63 نیک اعمال(نیک عمل نمبر 38)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

پیغامِ بنتِ عطار

63 نیک اعمال

(نیک عمل نمبر 38)

قرض لینا ایک نازک اور بھاری ذمہ داری ہے اور اسے ادا کیے بغیر دنیا سے رخصت ہونا نہایت خطرناک انجام رکھتا ہے۔جیسا کہ ذیل کی روایات میں مذکور ہے:

ایک شخص کا انتقال ہو گیا،اسے غسل و کفن دے کر حضورنبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں جنازے کے لئے حاضر کیا گیا تو حضور نے دریافت فرمایا:کیا اس پر قرض ہے؟عرض کی گئی:اس پر دو دینار قرض ہیں۔یہ سن کر حضور نمازِ جنازہ پڑھے بغیر واپس تشریف لے گئے۔حضرت ابو قتادہ نے وہ قرض اپنے ذمے لے لیا  تب حضور نے جنازہ پڑھایا۔بعد میں حضور نے قرض کے بارے میں پوچھا،جب ادا ہونے کی تصدیق کی گئی تو ارشاد فرمایا:اب میت عذاب سے بری ہو گئی ہے۔([1])امام احمد بن حجر مکی شافعی   رحمۃُ اللہ علیہ ا س روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:اگرچہ یہ بات صحیح ہے کہ حضور نے مقروض کی نمازِ جنازہ ادا نہیں فرمائی لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ (یعنی ختم)ہو گیا (اور آپ نے ایسے لوگوں کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی)جیسا کہ مسلم شریف کی روایت ہے:حضور کی بارگاہ میں جب کوئی ایسی میت لائی جاتی جس پر قرض ہوتا تو حضور پوچھتے:کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ چھوڑا ہے؟ اگر عرض کی جاتی کہ اس نے ادائیگی کے لئے کچھ چھوڑا ہے تو آپ اس کا جنازہ پڑھا دیتے اور اگر نہ چھوڑا ہوتا تو ارشاد فرماتے:اپنے ساتھی کی نمازِ جنازہ خود پڑھ لو۔لیکن جب اللہ پاک نے حضور پر فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو آپ نے ارشاد فرمایا:میں مومنوں کے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں،لہٰذا جو شخص قرض کی حالت میں وفات پا جائے،اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو مال چھوڑ جائے وہ اس کے وارثوں کے لئے ہے۔([2])جبکہ ایک روایت میں ہے کہ مومن کی روح اس کے قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے(یعنی اپنے اچھے مقام سے روک دی جاتی ہے)يہاں تک کہ اس کا قرض پورا کر ديا جائے۔([3])

ان روایات سے واضح ہے کہ قرض کا بوجھ میت کے لئے اس قدر سنگین ہوتا ہے کہ ابتدا میں حضور قرض دار میت کی نمازِ جنازہ پڑھانے سے رک گئے۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ قرض انسان کی روح تک کو گرفتار رکھتا ہے،یہاں تک کہ اس کی ادائیگی نہ ہو جائے۔لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ قرض لیتے وقت ادائیگی کی پکی نیت رکھیں اور جلد از جلد اسے ادا کریں نیز اگر کسی مجبوری کی بنا پر قرض باقی رہ جائے تو ورثا کو اس سے باخبر کر دیں۔ورنہ قرض کے ساتھ موت آ جانا آخرت کی سخت پکڑ کا سبب بن سکتا ہے،جس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ چنانچہ قرض کی ادائیگی بروقت کرنے کے حوالے سے امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ  نیک اعمال کےرسالے میں ہماری تربیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

سوال نمبر38:آج آپ نے قرض ہونے کی صورت میں(ادائیگی کی طاقت کے باوجود)قرض خواہ کی اجازت کے بغیر قرض ادا کرنے میں  تاخیر تو نہیں کی؟نیز کسی سے عارضی طور پر(یعنی temporary)لی ہوئی چیز ضرورت(need)پوری ہونے پر طے کئے ہوئے وقت کے اندر واپس کر دی ؟

امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ  کے عطا کردہ اس سوال میں قرض ادا کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔آج کل لوگوں کی اکثریت(Majority)ایسی ہے جو قرض لے کر واپس نہیں کرتی جبکہ قرض ادا کرنا بےحد ضروری ہے۔حالانکہ اُمہاتُ المومنین کی سیرت سے واضح ہے کہ قرض لینا بذاتِ خود معیوب نہیں،اصل اہمیت نیت اور ادائیگی کے جذبے کی ہے۔جیسا کہ اُم المومنین حضرت میمونہ  رضی اللہ عنہا  کثرت سے قرض لیا کرتی تھیں،پھر جب آپ کی توجہ اس طرف دلائی گئی تو آپ نے حضور کا یہ فرمان نقل فرمایا کہ میری امت میں جو شخص قرض لے،اس کی ادائیگی کی پوری کوشش کرے اور ادا کرنے سے پہلے وفات پا جائے تو میں اس کا ضامن ہوں،اور جس کے دل میں ادائیگی کی سچی نیت ہو اللہ پاک دنیا ہی میں اس کی طرف سے ادا(یعنی ادائیگی کے اسباب پیدا)فرما دیتا ہے۔([4])

اسی طرح اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا  بھی قرض لے کر لوگوں کی مدد فرمایا کرتیں،جب آپ کی توجہ اس طرف دلائی گئی تو آپ نے بھی فرمایا:جس بندے کی نیت قرض ادا کرنے کی ہوتی ہے اللہ پاک اس کی مدد فرماتا ہے،اسی بھروسے پر میں اللہ پاک کی مدد کی طلب میں رہتی ہوں۔([5])

 ان ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُمہاتُ المومنین قرض ضرور لیتی تھیں مگر نیت میں خیانت نہ تھی۔لہٰذا ہمیں بھی ان پاکیزہ ہستیوں کی پیروی کرتے ہوئے قرض لیتے وقت ادائیگی کی پکی نیت رکھنی اور بروقت قرض ادا کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے۔یاد رکھئے!قرض کی ادائیگی میں کوتاہی محض ایک مالی کمزوری نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی اور دینی خرابی ہے۔آج کے دور میں ایک بڑی کوتاہی یہ ہے کہ لوگ قرض لیتے وقت واپسی کا پکا ارادہ ظاہر کرتے ہیں،مگر بعد میں ٹال مٹول کو معمول بنا لیتے ہیں۔کبھی حالات کا بہانہ،کبھی مصروفیات کا عذر اور کبھی خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے،حالانکہ صاحبِ استطاعت ہوتے ہوئے ادائیگی میں تاخیر کرنا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔شریعت میں قرض خواہ کے حق کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے،کیونکہ یہ براہِ راست بندوں کے حقوق سے تعلق رکھتا ہے۔ٹال مٹول نہ صرف اعتماد کو مجروح کرتی ہے بلکہ دلوں میں نفرت،بدگمانی اور باہمی تعلقات میں دراڑ بھی ڈال دیتی ہے۔ ایسے انسان کی عبادات اور نیکیوں پر بھی اس کوتاہی کا اثر پڑتا ہے،کیونکہ حقوق العباد کی ادائیگی کے بغیر کامل نجات ممکن نہیں۔اس لئے لازم ہے کہ قرض لیتے وقت ذمہ داری کا احساس رکھا جائے،بروقت ادائیگی کو ترجیح دی جائے اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے تاخیر ہو تو صاف گوئی،معذرت اور باقاعدہ وعدے کے ساتھ معاملہ طے کیا جائے،تاکہ دنیا میں بھی امانت و دیانت برقرار رہے اور آخرت میں بھی پکڑ سے نجات حاصل ہو۔

امیرِ اہلِ سنت سے مدنی مذاکرہ نمبر 12  مساجد کے آداب میں قرض کی ادائیگی سے متعلق سوال پوچھا گیا تو آپ نے کیا جواب ارشاد فرمایا،پڑھئے:

عرض:قرض کی ادائیگی میں بلا وجہ  تاخیر کرنا یا  قرض ہی دبا لینا کیسا ہے؟

ارشاد:فقہائے کرام نے بلا حاجتِ شرعی ادائے قرض میں تاخیر کو بھی ظلم قرار دیا ہے تو کسی سے قرض لے کر سرے سے واپس ہی نہ کرنا تو اس سے بھی سخت تر معاملہ ہے۔اس بارے  میں چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیے اور اس سے بچنے کی کوشش کیجیے:سرکارِعالی وقار ،مدینے کے تاجدار  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:(قرض کی ادائیگی میں)صاحبِ استطاعت کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔([6])استطاعت والےکا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا،اس کی آبرو(عزّت)اور اس کی سزا کو حلال کر دیتا ہے۔([7])اُسے بُرا کہنا اُس پر طعن وتشنیع کرنا جائز ہو جاتا ہے۔([8])تاجدارِ مدینہ،راحتِ قلب و سینہ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:شہید(یعنی وہ شخص جس نے راہِ خدا میں جان دی ہے اس)کا ہر گناہ مُعاف ہوجائے گا سوائے قرض کے۔([9]) میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان  رحمۃُ اللہ علیہ سے قرضے کی ادائیگی  میں سستی اور جھوٹے حِیَل و حُجّت کرنے والے شخص زید کے بارے میں اِستِفسار ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا:زید فاسِق و فاجِر،مرتکبِ کَبائر، ظالِم، کذّاب، مستحقِ عذاب ہے۔اس سے زِیادہ اور کیا القاب اپنے لئے چاہتا ہے!اگر اِس حالت میں مر گیا اور دَین (قرض)لوگوں کا اِس پر باقی رہا،اِس کی نیکیاں اُن(قرض خواہوں)کے مطالبہ میں دی جائیں گی اور کیونکر دی جائیں گی(کس طرح دی جائیں گی۔یہ بھی سُن لیجیے)تقریباً تین پیسہ دَین(قرض)کے عِوَض(بدلے) سات سو نَمازیں باجماعت(دینی پڑیں گی)۔جب اِس(قرضہ دبا لینے والے) کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی اُن(قرض خواہوں)کے گناہ اِس (مقروض)کے سر پر رکھے جائیں گے اور آگ میں پھینک دیا جائے گا۔([10])

مزید فرماتے ہیں:حقوق العباد کا معاملہ نہایت ہی سخت ہے۔اگر آپ نے کسی سے قرض لیا اور ادائیگی کے لئے رقم پاس نہیں ہے مگر گھر کے اَسباب ،فرنیچر وغیرہ بیچ کر قرض ادا کیا جا سکتا ہے تویہ بھی کرنا پڑے گا۔قرض ادا کرنے کی ممکن صورت ہونے کے باوجود قرضدار سے مہلت لئے بغیر آپ قرض کی ادائیگی میں جب تک تاخیر کرتی رہیں گی گنہگار ہوتی رہیں گی۔خواہ آپ جاگ رہی ہوں یا سو رہی ہوں آپ کے گناہوں کا مِیٹر چلتا رہے گا،اَلْاَمَان وَالْحَفِیْظ۔جب قرض کی ادائیگی میں تاخیر کا یہ وَبال ہےتو جو کوئی پُورا قرض ہی دبالے اُس کا کیا حال ہوگا؟ البتہ!اگر کوئی ادا کرنے کی نیت سے قرض لے تواللہ پاک اس کی اچھی نیت کی بدولت اس کے لئے اَسباب پیدا فرما دے گا جس سے اس کا قرض اُتر جائے گا۔ حضور کا فرمان ہے:جس نے  لوگوں کے اموال(بطورِ قرض)لئے اور وہ ان کے ادا کرنے کی نیّت رکھتا ہے تو اللہ پاک اس کی طرف سے ادا کر دیتا ہے اور جو ہضم کرنے کے لئے لیتا ہے اللہ پاک اسے ادا کرنے کی توفیق نہیں دیتا۔([11])

اس حدیثِ پاک کے تحت شارحِ بخاری مفتی شریف الحق امجدی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:یہ حسنِ نیت کی برکت اور بدنیتی کی نحوست کا بیان ہے  کہ جو شخص انشراحِ صدر کے ساتھ ادا کرنا چاہے گا اللہ پاک اس کی مدد فرمائے گا تاکہ وہ آخرت کے مواخذہ سے بچ سکے اور جس کی نیت میں فتور ہوتا ہے اسے اس توفیق سے محروم رکھتا ہے اور وہ  قرض ادا نہ کرنے کے وبال میں گرفتار رہتاہے۔ ([12]) اچھی نیت سے قرض لینے والے کے قرض کی ادائیگی کے  لئے  فرشتے دعا کرتے ہیں جیساکہ امام محمد بن محمد غزالی  رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو شخص قرض لیتا ہے اور یہ نیّت کرتا ہے کہ میں اچھی طرح ادا کر دوں گا تو اللہ پاک اس پر چند فرشتے مقرّر فرما دیتا ہے جو اس کی حفاظت کرتے اور اس کے لئے دُعا کرتے ہیں کہ اس کا قرض ادا ہو جائے اور اگر قرض دار قرض ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو اب قرض خواہ کی مرضی کے بغیر ایک گھڑی بھر بھی تاخیر کرے گا تو گنہگار ہو گا اور ظالِم قرار پائے گا۔چاہے روزے کی حالت میں ہو یا سویا ہوا ہو اُس کے ذِمّے برابر گناہ لکھا جاتا رہے گا اور ہر حال میں اس پر اللہ  پاک کی لعنت پڑتی رہے گی۔یہ ایک ایسا گناہ ہے جو نیند کی حالت میں بھی اُ س کے ساتھ رہتاہے اور ادا کرنے کی طاقت کے لئےیہ شرط نہیں کہ نقد رقم ہو بلکہ اگر کوئی چیز(مثلاً  گھر کے برتن، فرنیچر، فریزر وغیرہ)بیچ کرادا کرسکتا ہے تو ایسا بھی کرنا پڑے گا۔([13])

گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کی عادی بننے کے لئے امیرِ اہلِ سنت کا عطا کردہ نیک اعمال کا رسالہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو اپنی ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے اللہ پاک دونوں جہاں کی بھلائیاں عطا فرمائے گا۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم




[1] مسند امام احمد،22/406،حدیث:14546

[2] مسلم، ص 673، حدیث:  4157

[3] ترمذی،2/371،حدیث:1080،جہنم میں لے جانے والے اعمال،1/784

[4] ترغیب و ترہیب،2/372،حدیث:10، جہنم میں لے جانے والے اعمال،1/ 786

[5] مسند امام احمد، 40/ 497،  حدیث: 24439

[6] بخاری، 2/ 109، حدیث: 2400

[7] بخاری، 2/ 109، حدیث: 2400

[8] فتاویٰ رضویہ، 25/ 69

[9] مسلم، ص 806، حدیث: 4883

[10] فتاویٰ رضویہ، 25/ 69

[11]  بخاری، 2/ 105، حدیث: 2387

[12] نزہۃ القاری ، 3/ 635

[13] کیمیائے سعادت،باب چہارم، 1/ 336


Share