حضور ﷺ کی اصحابِ اُحد سے محبت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضور کی اصحابِ اُحد سے محبت

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 48ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)


نبیِ کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کی اپنے صحابہ کرام    رضی اللہ عنہم   سے محبت بے مثال تھی،خصوصاً وہ صحابہ جنہوں نے غزوۂ اُحد میں دینِ اسلام کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ حضور کا ان سے تعلق محض رفاقت کا نہیں بلکہ گہری محبت، شفقت اور قدر دانی کا تھا۔

اصحابِ احد سے محبت کے مظاہر

غزوۂ اُحد میں کئی جلیل القدر صحابہ شہید ہوئے،جن میں حضرت حمزہ  رضی اللہ عنہ  سرِفہرست ہیں۔حضور نبیِ کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو ان کی شہادت پر شدید صدمہ ہوا۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور نبیِ کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت حمزہ کی شہادت پر بہت غمگین ہوئے اور ان کے لئے دعائے رحمت فرمائی۔([1])

نبیِ کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کی محبت کا ایک عظیم مظہر یہ بھی ہے کہ آپ غزوۂ اُحد کے شہدا کی قبور پر تشریف لے جاتے اور ان کے لئے دعا فرماتے تھے۔جیسا کہ حضرت عقبہ بن عامر  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔([2])

مراد یہ ہے کہ حضور نے  ان کے لیے وہ دعا فرمائی جو نمازِ جنازہ میں کی جاتی ہے نہ کہ نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔([3])

اسی طرح نبیِ کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   نے فرمایا:یہ اُحد پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔ ( [4])

اس فرمان میں در اصل اُس مقام اور وہاں کے شہدا کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے،کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں صحابہ کرام نے اپنی جانیں قربان کیں۔

قرآنِ پاک میں شہدا کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: 

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ(۱۵۴) (پ 2،البقرۃ:154)

ترجمہ:اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیت اصحابِ اُحد کی شان کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اللہ کے ہاں بلند درجات رکھتے ہیں۔حضور ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھتے اور امت کو بھی ان سے محبت کرنے کی تلقین فرماتے۔

ہمیں چاہئے کہ ہم بھی اصحابِ اُحد کی سیرت سے سبق حاصل کریں،ان کی قربانیوں کو یاد رکھیں اور دینِ اسلام کے لئے اخلاص کے ساتھ کام کریں۔صحابہ کرام سے محبت در اصل حضور سے محبت کا حصہ ہے۔اللہ پاک ہمیں سچی محبتِ رسول اور محبتِ صحابہ عطا  فرمائے ۔   آمین

محترمہ بنتِ محمد افضل عطاریہ

(طالبہ:دورۂ حدیث،کنگ سہالی گجرات)

اللہ پاک نے اپنے محبوب،حضرت محمد مصطفےٰ   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔آپ اپنے صحابہ کرام سے بے حد محبت فرماتے تھے۔صحابہ کرام وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنی جانیں،مال اور آرام سب کچھ قربان کر دیا۔خصوصاً غزوۂ اُحد میں شہید ہونے والے جانثار صحابہ کرام    رضی اللہ عنہم  سے نبیِ کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کی محبت کے دل سوز اور ایمان افروز مناظر تاریخِ اسلام میں محفوظ ہیں۔

اللہ پاک قرآنِ پاک میں صحابہ کرام کے عظیم مقام کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ (پ 26،الفتح:29)

ترجمہ:محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت،آپس میں نرم دل ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ11،التوبۃ:100)

ترجمہ:اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقیْنِ اولین اور دوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ان سب سے اللہ راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

غزوۂ اُحد میں صحابہ کرام نے اسلام کی سربلندی کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں اور تقریباً ستر صحابہ کرام شہید ہوئے۔ جب نبیِ کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کو اپنے پیارے چچا حضرت حمزہ  رضی اللہ عنہ  کی شہادت کی خبر ملی تو آپ کو شدید رنج ہوا۔روایت میں آتا ہے کہ حضور نے فرمایا:حمزہ کے لیے کوئی رونے والی نہیں۔یہ سن کر انصار کی خواتین حضرت حمزہ  رضی اللہ عنہ  کے گھر آئیں اور ان کے لیے گریہ کیا۔([5])

اسی طرح نبیِ کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   شہدائے اُحد کی قبروں پر تشریف لے جاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے تھے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ شہدائے احد کی قبر پر تشریف لے گئے،دعا فرمائی،پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا:میں تمہارے آگے جاؤں گا اور(قیامت کے دن) تمہارے حق میں گواہی دوں گا۔([6])

محمد بن ابراہیم تیمی فرماتے ہیں:نبیِ کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   سال میں ایک بار شہدائے احد کی قبور پر تشریف لے جاتے اور فرماتے:تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو  آخرت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔([7])

یقیناً یہ عمل شہدائے احد سے نبیِ کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کی محبت کا واضح ثبوت ہے کہ حضور نہ صرف ان کو ہمیشہ یاد رکھتے بلکہ ان کی قبروں پر تشریف لے جا کر ان کے لیے دعائے رحمت و مغفرت بھی فرماتے۔

نیز نبیِ کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کو اُحد کے مقام سے بھی خاص محبت تھی کیونکہ یہ وہ جگہ تھی جہاں آپ کے جانثار صحابہ نے اسلام کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا:یہ احد پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔([8])

ان واقعات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبیِ کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   اپنے صحابہ کرام خصوصاً شہدائے اُحد سے بےحد محبت فرماتے تھے۔صحابہ کرام نے بھی حضور کی محبت میں اپنی جانیں قربان کر دیں۔ہمیں بھی چاہئے کہ ہم صحابہ کرام    رضی اللہ عنہم  کی سیرت سے محبت،وفاداری اور دین کے لیے قربانی کا سبق حاصل کریں۔اللہ پاک ہمیں صحابہ کرام کی سچی محبت عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین



[1] معجم کبیر،3/143،حدیث:2937 مفہوماً

[2] بخاری،1/452،حدیث:1344

[3] ارشاد الساری،3/484،تحت الحدیث:1344

[4] بخاری،3/150،حدیث:4422

[5] ابن ماجہ،2/263،حدیث:1591

[6] بخاری،1/452،حدیث:1344 ملخصاً

[7] مصنف عبد الرزاق،3/381،حدیث:1828

[8] بخاری،3/150،حدیث:4422


Share