سیدہ جویریہ  بنت حارث
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن



موضوع:سیدہ جویریہ بنتِ حارث

انسان بسا اوقات زندگی کا ایک طویل حصہ نور و ہدایت کے سرچشمے سے دور گزار دیتا ہے،لیکن جب اللہ پاک کسی کے لئے ہدایت کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس کی تقدیر بدل جاتی ہے اور وہ حق کے راستے پر گامزن ہو جاتا ہے۔ہدایت کی یہ روشنی کبھی فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے خاندان اور قبیلے کے لئے خیر و برکت کا سبب بن جاتی ہے۔ام المومنین حضرت جویریہ بنت حارث  رضی اللہ عنہا  ایسی ہی ایک جلیل القدر ہستی ہیں جن کے اسلام قبول کرنے سے ان کے قبیلے کے کثیر افراد کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی یعنی آپ کی زندگی اپنی ذات کے ساتھ ساتھ آپ  کی قوم کے لئے بھی سراسر خیر ثابت ہوئی۔

اللہ پاک نے ام المومنین حضرت جویریہ کی ذات میں نیکی، بھلائی،فضل اور شرف کی بے شمار خوبیاں جمع فرما دی تھیں۔ آپ ہجرت سے 15 سال قبل پیدا ہوئیں اور ایک نہایت شاہانہ اور باوقار ماحول میں پرورش پائی۔آپ قبیلہ بنو مصطلق کے سردار حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں،جنہیں اپنے قبیلے میں غیر معمولی احترام اور مقبولیت حاصل تھی۔حضرت جویریہ حسن و جمال اور اخلاق و آداب میں بے مثل تھیں،جیسا کہ آپ کے حسن وجمال کا ذکر کرتے ہوئے ام المومنین سیدہ عائشہ فرماتی ہیں:سیدہ جویریہ نہایت شیریں و ملیح حسن والی عورت تھیں، جو بھی انہیں دیکھتا گرویدہ ہوئے بغیر نہ رہتا۔([1])

حضور سے نکاح

تقدیر کے فیصلے بھی عجیب ہوتے ہیں،جب وہ جلوہ گر ہوتے ہیں تو تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔حضرت جویریہ کا پہلا نکاح جب بنو خزاعہ کے نوجوان مسافع بن صفوان سے ہوا،اس وقت آپ کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ ایک دن آپ نعمتِ ایمان سے سرفراز ہوں گی اور حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی زوجیت میں آ کر ام المومنین کے اعلیٰ و ارفع مقام پر فائز ہوں گی۔اس کا سبب کچھ یوں بنا کہ آپ کے والد حارث بن ضرار نے جو قبیلہ بنو مصطلق کے سردار بھی تھے،قریش کے اشارے پر مدینے شریف پر حملے کا ارادہ کیا،مگر اسے کیا خبر تھی کہ اس کی یہ تدبیر اس کی بیٹی کے لئے عزت،آزادی اور ابدی رفعت کا سبب بن جائے گی۔چنانچہ جب حضور کو اس خطرے کی اطلاع ملی تو آپ شعبان پانچ ہجری کو مجاہدین کے لشکر کے ساتھ مدینے سے روانہ ہوئے۔ مسلمانوں کی آمد کی خبر پھیلتے ہی حارث بن ضرار کے کثیر ساتھیوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ میدان چھوڑ کر فرار ہو گئے۔بہرحال مقامِ مریسیع پر مختصر مگر فیصلہ کن مقابلہ ہوا۔بنو مصطلق شکست سے دو چار ہوئے اور ان کے سینکڑوں لوگ قید ہو گئے۔انہی قیدیوں میں حضرت جویریہ بنتِ حارث بھی تھیں۔

آپ چونکہ سردار کی بیٹی تھیں،اس لئے قید و غلامی کا تصور بھی آپ کے لئے دلخراش تھا۔قسمت نے آپ کو حضرت ثابت بن قیس کے حصے میں دیا،مگر آپ کے دل میں آزادی کی تڑپ زندہ تھی۔آپ نے مالِ مکاتبت کے ذریعے رہائی کی خواہش ظاہر کی اور نو اوقیہ سونا مقرر ہوا جس کی ادائیگی آپ کے لئے ممکن نہ تھی،اسی پریشانی کے عالم میں آپ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔آپ کی زبان پر فریاد تھی اور دل میں امید۔حضور نے آپ کی بات سنی اور وہ جملہ ارشاد فرمایا جو آپ کی زندگی ہی نہیں،آپ کی قوم کی تقدیر بدل دینے والا تھا:کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ میں تمہارا مالِ مکاتبت ادا کر دوں اور تم سے نکاح کر لوں؟([2]) سیدہ جویریہ کے لئے یہ پیشکش عزت،آزادی اور ایمان کا پیغام تھی۔ آپ نے فوراً یہ پیشکش قبول کر لی۔یوں حضور نے مالِ مکاتبت ادا فرمایا اور نکاح کر کے آپ کو امہات المومنین کے بلند مرتبے پر فائز فرما دیا۔

یہ نکاح محض دو افراد کا رشتہ نہ تھا،بلکہ پورے بنو مصطلق قبیلے کے لئے رحمت بن گیا۔وہ یوں کہ اس نکاح کی خبر جب صحابہ کرام کو پہنچی تو آپ کو یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ جس قبیلے میں حضور نکاح فرمائیں اس قبیلے کا کوئی فرد آپ کی غلامی میں رہے چنانچہ آپ کے پاس جتنے لونڈی غلام تھے سب کو یہ کہہ کر آزاد کر دیا کہ یہ ہمارے آقا کے  سسرالی رشتے دار ہیں۔([3])چنانچہ حضرت جویریہ  کے والد حارث بن ضرار  اور آپ کے دو  بھائی عمرو اور عبدُ الله  اور ایک بہن عمرہ سبھی مسلمان ہو کر شرفِ صحابیَّت سے سربلند ہوئے۔([4])سیدہ عائشہ صِدِّیقہ اس خیر و برکت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتی ہیں:اپنی قوم پربڑی برکت والی کوئی عورت ہم نے حضرتِ جویریہ سے بڑھ کر نہیں دیکھی۔([5])

حضرت جویریہ کا مختصر تعارف

آپ حضرت ہود  علیہ السّلام کی اولاد میں سے ہیں اور آپ کے والد حضرت حارث قبیلہ بنی مصطلق کے سردار تھے جو کہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے۔([6])آپ کا نام برہ تھا،حضور برہ نام رکھنے کو ناپسند فرماتے تھے،اگر کسی کا یہ نام ہو تو تبدیل فرما دیتے تھے، اسی لئے حضور نے آپ کا نام تبدیل فرما کر جویریہ رکھا۔([7])

پیارے آقاکو یہ نام کیوں پسند نہ تھا اور کیوں اسے تبدیل فرما دیتے تھے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں:حضور انور نے برہ  نام اس لئے بدل دیا کہ اگر آپ اپنی ان بیوی صاحبہ کے پاس سے تشریف لائیں تو یہ نہ کہا جائے کہ آپ برہ یعنی نیک کے یا نیکی کے پاس سے آئے کہ اس کا مطلب یہ بن جاتا ہے کہ نیکی سے نکل کر آئے تو نعوذ باللہ برائی میں آئے۔([8])

فضائل ومناقب

عبادت و تقویٰ:

حضرت جویریہ کو عبادت سے نہایت شغف تھا،جیسا کہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نے آپ کو صبح کے وقت عبادت کرتے دیکھا،پھر کافی دیر بعد وہاں سے گزرے تو حضرت جویریہ کو اسی حالت میں پا کر پوچھا:کیا ہمیشہ اسی طرح عبادت کرتی ہو؟عرض کی:جی ہاں۔تو حضور نے فرمایا:میں نے یہاں سے جانے کے بعد چار ایسے کلمات تین بار پڑھے ہیں اگر انہیں تمہاری سارے دن کی عبادات کے ساتھ وزن کیا جائے تو بھاری نکلیں۔وہ کلمات یہ ہیں:سُبْحَانَ الله وَ بِحَمْدِهِ،عَدَدَ خَلْقِهِ وَ رِضَا نَفْسِهِ وَ زِنَةَ عَرْشِهِ وَ مِدَادَ كَلِمَاتِهِ ۔([9])

عقلمندی اور حکمت:

حضرت جویریہ بہت سمجھ دار،معاملہ فہم و دانش مند خاتون تھیں۔آپ نے قید کی حالت میں بھی بڑے وقار سے بارگاہِ رسالت میں بدلِ مکاتبت کی درخواست کی جو آپ  کی خود داری کی علامت ہے۔

حضرت جویریہ کی وفات:

حضرت جویریہ نے ربیع الاول 50 ہجری میں وفات پائی،اس وقت آپ کی عمر 65 برس تھی۔ آپ کی نمازِ جنازہ مدینے کے حاکم مروان بن حکم نے پڑھائی اور جنتُ البقیع میں تدفین ہوئی۔([10])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین



[1] الاحسان،6/143،حدیث: 4043

[2]ابو داود ،4/30،حدیث : 3931

[3]ابو داود ،4/30،حدیث : 3931

[4]فیضان امہات المومنین، ص 246

[5]ابو داود ،4/31،حدیث : 3931

[6]فیضان امہات المومنین، ص 245

[7]مستدرک ، 5/ 36، حدیث:  6861

[8]مرا ۃ المناجیح، 6/ 410

[9] مسلم،  ص1119،حدیث:6913

[10] زرقانی علی المواہب، 4/ 428


Share