ہے کوئی جو مجھ سے دعا کرے اور میں قبول کروں!ہے کوئی جو مجھ سے مانگے اور میں عطا کروں! ہے کوئی جو مجھ سے مغفرت چاہے اور میں اس کی مغفرت کروں!([3])
اب ظاہر ہے جو رات دیر سے بستر پر جائے وہ اس صدا پر لَبَّیْک کیسے کہہ سکتی ہے،حالانکہ یہ وقت تو مسلمان کے بستر چھوڑنے کا وقت ہونا چاہیے۔چنانچہ دیر سے سونے کے نقصانات میں ایک بڑا نقصان ان صداؤں پر لَبَّیْک کہنے سے محرومی بھی ہے۔ لہٰذا رات عشا کے بعد جلد سونے کی عادت بنائیے تاکہ صبح فجر ادا ہو اور اللہ پاک توفیق دے تو تہجد کی سعادت بھی نصیب ہو۔شاید اسی وجہ سے حضور عشا سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو نا پسند فرماتے تھے۔ ([4])
دنیوی نقصانات:
رات دیر تک جاگنے کا دنیاوی نقصان یہ بھی ہے کہ وقت میں برکت کم ہو جاتی ہے۔اگر دن کے ایک بجے سو کر اٹھیں تو دن بجلی کی طرح گزر جاتا ہے،ظہر،عصر،مغرب اور عشا کا وقت آ جاتا ہے اور خاص طور پر سردیوں میں دن کا پتا ہی نہیں چلتا،کام ادھورے رہ جاتے ہیں اور دن ختم ہو جاتا ہے۔صبح کے اوقات میں بڑی برکت ہوتی ہے،اور کیوں نہ ہو کہ حضور نے اپنی امت کے لئے صبح کے وقت میں برکت کی دعا فرمائی، نیز حضور کا اپنا مبارک عمل بھی یہی تھا کہ سریہ یا لشکر روا نہ کرنا ہوتا تو دن کے ابتدائی حصے میں روانہ فرماتے۔حضور کے ایک تاجر صحابی اپنا مالِ تجارت صبح سویرے بھیجتے،بالآخر مالدار ہو گئے اور ان کی دولت بڑھ گئی۔([5])لہٰذا صبح جلدی اُٹھ کر کام کاج کر کے دیکھیے،دن لمبا محسوس ہوگا اور طبیعت چاک و چوبند رہے گی۔ صبح کی فضا،چاہے سردیوں کی ہو یا گرمیوں کی،نہایت تازہ اور صحت بخش ہوتی ہے،اس میں گہری سانس لینا دماغ کو تازگی دیتا اور صلاحیتوں کو اُجاگر کرتا ہے۔اس کے برعکس بے وقت سونے کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان اپنے گھر والوں کو وقت نہیں دے پاتا۔رات دیر تک جاگنے کے باعث نیند پوری نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے اکثر مائیں بچوں کو اسکول بھیج کر خود سو جاتی ہیں اور ان کے واپس آنے تک بیدار ہوتی ہیں،یوں بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ضائع ہو جاتا ہے۔پھر جو تھوڑا وقت ملتا ہے وہ سوشل میڈیا کی نذر ہو جاتا ہے۔اسی طرح رشتہ داروں سے میل جول،عیادت اور مزاج پرسی میں کمی آتی ہے،یہاں تک کہ والدین کے حقوق بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔یوں وقت کی برکت ہم خود ضائع کرتی اور پھر شکایت کرتی ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں۔
جلدی سونے کے لئے کیا کریں؟
جلدی سونے کے لئے سنجیدہ کوشش کیجیے۔اگر نیند نہ آئے تو مایوس نہ ہوں،کیونکہ جلدی سونے کی بنیاد جلدی اُٹھنا ہے۔ابتدا میں زبردستی جلدی بیدار ہوں اور جلدی اُٹھنے کے فوائد کو سامنے رکھیے۔ضرورت ہو تو دو تین الارم لگائیے۔ایک دن نیند پوری نہ بھی ہو تو اگلے دن نیند خود آ جائے گی۔سونے کے لئے بیڈ روم کا ماحول پُرسکون بنائیے، ڈھیلے کپڑے پہنیے اور موبائل خود سے دور رکھیے۔ایسا الارم لگائیے جسے بند کرنے کے لئے بستر چھوڑنا پڑے۔ان شاء اللہ چند دن میں عادت بننا شروع ہو جائے گی۔ابتدا میں سستی محسوس ہوگی،مگر جلد ہی سب معمول پر آ جائے گا۔مضبوط نیت کے ساتھ عمل شروع کیجیے،ان شاء اللہ فرائض میں آسانی، صحت اور وقت کی برکت محسوس کریں گی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ذمہ دار شعبہ ماہنامہ خواتین (کراچی سطح)
رکن انٹرنیشنل افیئرز ڈیپارٹمنٹ
[1] بہار شریعت،1/701،حصہ:4
[2] رد المحتار،2/33
[3] بخاری،1/388،حدیث:1145
[4] بخاری،1/208،حدیث:568
[5] ابن ماجہ،3/54،حدیث:2236

Comments