سلسلہ:بزرگ خواتین کے سبق آموز واقعات
*محترمہ اُمِّ سلمہ مدنیہ عطاریہ
موضوع:توجہ الی اللہ
حضرت رابعہ بصریہ رحمۃُ اللہ علیہا نے ایک مرتبہ کوئی فصل بوئی، (پکنے کے وقت)اس پر ٹڈیوں نے حملہ کر دیا،آپ نے بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کی:اے اللہ!میرے رزْق کا تُو ہی کفیل ہے،اگر چاہے تو اسے اپنے دشمنوں کو کھلا دے،یا دوستوں کو۔اتنا کہنے کی دیر تھی کہ ٹڈیاں کھیت سے ایسی اُڑیں گویا کبھی آئی ہی نہ تھیں۔([1])
ہماری بزرگ خواتین کی زندگیوں کا نمایاں وصف یہ تھا کہ کسی بھی پریشانی یا مشکل کے وقت ان کی توجہ فوراً ذاتِ الٰہی کی طرف ہو جاتی۔وہ گھبراہٹ یا بےچینی کے بجائے اللہ پاک کو پکارتیں اور اسی کی بارگاہ میں دعا کیا کرتیں۔کچھ عرصے پہلے تک ہمارے معاشرے میں بھی یہی فضا موجود تھی،جہاں مائیں اپنے بچوں کو عملی طور پر ذکرِ الٰہی سکھاتی تھیں۔بچہ چلتے ہوئے گر جاتا یا ٹھوکر لگتی تو ماں کے منہ سے بےساختہ حَسْبِیَ اللہ نکلتا۔بچہ رات کو ڈر جاتا تو اسے سینے سے لگا کر اللہ پاک کا ذکر کیا جاتا۔کسی اچانک بات پر یا اللہ خیر کہا جاتا۔یوں گھروں میں اللہ پاک کا ذکر عام تھا اور ہر تکلیف میں اسی ربِّ کریم کی طرف رجوع کیا جاتا تھا۔
بظاہر زندگی گزارنے اور مسائل حل کرنے کے ہمارے پاس کئی اسباب موجود ہوتے ہیں،مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اسباب محدود ہیں۔زندگی میں بعض اوقات ایسے مراحل آتے ہیں جب ساری امیدیں ٹوٹتی محسوس ہوتی ہیں،ہر دروازہ بند نظر آتا ہے اور دل پر مایوسی چھا جاتی ہے۔لیکن غور کیا جائے تو ایسے وقت میں بھی ایک امید باقی رہتی ہے اور ایک دروازہ ہمیشہ کھلا ہوتا ہے اور وہ پروردگارِ عالم کی پاک بارگاہ ہے۔وہی فریاد سننے والا اور اپنے بندوں پر رحم فرمانے والا ہے۔اسی کی طرف رجوع کرنے سے پریشانیاں دور ہوتی ہیں۔اس کی بارگاہ میں نیک وبد سب کی بگڑی سنور جاتی ہے۔عام طور پر جب انسان کسی مشکل یا پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے دل میں سب سے پہلے دنیا کے ظاہری اسباب کا خیال آتا ہے۔بیماری میں ڈاکٹر یاد آتا ہے تو مالی ضرورت پیش آنے پر عزیزوں اور دوستوں کی طرف توجہ جاتی ہے۔یہ طریقہ اگرچہ ناجائز نہیں،مگر ایک مسلمان کی شان اس سے بلند ہے۔اسے چاہیے کہ خوشی ہو یا غم،راحت ہو یا تکلیف،ہر حال میں سب سے پہلے اپنے رب کو یاد کرے۔اگرچہ ظاہری اسباب اختیار کرنا یعنی علاج کروانا اور جائز مدد لینا درست ہے،مگر یہ سب ثانوی امور ہیں۔اصل کمال یہ ہے کہ ہمارا دل ہر حال میں اللہ پاک کی طرف متوجہ رہے اور اسی پر کامل بھروسا ہو۔
مصیبت اور پریشانی کے وقت ہمیں چاہئے کہ سب سے پہلے بارگاہِ الٰہی میں توبہ و استغفار کریں اور دل سے دعا مانگیں،کیونکہ مشکل سے نجات دینے،بیماری سے شفا عطا کرنے،قرض اور تنگ دستی سے بچانے والی ذات اللہ پاک کی ہے۔اس لئے اسباب پر نہیں بلکہ مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب پر بھروسا ہونا چاہئے۔سچے دل سے اللہ پاک کی طرف رجوع کرنے والوں کے لئے خود بخود راستے اور اسباب پیدا ہو جاتے ہیں۔اسی طرح نعمت اور راحت ملنے پر بھی رب سے غافل نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ کاش!ہماری توجہ ہر حال میں اللہ پاک کی جانب رہے،خوشی میں شکر،غم میں صبر اور ہر حال میں دعا اور عاجزی ہماری زندگی کا حصہ بن جائے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی
Comments