موضوع:دن اور رات بنائے جانے کی حکمتیں
دن اور رات اللہ پاک کی بنائی ہوئی عظیم نعمتیں ہیں جو زندگی کے نظم و ضبط،کامیابی اور سکون کے لئے لازم ہیں۔دن محنت، کام اور روشنی کے لئے ہے تو رات آرام،سکون اور توانائی کی تجدید کے لئے ہے۔یہی توازن انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔اگر انسان اپنے دن رات کے وقت کو سمجھ داری، عبادت،علم وعمل اور زندگی کی ضروری سرگرمیوں میں تقسیم کرے تو وہ نہ صرف دنیا میں کامیاب ہوتا ہے بلکہ آخرت کے لئے بھی اپنا سرمایہ جمع کرتا ہے۔
پارہ 19 سورۃ الفرقان آیت نمبر 62 میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا(۶۲)
ترجمہ:اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ معبود وہی ہے جس نے رات اور دن کوایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا کہ ان میں سے ایک کے بعد دوسرا آتا اور اس کا قائم مقام ہوتا ہے تاکہ جس کا عمل رات یا دن میں سے کسی ایک میں قضا ہو جائے تو وہ دوسرے میں ادا کرلے۔یہ رات اور دن کا ایک دوسرے کے بعد آنا اور قائم مقام ہونا اللہ پاک کی قدرت وحکمت کی دلیل ہے۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اللہ پاک وہی ہے جس نے رات اور دن میں ایسانظام قائم فرمایا کہ جب رات آتی ہے تو دن چلا جاتا ہے اور جب دن آتا ہے تو رات چلی جاتی ہے اور اس نے کوئی دن ایسانہیں بنایا جس کے لئے رات نہ ہو اور کوئی رات ایسی نہیں بنائی جس کے لئے دن نہ ہو تاکہ لوگوں کو سالوں کی گنتی معلوم رہے اور انہیں وہ وقت معلوم ہو جس میں کاروباروغیرہ کے لئے نکلنا ہے اور وہ وقت بھی معلوم ہو جس میں انہیں راحت و آرام کرنا ہے اور یہ عظیم الشان نظام اللہ پاک کی قدرت وحکمت کے کمال کی دلیل ہے۔([1])
دن اور رات بنانے کی حکمتیں قرآنِ پاک کی روشنی میں
دن اور رات نشانیاں ہیں:
اللہ پاک نے دن اور رات کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنایا؛ رات کو سکون اور ٹھہراؤ کے لئے اور دن کو روشنی و حرکت کے لئے،تاکہ انسان معاش کی تلاش کر سکے اور وقت،سالوں اور حساب کی ترتیب کو سمجھ سکے۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کائنات کا نظام محض اتفاق نہیں بلکہ مکمل حکمت اور واضح منصوبہ بندی کے تحت ہے۔جیسا کہ اللہ پاک نے سورہ ٔبنی اسرائیل میں ارشاد فرمایا ہے:
وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَؕ-وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا(۱۲) (پ15،بنی اسرائیل:12)
ترجمہ:اور ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا پھر ہم نے رات کی نشانی کو مٹا ہوا اور دن کی نشانی کو دیکھنے والی بنایا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان لو اور ہم نے ہر چیز کو خوب جدا جدا تفصیل سے بیان کردیا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
دن کام کے لئے ہیں:
پارہ 21 سورۂ روم آیت نمبر 23 میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ مَنَامُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ ابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ(۲۳)
ترجمہ:اور رات اور دن میں تمہارا سونا اور اس کا فضل تلاش کرنا اس کی نشانیوں میں سے ہے، بے شک اس میں سننے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت میں الله پاک نے اپنی وحدانیّت پر انسان کی ان صفات سے اِستدلال فرمایا ہے جو انسان سے جدا ہو جاتی ہیں، چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو!رات اور دن میں تمہارا سونا اور الله پاک کا فضل تلاش کرنا الله پاک کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تمہیں عادت کے مطابق رات میں نیند آتی ہے اور ضرورت کے وقت تم دن میں بھی سوجاتے ہوجس سے تھکن دور ہوتی اور تمہارے بدن کو راحت حاصل ہوتی ہے،یونہی دن میں تم سفر کرتے اور اپنی معیشت کے اسباب کو تلاش کر تے ہو،تو غور کرو کہ تم پر نیند کون طاری کرتا ہے اور نیند کا یہ معمول کس نے بنایا ہے اور تمہیں معیشت کے اسباب تلاش کرنے کی ہمت اور صلاحیت کس نے دی ہے؟اگرتم لاپروائی اور ضدسے کام نہ لو تو تمہیں یہی کہنا پڑے گا کہ ہزاروں برس سے انسانوں کا یہ معمول اوران کا یہ فطری نظام صرف اسی الله پاک کا پیدا کیا ہوا ہے جو یکتا معبود ہے اوراس کی قدرت کامل ہے۔([2])
دن اور رات اللہ کا نظامِ زندگی:
اللہ پاک نے رات کو انسان کے لئے پردے اور سکون کا ذریعہ بنایا تاکہ جسم و ذہن کو آرام ملے،نیند کو تھکن دور کرنے کا سبب قرار دیا اور دن کو بیداری، حرکت اور کام کا وقت بنایا۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کا پورا نظام اللہ پاک کی کامل حکمت اور رحمت پر قائم ہے۔جیسا کہ سورۂ فرقان میں ہے:
وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا(۴۷)(پ19،الفرقان:47)
ترجمہ:اور وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے پردہ اور نیند کو آرام بنایا اور دن کو اٹھنے کے لیے بنایا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
زندگی کا نظام قائم رکھنا:
زندگی کا نظام اللہ پاک کی قائم کی ہوئی ایک کامل ترتیب پر چل رہا ہے۔دن اور رات کا مسلسل آنا جانا،سورج کا طلوع وغروب اور چاند کی منزلیں سب اسی منظم نظام کا حصہ ہیں،جن کے ذریعے کائنات میں توازن برقرار رہتا ہے۔اگر ہمیشہ دن رہتا یا ہمیشہ رات ہوتی تو انسانی زندگی،اس کے معمولات اور اس کی جسمانی و ذہنی صلاحیتیں شدید متاثر ہوتیں۔اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ پاک سورۂ یونس میں فرماتا ہے کہ وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور بنایا اور چاند کے لیے منزلیں مقرر کر دیں تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب جان لو ۔
آزمائش کا میدان:
دن انسان کے لئے آزمائش کا ایک کھلا میدان ہے،جس میں اسے اختیار دیا گیا ہے کہ وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے یا برائی کا۔زندگی کے معمولات،مصروفیات اور مواقع در اصل اسی امتحان کا حصہ ہیں،جس کے ذریعے انسان کے اعمال ظاہر ہوتے ہیں۔اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے اللہ پاک سورۂ ملک کی دوسری آیت میں فرماتا ہے کہ وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون زیادہ اچھے عمل کرنے والا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کا ہر دن،ہر لمحہ انسان کے لئے ایک امتحان ہے،جس کا نتیجہ اللہ پاک کے علم کے مطابق ظاہر ہوگا۔
تعلیم وشعور کے مواقع:
دن تعلیم وشعور کے مواقع فراہم کرتا ہے؛ یہ سیکھنے،پڑھنے،غور و فکر کرنے،سیر کرنے اور توبہ و رجوع کا وقت ہے۔دن کے اجالے میں انسان جب باہر نکلتا ہے تو درخت،آسمان،زمین،انسانوں اور پرندوں کو دیکھ کر اللہ پاک کی قدرت کی نشانیوں پر غور کرتا ہے،جس سے اس کا شعور بیدار اور ایمان مضبوط ہوتا ہے۔اسی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے سورۂ عنکبوت کی بیسویں آیت میں ارشاد ہوا کہ تم فرماؤ: زمین میں چل کر دیکھو کہ اللہ نے پہلے کیسے بنایا؟پھر اللہ دوسری مرتبہ پیدا فرمائے گا۔ بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے۔(پ20،العنکبوت:20)
یہ تمام آیاتِ مبارکہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اللہ پاک کے ہر کام میں گہری حکمت اور کامل نظم موجود ہے۔دن اور رات کا مسلسل آنا جانا،نیند وبیداری،محنت و آرام،وقت کا حساب اور انسانی اعمال کی آزمائش؛یہ سب اسی الٰہی نظام کے مختلف پہلو ہیں جو کبھی منقطع نہیں ہوتا۔آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات و دن کے اختلاف میں عقل رکھنے والوں کے لئے بے شمار نشانیاں ہیں،جو انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہیں۔ اللہ پاک کے مقرر کردہ نظام کے مطابق ایک پورا دن سورج کے غروب سے اگلے غروب تک شمار ہوتا ہے،جس پر قمری اور اسلامی تقویم قائم ہےاور لیل و نہار کے مجموعے سے یوم بنتا ہے۔اسی قدرتی ترتیب کے تحت جب سات دن مکمل ہوتے ہیں تو ایک ہفتہ وجود میں آتا ہے جس کے دنوں کو انسانوں نے اپنی زبانوں میں مختلف نام دیئے۔کائنات کی یہ مربوط اور مضبوط ساخت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کرنے والا رب نہ تھکتا ہے اور نہ اس کے نظام میں کوئی خلل آتا ہے،بلکہ یہ سب اس کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ کا روشن اظہار ہے۔
دن اور رات انسانی زندگی کے خاموش مگر نہایت بامعنی گواہ ہیں۔ہم روزمرہ زندگی میں اپنے کاموں میں اس بات کی بالکل پروا نہیں کرتیں کہ ہم دن کے اجالے میں کیا کر رہی ہیں یا رات کی تاریکی میں کیا عمل کر رہی ہیں،مگر حقیقت یہ ہے کہ قیامت کے دن یہی دن اور رات ہمارے حق میں یا ہمارے خلاف گواہی دیں گے۔انسان جن لمحات کو معمولی سمجھ کر گزار دیتا ہے،وہ لمحے اللہ پاک کے ہاں محفوظ ہو جاتے ہیں اور ایک دن انسان کے سامنے پیش کر دیئے جائیں گے۔
حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر دن ابن آدم کو ندا دیتا ہے کہ اے ابنِ آدم!میں جدید مخلوق(نیا دن) ہوں،آج تو جو بھی عمل کرے گا کل(قیامت کے دن)میں تجھ پر گواہ ہوں گا،لہٰذا اچھا عمل کر تاکہ کل میں تیرے حق میں گواہی دوں کیونکہ میرے گزرنے کے بعد تو مجھے کبھی نہیں دیکھ سکے گا۔پھر فرمایا: رات بھی اسی طرح کہتی ہے۔([3])یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دن اور رات محض وقت کے حصے نہیں بلکہ انسان کے اعمال کے زندہ گواہ ہیں۔
موت کے بعد جب انسان قبر میں طویل عرصہ گزار چکے گا اور پھر قیامت قائم ہوگی تو میدانِ محشر میں اس کے تمام اعمال اس کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔قرآنِ پاک میں متعدد مقامات پر اس منظر کی وضاحت کی گئی ہے۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اے انسان! تیرا اعمال نامہ(تیرے اعمال سے)پُر کیا جا رہا ہے،پھر اسے لپیٹ دیا جائے گا،پھر قیامت کے دن اسے تیرے سامنے کھولا جائے گا۔لہٰذا انسان کو غور کرنا چاہئے کہ وہ اپنے نامۂ اعمال میں کیا لکھوا رہا ہے۔([4])جبکہ تفسیر ابنِ کثیر کے مطابق بندے کے تمام اچھے برے،چھوٹے بڑے اور پرانے نئے اعمال اس کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔([5])
یاد رکھئے!اس دنیا میں ہمیں جو سب سے قیمتی سرمایہ عطا کیا گیا ہے وہ وقت ہے۔دن اور رات کی تقسیم ہمیں وقت کی قدر و قیمت اور اس کا درست استعمال سکھاتی ہےکہ دن کن کاموں کے لئے مخصوص ہے اور رات کن ذمہ داریوں اور عبادات کے لئے۔یہی تقسیم ہماری زندگی میں توازن اور نظم پیدا کرتی ہے۔ہمارا دین ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دن کا آغاز اللہ پاک کے بابرکت نام سے کیا جائے،کیونکہ اسی میں برکت،راہ نمائی اور حقیقی کامیابی پوشیدہ ہے۔
اللہ پاک نے ہفتے کے سات دنوں کو صرف دنیاداری کے لئے نہیں بنایا بلکہ اس نے واضح طور پر فرمایا کہ اس نے ہمیں اپنی عبادت کے لئے پیدا فرمایا ہے۔اس لئے وقت کا اصل مصرف یہی ہے کہ اسے اللہ پاک کی رضا کے کاموں میں لگایا جائے، چاہے وہ عبادت ہو،نیکی ہو یا مخلوقِ خدا کی خدمت۔اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ لیں تو ہماری زندگی بامقصد اور بابرکت بن سکتی ہے۔اللہ پاک ہمیں اپنی مختصر سی زندگی کو اپنی رضا کے مطابق گزارنے،وقت کی قدر کرنے اور ہر دن کو آخرت کی تیاری کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین
[1] تفسیر صراط الجنان،7/48،47
[2] تفسیر صراط الجنان،7/435
[3] حلیۃ الاولیاء، 2/ 344،حدیث: 2501
[4] تفسیر در منثور، 8/ 428
[5] تفسیر ابن کثیر، 8/ 313
Comments