پہلوان کون ؟
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:پہلوان کون؟

فرمانِ مصطفےٰ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   ہے:لوگوں کو پچھاڑ دینے والا پہلوان نہیں ہے پہلوان تو وہی ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کا مالک ہے۔([1])

شرحِ حدیث

عام طور پر پہلوان اسی کو سمجھا جاتا ہے جو کُشتی میں دوسروں کو پچھاڑ  دے لیکن مذکورہ حدیثِ مبارک میں پہلوان اسے کہا گیا ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃُ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:کیونکہ غصہ نفس کی طرف سے ہوتا ہے،اور نفس ہمارا بد ترین دشمن ہے،اس کا مقابلہ کرنا،اسے پچھاڑ دینا بڑی بہادری کا کام ہے،نیز نفس قوتِ روحانی سے مغلوب ہوتا ہے، اور آدمی قوتِ جسمانی سے پچھاڑا جاتا ہے،قوتِ روحانی قوتِ جسمانی سے اعلیٰ و افضل ہے،لہٰذا اپنے نفس پر قابو پانے والا بڑا بہادر پہلوان ہے۔([2])

علامہ نَوَوِی فرماتے ہیں:تم یہ سمجھتے ہو کہ قابلِ تعریف، طاقتور اور فضیلت والا پہلوان وہ ہے جسے لوگ پچھاڑ نہ سکیں بلکہ وہ انہیں پچھاڑ دے،حالانکہ شرعاً ایسا نہیں،بلکہ غصے کے وقت اپنے نفس کو کنٹرول رکھنے والا ہی فضیلت والا اور قابلِ تعریف ہے۔([3])حکیمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان فرماتے ہیں:غضب یعنی غصہ نفس کے اُس جوش کا نام ہے جو دوسرے سے بدلہ لینے یا اسے دَفع(دور)کرنے پر اُبھارے۔([4])

غصہ شیطانی جال ہے:

غصے کا انجام اکثر ندامت اور پچھتاوے کی صورت میں نکلتا ہے۔غصہ کرنے والی بظاہر دوسروں کو نقصان پہنچاتی ہے،مگر در حقیقت وہ سب سے بڑھ کر اپنا ہی نقصان کر بیٹھتی ہے۔غصہ شیطان کا ایک مؤثر ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ انسان کی دنیا  و آخرت دونوں برباد کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ غصے کی حالت میں انسان بدکلامی و الزام تراشی کرتا اور دوسروں کے دل دکھاتا ہے۔بسا اوقات یہ کیفیت ہاتھا پائی اور مار دھاڑ تک پہنچ جاتی ہے۔بعض لوگ غصے میں ناحق قتل جیسے سنگین جرم کے مرتکب ہو جاتے ہیں،جس سے ان کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔ کبھی غصے میں ایسے کلمات زبان سے نکل جاتے ہیں جو ایمان کے لئے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔حضرت حسن بصری فرماتے ہیں:اے ابنِ آدم!جب تُو غصہ کرتا ہے تو اُچھلتا ہے قریب ہے کہ کہیں تو ایسی چھلانگ نہ لگا بیٹھے جو تجھے جہنم میں پہنچا دے۔([5])

غصہ پینے کے فضائل:

قرآنِ کریم میں متقین کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ غصہ پی جاتے ہیں۔(پ 4،الِ عمرٰن:134)نیز کئی احادیثِ مبارکہ میں بھی غصے کو پینے اور درگزر کرنے کے فضائل مذکور ہیں،دو احادیث درج ذیل ہیں:

*جو غصہ نکالنے پر قدرت ہونے کے باوجود پی جائے،تو اللہ پاک قیامت کے دن اس کے دل کو اپنی خوشنودی سے معمور(یعنی بھر پور)فرما دے گا۔([6])

*رِضائے الٰہی کے لئے جو بندہ غصے کا گھونٹ پی لےاللہ پاک کے نزدیک اس سے زیادہ اجر والا کوئی گھونٹ نہیں۔([7])

غصہ پی جانے والا صابر ہے:

غصہ آنے پر قدرت ہونے کے باوجود اسے نافذ نہ کرنا بلکہ پی جانا صبر ہی کی ایک قسم ہے،جسے حِلم و بردباری بھی کہا جاتا ہے اور صبر کرنے والوں کے بارے میں اللہ پاک فرماتا ہے:

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) (پ 23،الزمر:10)

ترجمہ:صبر کرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اللہ پاک کے پیارے و آخری نبی  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے حلم کا عالم یہ تھا کہ کبھی بھی اپنی ذات کے لئے کسی سے بدلہ نہ لیتے، زیادتی کرنے والوں یہاں تک کہ جانی دشمنوں کو بھی معاف کر دیا کرتے تھے۔اس کی بہترین مثال حضور کا فتحِ مکہ کے دن عام معافی کا اعلان فرمانا ہے۔حالانکہ ان معاف کیے جانے والوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے حضور پر ظلم کے پہاڑ توڑے یہاں تک کہ آپ کو اپنا  شہر چھوڑنے پر مجبور کیا۔لیکن آپ نے کمالِ حلم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سب کو معاف فرما دیا۔

گھریلو جھگڑوں کی ایک وجہ غصہ بھی ہے:

ہمارے پیارے آقا  کی بردباری کا یہ عالم تھا کہ خون کے پیاسوں کو بھی معاف فرما دیا،جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ذرا سی ناگوار بات پر صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے اور فوراً غصہ آ جاتا ہے۔آج گھروں میں بڑھتے ہوئے جھگڑوں اور ناچاقیوں کی ایک بڑی وجہ برداشت کا فقدان ہے۔ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے کے مزاج سے واقف ہونے کے باوجود جذبات و احساسات کا خیال نہیں رکھتے۔والدین اولاد کو کچھ کہیں تو اولاد بدتمیزی پر اتر آتی ہے،اولاد سے غلطی ہو جائے تو والدین سختی کرنے لگتے ہیں،بہن بھائی معمولی باتوں پر لڑ پڑتے ہیں۔ان معاملات میں خواتین بھی پیچھے نہیں،کہیں ماں بیٹی میں ناچاقی ہے،کہیں ساس بہو کے جھگڑے ہیں اور کہیں نند بھابھی یا دیورانی جیٹھانی کے درمیان اَن بن رہتی ہے۔اگر ہم برداشت،صبر اور درگزر کو اپنا لیں اور غصے کو قابو میں رکھنا سیکھ لیں تو ہمارے گھروں کا ماحول خوشگوار بن سکتا ہے۔

برداشت کیسے پیدا کریں؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غصے کو قابو کیسے کریں؟برداشت کیسے پیدا کریں؟اس کے لئے یہ فرمانِ مصطفےٰ یاد رکھیے کہ علم سیکھنے سے آتا ہے اور تحمل مزاجی بتکلف برداشت کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔جو بھلائی حاصل کرنے کی کوشش کرے،اسے بھلائی دی جاتی ہے اور جو شر سے بچنا چاہتا ہے،اُسے بچایا جاتا ہے۔([8])یعنی غصے پر قابو حاصل کرنے کے لئے بتکلف کوشش کرنی ہو گی۔

کسی نے حضرت سلمان فارسی کو گالی دی تو انہوں نے فرمایا:اگر میزانِ عمل میں میرےنامۂ اعمال کا پلڑا ہلکا ہواتو جو کچھ تو کہتا ہے میں اس سے بھی بُرا ہوں اور اگر میرے نامۂ اعمال کا پلڑا بھاری ہوا تو تیری گالی سے مجھے کچھ نقصان نہیں ہوگا۔([9])

غصے کے طبی نقصانات:

غصے کے دنیوی و اخروی نقصانات ہیں، اس سے صحت پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔مثلاً:* غصے سے بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے جس سے دماغ کی شریان پھٹنے یعنی برین ہیمبرج ہو جانے یا فالج یا دل کا دورہ پڑ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔* بہت زیادہ غصہ کرنے والی کی قوتِ مدافعت کمزور ہو جاتی ہے۔ *غصّے سے پیٹ میں شدید درد،السر اور گیس ہوسکتا ہے۔* غصہ یرقان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔* غصہ پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ * غصہ کرنے سے قوتِ حافظہ کمزور ہوتی ہے۔

غصے کا علاج کیسے کریں؟

غصے کا سب سے بہترین علاج تو یہ ہے کہ غصے کے اسباب(جن چیزوں سے غصہ آتا ہے ان)سے بچا جائے۔ پھر بھی اگر کبھی غصہ آ جائے تو غصے کے دنیوی و اخروی نقصانات اور اس کی تباہ کاریوں پر غور کیجئے۔اس کے ساتھ ساتھ ان باتوں میں سے کسی ایک یا سب پر عمل کیجئے:*اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیم پڑھئے۔*لَا حَوْلَ وَ لَا  قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ پڑھئے۔*چپ ہو جائیے۔*وضو کر لیجئے۔*ناک میں پانی چڑھایئے۔* کھڑی ہیں تو بیٹھ جائیے۔* بیٹھی ہیں تو لیٹ جائیے۔([10])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ٹیچر ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مجلس جامعۃ المدینہ گرلز

ریاست آباد واہ کینٹ



[1] مسلم،ص1078،حدیث:6643

[2] مراۃ المناجیح،6/ 655

[3] شرح مسلم للنووی،جزء:16/ 162

[4] مراٰۃ المناجیح،6/ 655

[5] احیاء علوم الدین ،3/ 205

[6] جمع الجوامع،7/ 269،حدیث :22994

[7] شعب الایمان،6/ 314،حدیث:8307

[8] تاریخِ ابن عساکر،18/ 99،حدیث:4200

[9] احیاء علوم الدین،3/ 212

[10] غصے کا علاج،ص32


Share