اپنا روزہ ضائع ہونے سے بچائیے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن



موضوع:اپنا روزہ ضائع ہونے سے بچائیے

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی جسمانی،روحانی اور عملی ضروریات کو پیشِ نظر رکھ کر عبادات کا نظام مرتب کرتا ہے۔ روزہ بھی انہی عبادات میں سے ایک ہے،جس میں کھانے پینے سے پرہیز کے ساتھ تقویٰ،ضبطِ نفس اور روحانی تربیت شامل ہے۔

افطار کا وقت:

افطار کا وقت غروبِ آفتاب ہے جس پر اہلِ علم کا اجماع منقول ہے۔چنانچہ غروب کا ظنِّ غالب ہو جائے تو بلا وجہ افطار میں تاخیر کرنا خلافِ مسنون ہے۔جو اسے غلط کہتی ہے وہ دلائل سے ناواقف یا غلط فہمی کا شکار ہے،اس لئے عوام میں ایسی باتیں پھیلانے سے بچیے۔کیونکہ  پارہ 2،سورہ بقرہ کی آیت نمبر 187 میں اللہ پاک نے واضح طور پر روزے کو رات آنے تک پورا کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے،جیسا کہ تفسیر ماوردی میں اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ یہاں رات سے مراد غروبِ شمس ہے۔([1])  جبکہ حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کے متعلق مروی ہے کہ آپ نمازِ مغرب سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے،اگر تر کھجوریں نہ ہوتیں تو خشک چھواروں سے روزہ افطار فرماتے،اگر وہ بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ نوش فرما لیتے۔([2])نیز یہ بھی آپ ہی کا فرمان ہے کہ لوگ ہمیشہ خیر کے ساتھ رہیں گے،جب تک افطار میں جلدی کریں گے۔ ([3]) یعنی جب غروبِ آفتاب کا یقین ہو جائے تو بلا وجہ تاخیر نہ کی جائے اور جو گروہ اس کے خلاف رائے رکھتا ہے، اس حدیث میں ان کا رد ہے۔([4])

سحری کا وقت:

حضور کا فرمان ہے:ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں فرق سحری کا لقمہ ہے۔([5])ایک اور روایت میں ہے: سحری تمام کی تمام برکت ہے اُسے نہ چھوڑنا،اگرچہ ایک گھونٹ پانی ہی پی لو کیونکہ اﷲ پاک اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر درود بھیجتے ہیں۔([6])

سحری میں  تاخیر افضل ہے:

حضور کے فرمان کے مطابق سحری میں(رات کے چھٹے حصہ تک([7]))تاخیراللہ پاک کو پسند ہے۔([8])  لیکن اگر رات  کا گمان کرتے ہوئے سحری کرلی جبکہ فجر طلوع ہوچکی تھی  تو فقط قضا لازم ہے۔([9])

سحری کامستحب وقت یعنی رات کا آخری چھٹا حصہ نکالنے کا طریقہ:

غروبِ آفتاب سے صبح صادق کا درمیانی  وقت شمار کیجئے، اس کو 6 پر تقسیم کیجئے اور حاصلِ تقسیم کو صبحِ صادق سے گھٹا دیجئے، مثلاً:غروبِ شام 6 بجے اورصبحِ صادق رات 5بجے ہو تو شرعی رات  11 گھنٹے کی ہوئی جس کا چھٹا حصہ 1 گھنٹہ 50 منٹ ہوئے تو آخری 1 گھنٹہ 50 منٹ کے دوران جب بھی سحری کھائے گی ان شاء اللہ مستحب کا ثواب پائے گی۔

اذانِ فجر نمازِ فجر کےلئے اور اذانِ مغرب نمازِ مغرب کے لئے ہوتی ہے نہ کہ روزہ بند کرنے اور کھولنے کےلئے،لہٰذا صبحِ صادق اور غروبِ آفتاب کا خیال رکھیے۔اوقات ِ نماز   و سحر و افطار معلوم کرنے کے لئے عام بازاری نقشوں سے بچئے اور دعوتِ اسلامی کے شعبہ فلکیات کی طرف سے تیار کردہ   prayer time نامی ایپ موبائل میں ڈاؤن لوڈ کر کے اپنے علاقہ کی لوکیشن سیٹ کر لیجئے یا مکتبۃ المدینہ سے جاری کردہ اوقاتِ نماز کے نقشے استعمال فرمائیے یا مدنی چینل پر ڈسپلے ہونے والے اوقات کی مدد سے اپنے  روزوں اور نمازوں کے اوقات کی حفاظت کیجئے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* لیکچرار،ایم فل اسکالر رائیونڈ



[1] تفسیر ماوردی،1/247

[2] ترمذی،2/  162،حدیث:696

[3] بخاری،1/ 645،حدیث:1957

[4] فتح الباری،5 /  173

[5] مسلم،ص427،حدیث:2550

[6] مسندامام احمد،4/ 26،حدیث:11086

[7] تفسیر نعیمی،2/  210

[8] معجم اوسط،5/  320،حدیث:7470

[9] در مختار مع رد المحتار،3/  436


Share