موضوع:حضور
کی انبیائے کرام سے محبت
(نئی رائٹرز کی حوصلہ
افزائی کے لئے یہ دو مضمون 44ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و
اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)
محترمہ بنتِ سید جاوید اقبال (فرسٹ
پوزیشن)
(طالبہ:درجہ ثالثہ،لطیف آباد،
حیدر آباد)
اللہ پاک نے
تمام انبیائے کرام کو اپنی مخلوق کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا اور سب سے آخر میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو تمام
جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔حضور نہ صرف اپنی امت کے خیرخواہ اور شفیق تھے بلکہ تمام انبیائے کرام سے بھی بے
پناہ محبت فرماتے تھے۔یہ محبت در اصل حضور کے اخلاقِ
عظیم، کمالِ جامعیت اور ربانی شفقت کی روشن دلیل ہے۔
قرآنِ مجید میں محبتِ انبیا کا بیان:
قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے انبیائے کرام کی مدح وثنا فرما کر حضور کو اُن کی پیروی
کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا:
اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْؕ- (پ7، الانعام: 90)
ترجمہ:یہی وہ(مقدس)
ہستیاں ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت کی تو تم ان کی ہدایت کی پیروی کرو۔
(اس
آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت میں حضور کو تمام انبیائے کرام
کی راہوں پر چلنے کا حکم دے کر بتایا گیا کہ تمام انبیا کی ہدایت کا خلاصہ محمدی ہدایت میں جمع ہے،لہٰذا
آپ ان سب سے محبت رکھتے ہیں کیونکہ آپ اُن سب کے جامع ہیں۔
احادیثِ
مبارکہ میں حضور کی انبیا سے محبت
انبیائے کرام سے باہمی ربط:
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:میں تمام انبیا کے درمیان اس طرح ہوں جیسے
ایک عمارت میں آخری اینٹ لگائی گئی ہو۔([1])
حضرت موسیٰ سے محبت:
واقعۂ معراج میں جب حضور کی ملاقات
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ہوئی تو حضور نے ان کی رائے کو بار بار قبول فرمایا۔جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ
السلام کے
عرض کرنے پر حضور بارگاہِ الٰہی میں لوٹتے رہے یہاں تک کہ پانچ نمازیں مقرر ہوئیں۔([2])
حضرت عیسیٰ سے قرب و محبت:
حضور نے ارشاد فرمایا:میں دنیا و آخرت میں عیسیٰ
بن مریم کے سب سے زیادہ قریب ہوں۔انبیا آپس
میں بھائی بھائی ہیں،ان کی مائیں جدا ہیں مگر دین ایک ہے۔ ([3]) یہ حدیثِ مبارک حضور کے حضرت عیسیٰ
سے گہرے روحانی ربط و محبت کو ظاہر کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ حضور تمام انبیا کو
اپنا بھائی سمجھتے تھے،یہ محبت و اخوت کا اعلیٰ مظہر ہے۔
تمام انبیا کے لئے دعا و احترام:
ایک روایت میں ہے:اللہ پاک کے نبیوں کو آپس میں ایک دوسرے پر فضیلت نہ دیا کرو (ایسی
فضیلت جو نقص کا
باعث بنے)۔([4])
معلوم ہوا!حضور نے ہر نبی کے لئے عزت و حرمت کا
حکم دیا اور ان کی محبت کو ایمان کا حصہ قرار دیا۔
حضور کا مقامِ جامعیتِ انبیا:
تمام انبیا کی خوبیاں اور کمالات حضور
کی ذات میں جمع ہیں۔حضرت قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:تمام
انبیا میں سے جس کو بھی جو جو فضیلت عطا کی گئی وہ سب فضیلتیں حضور کو بھی عطا کی گئیں۔([5])
اس لئے آپ کی اُن سب سے محبت در اصل
اپنی صفاتِ کاملہ سے محبت ہے۔یعنی انبیائے کرام کی فضیلتوں کا جوہر حضور میں
جمع ہے، اسی لئے آپ انبیا سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔
حضور نے پچھلے انبیائے کرام کی عظمت بیان فرمائی،ان کے معجزات کی تصدیق کی اور ان کے حقوق یاد دلائے۔یہ
در اصل آپ کے اخلاقِ حسنہ اور محبتِ الٰہیہ کی عظیم مثال ہے۔ حضور محبتِ
انبیا کی تکمیل ہیں۔آپ نے کسی نبی کی توہین برداشت نہ فرمائی بلکہ ہر نبی کی تصدیق
و تعظیم کی۔چنانچہ ہم پر بھی لازم ہے کہ ہم بھی حضور اور تمام انبیا سے محبت کریں
تاکہ ہمیں شفاعتِ محمدی نصیب ہو۔
محترمہ بنتِ خورشید احمد
(طالبہ:درجہ خامسہ، رحیم یار خان)
محبت ایک فطری جذبہ ہے۔ہر انسان میں یہ جذبہ اس کے مقام کے
مطابق پایا جاتا ہے۔ذاتِ مصطفےٰ میں بھی جذبۂ محبت آپ کے شایانِ شان تھا،چونکہ حضور
کا ہر فرمان و عمل رضائے الٰہی کے لئے تھا تو محبت بھی رضائے الٰہی کے لئے فرمائی۔جس
طرح حضور کو قربِ الٰہی کا ذریعہ بننے والی تمام عبادات سے لگاؤ تھا ایسے ہی اللہ پاک کے
مقرب بندوں یعنی انبیائے کرام سے بھی خاص لگاؤ تھا۔
بیان کیا جاتا ہے کہ محبت چار وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے: جمال، کمال،نوال(یعنی احسان)اور قرابت۔انبیائے کرام
بلا شبہ جمال، کمال اور نوال میں سب سے افضل ہیں اور حضور تمام انبیا سے افضل
ہیں اور تمام انبیا چونکہ علاتی بھائی ہیں۔([6])لہٰذا حضور کی انبیا سے محبت کی ایک
وجہ قرابت بھی ہے۔
یہ ایک عام بات ہے کہ جس سے محبت ہو انسان اس کا ذکر بھی کرتا ہے اور اس کی عادتوں کو اپنانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ حضور
کی حیات مبارکہ میں بھی انبیائے کرام سے محبت کی جھلک نظر آتی ہے۔حضور نے فرمایا:4 باتیں رسولوں کی سنت میں سے ہیں:حیا کرنا،عطر لگانا،مسواک کرنا اور نکاح کرنا۔([7])
چنانچہ حضور نے خود بھی ان باتوں پر عمل کیا اور اپنے
غلاموں کو بھی اس کی ترغیب یوں ارشاد فرمائی کہ تم میں سےکوئی میرے متعلق یہ نہ
کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ ([8]) یہ فرمان بھی سرکار کی نبیوں سے کمالِ
محبت کی دلیل ہے۔
حضور نے گرگٹ کو مارنے کا حکم دیا تو وجہ یہ ارشاد فرمائی
کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر پھونکے مارتا
تھا۔([9])
یعنی جس چیز نے کسی نبی کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کی حضور نے اسے ناپسند فرمایا اور ایک روایت میں گرگٹ کو پہلی ضرب میں مارنے پر 100
نیکیوں
کے ثواب کی بشارت عطا فرمائی۔([10])
بے شک محبوب کو تکلیف دینے والی چیز کو نا پسند کرنا بھی
محبت ہی کی علامت ہے۔ ایک مرتبہ سفر میں صحابہ کرام نے حضور کے ساتھ قومِ ثمود کی
بستی حِجْر میں پڑاؤ کیا تو وہاں کے کنویں کا پانی بھر لیا اور آٹا بھی اس پانی سے
گوندھ لیا،جب حضور کو معلوم ہوا تو انہیں حکم دیا کہ جو پانی برتنوں میں بھر لیا
اسے انڈیل دیں، گوندھا ہوا آٹا بھی جانوروں کو کھلا دیں اور پانی اس کنویں سے لیں
جس سے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیا
کرتی تھی۔([11])
قومِ ثمود چونکہ
اپنے نبی کی نافرمانی کی وجہ سے ربِ قہار کے عذاب میں گرفتار ہوئی اس لئے سرکار نے
نہ تو اس قوم کے کنویں کا پانی استعمال فرمایا اور نہ اس پانی سے گوندھے ہوئے آٹے
کو استعمال فرمایا اور نہ ہی اس کے استعمال کی صحابہ کو اجازت عطا کی،بلکہ پیارے
نبی حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے پانی
کی جگہ سے پانی لینے کا حکم فرمایا۔اس انداز سے
بھی حضور کا انبیائے کرام سے لگاؤ جھلک رہا ہے۔
اللہ پاک سے دعا
ہے کہ ہمیں بھی انبیائے کرام کا عشق عطا فرمائے،ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے اور حقیقی معنیٰ میں ان کی
اطاعت کرنے والی بنائے۔
اٰمین بِجاہِ خاتمِ النبیین صلی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
[1] بخاری،2/485،484حدیث:3535،ملخصاً
[2] بخاری،1/ 141،حدیث:349
[3] بخاری،2/458،حدیث:3443
[4] بخاری،2/446،حدیث:3414
[5] الشفا،1/45
[6] مسلم،ص 989،حدیث:6130
[7] ترمذی،2/342،حدیث:1082
[8] بخاری،2/446،حدیث:3412
[9] بخاری،2/423،حدیث:3359
[10] مسلم،ص 948،حدیث:5847
[11] بخاری،2/432،حدیث:3379

Comments