واقعہ کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


اہم نوٹ ! ان صفحات میں ماہنامہ خواتین کے 48ویں تحریری مقابلے میں موصول  ہونے والے 231مضامین کی تفصیل یہ ہے:


عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

حضور کی اصحابِ احد سے محبت

67

نفاق کی مذمت

100

واقعۂ کربلا سے ہم نے کیا سیکھا؟

64

مضمون بھیجنے والیوں کے نام

حضور کی اصحابِ احد سے محبت

بہاولپور:یزمان:بنت محمد یونس۔ساہیوال:بنت شفقت علی۔سیالکوٹ:پاکپورہ:بنت محمد نواز،بنت محمد بوٹا،بنت شاہد،بنت محمد نعیم۔ تلواڑہ مغلاں:بنت غلام سرور، بنت جاوید آصف،بنت طارق،بنت عدنان،بنت عبد الستار،بنت بشارت علی،بنت انور،بنت عمر،بنت محمد اسلام،بنت وسیم علی، ہمشیرہ غلام عباس،ہمشیرہ محمد اسد، بنت محمد جمیل،بنت مطہر محمود،بنت حسنین خالد،بنت اسلم،بنت سائیں ملنگا۔شفیع کا بھٹہ:ہمشیرہ محمد منیب،بنت آصف اقبال، بنت عرفان،بنت دلاور حسین، ہمشیرہ حضر علی،بنت رحمت،بنت سعید،بنت سید عاشق حسین شاہ۔گلبہار:بنت محمد شہباز،بنت فیاض احمد،بنت نصیر،بنت رفیق، بنت ایاز خان،بنت عمران۔ مظفرپورہ:بنت محمد طارق،ام سلمی۔معراج کے:بنت محمد افضل بھٹی،بنت محمد بوٹا،بنت ریاض احمد،بنت ذوالفقار علی،بنت نصیر احمد۔ میانہ پورہ:بنت الیاس،بنت محمد عمران،بنت منور،بنت محمد جمیل،اخت حمزہ عمران،بنت قمر شہزاد،بنت اعظم مبین،بنت عتیق،بنت عمران،بنت سہیل۔ نندپور:بنت محمد سلیم،بنت محمد رمضان احمد،بنت ہدایت اللہ،بنت محمد صدیق،بنت محمد الیاس،بنت عبد  الستار۔نواں پنڈ:آرائیاں:ہمشیرہ عدنان فاروق،بنت عبد الرؤف،بنت اختر۔فیصل آباد: چباں:بنت ارشد محمود۔فیصل آباد:بنت نذیر مدنیہ۔گجرات:کنگ سہالی:بنت محمد افضل۔گوجرانوالہ:ضلع کامونکی:بنت رمضان۔

نفاق کی مذمت

بہاولپور:حاصل پور:بنت   محمد یاسر۔بہاولپور:یزمان:بنت     محمدیونس۔پنجاب:گجرات:ام شجاع۔خوشاب:جوہر آباد:بنت محمد امیر۔ڈیرہ نواب صاحب:بنت محمد خان نائچ۔راولپنڈی:نیو افضل ٹاؤن:بنت عاطف۔ساہیوال:بنت شفقت علی۔سیالکوٹ:پاکپورہ:بنت محمد یونس،بنت محمد نواز،بنت طالب،بنت مظہر جلیل،بنت محمد بوٹا،بنت اصغر،بنت شمشاد علی،بنت نوید حسین۔تلواڑہ مغلاں:بنت جاوید سرور،بنت عارف حسین،بنت جاویدآصف،بنت    رزاق    احمد، بنت شبیراحمد،بنت احمد رضا،بنت محمد شکور،بنت مدثر اقبال،ہمشیرہ زین،بنت نصیر احمد،بنت محمد ناصر،بنت محمد انور،بنت نذیر احمد،بنت شفیق،بنت فیصل مجید،بنت محمد رفیق،بنت محمد آصف،بنت نعیم۔شفیع کا بھٹہ:بنت عثمان علی،بنت افتخار احمد،بنت خالد حسن،بنت محمد یوسف،بنت محمد اشفاق،ہمشیرہ میر حمزہ،بنت عرفان، بنت کاشف شیراز، بنت عارف محمود،بنت محمد حبیب،بنت اشفاق احمد،بنت محمد شریف،بنت اصغر،ہمشیرہ   نوید علی،بنت سرور۔گلبہار:بنت محمد شہباز،بنت رشید، بنت ایاز،بنت الیاس،بنت رفیق،اخت ثناء اللہ خان،اخت فیصل خان،ہمشیرہ حنظلہ،بنت خالد،بنت سماں،بنت ریاض،بنت گل نواز۔مظفر پورہ:بنت محمد طارق، بنت محمد شہباز، بنت حافظ محمد شبیر۔معراج کے:بنت محمد اشرف،بنت محمد رفیق۔میانہ پورہ:بنت الیاس،بنت قمر شمس،بنت منور،بنت محمد عمران،بنت  محمد جمیل، اخت حمزہ عمران،بنت عمران،بنت اعظم مبین،بنت عتیق،بنت سہیل۔نند پور:بنت محمد سلیم،بنت محمد رمضان احمد،بنت ہدایت اللہ، بنت محمد صدیق،بنت      محمد الیاس،بنت افتخار احمد،بنت عبدالستار۔نواں پنڈ آرائیاں:بنت اکبر،ہمشیرہ عدنان فاروق،بنت ظفر اسلام،بنت محمد زمان،بنت سوداگر حسین،بنت اختر۔قصور:الہ آباد:بنت اختر۔کراچی:دھوراجی:بنت شہزاد عالم۔سرجانی ٹاؤن:بنت غلام  جیلانی۔ناظم آبادنمبر 1:بنت منور خان۔کوئٹہ:بنت احمد دین۔گجرات:بنت غلام غوث۔ گوجرانوالہ:ضلع کامونکی:بنت رمضان۔لاہور:جوہرٹاؤن:بنت شبیر احمد،بنت منصور۔نواب شاہ:بنت محمد آصف اقبال۔عرب بحرین:بنت مقصود۔

واقعۂ کربلا سے ہم نے کیاسیکھا؟

بہاولپور:حاصل پور:بنت نذیر احمد۔بہاولپور:یزمان:بنت محمد یونس۔ساہیوال:بنت شفقت علی۔سیالکوٹ:پاکپورہ:بنت سید رضوان علی،بنت محمد نواز،بنت شاہد بنت محمد رفیق،بنت احمد رضا۔تلواڑہ مغلاں:بنت فیصل مجید،بنت شاہد۔شفیع کا بھٹہ:بنت ندیم جاوید،بنت محمد اکرام،بنت عرفان،بنت جعفر حسین،ہمشیرہ حامد، بنت کرامت علی،بنت عبد الرزاق،ہمشیرہ عمر جٹ،ہمشیرہ محمد دانش مغل،بنت محمد شاہد،بنت ہمایوں،بنت محمد شاہد۔ گلبہار: بنت محمد شہباز،کنیز عطار،بنت ایاز خان،بنت محمد شہباز،بنت ریاض،بنت سماں۔مظفرپورہ:بنت محمد طارق،بنت عمران۔معراج کے:بنت محمد رفیق،بنت محمد ذو الفقار،بنت  طاہر حسین،بنت منیر حسین۔میانہ پورہ:بنت الیاس،بنت قمر شمس،بنت محمد عمران،بنت منور،بنت محمد جمیل،اخت حمزہ عمران،بنت اعظم مبین، بنت عتیق،بنت سہیل۔نند پور:بنت محمد رمضان احمد،بنت ہدایت اللہ،بنت افتخار احمد،بنت محمد صدیق،بنت عبد الستار۔نواں پنڈ:آرائیاں:ہمشیرہ عدنان فاروق، بنت ظفر اسلام،بنت اختر۔صادق آباد:لکڑ منڈی:بنت شبیر۔قصور:الہ آباد:بنت انور۔کراچی:بنت ارشاد احمد۔شاہ نواز بھٹو کالونی:بنت محمد شاکر۔ملیر:بنت افضل علی۔گوجرانوالہ:ضلع کامونکی: بنت رمضان۔لاہور:ٹاؤن شپ:بنت غلام مرتضی۔کرباٹھ:بنت عابد۔لالہ موسی:مدینہ کلاں:بنت سجاد حسین۔ میانوالی: عیسی خیل:بنت گل محمد۔نارووال:بنت انور حسین۔


محترمہ بنتِ سجاد حسین عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)

(طالبہ:فیضانِ فاطمۃ الزہرا چھوکر کلاں)

واقعۂ کربلا صرف ایک سانحہ نہیں،سانحے دنیا میں بہت ہوئے ہیں،مگر آج لوگوں کے دل و دماغ میں ان کا خیال تک موجود نہیں،اگر کربلا بھی صرف ایک سانحہ ہوتا تو تقریباً   تیرہ سو سال سے بھی زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اسے یاد نہ رکھا جاتا،لہٰذا کربلا صرف ایک سانحہ نہیں،یہ درس زندگی کی پوری ایک کتاب بھی ہے،جو ہمیں کامیابی کے راستے بھی بتاتی ہے، ترقی کے زینے بھی بتاتی ہے،زندگی کے اصول بھی سکھاتی ہے اور عظمت و شان سے جینے کا درس بھی دیتی ہے۔

جو بھی دینِ اسلام کی خدمت کے راستے پر چلتا ہے اس پر مصیبتوں اور پریشانیوں کے بادل سایہ فگن ہوتے ہیں،کوئی ظلم و ستم کا نشانہ بنتا ہے تو کوئی لوگوں کے طعنوں کی زد میں آجاتا ہے۔ممکن ہے کہ نیکی کی دعوت عام کرنے کی مقدس کوشش میں آپ کو بھی لوگوں کے طعنے سننے کو ملیں؛ کوئی سپارہ پڑھانے والی باجی تو کوئی ملّانی جیسے طنزیہ جملے کس کر آپ کا دل دکھائے یا بے پردگی سے بچنے پر طعنے دے مگر آپ نے لوگوں کے طعنوں کی پروا کئے بغیر حسنین کریمین کے نانا جان  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کے لائے ہوئے دین کی خدمت کرنی ہے۔

خدانخواستہ کبھی لوگوں کی بد سلوکی کا سامنا ہو تو میدانِ کربلا میں ڈھائے جانے والے ظلم،حضرت شہربانو،حضرت زینب، حضرت سکینہ اور کربلا کے دیگر شہدا کی بیویوں اور ماؤں کے غم کو یاد کیجئے کہ جب ان خواتین نے اپنے پیاروں کو شہید ہوتے دیکھا ہوگا تو ان پر کیا گزری ہوگی! جب آپ اس ظلم کا تصور کریں گی تو یقیناً اس کے مقابلے میں اپنا درد بہت ہلکا محسوس ہو گا بلکہ جب آپ اس منظر کو یاد کریں گی تو اپنی معمولی سی تکلیف کے احساس پر آپ کو خود ہی ہنسی آئے گی کہ کیا ہماری بھی کوئی تکلیف ہے!لہٰذا صبر کا دامن تھامے اپنی مختصر سی زندگی کو شریعت و سنّت کے مطابق گزاریے،دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہیے اور  اسلامی بہنوں کو نیکی کی دعوت دیتی رہیے۔

پیاری مبلغہ! معمولی سی مشکل پر گھبراتی ہے

دیکھ!حسین نے دین کی خاطر سارا گھر قربان کیا

واقعۂ کربلا سے ملنے والے اہم اسباق:

واقعۂ کربلا سے ہم نے سیکھا:

* خدمتِ دین اور دعوتِ دین میں کبھی بھی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہوں بلکہ جب بھی موقع ملے دین کے نام پر چل پڑیں اور دین کی سربلندی کے لئے ہر جائز کوشش کریں۔

* دین کی حفاظت میں اپنے احباب،گھربار بلکہ اپنی جان بھی راہِ خدا میں پیش کرنی پڑے تو پیچھے مت ہٹیں بلکہ آگے بڑھ کر دین کی حفاظت کے لئے حق و باطل کے درمیان مضبوط دیوار بن جائیں اور ہر خواہش و آسائش کے مقابلے میں دین و ایمان ہی کو ترجیح دیں۔

* نماز کی پابندی ہر حال میں کریں،گھر میں ہوں یا سفر میں، امن میں ہو یا میدانِ جنگ میں،ہر صورت پیشانی کو بارگاہِ خدا میں جھکنے کا عادی رکھیں۔

* جو وعدہ کریں اس پر بےوفائی کا داغ نہ لگنے دیں بلکہ اس پر تکمیل و وفا کی مہر لگائیں۔

*مسلمان کا شیوہ محبتِ قرآن اور عادتِ تلاوتِ قرآن ہے، نیزے پر بلند سرِ حسین کی تلاوت کو یاد رکھیں۔

* واقعۂ کربلا میں خاص کر اسلامی بہنوں کے لیے اہم سبق یہ ہے کہ مصائب و آلام کے پہاڑ ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑیں پھر بھی نوحہ و واویلہ اور کوئی غیرشرعی عمل نہ کریں بلکہ خواتینِ خاندانِ نبوت کے غم اور طرزِ عمل کو پیشِ نظر رکھیں کہ ان ہستیوں نے یہ سارا واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا،پھر بھی انہوں نے نہ نوحہ کیا،نہ سینہ کوبی کی۔

امیرِ اہلِ سنت اپنے اشعار میں کتنی پیاری نصیحت فرماتے ہیں:

رونا مصیبت کا مت رو تُو پیارے نبی کے دیوانے

کرب و بلا والے شہزادوں پر بھی تو نے دھیان کیا

اللہ پاک ہمیں کربلا والوں کا صدقہ عطا فرمائے اور ہمیں سچی پکی حسینیہ بنائے۔آمین

محترمہ بنتِ شبیر عطاریہ

(طالبہ:درجۂ رابعہ،لکڑ منڈی صادق آباد)

کربلا کا واقعہ یقیناً  نہایت غمناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے کربلا صرف ایک سانحہ نہیں کیونکہ سانحہ تو بھول جاتا ہے۔ اگر کربلا بھی سانحہ ہوتا تو آج اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی لوگوں کے دل و دماغ میں یوں راسخ نہ ہوتا،لہٰذا کربلا صرف ایک سانحہ نہیں یہ درس زندگی کی پوری ایک کتاب ہے،واقعۂ  کربلا ہمیں سکھاتا ہے:کامیابی کے راستے،ترقی کے زینے، زندگی کے اصول اور عظمت و شان سے جینے کا درس۔

واقعۂ کربلا ہمیں نماز کی پابندی کا درس دیتا ہے کہ حضرت امام حسین  رضی اللہ عنہ  نے اپنی زندگی کی آخری نماز بھی نہایت خشوع وخضوع  کے ساتھ ادا فرمائی۔

واقعۂ کربلا کا سب سے نمایاں درس”صبر“ہے۔اہلِ بیت کا صبر اللہ اکبر!آلِ رسول نے صبر کا وہ امتحان دیا کہ دنیا  کو حیرت میں ڈال دیا،بچے سے بڑے تک مبتلائے مصیبت تھے مگر رضائے الٰہی کے لیے مصیبتوں کو برداشت کیا۔

واقعۂ کربلا ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا کی محبت ہر لڑائی کی جڑ ہے؛ یزید پلید کا دل چونکہ دنیا کی محبت سے سرشار تھا اور اس کی ہوس نے اسے اس کے انجام سے غافل کر کے امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں کے خون ناحق کروانے تک پہنچا دیا،جس اقتدار کی خاطر اس نے کربلا میں ظلم و ستم کی آندھیاں چلائیں وہ اقتدار اس کے لیے کچھ زیادہ ہی ناپائیدار ثابت ہوا،بد نصیب یزید صرف تین برس چھ ماہ تختِ حکومت پر شرارت کر  کے 39 سال کی عمر میں مر گیا۔

وہ تخت ہے کس قبر میں وہ تاج کہاں ہے؟

اے خاک بتا زورِ یزید آج کہاں ہے؟

تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے جب کبھی عملاً دین کے مقابلے میں اس فانی دنیا کو ترجیح دی تو وہ دین و دنیا دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور جو اس فانی دنیا کو لات مار کر دین و ایمان کی بقا کے لیے کھڑے ہوئے وہ دارین میں کامیاب ہوگئے۔

یہی وجہ ہے کہ امام عالی مقام اور آپ کے ساتھی کل بھی اُمّتِ مسلمہ کے دلوں کے تاجور تھے آج بھی ہیں اور رہتی دنیا تک رہیں گے۔

ناشمر ہی کا وہ ستم رہا نہ یزید کی وہ جفا رہی

جو رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا

لہٰذا جب کبھی سنتوں پر عمل یا دینی کاموں کے سبب آپ پر ظلم و ستم ہو تو اس وقت کربلا کے خونی منظر کا تصور باندھ لیجیے اور خدمتِ دین پر ثابت قدمی سے ڈٹ جائیے! یہی درسِ کربلا ہے۔اللہ پاک ان کے ظاہری اور باطنی برکات سے مسلمانوں کو فیض یاب فرمائے اور ان کی اخلاص مندانہ قربانیوں کی برکت سے اسلام کو ہمیشہ سرخرو رکھے۔آمین

ہر دَور کے فِرعون کو اِحساس دِلا دو

جذبہ کبھی پابندِ سلاسِل نہیں  ہوتا



Share