شرح قصیدہ معراجیہ (قسط:09)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن



34

جھلک سی اِک قدسیوں پر آئی ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی

سواری دُولھا کی دُور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:قدسی:فرشتے۔

مفہومِ شعر:جو فرشتے سدرۃ المنتہیٰ پر حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کے دیدار کے لئے جمع تھے؛انہوں نے چھوٹی سی ایک جھلک حضور کے دیدار کی دیکھی،اس کے بعد انہیں ہوش ہی نہ رہا کہ دامن کہاں ہے اور دامن والا کہاں ہے،پلک جھپکنے میں دولہا کی سواری نظروں سے غائب ہو گئی۔

شرح:اس شعر کا پچھلے شعر سے بڑا خوبصورت تعلق ہے۔ پچھلے شعر میں حضور کی معراج میں تیز رفتاری کا ذکر تھا  کہ سرو قد  والا محبوب اس شان سے چلا کہ سدرہ بھی آپ کا دامن تھام کر  آپ کو نہ روک سکا،آپ پلک جھپکنے کی مقدار میں مکاں سے لا مکاں جا پہنچے،البتہ!سدرۃ المنتہیٰ پر حضور کے دیدار کے لئے کثیر تعداد میں جمع ہونے والے فرشتوں نے آپ کی ایک جھلک کا نظارہ ہی کیا تھا کہ وہ بے خود سے ہو گئے اور ان کے ہوش میں آنے سے پہلے ہی حضور کی سواری پلک جھپکنے کی دیر میں بہت دور جاپہنچی۔

 35

تھکے تھے رُوْحُ الاَمِیں کے بازُو چھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو

رِکاب چھوٹی امید ٹوٹی نگاہِ حسرت کے وَلولے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:روحُ الامین:حضرت جبرائیلِ امین  علیہ السلام ۔رکاب:سواری کے دونوں طرف پاؤں رکھنے کا حلقہ۔ حسرت:ارمان۔ولولے:جوش و خروش۔

مفہومِ شعر:اس سفر میں فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل بھی تھک کر ایک مقام پہ رک گئے کیونکہ وہ اس سے آگے نہیں جا سکتے تھے،ان کے دل میں بڑی حسرت تھی کہ شاید حضور کے ساتھ انہیں بھی اللہ پاک کا دیدار ہو جائے مگر جیسے ہی حضور آگے بڑھے ان کی امید ٹوٹ گئی۔

شرح:مذکورہ شعر میں اعلیٰ حضرت سدرۃ المنتہیٰ پر روحِ امیں کی عذرخواہی کو کچھ یوں بیان فرماتے ہیں:سدرۃ المنتہیٰ پہنچ کر جبریلِ امین کے بازو تھک کر اڑنے کے قابل نہ رہے،دامنِ مصطفےٰ ہاتھ سے چھوٹ گیا،پہلوئے حضور میں چلنے کا موقع ختم ہوگیا،براق کی لگام بھی چھوٹ گئی۔ہائے افسوس!قربِ الٰہی کی جو امید لگائے بیٹھے تھے کہ حضور کی وجہ سے شاید میرا بھی کام ہو جائے،ساری امید ٹوٹ گئی،جہاں جوش و خروش اور ولولہ تھا اب وہاں حسرت و نا امیدی رہ گئی،چنانچہ معراج کی رات حضور ایک مقام سے دوسرے مقام تک،ایک حجاب سے دوسرے حجاب تک گئے،یہاں تک کہ ایک ایسے مقام پر جا پہنچے جہاں حضرت جبریل رک گئے،حضور نے فرمایا:اے جبریل!مجھ سے الگ نہ ہو،عرض کی:حضور!ہماری رسائی ایک معلوم مقام تک ہے۔اگر میں انگلی کے پَورے کے برابر بھی آگے بڑھا تو جل جاؤں گا۔اس رات تو میں آپ کے احترام کی وجہ سے یہاں تک پہنچا ہوں ورنہ میرا آخری ٹھکانہ سدرۃُ المنتہیٰ ہے۔([1])

 36

رَوِش کی گرمی کو جس نے سوچا دِماغ سے اِک بھبوکا پُھوٹا

خرد کے جنگل میں پھول چمکا دَہر دَہر پیڑ جل رہے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:روش:رفتار،چال۔بھبوکا،لال انگارا، شعلہ، نورِ تاباں۔خرد:عقل۔دہر دہر:نگر نگر،جگہ جگہ۔

مفہومِ شعر:شبِ معراج حضور کی رفتار کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے،اسے سوچ کر ہی دماغ بوکھلا جاتا ہے اور عقل کے جنگل میں ایک ایسا شعلہ پیدا ہوتا ہے جو پورے جنگل کو جلادیتا ہے۔

شرح:معراج کی تیز رفتاری کو عقل کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو ذہن پر ایک طرح کی بوکھلاہٹ اور حیرت طاری ہو جاتی ہے اور اسی کیفیت کے اظہار کے لئے اس شعر سے زیادہ گہرا تخیل شاید ممکن نہیں۔اللہ پاک نے حضور کو جو بے شمار معجزات عطا فرمائے،ان میں معجزۂ معراج اپنی نوعیت،کشادگی اور حیرت انگیزی کے اعتبار سے سب سے منفرد ہے۔حضور نے اپنے جسمِ اقدس کے ساتھ مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ،پھر آسمانوں، عرش و کرسی اور جنت و دوزخ کی سیر فرمائی اور یہ تمام مشاہدات رات کے نہایت مختصر حصے میں مکمل ہوئے۔عقلِ محدود کے لئے اتنی تھوڑی مدت میں ایسا راستہ طے ہونا نا ممکن محسوس ہوتا ہے،کیونکہ عقل کے مطابق اس کے لئے لاکھوں سال چاہئیں۔مگر یہ ناممکنات صرف عقل کی نگاہ میں ہیں،نگاہِ ایمانی کے لئے ان میں کوئی دشواری نہیں۔معراج کی آیت کے ابتدائی الفاظ ہی اس حقیقت کو واضح کر دیتے ہیں کہ یہ سیر حضور نے اپنی قدرت سے نہیں بلکہ اس ربّ نے کروائی جو ہر نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔

 37

جِلو میں جو مرغِ عقل اُڑے تھے عجب برے حالوں گرتے پڑتے

وہ سدرہ ہی پر رَہے تھے تھک کر چڑھا تھا دَم تیور آ گئے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:جلو:ہمراہی۔مرغِ عقل:عقل کے پرندے۔سدرہ:سدرۃ المنتہیٰ۔تیور آنا:چکرانا،آنکھوں کے سامنے اندھیرا آنا۔

مفہومِ شعر:معراج کی رات عقلِ مخلوق کی پرواز ایک حد پر آ  کر رک گئی اور وہ اس بلند سفر کا ساتھ نہ دے سکی،جبرائیلِ امین بھی سدرۃ المنتہیٰ پر ٹھہر گئے۔

شرح:معراج کی شب حضور کو جو مقام ومرتبہ عطا  ہوا،وہ عقلِ انسانی اور مخلوق کی سمجھ سے باہر ہے۔اسی حقیقت کو اعلیٰ حضرت نے نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے کہ اس عظیم سفر میں عقل کی پرواز ایک حد پر آ  کر رک گئی۔جلو میں اڑنے والی ہر وہ چیز جو عقل میں آ سکتی ہے،وہ اس بلندی کو برداشت نہ کر سکی،اس کا دم گھٹنے لگا اور وہ آگے بڑھنے سے عاجز ہو گئی۔یہاں تک کہ فرشتوں کے سردار حضرت جبرئیلِ امین بھی سدرۃ المنتہیٰ پر ٹھہر گئے،کیونکہ یہی مخلوق کی انتہا تھی۔جیسا کہ مروی ہے کہ مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے حضور جب سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے تو جبریلِ امین نے بھی حضور سے آگے ساتھ چلنے سے معذرت کر لی۔حضور نے فرمایا:جبریل!تمہاری اپنے رب سے کوئی حاجت ہو تو بتاؤ،انہوں نے عرض کی:بس مجھے رب سے اتنی اجازت دلوا دیجئے کہ میں آپ کی امت کے لئے پلِ صراط پر اپنے پر بچھا دوں جس سے وہ بآسانی پل صراط پار کر جائے۔ ([2]) اس کے بعد حضور اُس مقام پر پہنچے جہاں عقل و سمجھ کی بھی رسائی نہیں۔

امام شعرانی فرماتے ہیں:سدرہ پر جب جناب جبرئیل ٹھہر گئے تو سبز رنگ کا ایک تخت ظاہر ہوا جس کا نام رفرف ہے اس کے ساتھ ایک فرشتہ بھی تھا،حضرت جبرئیل نے حضور کو رفرف والے فرشتے کے حوالے کیا۔([3])علامہ نور الدین حلبی فرماتے ہیں:ایک روایت میں ہے:رفرف حضور کے لئے نیچے اتر آئی یہاں تک کہ حضور اس پر بیٹھ گئے،پھر حضور رب کے قریب ہوئے اور قریب ترین درجے سے مشرف ہوئے۔([4]) ایک اور روایت میں ہے کہ حضور کی سواری براق یہاں پہنچ کر  تھک گئی،پھر سبز رنگ کا رفرف ظاہر ہوا جس کی روشنی سورج کو مَدھم کررہی تھی،آپ اس رفرف پر سوار ہوئے اور چلتے رہے یہاں تک کہ عرش کے پائے تک پہنچ گئے۔([5])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ڈبل ایم اے(اردو،مطالعہ پاکستان،فاضل  عربی)

گوجرہ منڈی بہاؤ الدین



[1] تاریخ خمیس،1/311

[2] تفسیر روح البیان،5/121

[3] یواقیت و  جواہر،جزء:2/275

[4] سیرت حلبیہ،1/566

[5] شرح حدائقِ بخشش،10/134


Share