سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا

آپ کا اصلی نام صفیہ ہے۔ایک قول کے مطابق قید سے پہلے آپ کا نام زینب تھا،لیکن جب حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم  نے انہیں اپنے لئے منتخب فرما لیا تو انہیں صفیہ کہا جانے لگا۔کیونکہ مالِ غنیمت کا وہ حصّہ جو سردار کے لئے مخصوص ہو، صفیہ کہلاتا ہے۔([1])  آپ کے والد کا نام حُیَیْ اور والِدہ ضَرَّہ بنتِ سَمَواَل ہے۔آپ بنی اسرائیل میں سے حضرت ہارون بن عمران  علیہ السلام  کی اولاد میں سے ہیں۔([2]) آپ کا نسب حضرت ابراہیم  علیہ السلام  پر جا کر حضور کے نسب سے مل جاتا ہے۔آپ حضور کے اعلانِ نبوت کے تقریباً دو سال بعد پیدا ہوئیں۔([3])  آپ کے ماموں جان حضرت رِفاعہ بن سموال قرظی بھی ایمان لا کر شرفِ صحابیت سے مُشَرَّف ہوئے۔([4])

حضور نے سیدہ صفیہ کی آنکھ کے پاس سبز نشان دیکھ کر سبب پوچھا تو انہوں نے عرض کی:میں ابنِ ابی حقیق(اپنے پہلے شوہر) کی گود میں سر رکھے سو رہی تھی کہ خواب میں چاند کو اپنی گود میں گرتے دیکھا۔جب اسے بتایا تو اس نے مجھے تھپڑ مارا اور بولا کہ کیا تو یثرب کے بادشاہ(حضور)کی تمنا کر رہی ہے؟([5])

بارگاہِ رسالت میں انتخاب:

سیدہ صفیہ محرم 7 ہجری میں غزوۂ خیبر میں قید ہو کر آئیں،پہلے آپ کنانہ ابنِ ابی حقیق کے نکاح میں تھیں جو غزوۂ خیبر میں مارا گیا تھا،جب آپ مسلمان ہو گئیں تو حضور نے آپ کو آزاد فرما کر نکاح کیا تاکہ سردارِ یہود کی بیٹی حضرت ہارون  علیہ السلام  نبی کی اولاد نبی ہی کے نکاح میں رہیں۔([6])

طبقات ابنِ سعد میں ہے کہ جب سیدہ صفیہ کی عدت مکمل ہوئی تو بی بی امِّ سلیم نے ان کے بال سنوارے اور عطر لگایا،پھر رات کے وقت دلہن بنا کر حضور کی بارگاہ میں پیش کیا۔سیدہ امِّ سنان اسلمیہ بیان کرتی ہیں کہ میں بھی دیگر خواتین کے ساتھ موجود تھی؛ہم نے ان کے بال سنوارے اور انہیں معطر کیا،وہ نو عمر اور نہایت حسین دکھائی دیتی تھیں۔میں نے اس رات جیسی خوشبو کبھی محسوس نہ کی۔اسی دوران اچانک اعلان ہوا کہ حضور اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لا رہے ہیں،جبکہ ہم ابھی ان کے چہرے کے غیر ضروری بال صاف ہی کر رہی تھیں اور ایک بڑے درخت کے سائے تلے تھے۔پھر حضور سیدہ صفیہ کی جانب بڑھے تو وہ ہماری ہدایت کے مطابق استقبال کے لیے کھڑی ہو گئیں۔اس کے بعد ہم وہاں سے ہٹ گئے اور حضور نے وہیں ان کے ساتھ رات بسر فرمائی۔([7])

یہ بھی منقول ہے کہ جب حضرت دحیہ کلبی نے سیدہ صفیہ کو منتخب کیا تو بعض صحابہ کرام کے دل میں خیال آیا کہ اس قدر شرف و فضیلت والی خاتون حضور ہی کے شایانِ شان ہیں، کیونکہ آپ تمام اوصافِ کمال میں سب سے کامل ہیں۔چنانچہ ایک شخص نے عرض کی:یا رسول اللہ!آپ نے بنی قریظہ اور بنی نضیر کی رئیسہ صفیہ بنتِ حیی حضرت دحیہ کلبی کو عطا فرما دی ، حالانکہ وہ آپ کے سوا کسی کے لائق نہیں۔اس پر حضور نے حضرت دحیہ کو اختیار دیا کہ عام باندیوں میں سے کسی اور کو لے لیں،کیونکہ انہوں نے حسب و نسب اور حسن کے اعتبار سے سب سے نفیس باندی منتخب کر لی تھی۔نیز بعض حکمتوں کے تحت یہ مناسب نہ تھا کہ وہ پورے لشکر میں ممتاز ہو جائیں، جبکہ ان سے افضل صحابہ بھی موجود تھے۔لہٰذا حضور نے فرمایا:دحیہ کو صفیہ کے ساتھ بلاؤ۔جب وہ حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا:صفیہ کے علاوہ کسی اور باندی کو منتخب کر لو۔([8])یہ حضور کی کریمانہ شان ہے کہ کسی کو محروم نہیں فرماتے؛اگر کسی حکمت سے کچھ واپس بھی لیں تو بہترین بدل عطا کرتے ہیں۔چنانچہ حضرت دحیہ کلبی سے صفیہ بنتِ حیی کو طلب فرمایا تو دل جوئی کے لیے انہیں نو افراد عطا فرمائے۔([9])

سیدہ صفیہ فرماتی ہیں کہ ابتدا میں مجھے حضور سے سخت عداوت تھی،کیونکہ آپ کی وجہ سے میرے شوہر،والد اور بھائی قتل ہوئے تھے مگر جب حضور نے مجھے حقائق و وجوہات بیان فرمائیں تو میرے دل سے بغض جاتا رہا۔([10])  پھر جب میں اُٹھی تو مجھے حضور سے بڑھ کر کوئی محبوب نہ تھا۔([11])  ایک مرتبہ حضور ان کے پاس تشریف لائے تو وہ جس چیز پر بیٹھی تھیں اسے ہٹا کر حضور کے لیے بچھا دیا۔پھر حضور نے انہیں اختیار دیا کہ آزاد ہو کر اپنے گھر چلی جائیں یا اسلام قبول کر کے آپ کی زوجیت میں آ جائیں۔چنانچہ انہوں نے عرض کیا:اَخْتَارُ اللہ وَرَسُولَہٗ یعنی میں اللہ ورسول کو اختیار کرتی ہوں۔([12])

نکاح،مہر اور ولیمہ:

پھر حضور نے حضرت صفیہ کو آزاد فرما کر ان سے نکاح فرما لیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔([13]) یعنی بجز آزادی کے اور کوئی مہرانہیں نہ دیا،یہ یا تو حضور کی خصوصیات سے ہے کہ آپ پر ازواج کا نہ مہر واجب ہے نہ باری مقرر کرنا لازم۔ یا یہ مطلب ہے کہ مہر ِمُعَجَّل یعنی نکاح کا چڑھاوا کچھ نہ دیا یا یہ مطلب ہے کہ نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ فرمایا بعد میں مہر ِمثل دیا جیسا کہ اب بھی یہ ہی حکم ہے ورنہ عورت کا آزاد کرنا مہر نہیں بن سکتا مہر مال ہونا چاہیے۔لہٰذا یہ حدیث نہ توقرآنِ کریم کے خلاف ہے نہ مذہبِ آئمہ کے خلاف۔([14])

نکاح کے وقت سیدہ صفیہ کی عمر 17 سال تھی۔([15]) خیبر سے واپسی پر مقامِ صہبا میں آپ کی رسمِ عروسی ادا کی گئی۔([16]) ابتدا میں صحابہ کرام پر یہ واضح نہ تھا کہ حضرت صفیہ حضور کی زَوجِیَّت میں ہیں یا کنیز۔لہٰذا  انہوں نے پردے کو معیار بنایا کہ اگر حضور نے پردہ کرایا تو یہ زَوجِیَّت میں ہیں اور اگر نہ کرایا تو کنیز ہیں۔جب قافلہ چلا تو حضور نے اپنے پیچھے حضرت صَفِیّہ کی جگہ بنائی اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ لٹکا دیا،یوں زوجیت واضح ہو گئی۔([17])

آپ کا ولیمہ انتہائی سادہ وبا برکت تھا جس میں روٹی اور گوشت کے بجائے کھجور،پنیر اور گھی رکھا گیا۔ایک روایت میں حریسہ سے ولیمہ کرنے کا ذکر ہے۔([18])  اہلِ عرب کھجور ومکھن چھوہارے اور گھی ملا کر کھاتے ہیں اسے حیس کہا جاتا ہے آج کل اسے حریسہ بھی کہا جاتا ہے۔حریسہ بہت سی قسم کا ہوتا ہے۔مختلف طریقوں اور مختلف چیزوں سے بنایا جاتا ہے۔([19]) ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نے بی بی صفیہ کا ستو اور چھواروں سے ولیمہ کیا۔([20])یعنی اس ولیمہ میں ستو اور چھوارے ملا کر کھلائے یا ستو علیحدہ اور چھوارے علیحدہ،لہٰذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور نے اس ولیمہ میں حیس دیا کہ ستو اور چھوارے ملا کر بھی حیس بنایا جاتا ہے یا ستو  علیحدہ دیئے اور حیس علیحدہ۔([21]) ایک روایت میں حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ جب سیدہ صفیہ حضور کے خیمے میں آئیں تو کچھ لوگ جن کے ساتھ میں بھی تھا،وہاں پہنچے تاکہ کچھ حصہ ملے۔حضور باہر تشریف لائے اور فرمایا:اپنی ماں کے خیمے سے اٹھ جاؤ۔پھر شام کو ہم دوبارہ حاضر ہوئے تو حضور چادر میں عجوہ کھجوریں لائے اور فرمایا:اپنی ماں کے ولیمے میں سے کھاؤ۔([22])

(باقی اگلی قسط میں)



[1]ریختہ ڈکشنری،فیضان امہات المومنین،ص308

[2]مواہب لدنیہ،1/412

[3]فیضان امہات المومنین،ص308

[4]اسد الغابہ،2/271،رقم:1690

[5]شرح زرقانى على المواہب،4/434

[6]مراۃ المناجیح،5/73

[7]طبقات ابن سعد،8/96

[8]شرح زرقانى على المواہب،4/429

[9]سيرة حلبیہ،3/64

[10]ابن حبان،7/317،حديث:5176

[11]مسند ابى يعلى،6/156،حديث:7078

[12]صفۃ الصفوة،2/36

[13]بخاری،3/453،حدیث:5169

[14]مراۃ المناجیح،5/73ملتقطاً

[15]شرح زرقانى على المواہب،3/270

[16]طبقات ابن سعد،8/96 ملخصاً

[17]بخارى،3/ 86،حديث:4213

[18]بخاری،3/453،حدیث:5169

[19]مراۃ المناجیح،5/73

[20]ترمذی،2/349،حدیث:1097

[21]مراۃ المناجیح،5/77

[22]مسند امام احمد،22/435،حدیث:14576


Share