میت کی رسومات (قسط:آٹھویں  اور آخری قسط)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن



موضوع:میت کی رسومات (8ویں اور آخری قسط)

غسلِ میت اور کفن دفن کی رسومات مکمل ہوچکی ہیں،اب اس سلسلے کی آخری قسط پیشِ خدمت ہے:

سوگ

فوت ہونے والے کے غم میں زینت چھوڑ دینا،جیسے نیا یا عمدہ لباس نہ پہننا،خوشبو نہ لگانا،بالوں میں کنگھی نہ کرنا وغیرہ سوگ کہلاتا ہے اور سوگ بیوی پر لازم ہے،جبکہ باقی قریبی رشتہ داروں  مرد وعورت پر سوگ واجب نہیں۔([1])

سوگ کے دوران عورت ہر قسم کے زیورات،ریشمی کپڑے، خوشبو،تیل،سرمہ اور مہندی استعمال نہیں کرے گی، نیز زعفران یا سرخ رنگ کے کپڑے پہننا بھی منع ہے۔ان امور کا ترک واجب ہے۔البتہ!عذر کی صورت میں بعض چیزوں کی اجازت ہو سکتی ہے۔([2])

سوگ کی مدت:

سوگ کی مدت کے متعلق شریعتِ مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ کسی قریبی کے فوت ہونے پر تین دن تک سوگ کی اجازت ہے،اس سے زیادہ جائز نہیں۔البتہ!شریعت نے عورت کو شوہرکی موت پر چارمہینے دس دن سوگ کاحکم دیاہے اوروں کی موت کے تیسرے دن تک اجازت دی ہے باقی حرام ہے۔ ([3]) بعض لوگ مہینوں بلکہ چالیسویں تک سوگ کرتے ہیں،انہیں اس معاملے میں عبرت حاصل کرنی چاہیے۔

شوہر منع کرے تو کیا سوگ کرنا ضروری ہے؟

کسی قریبی کے فوت ہونے پر لمبے سوگ لازم نہیں۔شریعت نے تین دن تک سوگ کی اجازت دی ہے،اس سے زیادہ جائز نہیں۔اگر عورت شوہر والی ہو تو شوہر اسے تین دن کے سوگ سے بھی منع کر سکتا ہے۔([4])

فوتگی پر رشتہ داروں کا عمدہ لباس پہننا:

فوتگی کے موقع پر چونکہ لوگوں کی آمد ورفت ہوتی ہے،اس لئے بعض افراد صاف اور عمدہ لباس پہنتے ہیں،جس پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ شاید انہیں غم ہی نہیں۔یاد رہے کہ شریعتِ مطہرہ کے مطابق بیوی کے علاوہ باقی رشتہ داروں پر جیسے اپنے والد، والدہ،بھائی وغیرہ پر سوگ کی وجہ سے عمدہ لباس یا خوشبو وغیرہ چھوڑ دینا لازم نہیں، وہ سوئم یا تعزیت کی محفل میں صاف اور عمدہ  لباس پہن سکتے، خوشبو لگا سکتے ہیں۔([5])

سوگ میں سیاہ کپڑے پہننا:

سیاہ کپڑے بطورِ سوگ پہننا ناجائز وگناہ ہے،سوائے عورت کے کہ وہ اپنے شوہر کی وفات کے غم میں صرف تین دن تک پہن سکتی ہے اورتین دن کے بعداس کے لئے بھی جائزنہیں اور اگر سیاہ کپڑے بطورِسوگ یا اظہارِ غم کے لئے نہ پہنے جائیں توجائزہے،اس میں کوئی حرج نہیں۔([6])

تعزیت

فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:جو مسلمان اپنے بھائی سے مصیبت کے وقت تعزیت کرے گا،اللہ پاک اُسے بروزِ قیامت عزّت و کرامت کے لباس پہنائے گا۔([7])

فیضُ القدیر میں  تعزیت کا مطلب یہ مذکور ہے:صبر کی تلقین کی جائے اور ایسی باتیں کی جائیں جو میّت کے لواحقین کوتسلی دیں اور اُن کے غم اور مصیبت کو ہلکا کریں۔([8])

تعزیت میں الفاظ کیسے ہوں؟

(تعزیت کرنے والی کو چاہیے کہ) عاجزی و انکساری اور رنج و غم کا اظہار کرے،گفتگو کم کرے اور مسکرانے سے بچے کہ(ایسے موقع پر)مسکرانا(دلوں میں) بغض و کینہ پیدا کرتاہے۔بہتر ہے کہ تعزیت یوں کرے:اللہ پاک تمہاری میّت کی مغفرت فرمائے،اس کو اپنی رحمت میں ڈھانکے، تمہیں صبر عطا  کرے اور اس مصیبت پر ثواب عطا فرمائے۔ حضور نے ان لفظوں سے تعزیت فرمائی:لِلّٰہِ مَا اَخَذَ وَ لَہُ مَا اَعْطٰی وَ کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی خدا ہی کا ہے جو اُس نے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا اور اس کے نزدیک ہر چیز ایک میعاد مقرر کے ساتھ ہے۔([9])

تعزیت کرنا کیسا؟

بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ تعزیت کرنے سے صرف لواحقین کے غم میں اضافہ ہوتا ہے اس لئے ایسا نہیں کرنا چاہیے اور بعض لوگ ان کے غم میں شرکت کے لئے نہیں بلکہ صرف رسماً تعزیت کرتے ہیں،حالانکہ تعزیت مسنون  ہے۔([10])

رشتہ داروں کا تعزیت وصول کرنے کے لئے بیٹھنا:

کچھ لوگوں کے ہاں میّت ہونے پر سات دن تک یہ ہوتا ہے کہ دُور کے رشتہ دار چلے جاتے ہیں،مگرقریبی رشتہ دار اور اہلِ خانہ گھر بیٹھے رہتے ہیں،کام کاج وغیرہ کے لئے نہیں جاتے،جو لوگ تعزیت کرنے آتے ہیں ان سے ملتے ہیں اور میّت کے لئے دعا کرتے ہیں،اس دوران بعض اوقات رونے دھونے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔بہتر تو یہ ہے کہ تعزیت وصول کرنے کے لئے کسی دن بھی نہ بیٹھا جائے اوراگر بیٹھنا ہی ہوتو اہلِ خانہ کو تین دن تک تعزیت وصول کرنے کے لئے گھر میں بیٹھنے کی بِلاکراہت رخصت واجازت ہے جبکہ کوئی ممنوع کام نہ کریں (مثلاً:عمدہ عمدہ بچھونے بچھانا،میّت کی تعریف میں حد سے غلو،تعزیت کے وقت وہ باتیں جو غم و اَلم کو زیادہ کریں اور میّت کی بھولی ہوئی باتیں یاد دلائیں)اور تین دن کے بعد اس غرض سے بیٹھنا مکروہِ تَنْزِیہی ہےاور میت کے لئے دُعا و ایصالِ ثواب کرنا تو شرعی طور پر اچھا عمل ہے،یہ تو زیادہ سے زیادہ ہونا چاہیے۔([11])

وفات کے بعد بیوہ کے پاس عیدین وغیرہ  پر جا کر تعزیت کرنا:

وفات کو اگرچہ کافی ماہ ہوگئے ہیں مگر عوام میں رائج ہے کہ وہ عیدین وغیرہ پر بیوہ کے ہاں جاکر اس سے نئے سرے سے تعزیت کرتے ہیں اور ایسا کرنے کو لازمی و ضروری سمجھتے ہیں نیز اگر کوئی ایسا نہ کرے تو معیوب سمجھتے ہیں۔یہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ شریعتِ مطہرہ کی طرف سے تعزیت کاوقت تین دن تک مقرر ہے، اس کے بعد تعزیت کرنا مکروہِ تنزیہی ہے، کیونکہ تعزیت کا مقصد صاحبِ میت کوتسلی دینا،اس کے غم کو ہلکا کرنا اور اسے صبرکی تلقین کرنا ہوتاہے،جبکہ تین دن کے بعد تعزیت کرنے سے اس کا غم دوبارہ تازہ ہو گا،جو مقصود کے خلاف ہے۔([12])

وصیت

سفر کو جاتے وقت یا زندگی کے آخری لمحات میں جو باتیں کی جاتی ہیں  وہ وصیت کہلاتی ہیں۔عوام الناس عموماً وصیت اُن ہی باتوں کو سمجھتے ہیں  جو زندگی کے آخری لمحات میں کی جائیں جبکہ ایسا نہیں ہے،بلکہ وصیت اُن باتوں کو بھی کہتے ہیں جو عام زندگی میں اِس انداز میں کی جائیں  کہ گویا آخری دم تک اُن پر عمل کرنا ضروری ہے،یا وہ باتیں جن پر عمل کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو،یا وہ جو کسی کی زندگی کے تجربات کا نچوڑ ہوں،یا وہ کلام اور گفتگو جو فکرِ آخرت پر مشتمل ہو ان پر بھی وصیت کا اطلاق ہوتاہے۔([13]) اس کا قرآنِ مجید میں متعدد جگہوں پر ذکر کیا گیا ہے نیز حضور نے  اس شخص کو جو وصیت کرکے وفات کر گیا متقی، شہید اور عامل بِالسُّنَّۃ فرمایا اور ا س کی مغفرت کی بشارت دی۔([14])

وصیت مغربی اقوام میں بھی رائج ہے،اگرچہ وہ اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں،اُن کی اپنی خواہشات کے مطابق ہے،اسی لئے اس کا نام بھی Will ہے جس کے معنی خواہش ہیں۔عام طور پر وہاں لوگ مرنے سے بہت پہلے Will لکھ چھوڑتے ہیں لیکن اس Will اور وصیت میں زبردست فرق ہے۔وصیت اسلامی احکام کے مطابق ہوتی ہے اور  Will اپنی خواہشاتِ نفس کے مطابق۔ Willلکھنے والا قطعاً یہ نہیں سوچتا کہ وہ جو کچھ لکھ رہا ہے وہ اخلاقی اقدار کے مطابق ہے یا نہیں،اس سے معاشرے میں فلاح و بہبود آئے گی یا تباہی و بربادی،اس کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ میرا مال میرے مرنے کے بعد بھی صرف میری خواہش کے مطابق خرچ کیا جائے اس میں وہ اچھے بُرے،جائز و نا جائز اور حرام و حلال میں کوئی فرق نہیں کرتا، جب کہ اسلام نے وصیت کرنے والے کو کچھ ہدایات دی ہیں اور وصیت کا مقصد معاشرے کی اچھائی اور اچھے اعمال کو رائج کرنا مقرر کیا ہے۔اسی لئے اسلام نے گناہ کے کاموں اور معاشرے کو بگاڑنے والی چیزوں کے لئے وصیت کرنے کی اجازت نہیں دی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:وصیّت کرنا مستحب ہے جب کہ اس پر حقوقُ اللہ کی ادائیگی باقی نہ ہو،اگر اس پر حقوق اللہ کی ادائیگی باقی ہے جیسے اس پر کچھ نمازوں کا ادا کرنا باقی ہے یااس پر حج فرض تھا ادا نہ کیا یا روزہ رکھنا تھا نہ رکھا تو ایسی صورت میں ان کے لئے وصیّت کرنا واجب ہے۔([15])

وصیت لکھنا کیسا؟

امام نَوَوِی  شرح مسلم میں فرماتے ہیں:وصیت کی مشروعیت پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے لیکن ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ وصیت مستحب ہے واجب نہیں۔لیکن اگر انسان پر کسی کا قرض یا حق ہو یا  اس کے پاس امانت ہو تو اس کی وصیت کرنا لازم ہے۔اگر انسان کے پاس وصیت کے لائق کوئی چیز ہو تو احتیاط اسی میں ہے کہ اس کی وصیت لکھی ہوئی ہو اور مستحب یہ ہے کہ وصیت جلدی لکھ لے اور اپنی تندرستی میں لکھے اور کسی کو گواہ بھی بنا لے۔([16])

خلافِ شرع معاملے کی وصیت:

کسی نے مرتے ہوئے خلافِ شرع کام کی وصیت کی تو ایسی وصیت کا حکم ہی یہ ہے کہ اگر کسی ایسے کام کی وصیت کی جو شریعتِ مُطَہَّرہ کے قوانین کے خلا ف ہو تو مرنے والے کی ایسی وصیت کا کوئی اعتبار نہیں یعنی اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔([17])

جائیداد سے بے دخل کرنے کی وصیت کرنا:

بہت سارے لوگ اپنی نافرمان اولاد کو اپنی جائیداد سے عاق کرنے کی وصیت کرتے  ہیں۔حالانکہ حکمِ شرعی یہ ہے کہ کوئی شخص عاق ہونے کی وجہ سے ماں باپ کے ترکہ سے محروم نہیں ہو سکتا،اگرچہ والد لاکھ بار اپنے فرمانبردار،خواہ نافرمان بیٹے کو کہے کہ میں نے تجھے عاق کیا یا اپنے ترکہ سے محروم کردیا،نہ اس کایہ کہناکوئی نیا اثر پیدا کرسکتاہے نہ وہ اس بنا پر کوئی ترکہ سے محروم ہوسکتا ہے۔ البتہ! اگر اولاد فاسق و فاجر ہے اور گمان یہ ہے کہ انتقال کے بعد وہ اس کے مال کو بدکاری وشراب نوشی وغیرہ بُرائیوں میں خرچ کر ڈالے گی تو اس صورت میں زندگی میں فرمانبردار اولاد کو سارا  مال دے کر اس پر قبضہ دلا دینا یا اس جگہ کو کسی نیک کام کیلئے وقف کردینا جائز ہے کہ یہ حقیقت میں میراث سے محروم کرنا نہیں بلکہ اپنے مال اور اپنی کمائی کو حرام میں خرچ ہونے سے بچانا ہے۔([18])

زندگی میں اپنے کفن کی وصیت کرنا:

بعض لوگ اپنی زندگی میں ہی کفن کی وصیت کر دیتے ہیں کہ اس کفن میں مجھے کفنایا جائے ایسا کرنا بالکل جائز ہے جیسا کہ حضرت امیر ِمعاویہ  رضی اللہ عنہ  کا آخری وقت آیا تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ انہیں اس قمیص میں کفن دیا جائے جو حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انہیں عطافرمائی تھی اوریہ ان کے جسم سے متصل رکھی جائے نیز آپ کے پاس حضور رحمت دو عالم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ناخن پاک کے کچھ تراشے بھی تھے،ان کے متعلق وصیت فرمائی کہ باریک کر کے ان کی آنکھوں اور منہ میں رکھ دیئے جائیں اور فرمایا:یہ کام انجام دینا اور مجھےاَرْ حَمُ الرّٰحِمِیْن کے حوالے کر دینا۔([19])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلز ای ون جوہر ٹاؤن لاہور



[1] فتاویٰ اہلسنت غیر مطبوعہ،فتویٰ نمبر:Aqs-2771

[2] در مختار مع رد المحتار،5/222،221 ملتقطاً

[3] فتاویٰ رضویہ،24/495

[4] در مختار مع رد المحتار،5/224

[5] فتاویٰ اہلسنت غیرمطبوعہ،فتویٰ نمبر:Aqs 2771

[6] فتاویٰ اہلسنت غیرمطبوعہ،فتویٰ نمبر:06

[7] ابن ماجہ،2/269،حديث:1601

[8] فیض القدیر،6/232،تحت الحدیث:8851

[9] فتاویٰ ہندیہ،1/167

[10] بہار شریعت،1/852،حصہ: 4

[11] مختصر فتاویٰ اہلِ سنت،ص77

[12] فتاویٰ اہلسنت غیرمطبوعہ،فتویٰ نمبر:Pin-6440

[13] فیضانِ فاروقِ اعظم،1/277

[14] ابن ماجہ،3/304،حدیث:2701 ملخصاً

[15] فتاویٰ ہندیہ،6/90 ملخصاً

[16] شرح مسلم للنووی،11/74،75

[17] مختصر فتاویٰ اہلِ سنّت،ص 145،فتویٰ نمبر:126

[18] مال وراثت میں خیانت نہ کیجئے،ص37

[19] اسد الغابہ،5/223


Share