موضوع:حضور کی فرشتوں سے محبت
محترمہ بنتِ رفیق عطاریہ(فرسٹ پوزیشن)
(طالبہ:درجہ ثانیہ،جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)
نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا تمام فرشتوں سے محبت و تعلق نہایت گہرا اور ایمانی نوعیت کا تھا۔فرشتے الله پاک کے محترم بندے ہیں جو وحی لانے،حضور کی حفاظت کرنے،آپ پر درود بھیجنے اور دیگر امور پر مامور ہیں۔آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی فرشتوں سے محبت اور تعلق کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں:
حضرت جبرائیل سے خصوصی تعلق
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو تمام فرشتوں میں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے سب سے زیادہ انسیت تھی، کیونکہ وہ وحی کے سفیر تھے۔ایک مرتبہ حضور نے حضرت جبرائیل سے فرمایا: آپ کو ہمارے پاس اس سے زیادہ آنے سے کیا چیز روکتی ہے جتنا کہ آپ(اب)آتے ہیں؟جس پر اللہ کریم نے یہ آیت نازل فرمائی:
وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَۚ- (پ16،مريم:64)
ترجمہ:اور ہم فرشتے صرف آپ کے رب کے حکم سے ہی اترتے ہیں۔([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ حدیث حضور کی فرشتوں کی صحبت کے لئے تڑپ کو ظاہر کرتی ہے اور بلاشبہ یہ محبت ہی کی علامت ہے۔
فرشتوں کا لحاظ
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرشتوں کی راحت کا اس قدر خیال رکھا کہ مسلمانوں کو ایسی چیزیں کھانے سے منع فرمایا جن کے کھانے سے منہ سے بو آتی ہو(جیسے کچا لہسن یا پیاز)تاکہ مسجد میں موجود فرشتوں کو تکلیف نہ ہو۔چنانچہ آپ نے فرمایا: جس چیز سے انسانوں کو تکلیف ہوتی ہے،اس سے فرشتوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔([2])
فرشتوں کے لئے دعا اور تعظیم
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نمازِ تہجد کے آغاز میں اللہ پاک کی حمد و ثنا ان الفاظ میں کرتے تھے جن میں فرشتوں کا ذکر ہوتا تھا: اے اللہ!جبرائیل،میکائیل اور اسرافیل کے رب۔([3])یہ الفاظ ان مقرب فرشتوں سے آپ کی عقیدت کا اظہار ہیں۔
فرشتوں کی حیا کی رعایت
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟([4])اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور فرشتوں کے جذبات اور ان کے مقام و مراتب کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کا لحاظ فرماتے تھے۔
الغرض پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی فرشتوں سے محبت محض ایک رشتہ ہی نہیں تھا بلکہ یہ اللہ پاک کے فرشتوں کی تعظیم اور ان کے پاکیزہ وجود کی قدر دانی تھی۔آپ نے اپنی امت کو بھی فرشتوں کا ادب کرنے اور ان کی موجودگی کا احساس رکھنے کی تعلیم دی۔
محترمہ بنتِ محمد بوٹا عطاریہ
(طالبہ،جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس سراپا محبت ہے۔ آپ کی یہ محبت صرف انسانوں تک محدود نہیں تھی،بلکہ اللہ پاک کی نورانی مخلوق یعنی فرشتوں سے بھی آپ کو خاص محبت تھی۔فرشتے اللہ پاک کے فرمانبردار بندے ہیں،جو ہر وقت اس کے حکم کی فرمانبرداری میں مشغول رہتے ہیں۔ قرآن و حدیث میں فرشتوں کی عظمت اور ان سے محبت کی اہمیت کو واضح کیا گیا ہے اور حضور نے بھی اپنے قول و عمل سے اس محبت کا عملی نمونہ پیش فرمایا۔
قرآنِ مجید میں اللہ پاک کا فرمان ہے:
مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ(۹۸) (پ 1،البقرۃ:98)
ترجمہ:جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ کافروں کا دشمن ہے۔اس آیت سے معلوم ہوا کہ فرشتوں سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔اس لئے حضور کی زندگی فرشتوں کے احترام اور محبت سے بھرپور تھی۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
حضرت جبرئیل سے تعلق
حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ حضور کا تعلق سب سے نمایاں ہے۔حضرت جبرائیل اللہ پاک کی وحی لے کر حضور پر نازل ہوتے تھے۔رمضان المبارک میں حضرت جبرائیل ہر رات آپ سے قرآن کا دور کرتے تھے۔([5])یہ روایت حضور کی فرشتوں سے قربت اور محبت کا واضح ثبوت ہے۔
فرشتوں کا احترام
ایک حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا:فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔([6])یعنی فرشتوں کے ادب و احترام میں اپنے گھروں کو ان چیزوں سے پاک رکھا جائے تاکہ فرشتوں اور رحمتوں کا نزول ہوسکے۔
فرشتوں کو اہمیت دینا
اسی طرح ایک حدیثِ پاک میں ہے:جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلے،تو اللہ پاک اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور فرشتے اس کی رضا کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ ([7]) یہ حدیثِ پاک اس بات کی دلیل ہے کہ حضور فرشتوں کے مقام و محبت کو کتنی اہمیت دیتے تھے کہ علمِ دین کے حصول کی ترغیب کے لئے جنت کے ساتھ ساتھ فرشتوں کا بھی ذکر فرمایا۔
حضور نے ارشاد فرمایا:جب تک تم میں سے کوئی اپنے مصلے پر جہاں اس نے نماز پڑھی تھی،بیٹھا رہے اور وہ بے وضو نہ ہو، تو فرشتے اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں: اے اللہ! اس پر رحمت نازل فرما،اے اللہ!اس پر رحم فرما۔ ([8])
قرآنِ مجید میں فرشتوں کا مومنین سے یوں تعلق بیان کیا گیا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا (پ 24،حمٓ السجدۃ:30)
ترجمہ:بیشک جنہوں نے کہا:ہمارا رب اللہ ہے پھر(اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں(اور کہتے ہیں)کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کرو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
حضور اس آیت کی عملی تفسیر تھے اور مومنوں کو فرشتوں کی قربت کا یقین دلاتے تھے۔
خلاصہ یہ کہ حضور کی فرشتوں سے محبت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔آپ نے امت کو یہ سکھایا کہ فرشتوں سے محبت پاکیزگی،نیکی،علم،اچھے اخلاق اور اللہ پاک کی اطاعت کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔جو حضور کے طریقے پر عمل کرتی ہے،وہ فرشتوں کی دعا اور اللہ پاک کی رضا کی حق دار بن جاتی ہے۔
[1] بخاری،3/271،حدیث:4731
[2] مسلم،ص 223،حدیث:1252
[3] مسلم،ص 304،حدیث:1811
[4] مسلم،ص 1004،حدیث:6209
[5] بخاری،2/384،حدیث:3220
[6] مسلم،ص 897،حدیث:5514
[7] ابوداود،3/444،حدیث:3641
[8] بخاری،2/24،حدیث:2119
Comments