موضوع:بری عادتیں(آخری قسط)
علمِ دین کے حصول میں حائل رکاوٹوں کا سلسلہ جاری ہے، ذیل میں پیش کردہ دو باتیں بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں:
شیطانی وسوسے
یہاں وسوسے سے مراد وہ ذہنی شک و تردد،خوف یا جھجھک ہے جو دینی اسٹوڈنٹس کو علمِ دین حاصل کرنے،سوال کرنے، یا سیکھ کر عملی قدم اٹھانے سے روکتے ہیں۔اللہ پاک نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے علم و شعور کی نعمت عطا فرمائی۔ علمِ دین در اصل وہ نور ہے جو بندے کو اپنے رب، اپنے نفس اور اپنی آخرت کی پہچان کراتا ہے۔لیکن شیطان جو ازل سے انسان کا دشمن ہے،یہی چاہتا ہے کہ بندہ اس نور سے محروم ہو جائے۔اسی لئے وہ وسوسہ،شک،سستی اور غفلت کے ذریعے انسان کو علمِ دین سے دور کرنے کی مسلسل کوششیں کرتا رہتا ہے۔اللہ پاک کا فرمان ہے:
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵) (پ30،الناس:5)
ترجمہ:وہ جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
شیطان کا سب سے بڑا وار یہی ہوتا ہے کہ وہ بندے کے دل میں کبھی نیت کے بارے میں،کبھی عقیدے میں،کبھی علم اور کبھی مطالعے کے شوق میں وسوسے پیدا کرتا ہے،جو آہستہ آہستہ علم سے بیزاری کا سبب بن جاتے ہیں۔
علمِ دین سے متعلق وسوسوں کی صورتیں
1۔شیطان دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ میں علم حاصل نہیں کر سکتی،یہ تو بڑے لوگوں کا کام ہے،حالانکہ علم کا تعلق تقویٰ کے ساتھ ہے،نہ کہ غیر معمولی ذہانت یا حسب و نسب کے ساتھ۔
2۔شیطان دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اتنا وقت علم میں لگانا فضول ہے،دنیاوی کام زیادہ ضروری ہیں،اس ڈگری کی دنیا میں کوئی حیثیت نہیں،وغیرہ۔
3۔یہ وسوسے پیدا ہوتے ہیں کہ اگر میری نیت خالص نہ ہوئی یا میں غلط سمجھ لوں تو کیا ہوگا؟یہ وسوسے شک اور الجھن کو جنم دیتے ہیں،جبکہ علم یقین پیدا کرتا ہے۔
4۔شیطان کہتا ہے کہ ابھی نہیں،کل سے پڑھیں گے،دل نہیں لگ رہا،ابھی بہت وقت باقی ہے،وغیرہ۔
5۔دینی علم حاصل کرنا انسان کے لئے سعادتِ دنیوی و اخروی کا ذریعہ ہے،مگر بعض اوقات طالبات کو ایک خاص خوف یا وسوسہ لاحق ہو جاتا ہے کہ اگر میں نے سیکھ لیا تو مجھے عمل کرنا پڑے گا اور کیا میں اس کی قابلیت رکھوں گی؟یہ وسوسہ بعض اوقات علمی سفر کو روکتا،محبتِ علم کو دھندلا دیتا اور نفسیاتی دباؤ پیدا کر دیتا ہے۔یہ وسوسہ تین طرح سے دل میں آتا ہے:
1۔علم سے پہلے:اگر میں پڑھوں گی تو ذمہ داریاں بڑھ جائیں گی،لہٰذا بہتر ہے نہ پڑھوں۔
2۔علم کے دوران:اب جو پڑھ لیا،اس پر پورا عمل کیسے کروں؟میں تو نالائق ہوں۔
3۔علم کے بعد:لوگ مجھ سے زیادہ توقع رکھیں گے، اگر میں کمزور نکلی تو شرمندگی ہوگی۔
اہم بات یہ ہے کہ علم کا مقصد عملی زندگی کی بہتری ہے اور ہمارا دین ہر انسان کی حالتِ ظرف و استعداد کو مدنظر رکھتا ہے یعنی ہر فرد سے صرف اس کی طاقت کے مطابق عمل کی توقع رکھی جاتی ہے۔
وسوسوں سے بچنے کے عملی طریقے:
*نمازِ تہجد و دعا * ذکر و قرآن سے دل کا تزکیہ* روزانہ مطالعہ کی پابندی* ٹیچرز اور اہل ِعلم سے تعلق* نیک صحبت *علم کے ساتھ خدمتِ دین۔
شیطان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ انسان علم سے غافل ہو جائے،کیونکہ علم ہی وہ ہتھیار ہے جو ایمان کی حفاظت کرتا ہے۔جب علم کا چراغ بجھ جاتا ہے تو وسوسوں کا اندھیرا غالب آ جاتا ہے۔پس لازم ہے کہ ہم دلوں کو ذکر،صبر اور علمِ دین کی محبت سے بھرنے کی کوشش کرتی رہیں۔دینی علم کا مقصد عمل ہے،مگر اس سے پیدا ہونے والے وسوسے فطری ہیں اور قابلِ علاج بھی۔حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم علم اور عمل کو مرحلہ وار اور عملی طریقوں سے یکجا کریں۔نیت کی صفائی،اہداف کی تیاری،راہ نمائی،نیک صحبت اور ضرورت پڑنے پر نفسیاتی مدد وہ چیزیں ہیں جو اس خوف کو شکست دے سکتی ہیں۔
یاد رکھیے!شریعت نے ہر انسان کی طاقت کے مطابق مطالبہ رکھا ہے،کامل ہونا شرطِ علم نہیں،کوشش اور استقامت ضروری ہے۔اللہ کریم دینی اسٹوڈنٹس کو علم و عمل،اخلاص و استقامت سے نوازے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
کلاس روم میں سونا یا اونگھنا
یہ ایک نہایت اہم موضوع ہے کیونکہ یہ صرف نیند یا سستی کا مسئلہ نہیں بلکہ علمِ دین کی عظمت،شوقِ علم اور اسٹوڈنٹس کی اخلاقی تربیت سے بھی جڑا ہوا ہے۔دینی طلبہ کے لئے کامیابی کا پہلا قدم اپنی کاہلی اور سستی کو ختم کرنا اور محنت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا ہے۔اگر وہ کلاس روم میں ہی سو جائیں گے تو گویا اپنی کامیابی کے دروازے خود پر بند کر لیں گے۔علمِ دین صرف یاد کرنے یا سننے کا نام نہیں بلکہ دل کی حاضری اور ذہن کی بیداری کا تقاضا کرتا ہے۔امام شافعی بے ادبی کے ڈر کی وجہ سے اپنے استاد امام مالک کے سامنے کتاب کا ورق بھی آہستہ پلٹتے تھے۔([1])نیز یاد رکھئے کہ علم کے دروازے صرف بیدار دل اور جاگتی آنکھوں پر کھلتے ہیں،سوتی روح اور غافل دل پر نہیں۔
کلاس روم میں سونے کے چند نقصانات
تعلیمی کمزوری:
کلاس روم میں سونے سے سبق درست سمجھ میں نہیں آتا،اہم نکات ذہن نشین نہیں ہوتے اور امتحان کے وقت کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔
وقت کا ضیاع:
کلاس روم میں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ٹیچرز کی محنت اور نصیحت کو چھوڑ کر سونے والے گویا اپنی دولت ضائع کرتے ہیں۔اگر اسٹوڈنٹس کلاس کا وقت سو کر گزار دیں گے تو گویا وہ محروم لوگوں میں شامل ہو جائیں گے۔
ٹیچرز کی دل آزاری:
کلاس روم میں سونا ٹیچرز کی محنت کی بے قدری ہے۔ٹیچرز کی خوشی اسٹوڈنٹس کی کامیابی میں ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ انہیں نیند میں دیکھ کر ان کا دل دکھتا ہےاور یہ عمل ٹیچرز اور اسٹوڈنٹس کے تعلق کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔
دوسروں کے لئے بری مثال:
سونے والے اسٹوڈنٹس دوسروں کو بھی غفلت پر آمادہ کرتے ہیں۔
عادت کا پکا ہونا:
بار بار کلاس میں سونا ایک بری عادت بن جاتا ہے اور عادت انسان کی شخصیت پر غالب آ جاتی ہے۔
عملی زندگی پر اثر:
کلاس روم میں سونے والے عملی زندگی میں بھی کام کے وقت سستی کرتے ہیں۔وہ نوکری،دیگر کام کاج اور ذمہ داری میں بھی ناکام رہتے ہیں۔
الغرض کلاس روم میں سونا وقتی سکون ضرور دیتا ہے،مگر اس کے نقصانات زندگی بھر رہتے ہیں،اس سے تعلیم متاثر ہوتی ہے،وقت ضائع ہوتا ہے،استاد کا دل دکھتا ہے اور مستقبل کے مواقع ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔بے وقت سونا علم کے نور کو مٹاتا ہے۔لہٰذا اپنے وقت کی قدر کیجئے تاکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل ہو۔علم بیداری چاہتا ہے،غفلت نہیں۔جو جاگ کر علم حاصل کرتے ہیں،وہی امت کے رہبر بنتے ہیں۔اللہ کریم تمام اسٹوڈنٹس کو سستی و غفلت سے محفوظ فرما کر وقت کی قدر کی توفیق نصیب فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* لاہور

Comments