اللہ و رسول ﷺ کے فرامین کو یاد رکھئے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:اللہ و رسول کے فرامین کو یاد رکھیے!

وَ اذْكُرْنَ مَا یُتْلٰى فِیْ بُیُوْتِكُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ وَ الْحِكْمَةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا۠(۳۴)

(پ22،الاحزاب:34)

ترجمہ:اور اللہ کی آیات اور حکمت یاد کرو جو تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی ہیں۔بیشک اللہ ہر باریکی کو جاننے والا،خبردار ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر

یعنی اے بیبیو!تمہارا گھر قرآن و حدیث کی کان ہے جہاں سے نبوت کا آفتاب چمک رہا ہے تم کو چاہیے کہ تمہارے اعمال سب سے زیادہ ہوں۔([1])اس آیت میں بھی اَزواجِ مطہرات  رضی اللہ عنہن سے خطاب فرمایا گیا ہے کہ تمہارے گھروں میں جو قرآن ِکریم کی آیتیں نازل ہوتی ہیں اور تم رسولِ کریم  صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کے جن احوال کا مشاہدہ کرتی ہو اور ان کے جن ارشادات کو سنتی ہو انہیں یاد رکھا کرو اور موقع کی مناسبت سے وعظ و نصیحت کو لوگوں کے سامنے بیان کرتی رہو۔([2])

امام قرطبی اس آیت میں مذکور لفظ وَاذْكُرْنَ کے تحت فرماتے ہیں:اللہ پاک نے ازواجِ مطہرات کو اس عظیم نعمت کی یاد دہانی کرائی  کہ وہ ایسے مبارک گھروں میں رہتی ہیں جہاں اللہ پاک کی آیات اور حکمت(سنت)کی تلاوت ہوتی ہے،لہٰذا ان آیات کو یاد رکھنا،ان میں غور و فکر کرنا اور ان کی قدر پہچاننا ضروری ہے تاکہ ان کی زندگی بھی اسی کے مطابق سنور جائے۔نیز انہیں حکم دیا گیا کہ وہ قرآنِ کریم اور حضور کے ارشادات و معمولات کو یاد رکھیں،بیان کریں اور دوسروں تک پہنچائیں تاکہ لوگ ان پر عمل کریں اور حضور کی اقتدا کریں۔حضرت شیخ ِ اکبر محی الدین ابنِ عربی  رحمۃُ اللہ علیہ کے مطابق حضور کو تبلیغِ قرآن اور دینی علم کی تعلیم کا حکم تھا اور جب آپ کسی کو دین سکھا دیتے تو آپ سے تبلیغ کا فرض ساقط ہو جاتا اور سننے والوں کی یہ ذمہ داری بنتی کہ اسے آگے پہنچادیں۔نیز آپ پر ہر ہر بات صحابہ کو بتانی لازم نہ تھی،نہ یہ لازم تھا کہ ازواج کو کوئی مسئلہ سکھا کر لوگوں کو بتائیں کہ آج فلاں حکم نازل ہوا تھا۔ ([3])

اٰیٰت اورحکمۃکے متعلق اقوال

آیات اللہ سے مراد قرآنِ کریم ہے اور حکمت کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد سنت ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے قرآنِ کریم کے احکام اور مواعظ مراد ہیں۔([4])

تفسیر روح البیان میں ہے:حضرت قتادہ کے نزدیک اس مقام پر آیات سے مراد قرآنِ کریم کی آیات ہیں اور حکمت سے مراد احادیثِ نبویہ ہیں،کیونکہ نبیِ کریم کی حدیث در اصل حکمت ہی ہے۔اس عبارت میں حضور کی مقدس بیویوں کو ملنے والی ان نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ پاک نے انہیں اہلِ بیتِ نبوت بنایا اور ان کے گھروں کو وحی کا مرکز قرار دیا۔اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اللہ  پاک کے منع کردہ کاموں سے بچیں،اس کے احکامات پر عمل کریں اور قرآنی آیات کی تلاوت کریں۔انہیں اس بات پر خبردار کیا گیا ہے کہ ان آیات کی صرف تلاوت ہی نہیں بلکہ ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے اور یہ اشارہ دیا گیا کہ ان گھروں میں صرف رہائش رکھنا اصل مقصد نہیں،اگرچہ وہ وحی کے نزول کے مراکز ہیں اور ہر زوجۂ نبی کے گھر میں قرآن کا کوئی نہ کوئی حصہ نازل ہوا ہے۔اصل مقصد یہ ہے کہ ان آیات کو پڑھا جائے اور ان کی پیروی کی جائے۔یہاں تلاوت کرنے والے کی کوئی قید نہیں لگائی گئی،چاہے تلاوت حضور فرمائیں،جبرئیلِ امین کریں، حضور کی مقدس بیویاں کریں،صحابہ کرام کریں یا دیگر عوام؛ کیونکہ صرف تلاوت مقصود نہیں بلکہ اس سے نصیحت حاصل کر کے عمل کرنا اصل ہے۔

تفسیر الوسیط کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حضور کی مقدس بیویوں کے لئے قرآن کو یاد رکھنا،اس کے احکام کی تشہیر کرنا اور اس کے ذریعے خود اور دوسروں کو نصیحت کرنا ضروری ہے، کیونکہ قرآنِ کریم تمام شرعی معاملات کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اگرچہ یہ خطاب خاص طور پر حضور کی مقدس بیویوں کو ہے، لیکن اس کا حکم عام ہے جس میں ان کے علاوہ تمام مسلمان مرد اور عورتیں شامل ہیں۔

یاد رہے!شریعت کے تمام معاملات قرآن وحدیث پر مبنی ہیں اور اللہ پاک کی حدود اور فرائض وغیرہ کا علم بھی انہی سے حاصل ہوتا ہے۔

مزید فرماتے ہیں:قاری (اور قاریہ) کے لئے سنت یہ ہے کہ وہ ہر دن اور رات قرآن کی تلاوت کرے تاکہ اسے بھول نہ جائے اور قرآن اس کے سینے سے نکل نہ جائے۔قرآن کو اس حد تک بھول جانا کہ انسان اسے دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے،گناہِ کبیرہ میں سے ہے۔سنت یہ ہے کہ مومن اپنے گھر کے لئے بھی قرآنِ کریم کا ایک حصہ مقرر کرے اور اپنے وظیفےمیں سے جتنا میسر ہو گھر میں پڑھے۔مسلمانوں کے گھروں میں ایسے چراغ ہیں جن کی روشنی عرش تک پہنچتی ہے،ساتوں آسمانوں اور زمینوں کے مقرب فرشتے انہیں پہچانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ نور ان مومنین کے گھروں سے آ رہا ہے جن میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔اسی طرح کبھی کبھی دوسروں سے قرآن سننا بھی سنت ہے۔نبیِ پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلم حضرت اُبی بن کعب اور حضرت عبدُ اللہ بن مسعود سے قرآنِ کریم سنا کرتے تھے۔حضرت عمر فاروق حضرت ابو موسیٰ اشعری سے قرآن سنتے تھے کیونکہ وہ بہت خوش الحان تھے۔لہٰذا آپ پر لازم ہے کہ قرآنِ کریم کو یاد رکھیں،اس کی حفاظت کریں اور اسے غور سے سنیں۔فارسی شعر کا مفہوم ہے کہ تمہارا دل ہر وقت قرآن سننے سے کیوں گھبراتا ہے؟باطل پرستوں کی طرح اللہ پاک کے کلام سے یہ بے زاری کیسی!([5])

آیت سے حاصل ہونے والی معلومات

اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں:

(1)قرآنِ کریم کی آیات اور احادیث کو یاد کرنا اور دوسروں کو یاد دلاتے رہنا چاہئے تاکہ شریعت کے احکام کا علم ہو۔ (2) ہر مسلمان کو اپنے گھر میں قرآنِ کریم کی تلاوت اور حضور کی سنتوں کا ذکر کرتے رہنا چاہئے۔(3)بعض اوقات دوسروں سے بھی قرآنِ پاک کی آیات سننی چاہئیں۔([6])

مومنوں کی مقدس مائیں اور احادیثِ مبارکہ

حضور کی مقدس ازواج نے حضور کے احوال کو نہایت قریب سے دیکھا،آپ کے عمومی ارشادات اور خصوصاً گھریلو زندگی سے متعلق فرامین کو بڑی توجہ اور اہتمام کے ساتھ سنا، محفوظ کیا اور پھر حضور سے جو کچھ سیکھا،اسے امانت سمجھ کر آگے منتقل کیا،یہاں تک کہ دین کا ایک بڑا حصہ انہی کے ذریعے امت تک پہنچا۔یوں انہوں نے نہ صرف علمی بلکہ عملی میدان میں بھی امت پر عظیم احسان فرمایا۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دین کا علم حاصل کرنا اور اسے آگے پہنچانا صرف مردوں ہی کا نہیں بلکہ خواتین کا بھی اہم فریضہ ہے۔آج کے دور کی خواتین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ دین کو سیکھیں،سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کریں،تاکہ اگر وہ وسیع معاشرتی سطح پر کردار ادا نہ بھی کر سکیں تو کم از کم اپنے گھروں اور خاندانوں کی اصلاح کر کے انہیں صحیح دینی تعلیمات سے آراستہ کر سکیں،کیونکہ ایک صالح گھرانہ ہی ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* معلمہ  جامعۃ المدینہ گرلز گلبہارسیالکوٹ



[1] تفسیر نور العرفان،ص674

[2] تفسیر صراط الجنان،8/28

[3] تفسیر قرطبی،7/135،جزء:14

[4] تفسیر خازن،3/499

[5] تفسیر روح البیان،7/173

[6] تفسیر صراط الجنان،8/29


Share