موضوع:مخاطب کو نظر انداز مت کیجئے
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 44ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں۔)
محترمہ بنتِ سید جاوید اقبال (فرسٹ پوزیشن)
(طالبہ:درجۂ ثالثہ، لطیف آباد،حیدر آباد)
اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے انسانی معاشرت کو بہترین اخلاق اور اعلیٰ کردار پر قائم کیا۔مسلم معاشرے میں کسی کو نظر انداز کرنا،اس کی بات کی اہمیت کم کرنا،جواب نہ دینا یا اسے معمولی سمجھ کر چھوڑ دینا وغیرہ کام بہت برے اخلاق میں شمار ہوتے ہیں۔قرآن و احادیث میں جگہ جگہ ایسے احکامات موجود ہیں جو انسان کو توجہ،نرمی،ادب اور شفقت کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
قرآنی نمونے:
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (پ 1،البقرۃ:83)
ترجمہ:اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اچھی بات سے مراد نیکی کی دعوت اور برائیوں سے روکنا،وعظ و نصیحت اور مخاطب کی بات توجہ سے سننا،اسے نظرانداز نہ کرنا وغیرہ ہے۔اسی طرح ارشاد ہوتا ہے:
وَ اَمَّا السَّآىٕلَ فَلَا تَنْهَرْؕ(۱۰) (پ 30،الضحٰی:10)
ترجمہ:اور کسی بھی صورت مانگنے والے کو نہ جھڑکو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یعنی اے حبیب!جب تمہارے درِ دولت پر کوئی سوالی آ کر کچھ مانگے تو اسے کسی بھی صورت جھڑکنا نہیں بلکہ اسے کچھ دے دو یا اچھے اخلاق اور نرمی کے ساتھ ا س کے سامنے نہ دینے کا عذر بیان کر دو۔([1])
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہر مخاطب کی طرف مکمل توجہ فرماتے تھے،جیسا کہ حدیثِ مبارک میں ہے:جب آپ کسی سے کلام فرماتے تو اس سے اپنا چہرۂ مبارک تب تک نہ پھیرتے جب تک وہ خود نہ پھر جاتا اور جب کسی سے مصافحہ فرماتے تو جب تک سامنے والا اپنا ہاتھ نہ کھینچتا حضور بھی اپنا ہاتھ مبارک نہ ہٹاتے۔([2]) یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ حضور کسی بات کرنے والے کو کبھی نظر انداز نہیں کرتے تھے۔بڑے تو بڑے حضور بچوں تک کو نظر انداز نہیں فرماتے تھے،چنانچہ حدیثِ مبارک میں ہے:سرکار بچوں کو بھی سلام میں پہل فرماتے تھے۔([3])
احادیث میں مخاطب کو اہمیت دینے کا حکم:
مخاطب کو اہمیت دینا اس کے لئے انس و تسکین کا سبب ہوتا ہے اور حضور نے مومن کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:مومن تو وہ ہے جو مانوس ہوتا ہے اور جس سے مانوس ہوا جاتا ہے۔اس میں کوئی خیر و بھلائی نہیں جو نہ کسی سے مانوس ہوتا ہے اور نہ کوئی اس سے مانوس ہوتا ہے۔([4])
اسی طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو رحم نہیں کرتا،اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔([5])
کسی کی بات کو نظر انداز کرنا اس کے دل کو توڑنے کے مترادف ہوتا ہے اور یہ رحمت کے خلاف ہے۔لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ کسی سے بھی کلام کرے تو اخلاق،نرمی اور ہمدردی سے کرے اور سامنے والے کی بات کو توجہ سے سنے،کیونکہ کسی کو نظر انداز کرنا دل شکنی کا باعث ہے اور دل شکنی گناہِ کبیرہ ہے۔
یاد رکھیے! کسی مسلمان سے منہ پھیر لینا،اس سے بات نہ کرنا یا اسے نظر انداز کرنا اخلاقِ رسول کے بھی خلاف ہے کہ جب حضور کسی کی طرف توجہ فرماتے تو پوری توجہ کے ساتھ متوجہ ہوتے۔([6])
محترمہ بنتِ صفی احمد
(طالبہ:درجۂ رابعہ، فیضانِ عائشہ کامرہ اٹک)
انسان ایک سوشل مخلوق ہے۔وہ ایک معاشرے میں پروان چڑھتا اور اس سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ان افراد سے جو اس کے ساتھ رہتے ہیں میل جول رکھنا،ان سے اظہارِ خیال کرنا اس کی فطری ضرورت ہے۔کوئی بھی عام انسان لوگوں کے بغیر سب سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔اللہ پاک نے انسان کو معاشرے سے روابط رکھنے کے لئے گفتگو کی طاقت عطا فرمائی۔ انسان کی پہچان اس کے اخلاق،گفتار اور رویے سے ہوتی ہے۔ اللہ پاک نے اپنے دینِ کامل میں گفتگو کے آداب بھی ذکر فرمائے۔ ان میں سے ایک بہت خوبصورت ادب مخاطب کی بات کو توجہ سے سننا بھی ہے۔ پارہ 21 سورۂ لقمان کی آیت نمبر 18 میں ارشادِ الٰہی ہے:
وَ لَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ
ترجمہ:اورلوگوں سے بات کرتے وقت اپنا رخسار ٹیڑھا نہ کر۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
حضرت علامہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:یعنی جب آدمی بات کریں تو انہیں(یعنی جس سے بات کر رہے ہیں ان کو) حقیر جان کر ان کی طرف سے رخ پھیرنا جیسا کہ متکبرین( یعنی مغروروں) کا طریقہ ہے اختیار نہ کرنا،غنی و فقیر(یعنی امیر و غریب) سب کے ساتھ بتواضع( یعنی عاجزی سے )پیش آنا۔([7]) اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن پاک ہمیں گفتگو کے آداب سکھاتا ہے۔گفتگو کے دوران مخاطب کو نظر انداز کرنا صرف سماجی ہی نہیں،بلکہ دینی لحاظ سے بھی غلط عمل ہے۔مخاطب کو نظر انداز کرنا ایک منفی برتاؤ ہے جو تعلقات،اعتماد اور اخلاقیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔
کسی کی بات کو توجہ سے نہ سننا اور ادھر اُدھر دیکھنا مخاطب کے اعتماد کو مجروح کرتا،اس کی حوصلہ شکنی اور دل آزاری کا سبب بھی بنتا ہے،جبکہ شریعت میں مسلمان کو تکلیف دینا سخت نا پسندیدہ عمل ہے۔کلام کرنے والی کو نظرانداز کرنا حکمِ الٰہی کی خلاف ورزی اور اسے احساسِ محرومی میں مبتلا کر دیتا ہے۔
حضور کا خوبصورت طریقۂ گفتگو تھا کہ آپ کسی کو بھی نظر انداز نہیں فرماتے تھے،بلکہ ہر ایک کو عزت دیتے،چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔یہی وجہ ہے کہ جب حضور کسی کی طرف توجہ فرماتے تو پوری توجہ کے ساتھ متوجہ ہوتے۔([8])نیز حضرت علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر روح البیان میں لکھتے ہیں: سلام، کلام اور ملاقات کے وقت عاجزی کے طور پر اپنا پورا چہرہ لوگوں کے سامنے کیجئے،ان سے چہرہ نہ ہٹائیے،اس کا کچھ حصہ چھپائیے نہ ہی پھیرئیے، جیسا کہ متکبرین کی عادت ہوتی ہے کہ لوگوں کو ایسے ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور فقرا کو غصے سے دیکھتے ہیں بلکہ تمہارے ہاں امیر و غریب دونوں اچھے سلوک کے معاملے میں برابر ہوں۔([9])
بدقسمتی سے آج کے دور میں یہ سنت کمزور پڑ گئی ہے۔ہم گفتگو کے دوران موبائل دیکھنے،دوسروں کی بات کاٹنے یا عدم دلچسپی ظاہر کرنے میں مصروف رہتی ہیں۔یہ رویہ نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔گفتگو میں مخاطب کو اہمیت دینا،اس کی بات توجہ سے سننا اور احترام کے ساتھ پیش آنا اعلیٰ اخلاق اور اچھی تربیت کی علامت ہے۔جب ہم کسی کی بات غور سے سنتی ہیں تو وہ خود کو قابلِ قدر محسوس کرتی ہے،جس سے باہمی اعتماد اور احترام میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کے برعکس گفتگو کے دوران بے توجہی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو جنم دیتی اور تعلقات میں دراڑ کا سبب بن سکتی ہے۔باشعور اور مہذب انسان وہی ہے جو بولنے کے ساتھ ساتھ سننے کا سلیقہ بھی رکھتا ہو۔
الغرض قرآن وسنت ہمیں دوسروں کو توجہ اور عزت دینے کی تعلیم دیتے ہیں،جو اچھے اخلاق اور مسلمان کی شان ہے۔لہٰذا گفتگو کے آداب اپنائیے،مخاطب کو مکمل توجہ دیجئے اور اچھے اخلاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کیجئے۔
[1] تفسیرخازن،4/388
[2] ابن ماجہ،4/210،حدیث:3716
[3] بخاری،4/170،حدیث:6247
[4] مسند امام احمد،37/ 492،حدیث:22840
[5] بخاری،4/ 100، حدیث:5997
[6] شمائل محمدیہ ،ص 23،حدیث:7 مفہوماً
[7] تفسیر خزائن العرفان،ص 761
[8] شمائل محمدیہ ،ص 23،حدیث:7
[9] تفسیر روح البیان،7/84

Comments