مخاطب کو توجہ دیجئے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن



موضوع:مخاطب کو توجہ دیجئے

باسلیقہ گفتگو کرنے کا فن رکھنا یقیناً کمال ہے مگر کسی کی پوری بات توجہ سے سننے کا حوصلہ رکھنا اس سے بھی بڑا کمال ہے۔ہر انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بات کو اہمیت دی جائے،توجہ سے سنا جائے،خاص طور پر جب وہ بات وعظ و نصیحت،علم وحکمت یا قرآن وسنت کی ہو تو اسے بھرپور توجہ کے ساتھ سننا ضروری ہوجاتا ہے،جیسا کہ دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے اجتماعات میں مبلغات بیان کرتی ہیں تو بعض خواتین ان کی بات توجہ سے نہیں سنتیں،بلکہ اپنے موبائل میں یا ادھر ادھر دیکھ کر ٹائم پاس کرتی ہیں۔یاد رکھیے!جب بھی قرآن وحدیث کی باتیں ہو رہی ہوں یا وعظ ونصیحت پر مشتمل کلام جاری ہو تو توجہ سے سننا ضروری ہے۔اللہ پاک کا فرمان ہے:

مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ(۲) (پ17،الانبیآء:2)

ترجمہ:جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

معلوم ہوا کہ نصیحت کی باتیں بے توجہی اور غافل دل کے ساتھ سننا غیرمسلموں کا طریقہ ہے۔

نظرانداز کرنے کی وجوہات:

بات چیت میں کسی کو نظرانداز کرنا اسلامی تہذیب کے مطابق ہے نہ اخلاقیات کے مطابق۔آج کل سب سے بڑی رکاوٹ توجہ دینے میں موبائل بن گیا ہے۔والدہ یا والد بات کر رہے ہوں،بچے کچھ کہہ رہے ہوں یا شریکِ حیات مخاطب ہو،ہم اکثر موبائل پر لگی رہتی ہیں اور صرف ہاں یا ٹھیک کہہ کر بات کو رد کر دیتی ہیں۔اس طرح دوسروں کو توجہ دینے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔حل یہ ہے کہ جب کوئی بات کرے تو موبائل کو سائلنٹ کر کے  پوری توجہ کے ساتھ سنیں۔ہمہ تن گوش رہیں تاکہ سامنے والی کو محسوس ہو کہ وہ آپ کے نزدیک اہم ہے۔

مخاطب کی بات نہ سننے کی کئی وجوہات ہیں،جیسے خود کو بولنے میں ماہر سمجھنا اور دوسرے کی بات کاٹ کر اپنی بات شروع کرنا، مخاطب کو کم تر جاننا،اپنی عقل یا رائے کو کامل سمجھنا،دوسروں کے مشورے نظر انداز کرنا،مال و دولت یا کسی عہدے پر غرور کرنا،اپنے علم یا تجربے پر ناز کرنا،یا کسی بڑے مرتبے والی سے دوستی پر فخر کرنا وغیرہ۔یہ رویے در اصل غرور،تکبر اور خود پسندی کے اثرات ہیں،جو صبر وتحمل کے ساتھ سننے کی عادت کو متاثر کرتے ہیں۔ان پر قابو پانے کے لئے اپنے آپ کو کنٹرول کرنا اور تھوڑے عرصے کے لئے تکلف کرنا ضروری ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ دوسروں کی بات تحمل سے سننے اور اپنی بات مؤثر انداز میں پیش کرنے کی عادت بن جاتی ہے اور تعلقات میں محبت،احترام اور اعتماد پیدا ہوتا ہے۔

صحابہ کرام کی پیاری ادا:

اللہ پاک تمام صحابہ کرام اور اہلِ بیت پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔یہ عظیم حضرات جب کلام سنتے تو اپنی توجہ کا بھرپور اظہار کرتے۔روایت میں ہے:اِذَا ‌تَكَلَّمَ اَطْرَقَ ‌جُلَسَاؤُهُ ‌كَاَنَّمَا ‌عَلٰی ‌رُءُوْسِهِمُ ‌الطَّيْرُ یعنی جب حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کلام فرماتے تو صحابہ کرام گردنیں جھکا کر خاموش بیٹھ جاتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھ گئے ہوں۔([1])یہ منظر نہ صرف ان کے ادب اور خشوع کی علامت تھا بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ان کے نزدیک حضور کی بات سننے میں مکمل توجہ اور احترام کس قدر اہم تھا۔جیسا کہ حضور نے اسلام کی دعوت علانیہ دی،قریش حیران و پریشان ہو گئے۔ انہوں نے آپ کو رد کرنے کے لئے عقبہ بن ربیعہ کو مذاکرات کرنے بھیجا،تاکہ وہ آپ کو اپنی باتیں قبول کرنے پر آمادہ کرے۔ عقبہ بن ربیعہ حضور کے پاس پہنچا اور بولا:میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں،آپ غور سے سنیں،ہو سکتا ہے کہ آپ کو ان میں سے کچھ باتیں پسند آئیں اور آپ مان جائیں۔حضور نے فرمایا:ابو ولید!تمہیں جو کچھ کہنا ہے کہو،میں سنوں گا۔ چنانچہ عقبہ نے اپنی باتیں کھل کر بیان کیں۔جب وہ چپ ہوا تو حضور نے پوچھا:ابو ولید!تم نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا؟اس نے جواب دیا:جی ہاں۔پھر حضور نے فرمایا:تو اب میری بات سنو۔ عقبہ نے کہا:ضرور سنوں گا۔تب حضور نے سورۂ حمٓ السجدہ کی تلاوت کی([2])اور یوں اپنی حکمت سے عقبہ کے دل پر اثر ڈالا۔

یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ حضور نے ہمیشہ تحمل اور حکمت کے ساتھ گفتگو کی اور مخالفت کرنے والوں کو بھی نرمی،احترام اور اللہ پاک کے کلام کے ذریعے سمجھانے کی کوشش فرمائی۔

کتبِ سیرت میں ہے کہ جب حضور مسجدِ نبوی میں تشریف لاتے تو سب سے پہلے حاجت مندوں کی طرف اپنی توجہ فرماتے اور ہر شخص کی درخواست کو غور سے سن کر اس کی حاجت پوری فرماتے۔حضور قبائل کے نمائندوں سے ملاقات بھی فرماتے اور اس دوران تمام حاضرین کمالِ ادب سے سر جھکائے رہتے۔ حضور کے دربار میں آنے والوں کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں تھی؛ امیر و فقیر،شہری اور دیہاتی سب لوگ اپنے اپنے لہجوں میں سوالات پیش کرتے۔کوئی بھی شخص،خواہ کتنا ہی غریب ومسکین کیوں نہ ہو،بول سکتا تھا،مگر دوسرا،چاہے وہ کتنا ہی بڑا امیر کیوں نہ ہو،کسی کی بات کاٹ کر نہیں بول سکتا تھا۔جو لوگ سوال وجواب میں حد سے تجاوز کرتے،حضور کمالِ حِلم سے برداشت فرماتے اور سب کو اسلامی مسائل و احکام،تعلیم و تلقین اور نصیحت سے نوازتے۔

حضور قبائل سے آنے والے وفود کے استقبال اور ملاقات کا خاص اہتمام فرماتے،ہر وفد کے آنے پر عمدہ ترین پوشاک زیبِ تن فرماتے اور اپنے خصوصی اصحاب کو بھی بہترین لباس پہننے کا حکم دیتے۔مہمانوں کو اعلیٰ معیار کے مکانوں میں ٹھہرایا جاتا اور ان کی خاطر مدارات اور مہمان نوازی کا خاص خیال رکھا جاتا۔ پھر حضور مسجدِ نبوی میں ایک ستون سے ٹیک لگا کر بیٹھتے اور ہر وفد سے خوش روی،خندہ پیشانی اور احترام کے ساتھ گفتگو فرماتے۔ ان کی حاجتوں اور حالتوں کو پوری توجہ کے ساتھ سنتے اور ان کو ضروری عقائد واحکامِ اسلام کی تعلیم و تلقین بھی فرماتے۔([3])نیز حضور کا کسی کی بات توجہ سے سننے کا انداز بھی بڑا بے مثال تھا۔ جب آپ کسی کی طرف توجہ فرماتے تو صرف گردن نہیں بلکہ پورے بدن مبارک کے ساتھ رخ فرماتے،([4]) تاکہ مکمل توجہ اور احترام ظاہر ہو۔

البتہ!ہر بات پر توجہ دینا ضروری نہیں۔مثلاً:بعض باتیں، جیسے غیبت،چغلی یا بے حیائی،سننا ممنوع ہے۔ایسی محفل میں نہ صرف توجہ دینا غیر مناسب ہے بلکہ گناہ میں پڑنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اگر ممکن ہو تو وہاں سے اٹھ جائیے یا اپنے انداز سے بے توجہی کا اظہار کیجئے۔یاد رکھیے!دوسروں کے ذاتی معاملات،گھر یا کردار کے بارے میں دلچسپی لینا درست نہیں اور یہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں مدنی مشوروں کا ایک نظام قائم ہے جس میں چاہے کوئی کتنا ہی ناقص مشورہ دے،اسے توجہ سے سنا جاتا ہے اور کسی کی بات کاٹنے سے گریز کیا جاتا ہے۔یوں ہر ایک کی بات کو احترام کے ساتھ سنا جاتا ہے اور مثبت نظام قائم ہوتا ہے،جو احترام کو فروغ دیتا ہے۔اللہ پاک ہم سب کو اچھا سننے،اچھا بولنے اور حضور کی سنت کے مطابق توجہ دینے کی سعادت عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن انٹرنیشنل افئیرز ڈیپارٹمنٹ



[1] شمائل ترمذی، ص 199، حدیث: 334 2 سیرۃ نبویہ لابن ہشام، ص 114 ماخوذاً

3 تفسیر صراط الجنان، 7/498 4 شمائل ترمذی، ص 23، حدیث: 7

[2] سیرۃ نبویہ لابن ہشام، ص 114 ماخوذاً

[3] تفسیر صراط الجنان، 7/498

[4] شمائل ترمذی، ص 23، حدیث: 7


Share