جنسی بے  راہ روی کے اسباب
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

حضور کی انبیائے کرام سے محبت

116

مخاطب کو نظر انداز مت کیجیئے

113

جنسی بے راہ روی کے اسباب

63

مضمون بھیجنے والیوں کے نام

حضور کی انبیائے کرام سے محبت:

حیدر آباد:لطیف آباد 8:بنت سید جاوید اقبال۔ڈیرہ نواب صاحب:بنت محمد خان نائچ۔رحیم یار خان:بنت خورشید خان۔سیالکوٹ: پاکپورہ: بنت سید ابرار حسین،بنت محمد نواز،بنت شاہد،بنت لیاقت علی،بنت محمد خالد وسیم،بنت ناظم،بنت نوید حسین،ہمشیرہ احمد وسیم۔تلواڑہ مغلاں:بنت وسیم علی،بنت جاوید، بنت مدثر اقبال،بنت محمد شکور،بنت محمد انور،بنت سائیں ملنگا،بنت محمد اسلم،بنت  منیر احمد۔شفیع کا بھٹہ:بنت ندیم جاوید،ہمشیرہ محمد منیب،بنت سید حسنین شاہ،بنت سعید، بنت فضل الٰہی،بنت عثمان علی،بنت خوشی محمد،بنت محمد جمیل،بنت اشفاق احمد،ہمشیرہ عمر جٹ،بنت کرامت علی،بنت عرفان،بنت ذو الفقار انور،بنت رزاق بٹ،بنت شمس پرویز،بنت راشد،بنت صغیر احمد،ہمشیرہ نوید،بنت محمد شفیق،بنت محمد احسن،بنت غلام حیدر،بنت طاہر محمود،ہمشیرہ حافظ بلال،بنت محمد رمضان،بنت کاشف شیراز، بنت رحمت علی،بنت عبدالقادر،بنت محمد اشفاق،بنت محمد سلیم،بنت محمد جان،بنت محمد اکرام،بنت محمد شاہد،بنت امجد،بنت محمد امین شاہین،بنت محمد بوٹا،بنت  اشفاق احمد، بنت غلام  مصطفی،بنت مقبول احمد،بنت محمد جعفر حسین،بنت محمد یوسف،بنت اعجاز احمد،بنت محمد شریف،بنت محمد سجاد،بنت عاشق حسین شاہ،بنت محمد اشفاق،بنت عبد الرزاق،  بنت محمد شمس،بنت محمد نواز۔گلبہار:بنت محمد شہباز،بنت محمد شہباز(دورۃ الحدیث)،بنت نعیم،بنت اصغر،بنت سید ظاہر حسین ،بنت رمضان،بنت اطہر،بنتِ خالد، اخت فیصل خان، بنت ایاز،بنت محمد ریاض۔مظفرپورہ:بنت محمد طارق،بنت عاشق،بنت عمران،بنت ارشد علی،بنت محمد یاسر،بنت اعظم،بنت احسان اللہ،بنت محمد نواز،بنت نعیم۔ معراج  کے:بنت محمد افضل بھٹی،بنت محمد رفیق،بنت ریاض احمد،بنت نور حسین،بنت محمد منیر،بنت محمد جاوید،بنت نصیر احمد۔میانہ پورہ:اخت حمزہ عمران، بنت اعظم مبین، بنت شیر زاد ہ،بنت محمد الیاس،بنت محمد عمران،بنت منور۔نند پور:بنت محمد الیاس،بنت محمد سلیم،بنت رمضان احمد،بنت محمد صدیق،بنت ہدایت اللہ، بنت افتخار احمد،ہمشیرہ امیر حمزہ،بنت محمد ندیم،بنت عبدالستار مدنیہ۔نواں پنڈ:آرائیاں:بنت اختر،بنت سوداگر حسین،بنت ظفر اسلام۔فیصل آباد:سالوی کالونی:بنت محمد رفیق۔فیضان عائشہ صدیقہ:بنت ڈاکٹر محمد شہباز ۔کراچی:فیض مدینہ:بنت استخار۔فیضان حدائق بخشش:بنت ابرار شاہ۔گوجرانوالہ: ضلع کامونکی:بنت رمضان ۔لاہور: کوٹ لکھپت:بنت عبد الحمید،بنت عرفان،بنت محمد شفیق۔نارووال: فاطمۃ الزہراء:بنت محمد ریاض۔

مخاطب کو نظر انداز مت کیجیئے:

بہاولپور: یزمان:بنت محمد یونس۔حیدر آباد: لطیف آباد 8:بنت سید جاوید اقبال،بنت سکندر۔خانیوال: کوہی والا:بنت اللہ نور۔خوشاب: جوہر آباد:بنت امتیاز حسین۔رحیم یار خان:رحمت کالونی:بنت فخر الدین۔ساہیوال:طارق بن زیاد کالونی:بنت شفقت علی۔سیالکوٹ:پاکپورہ:بنت راشد،بنت شمس الدین، بنت فضل الحق،بنت لیاقت علی،بنت محمد عرفان،بنت محمد قیصر،بنت واھم،بنت شفاقت علی۔پسرور  بن باجوہ:بنت ارشد محمود۔تلواڑہ مغلاں:بنت رزاق احمد،بنت محمد جمیل،بنت نصیر احمد،بنت ناصر محمود،بنت عارف حسین،بنت محمد اکرم۔شفیع کا بھٹہ:بنت عارف محمود،بنت محمد نواز،بنت آصف اقبال،بنت محمد نعیم،بنت عرفان، بنت  صغیر، بنت ہمایوں،بنت خوشی محمد،بنت سلیم،بنت ذو الفقار انور،بنت ندیم میاں،بنت محمد امین حسین،بنت رضا الحق باجوہ،بنت محمد سلیم،بنت محمد نعیم، بنت اصغر مغل، بنت تنویر اختر،بنت افتخار احمد،بنت طاہر ،بنت راشد محمود،بنت جہانگیر،بنت خالد حسن،ہمشیرہ میر حمزہ،بنت محمد عارف،بنت خلیل  احمد،بنت محمد  اشفاق، بنت شوکت علی، بنت محمد عمران،ہمشیرہ حنظلہ صابر،بنت انتظار حسین،بنت محمد یوسف،بنت اشرف صادق،بنت بشیر احمد،بنت دلاور حسین،بنت عبدالرزاق،ہمشیرہ فیصل،بنت محمد اشرف، بنت محمد شاہد،بنت محمد اشرف،بنت محمد حبیب۔گلبہار:بنت محمد شہباز،بنت محمد ارشد، بنت محمد شہباز(دورۃ الحدیث)،بنت صغیر بھلی،بنت علی احمد، اخت ثناء اللہ۔ گہوگا: بنت شہباز احمد،مظفرپورہ:بنت حافظ محمد شبیر ،بنت محمد شہباز،بنت محمد طارق،بنت شبیر۔معراج کے:بنت محمد رفیق،بنت اظہر علی،بنت محمد یونس، بنت محمد ذو الفقار۔  میانہ پورہ:بنت سہیل احمد،بنت محمد عتیق،بنت مخدوم حسین۔نندپورہ:ہمشیرہ امیر حمزہ،بنت محمد الیاس،ام ہانی،بنت رمضان احمد،بنت محمد سلیم،بنت ہدایت اللہ،بنت افتخار احمد،بنت ندیم،بنت عبدالستار مدنیہ،بنت محمد صدیق۔نواں پنڈ:آرائیاں:عشرت بتول۔فیصل آباد:جھمرہ سٹی:بنت محمد انور۔چباں:بنت ارشد محمود۔فیضان عائشہ صدیقہ:  بنت ڈاکٹر محمد شہباز ۔کراچی:ابن عطار:بنت محمد اقبال۔بہار مکہ:بنت عبدالحق اعوان۔دھوراجی:بنت شہزاد احمد۔شاہ لطیف ٹاؤن:بنت اسماعیل۔فیضان رضا:بنت اسلم پرویز۔گلبرگ ٹاؤن:بنت شاہد۔گلشن اقبال:بنت عارف۔گلشن معمار:بنت محمد اکرم۔گجرات:مدینہ کلاں:بنت مصطفی حیدر۔گوجر خان:بنت اظہر احمد قاضی۔ گوجرانوالہ: کامونکی:بنت محمد رمضان۔لاہور: چڑڑ ڈیفنس:بنت محمد عارف۔کوٹ لکھپت:بنت احسان،بنت الیاس،بنت غلام حسین،بنت محمد شفیق۔ والٹن: بنت نور حسین۔ملتان: ادارۃ المصطفی:بنت یعقوب۔میانوالی:نمل:بنت محمد یار۔نارووال:فیضان فاطمۃ الزہراء:بنت زاہد اقبال۔ عرب: بحرین:بنت مقصود ۔

جنسی بے راہ روی کے اسباب:

ٹیکسلا:ایوبیہ:بنت طارق محمود۔خانیوال:کوہی والا:بنت اللہ نور۔ساہیوال:طارق بن زیاد کالونی: بنت شفقت علی(خامسہ)،بنت شفقت علی۔سیالکوٹ: پاکپورہ: بنت اللہ دتہ،بنت سہیل امجد،بنت طفیل،بنت غلام یاسین،بنت کاشف منیر۔تلواڑہ مغلاں:بنت محمد جنید رضا،بنت محمد عاصم شہزاد،بنت فیصل مجید۔شفیع کا بھٹہ: ہمشیرہ حامد ،بنت محمد یوسف،بنت عرفان،بنت عبدالمجید،بنت محمد خالد،بنت طارق محمود،بنت محمد حبیب،بنت محمد سرور،بنت ذو الفقار علی،ہمشیرہ حضر علی،بنت امین،بنت محمد امین۔گلبہار:بنت محمد شہباز،کنیز عطار،بنت سرفراز،بنت علی احمد،بنت محمد پرویز اقبال،بنت محمد الیاس۔مظفر پورہ:بنت نعمان شہزاد،بنت محمد شہباز،بنت محمد طارق، ہمشیرہ محمد قاسم علی۔معراج کے:بنت لیاقت علی،بنت محمد عارف۔میانہ پورہ:بنت عظیم مبین،بنت محمد شیراز،بنت قمر شمس۔نندپور:ام ہانی، بنت رمضان احمد،بنت افتخار،بنت محمد الیاس،بنت ہدایت اللہ،ہمشیرہ امیر حمزہ،بنت عبدالستار مدنیہ،بنت محمد ندیم،بنت محمد صدیق۔نواں پنڈ: آرائیاں:بنت افتخار حسین، بنت اختر۔فیصل آباد: فیض پورہ:ام ملحان۔فیضان عائشہ صدیقہ:بنت ڈاکٹر محمد شہباز۔قصور:تلونڈی:بنت اصغر علی۔کراچی:آل فاطمہ:بنت ارشاد احمد۔فیضان رضا:بنت ساجد علی،بنت عمران حسین۔گلشن اقبال:بنت محمد عارف۔گلشن معمار:بنت محمد اکرم۔گوجرانوالہ: کامونکی:بنت محمد رمضان۔لاہور: پنڈی راجپوتاں:بنت رفیق احمد۔ چڑڑ ڈیفنس:بنت غلام حسین مدنیہ۔کوٹ لکھپت:بنت اشفاق۔منڈی بہاء الدین:بنت محمد اسلم۔نارنگ منڈی:بنت ارشد۔


محترمہ ام ملحان(فرسٹ پوزیشن)

(طالبہ:درجہ رابعہ، فیض پور 30 چک فیصل آباد)

جنسی بے راہ روی سے مراد ہر وہ نا جائز،غیر اخلاقی اور غیر شرعی جنسی عمل ہے جو اسلامی تعلیمات اور معاشرتی اقدار کے خلاف ہو۔یہ وہ اعمال ہیں جونکاح کے دائرے کے باہر جنسی خواہشات پوری کرنے یا فحاشی و عریانی میں ملوث ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

اسباب

جنسی بےراہ روی کے بہت سے اسباب ہیں،جن میں سے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:

1- دین سے دوری:

جب انسان قرآن و سنت کی تعلیمات سے غافل ہو جاتا ہے تو حلال و حرام کی تمیز بھول جاتا ہے۔تقویٰ کی کمی خواہشات کے پیچھے لگنے کا سبب  بنتی ہے۔

جو قرآن وسنت کی تعلیمات سے غافل ہو وہ حلال و حرام کی تمیز کھو بیٹھتی ہے اور تقویٰ کی کمی اسے خواہشات کی پیروی پر آمادہ کر دیتی ہے۔قرآنِ پاک میں ہے:

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲)(پ15،بنی اسرائیل:32)

ترجمہ:اور بدکاری کے پاس نہ جاؤبیشک وہ بے حیائی ہے۔معلوم ہوا!جو انسان دینی ماحول سے وابستہ اور دینی تعلیمات پر عمل کرتا ہووہ کبھی بھی اس راستے پر چلتے ہوئے دین کی مخالفت نہیں کرے گا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کا بے جا استعمال:

آج غیر اخلاقی ویب سائٹس،ڈراموں،فلموں،ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر فحاشی عام ہو چکی ہے۔ان کے ذریعے ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں جو شہوت کو ابھارتے ہیں،جس سے نوجوان نسل فحش مواد دیکھنے کی عادی بنتی جا رہی ہے۔بہت سے لوگ ان گھٹیا ایپس اور غیر اخلاقی مواد کو آسان اور سستی تفریح سمجھ کر اپنائے ہوئے ہیں،جو ہر وقت میسر ہوتی ہے۔حالانکہ جو انسان اپنی نگاہوں کی حفاظت نہیں کرتا،وہ خود کو بے حیائی اور گناہ سے محفوظ نہیں رکھ سکتا۔اسی لئے اللہ پاک سورۂ نور کی آیت نمبر 31 میں ارشاد فرماتا ہے:اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں۔

بے پردگی اور مغربی تہذیب کا اثر:

لباس میں بے اعتدالی، فیشن کے نام پر جسم کی نمائش،مخلوط ماحول کا بڑھ جانا اور شرم و حیا  کا ختم ہو جانایہ سب جنسی بے راہ روی کے اسباب ہیں۔

بیکار وقت اور بے مقصد زندگی:

فارغ وقت شیطان کا ہتھیار ہے۔ مصروفیت،مقصدیت اور اچھی سرگرمیوں کی کمی نوجوان نسل کو غلط راستوں کی جانب لے جاتی ہے۔

وقت پر شادی نہ ہونا:

معاشی مسائل،غیر ضروری رسم ورواج اور تاخیر سے نکاح کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔اس کا نتیجہ اکثر نا جائز راستوں کی طرف مائل کرتا ہے۔

گھر میں تربیت کی کمی:

والدین کی جانب سے شرم و حیا اور اخلاقی تربیت کی کمی،بچوں کی نگرانی نہ کرنا اور سہولت کے نام پر موبائل ان کے حوالے کر دینا جنسی بے راہ روی کا بڑا سبب ہے۔اس طرزِ عمل سے گناہ بچوں کی نظر میں معمولی بن جاتا ہے۔ماحول انسان پر گہرا اثر ڈالتا ہے،جبکہ معاشرے اور موبائل میں موجود شہوت انگیز مواد اور موسیقی ذہن کو متاثر کر کے آہستہ آہستہ گناہ کی طرف مائل کر دیتی ہے۔

اس دور کی تربیت کا ہے انداز نرالا

ہاتھوں میں نہ قرآن،نہ سر پہ عمامہ

فیشن کی ہے بھرمار،موبائل کا ہے زمانہ

بچوں کے ہاتھوں میں تھما دیا یہ فسانہ

ہر ماں یہ سمجھتی ہے کہ وہ ہے بڑی "فائن"

مگر نہیں جانتی یہ ہے نقصان کا نشان

اپنے بچوں کے ہاتھوں میں قلم عام کرو

سنت کے مطابق ان کے دلوں میں علم جگاؤ

اس پاک زمین کو سچائی سے روشن بناؤ

محترمہ بنتِ محمد طفیل

(طالبہ:درجہ خامسہ ، پاکپورہ سیالکوٹ)

انسان کو پاکیزہ فطرت اور عفت وحیا کے ساتھ پیدا کر کے اس کے اندر خیر و شر کی پہچان رکھی گئی ہے۔قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی میں کردار اور تعلقات کے ایسے آداب بیان کیے گئے ہیں جو انسان کو ہر طرح کی بے راہ روی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ جب انسان ان حدود سے تجاوز کرتا ہے تو معاشرہ فتنہ،بے راہ روی، فحاشی اور اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔موجودہ دور ہر طرح کی برائیوں کا بڑھتا ہوا سیلاب ہے،جسے دورِ جاہلیت کہنا بیجا نہ ہوگا۔ بے حیائی،بے پردگی،فحاشی،عریانی،میڈیا،انٹرنیٹ اور مغربی ثقافت نے نوجوان نسل کو گمراہی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔

اسباب:

اس برائی کے پھیلاؤ کے کئی پوشیدہ اور ظاہری اسباب ہیں جنہیں جاننا اصلاحِ معاشرہ کے لئے نہایت ضروری ہے:

*مذہبی و اخلاقی تربیت کی کمی*انٹرنیٹ اور میڈیا کا غلط استعمال*غلط صحبت*منفی دوستیاں*والدین کی غفلت * ذہنی و جذباتی تنہائی*معاشرتی بے حیائی اور فحاشی*نکاح میں بے جا رکاوٹیں*نفس پر قابو نہ ہونا*دین سے دوری *بے پردگی اور* نفس کی پیروی  وغیرہ

نمایاں سبب:آج کے دور میں انٹرنیٹ اور میڈیا کا غلط استعمال جنسی بے راہ روی کے پھیلاؤ میں سب سے نمایاں سبب ہے۔ سوشل میڈیا ایک ایسی دنیا بن چکا ہے جہاں بے حیائی،بد نظری اور دنیا و آخرت کو نقصان پہنچانے والے امور عام ہیں۔ فحش اور شہوت انگیز مواد نوجوانوں کو غلط رجحانات کی طرف مائل کرتا ہے جبکہ غیر مناسب ڈرامے،فلمیں اور اشتہارات جذبات اور سوچ پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔اسی لئے ضروری ہے کہ انٹرنیٹ اور میڈیا کا استعمال محدود،تعلیمی اور دینی مواد تک ہو اور والدین و اساتذہ کی نگرانی موجود ہو تاکہ نوجوان محفوظ رہیں۔اسلام نے عفت و حیا کو ایمان کا جز قرار دیا ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲)(پ15،بنی اسرائیل:32)

ترجمہ:اور بدکاری کے پاس نہ جاؤبیشک وہ بے حیائی ہے۔معلوم ہوا!جو انسان دینی ماحول سے وابستہ اور دینی تعلیمات پر عمل کرتا ہووہ کبھی بھی اس راستے پر چلتے ہوئے دین کی مخالفت نہیں کرے گا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیت ہمیں صرف گناہ سے نہیں بلکہ اس کے قریب جانے والے تمام راستوں سے بچنے کی تعلیم دیتی ہے،مگر افسوس! آج ہم نے انہی راستوں کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیا ہے۔

ہم کس طرح بچ سکتی ہیں؟

جنسی بے راہ روی ایمان کی کمزوری اور تربیت کی کمی کا نتیجہ ہے۔اس سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی نگاہوں، دلوں اور اعمال کی حفاظت کریں،انٹرنیٹ و میڈیا  کا درست استعمال کریں اور نکاح کو آسان بنائیں۔جب خوفِ خدا اور حیا دلوں میں زندہ ہوں تو معاشرہ خود بخود پاکیزگی اور اخلاقی بلندی کی راہ پر چل پڑتا ہے۔



Share