63 نیک اعمال(نیک عمل نمبر 39)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


63 نیک اعمال

(نیک عمل نمبر 39)

ظاہری اعمال کا باطنی اوصاف کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے۔امام محمد بن محمد غزالی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:باطن خراب ہو تو ظاہری اعمال بھی خراب ہوں گے کیونکہ باطنی گناہوں کا تعلق عموماً دل سے ہوتا ہے۔لہٰذا دل کی اصلاح کرنا بے حد ضروری ہے۔امام محمد بن محمد غزالی ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں:دل تمام جسم کی اصل ہے؛اگر دل خراب ہو جائے تو تمام اعضاء خراب ہو جائیں گے،اگر اس کی اصلاح کر لے تو باقی اعضاء خود بخود ٹھیک ہو جائیں گے کیونکہ دل درخت کے تنے کی طرح ہے اور باقی اعضاء شاخوں کی طرح اور شاخوں کی خرابی اور درستی درخت کے تنے پر موقوف ہے۔اگر آنکھ، زبان اور پیٹ درست ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ دل درست ہے،اگر تمام اعضاء گناہوں کی طرف راغب ہوں تو سمجھ لے کہ دل خراب ہے،اس لئے دل کی درستی کی طرف بھرپور توجہ دے تاکہ تمام اعضاء کی اصلاح ہو جائے۔([1])

ہم سب پر ظاہری و باطنی گناہوں کے علاج پر توجہ دینا لازم ہے تاکہ اپنی اخروی زندگی کو کامیاب بنا سکیں۔امیرِ اہلِ سنت ہمیں63نیک اعمال کے رسالے میں ان مہلکات سے بچنے کا ذہن دیتے ہوئے سوال نمبر39 میں فرماتے ہیں:

آج آپ نے عاجزی کے ایسے الفاظ جن کی تائید دل نہ کرے بول کر نفاق کا گناہ تو نہیں کیا؟(مثلاً:دیگر اسلامی بہنوں کے دل میں اپنی عزت بنانے کے لئے اس طرح کے الفاظ کہنا جیسے:”میں حقیر ہوں،بہت گناہگار  ہوں“ وغیرہ جبکہ دل میں خود کو ایسا نہ سمجھتی ہوں)

باطنی بیماری اعمال کی بربادی اور اجر کے ضیاع کا باعث ہے۔ امیرِ اہلِ سنت نے ہمیں اس بیماری سے بچانے کے لئے نیک اعمال کے رسالے میں ایسے سوالات عطا فرمائے ہیں جن پر عمل کر کے ہم گناہوں کی دلدل سے نکل کر اپنی آخرت سنوار سکتی ہیں۔مذکورہ سوال میں دو باطنی بیماریوں کا ذکر کیا ہے: (1)نفاق(2)ریا کاری۔ان سے متعلق چند اہم باتیں پیشِ خدمت ہیں تاکہ ہم ان سے بچنے میں کامیاب ہو سکیں:

نفاق

مفتی شریف الحق امجدی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:نفاق کی دو قسمیں ہیں:ایک نفاق فِی الْاِعتقاد کہ جو زبان سے اپنے کو مسلمان کہے اور دل میں کفر رکھے۔دوسرے نفاق فی العمل یعنی وہ کام کرے جو مسلمانوں کے شایانِ شان نہ ہو منافقین کے کرتوت ہوں۔([2])نیز دلیلُ  الفالحین میں ہے:نفاق   کی دو قسمیں ہیں:(1)نفاقِ شرعی یعنی کفر کو چھپانا اور ایمان کو ظاہر کرنا(2)نفاقِ عرفی  یعنی باطن ظاہر  کے خلاف ہو۔([3])

حکم:

نفاقِ اعتقادی کفر کا سب سے بڑا درجہ ہے ۔منافقِ اعتقادی کو کل بروزِ قیامت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈال دیا جائے گا،جبکہ نفاقِ عملی گناہِ کبیرہ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔([4])

نفاق سے بچنے کا نسخہ:

حضرت امام محمد بن سیرین  رحمۃ اللہ علیہ  نے ایک شخص سے پوچھا:تمہارا کیا حال ہے؟تو اس نے جواب دیا: اس شخص کا کیا حال ہو گا جس پر 500 درہم قرض ہو اور وہ عیال دار بھی ہو؟توآپ اپنے گھر گئے اور ایک ہزار درہم لا کر اسے دے کر فرمایا:500 درہم سے اپنا قرض ادا کرو اور 500 درہم اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو۔اس وقت آپ کے پاس ہزار درہم کے علاوہ کچھ نہ تھا۔پھرفرمایا:اللہ پاک کی قسم!آئندہ کسی سے اس کے حال کے بارے میں نہیں پوچھوں گا۔آپ نے ایسا اس لئے کہا کہ ضرورت پوری کرنے کے ارادے کے بغیر خالی حال پوچھنے کی وجہ سے کہیں ریاکار اور منافق نہ ہو جاؤں۔([5])ہمارے بزرگانِ دین کا انداز مرحبا! آج ہم بات بات پر منافقت دکھاتی ہیں یعنی دل میں کچھ ہوتا ہے اور زبان پر کچھ، حالانکہ منافقت حرام ہے۔

اسباب و علاج:

نفاقِ اعتقادی کا سبب جہالت ہے۔جب انسان عقائد،فرائض اور واجبات کا علم حاصل نہیں کرتا تو شیطان  اس کے دل میں طرح طرح کے وسوسے پیدا کرتا ہے تو بندہ اس بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔اس کا علاج ان تمام علوم کا علم حاصل کرنا ہے۔نفاقِ عملی کا سبب بھی جہالت ہے۔اس کا علاج بھی یہ ہے کہ ان علوم کو سیکھ کر اس بیماری سے بچا جائے۔

ریاکاری

اللہ پاک کی رضا کے علاوہ کسی اور نیت یا ارادے سے عبادت کرنا ریا کاری کہلاتا ہے،مثلاً:لوگوں پر اپنی عبادت کی دھاک بٹھانا مقصود ہو کہ لوگ اس کی تعریف کریں،اسے عزت دیں اور اس کی خدمت میں مال پیش کریں۔([6])

ریا کاروں کی حسرت:

سب سے آ خری نبی  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کا فرمان ہے:قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا لیکن جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں گے،جنتی محلات اور جنتیوں کے لئے اللہ پاک کی تیار کردہ نعمتیں دیکھیں گے تو پکارا جائے گا:انہیں لوٹادو؛کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں،تو وہ بڑی ہی حسرت سے لوٹیں گے اور عرض کریں گے:اے اللہ!اگر تو ہمیں اپنا ثواب  اور اپنے دوستوں کے لئے تیار کردہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی جہنم میں داخل کر دیتا تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا۔اللہ پاک فرمائے گا: میں نے تمہارے ساتھ ایسا ہی ارادہ کیا تھا کیونکہ جب تم تنہائی میں ہوتے تو بڑے بڑے گناہ کر کے میرے ساتھ جنگ کرتے لیکن جب لوگوں سے ملتے تو ان سے عاجزی کے ساتھ ملتے۔ *لوگوں کو وہ کچھ دکھاتے تھے جو تمہارے دلوں میں میرے لئے نہیں تھا۔*لوگوں سے ڈرتے تھے لیکن مجھ سے نہیں ڈرتے تھے۔*لوگوں کی تو عزت کرتے تھے لیکن میری عظمت کا خیال نہیں رکھتے تھے۔*لوگوں کی خاطر(گناہ) چھوڑ دیتے تھے لیکن میری خاطر نہیں چھوڑتے تھے۔لہٰذا آج میں تمہیں اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ درد ناک عذاب کا مزہ بھی چکھاؤں گا۔([7])

سخت تشویش کا مقام ہے!اگر اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں بھی ریاکاروں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تو ہمارا کیا بنے گا؟رب کی ناراضی اور جنت کے انعامات سے محرومی،نیز میدانِ حشر میں سب کے سامنے رسوائی کا صدمہ ہم کیسے سہیں گی!اس سے پہلے کہ موت ہمیں عمدہ بچھونے سے اٹھا کر قبر میں فرشِ خاک پر سلا دے،ہمیں چاہیے کہ ریاکاری کی تاریکی سے نجات پانے کے لئے اپنے سینے کو نورِ اخلاص سے منور کر لیں اور گناہوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں ورنہ ہمارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور ہم کہیں کی نہ رہیں گی کہ ایک روایت میں ہے: اللہ پاک نے ہر ریا کار پر جنت کو حرام کر دیا ہے۔([8])

امیرِ اہلِ سنت کے عطا کردہ نیک اعمال کے رسالے کے ہر سوال پر عمل کرتے ہوئے ان شاء اللہ ہم ظاہری و باطنی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتی ہیں۔یہ رسالہ پر کر کے ہر انگریزی ماہ کی پہلی تاریخ کو اپنے علاقے میں ہونے والے ہفتہ وار  سنتوں بھرے اجتماع میں وہاں کی ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے اور شیطان کے ہر وار کو ناکام بنا دیجئے۔اللہ پاک ہمارے عمل میں اخلاص عطا فرمائے۔اٰمین بجاہ ِالنبی الامین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم



[1] منہاج العابدین،ص98،13 ملخصاً

[2] نزہۃ  القاری،1/348

[3] دلیل الفالحین،3/159،تحت الحدیث:688

[4] باطنی بیماریوں کی معلومات،ص220

[5] احیاء  علوم الدین،2/288

[6] زواجر،1/86

[7] معجم اوسط،4/ 135،حدیث:5478

[8] جمع الجوامع،2/242،حدیث:5329


Share