موضوع: تلاوتِ قرآن کی فضیلت
انسان میں کیا طاقت ہے جو رب کے کلام کے فضائل و فوائد کو مکمل طور پہ بیان کر سکے۔البتہ!اسلامی بہنوں کی ترغیب کے لئے چند فضائل عرض کیے جاتے ہیں۔
یاد رہے!کلام کی عظمت کلام کرنے والے کی عظمت سے ہوتی ہے۔ایک بات بے نام فقیر کے منہ سے نکلتی ہے،اس پر کوئی دھیان بھی نہیں دیتا اور ایک بات سلطان یا بادشاہ کہتا ہے تو اسے دنیا بھر میں پھیلایا جاتا ہے،اخباروں اور رسائل میں شائع کیا جاتا ہے۔الغرض کلام کی عظمت کا اندازہ کلام کرنے والے کی عظمت سے ہوتا ہے۔اسی طرح دیکھا جائے تو قرآنِ مجید وہ عظیم تر کلام ہے جس کی مثل نا ممکن ہے کیونکہ وہ خالقِ کریم کا کلام ہے۔مثل مشہور ہے:کَلَامُ الْمَلِکِ مَلِکُ الْکَلَامِ یعنی بادشاہ کا کلام کلاموں کا بادشاہ ہوتا ہے۔
کلام پاک کا پڑھنا،یاد کرنا اور اسے سمجھنا ہر طرح باعثِ خیر و برکت ہے۔اس کی تلاوت کی اہمیت کا اندازہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس روایت سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہر سال ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ قرآنِ کریم کا دور کیا کرتے تھے اور جس سال حضور کا وصال ہوا اس سال دو مرتبہ دور کیا۔([1])
اس حدیثِ پاک کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے:ظاہر یہ ہے کہ قرآن سے مراد سارا قرآنِ مجید ہے۔حضرت جبریل علیہ السلام ہر ماہِ رمضان میں پورے قرآن کا حضور کے ساتھ دَور کرتے تھے مگر اس دَور کا نام نزولِ قرآن نہ تھا نزول تو وہ تھا جو حسبِ موقع آیات کا ورود ہوتا تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ ماہِ رمضان میں قرآنِ مجید کا دَور کرنا سنتِ رسولی بھی ہے اور سنتِ جبریلی بھی کہ ایک پڑھے دوسرا سنے،پھر وہ پڑھے یہ سنے۔یہ واقعہ یعنی دوبار ایک ماہ میں دور فرمانا پندرہ دن میں دورہ ختم کر دینا حضور کے آخری رمضان شریف میں ہوا اور حضرت فاطمہ سے حضور کا یہ فرمان رمضان کے بعد تھا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اول ہی سے سارے قرآن سے واقف تھے، جسے قرآن نہ آتا ہو اس کے ساتھ دَور نہیں کیا جاتا بلکہ اسے پڑھایا جاتا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا حضور انور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنی وفات کی خبر تھی کہ اگلے رمضان سے پہلے ہماری وفات ہو جائے گی۔بعض سورتیں مکمل نہیں نازل ہوئی تھیں کچھ آیات آ چکی تھیں کچھ آنے والی تھیں پھر دَور کیسا! ([2])
یہ وہ پاکیزہ کلام ہے جس کے سیکھنے سیکھانے والوں کو بہترین قرار دیا گیا ہے۔چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔([3])
اس حدیث شریف کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے :قرآن سیکھنے سکھانے میں بہت وسعت ہے،بچوں کو قرآن کے ہجے روزانہ سکھانا،قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا،علماء کا قرآنی احکام بذریعہ حدیث و فقہ سیکھنا سکھانا صوفیائے کرام کا اسرار و رموزِ قرآن بسلسلۂ طریقت سیکھنا سکھانا سب قرآن ہی کی تعلیم ہے صرف الفاظِ قرآن کی تعلیم مراد نہیں،لہٰذا یہ حدیث فقہاء کے اس فرمان کے خلاف نہیں کہ فقہ سیکھنا تلاوتِ قرآن سے افضل ہے کیونکہ فقہ احکامِ قرآن ہے اور تلاوت میں الفاظِ قرآن چونکہ کلام اللہ تمام کلاموں سے افضل ہے لہٰذا اس کی تعلیم تمام کاموں سے بہتر اور اسرارِ قرآن الفاظِ قرآن سے افضل ہیں کہ الفاظِ قرآن کا نزول حضور انور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے کان مبارک پر ہوا اور اسرار و احکام کا نزول حضور انور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دل پر ہوا۔([4])
کائنات کے سب سے پاکیزہ اور خیر و برکت کے حامل کلام کی عظمت حدیثِ قدسی میں بھی بیان کی گئی ہے۔چنانچہ
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ کریم فرماتا ہے:تلاوتِ قرآن جسے میرے ذکر اور مجھ سے مانگنے سے روک دے تو میں اسے مانگنے والوں سے بہتر عطا کروں گا اور اللہ پاک کے کلام کی فضیلت باقی سب کلاموں پر ایسی ہی ہے جیسی اللہ کریم کی اپنی مخلوق پر۔([5])
اس حدیثِ پاک کے تحت حضرت مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:قرآن سے مراد حفظِ قرآن یا تلاوتِ قرآن یا تَفَکُّر و تَدَبُّر فِی الْقُرآن ہے یعنی جو حافظ یا قاری قرآن یا تجوید یاد کرنے میں یا عالمِ دین قرآنِ کریم سے مسائل مستنبط کرنے (نکالنے) میں اتنا مشغول رہے کہ اسے دیگر وظیفے و دعاؤں کا وقت ہی نہ ملے،اسی طرح جو مُعَلِّم تعلیمِ علوم،قرآن کی مشغولیت کی وجہ سے درود وظیفے دعائیں نہ کرسکےیہاں دعاؤں وظیفوں سے مراد وہ دعائیں وظیفے ہیں جو قرآنِ مجید کے علاوہ ہیں،ورنہ قرآن شریف میں خود بہت دعائیں وظیفے ہیں۔خیال رہے کہ رب سے دعائیں مانگنا صراحۃً اور صاف صاف بھیک مانگنا ہے مگر تلاوتِ قرآن یا تعلیمِ قرآن بالواسطہ بھیک ہے جیسے ہمارے دروازہ پر بھکاری کھڑے ہو کر ہماری تعریفیں کرتے ہیں کہ آپ بڑے سخی داتا ہیں یوں ہی درود شریف در پردہ دعا ہے بھکاری غنی کے بال بچوں کو دعائیں دے کر در پردہ بھیک مانگتے ہیں بچے جیتے رہیں جان مال کی خیر ہو،ہم بھی رب کے محبوب کو دعائیں دیدے کر اس سے بھیک مانگتے ہیں اسی لئے درود شریف کے متعلق بھی مشکوٰۃ شریف میں ہے کہ جو شخص درود شریف میں مشغولیت کی وجہ سے دعا نہ مانگ سکے اس کی تمام ضروریات خود ہی پوری ہوں گی، دکھ، درد، رنج،غم خود بخود ہی دفع(دور) ہوتے رہیں گے۔([6])
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:جس گھر میں قرآنِ کریم کی تلاوت کی جاتی ہے وہ گھر آسمان والوں کو ایسا ہی نظر آتا ہے جیسے زمین پہ رہنے والوں کو ستارے۔([7])
ایک روایت میں اہلِ قرآن کو اللہ والے اور اس کے خاص بندے قرار دیا گیا ہے۔([8])
بلکہ ایک روایت میں تو یہاں تک ہے کہ جب کوئی قوم اللہ پاک کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر قرآن کی تلاوت کرتی ہے اور ایک دوسرے کو قرآن کا درس دیتی ہے تو ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے،رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ پاک انہیں اس جماعت میں یاد کرتا ہے جو اس کے پاس ہے۔ ([9]) علامہ علی قاری فرماتے ہیں:یہاں اﷲ پاک کے گھر سے مراد مدارس اور صوفیا کی خانقاہیں ہیں جو اﷲ کے ذکر کے لئے وقف ہیں۔یہود و نصاریٰ کے عبادت خانے اس سے خارج ہیں کہ وہاں تو جانا ہی مکروہ ہے۔ تلاوت سے مراد صرف زبان سے الفاظِ قرآن پڑھنا نہیں بلکہ بندۂ مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ تلاوت کرتے وقت یہ تصور کرے کہ اللہ پاک اس وقت اسے دیکھ رہا ہے بلکہ وہ اپنے دل میں یہ تصوُّر جمائے کہ اللہ پاک اس سے مخاطب ہے بلکہ وہ کلام کرنے والے کے مشاہدے میں ایسا گُم ہو جائے کہ اسے کسی کا خیال نہ رہے۔([10])
مراۃ المناجیح میں ہے:درسِ قرآن سے مراد قرآن شریف کی تلاوت،تجوید و اَحکام سیکھنا ہیں،لہٰذا اس میں صَرف،نحو، فقہ، حدیث،تفسیر وغیرہ کے درس شامل ہیں جیسا کہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے۔اسی لئے تلاوت کے بعد درس کا علیحدہ ذکر فرمایا۔(حدیثِ پاک میں مذکور لفظ سکینہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں:) سکینہ اللہ (پاک) کی ایک مخلوق ہے جس کے اترنے سے دلوں کوچین نصیب ہوتا ہے،کبھی ابرکی شکل میں نمودار ہوتی ہے اور دیکھی بھی جاتی ہے۔ اس کی برکت سے دل سے غیرِ خدا کا خوف جاتا رہتا ہے۔ (حدیث میں)رحمت سے خالص رحمت مراد ہے جو بوقتِ ذِکر ذاکر(ذکر کرنے والے) کو ہر طرف سے گھیرتی ہے۔(حدیث میں)فرشتوں سے سیّاحین فرشتے مراد ہیں جو ذکر کی مجلسیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ورنہ اعمال لکھنے والے اور حفاظت کرنے والے فرشتے ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ جہاں مجمع کے ساتھ ذِکر اﷲ ہو رہا ہو وہاں یہ تین رحمتیں اترتی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ تنہا ذکر سے جماعت کا مِل کر ذکر کرنا افضل ہے۔ ([11])
تجوید کی اہمیت:قرآنِ مجید کے مذکورہ فضائل و کمالات تبھی حاصل ہو سکتے ہیں جب قرآن شریف کے ہر حرف کو اس کے مخرج و صفات کے ساتھ پڑھا جائے ورنہ غلط پڑھنا گناہ کا باعث بن سکتا ہے۔تلاوت عربی زبان کے بغیر نہیں ہو سکتی،لہٰذا اس کے آداب و شرائط کا لحاظ رکھنا بہت ضروری ہے اور اس میں کوئی ترمیم اور تبدیلی بھی نہیں کی جا سکتی جس کے بعد یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ علمِ تجوید اپنی تفصیلات کے ساتھ نہ سہی لیکن ایک مقدار تک واجب ضرور ہے اور اس کے بغیر نماز کا درست ہونا مشکل ہے۔اب اگر کوئی خاتون تجوید کے ضرورى قواعد کو نظر انداز کر دیتی ہے تو گویا وہ قراءتِ قرآن کی طرح نماز کو بھی درست ادا نہیں کرتی ۔
خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد اپنا قیمتی وقت جھوٹی کہانیوں، ٹی وی، شاپنگ، موبائل چیٹ، ویڈیو گیمز اور فضول مشاغل میں ضائع کر رہی ہے۔بعض نادان تو ماہِ رمضان جیسے بابرکت مہینے میں بھی موبائل پر گناہوں بھری چیزیں دیکھ کر روزے کے تقدس کو پامال کرتی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ مہینوں قرآنِ پاک کا ایک صفحہ پڑھنے کی توفیق نہیں ملتی،جبکہ بچوں، بچیوں کو کھلاڑیوں،فنکاروں اور گلوکاروں کے نام تو یاد ہوتے ہیں،مگر قرآنِ پاک کی سورتیں،انبیائے کرام،بزرگانِ دین اور اسلامی مہینوں سے وہ ناواقف رہتے ہیں۔یہ دینی محرومی یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔
الحمدُللہ!خواتین کو قرآنِ کریم سے جوڑنے کے لئے دعوتِ اسلامی کی خدمات نہایت منظم، ہمہ گیر اور قابلِ تحسین ہیں۔ اس مقصد کے تحت مختلف شعبہ جات قائم کیے گئے ہیں جن میں مدرسۃ المدینہ گرلز کے ذریعے بچیوں کو ناظرہ و حفظِ قرآن کے ساتھ بنیادی دینی تعلیم دی جاتی ہے، مدرسۃ المدینہ بالغات کے ذریعے بڑی عمر کی خواتین کو قرآنِ کریم صحیح تجوید کے ساتھ پڑھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ گلی گلی مدرسۃ المدینہ کے تحت بھی مفت قرآن کی تعلیم دی جاتی ہے۔
اسی طرح فیضان آن لائن اکیڈمی گرلز کے ذریعے ملک و بیرونِ ملک خواتین کو آن لائن قرآنِ کریم، تجوید اور دیگر دینی علوم سکھائے جا رہے ہیں۔
الغرض دعوتِ اسلامی نے خواتین کی دینی تعلیم، خصوصاً قرآن فہمی کے لئے ایک مضبوط اور مؤثر نظام قائم کر کے امت کی اصلاح میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
مختصر یہ کہ دعوتِ اسلامی پُر فتن حالات میں مسلمانوں کے رشتے کو قرآنِ کریم سے مضبوط کرنے اور فیضانِ قرآن کو عام کرنے کے لئے ہمہ وقت متحرک ہے۔ لہٰذا حفظ وناظرہ اور قرآنِ کریم کی درست تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے قریبی مدرسۃ المدینہ گرلز،مدرسۃ المدینہ بالغات، گلی گلی مدرسۃ المدینہ یا فیضان آن لائن اکیڈمی گرلز میں داخلہ لیجیے۔اللہ کریم ہمیں درست مخارج و صفات کے ساتھ شب و روز قرآنِ مجید کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* لاہور
[1] بخاری،4/184،حدیث:6286،6285
[2] مراۃ المناجیح،8/454
[3] بخاری،3/410،رقم:5027
[4] مراۃ المناجیح،3/217
[5] ترمذی،4/425،حدیث:2935
[6] مراۃ المناجیح،3/237
[7] شعب الایمان،2/341،حدیث:1982
[8] ابن ماجہ،1/140،حدیث:215
[9] مسلم،ص1110،حدیث:6853
[10] مرقاۃ المفاتیح،1/456،تحت الحدیث:204 ملخصاً
[11] مراۃ المناجیح،1/190ملخصاً


Comments