سلسلہ:فیضانِ امیرِ اہلِ سنت
*محترمہ ام فیضان مدنیہ عطاریہ
موضوع:شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ،ضیائیہ،عطاریہ(قسط 4)
4
صدقِ صادق کا تصدق صادقُ الاسلام کر
بے غضب راضی ہو کاظم اور رضا کے واسطے
مشکل الفاظ کے معنی:صدق:سچائی۔صادق:سچا۔تصدق: صدقہ۔ صادق الاسلام:سچا مسلمان۔
مفہومِ شعر:اے اللہ!تجھے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ علیہ کی سچائی کا واسطہ مجھے ایسا سچا مسلمان بنا جو اسلام کی سچائی پر قائم رہے،میرا ایمان خالص وسلامت رکھ اور امام کاظم و امام علی رضا رحمۃ اللہ علیہم کے وسیلے سے مجھ سے راضی ہو جا،کبھی بھی ناراض ہونا نہ غضب فرمانا۔
شرح:اس شعر میں بڑے اچھے طریقے سے لفظی ومعنوی ربط قائم کیا گیا ہے،پہلے مصرعے میں صدق،صادق اور صادقُ الاسلام تینوں الفاظ میں ص، د، ق کی لفظی ہم آہنگی بھی ہے اور سچائی و راست گوئی کی معنوی مماثلت بھی۔جبکہ دوسرے مصرعے میں بےغضب اور کاظم یعنی غضب نہ کرنے والا دونوں معنوی اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ رضا اور راضی میں لفظی مشابہت بھی ہے اور رضامندی کا مفہوم بھی۔اس شعر میں در اصل سلسلہ عالیہ،قادریہ،رضویہ،عطاریہ کے تین مشائخ حضرت امام جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم اور امام علی رضا رحمۃاللہ علیہم کے وسیلے سے اللہ پاک کی بارگاہ میں ایمان و اخلاص کی سلامتی اور بےحساب بخشش کی دعا کی گئی ہے۔
حضرت امام جعفر صادق:
آپ سلسلۂ قادریہ کے چھٹے شیخِ کامل اور خاندانِ اہلِ بیت کے عظیم چشم وچراغ،جلیل القدر تابعی و محدث، فقیہ، ظاہری وباطنی علوم کے جامع، ریاضت وعبادت اور مجاہدے میں مشہور تھے، آپ کا لقب صادق اس لئے مشہور تھا کہ آپ کی زبان سے کبھی جھوٹ نہیں نکلا۔ آپ حضرت امام محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے ہیں،آپ کی والدہ امیر المومنین حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی پوتی ہیں،اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو حضرت صدیق اکبر تمام سیدوں کے نانا اور حضرت علی المرتضیٰ ان کے دادا لگتے ہیں۔آپ 17 ربیع الاول 83 ھ پیر شریف کو مدینے میں پیدا ہوئے اور 15 رجب 148ھ کو وفات پائی۔ آپ کی قبرِ انور جنت البقیع میں ہے۔
حضرت امام موسیٰ کاظم:
آپ سلسلۂ قادریہ کے ساتویں شیخِ طریقت ہیں۔آپ کی شخصیت میں سخاوت،تقویٰ،حُسنِ اخلاق اور حلم و بردباری جیسے اوصافِ حمیدہ نمایاں تھے اور غصہ پینے کا وصف تو اس کمال کا تھا کہ آپ کا لقب ہی کاظم پڑگیا یعنی غصہ پینے والا اور یہ لقب آپ کے نام کے ساتھ یوں جڑ گیا جیسے نام کا ہی حصہ ہو۔ آپ حجاز میں مقامِ ابوا پر 7 صفر المظفر 128ھ کو پیدا ہوئے اور 25 رجب 183ھ کو بغدادِ معلیٰ میں وفات پائی۔
حضرت امام علی رضا:
سلسلۂ قادریہ کے آٹھویں بزرگ حضرت امام علی رضا رحمۃ اللہ علیہ 148ھ مدینے میں پیدا ہوئے اور وفات 21 رمضان المبارک 203 ھ میں پائی آپ کا مزار مبارک بغداد معلیٰ کے ایک مقام پر ہے۔آپ انتہائی ذہین،علم وعمل کے جامع،صاحبِ کرامت اور ہر دل عزیز شخصیت کے حامل تھے آپ کو فہمِ قرآن کا ایسا ملکہ حاصل تھا کہ اکثر سوالات کے جوابات آیاتِ قرآنیہ سے عطا فرماتے۔
اللہ پاک ان بزرگوں پر اپنی خاص رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے اور ان کے صدقے اس شعر میں جو دعا مانگی گئی اسے ہمارے حق میں بھی قبول فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ذمہ دار شعبہ ماہنامہ خواتین (کراچی سطح)

Comments