موضوع:اللہ و رسول کا حکم مانئے
اللہ پاک کا فرمان ہے:
وَ اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ- (پ22، الاحزاب: 33)
ترجمہ:اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
تفسیر
اس آیتِ مبارکہ کے تحت تفسیرِ قرطبی میں ہے:جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور کی مقدس بیویوں نے اللہ پاک کے ان احکامات کی اطاعت میں کوئی کسر نہ چھوڑی جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس آیت کو پڑھتے ہوئے روتیں یہاں تک کہ آپ کا دو پٹا آنسوؤں سے بھیگ جاتا۔([1])اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ آپ حج اور عمرہ کیوں نہیں کرتیں جیسے حضور کی دیگر مقدس بیویاں کرتی ہیں؟تو آپ نے فرمایا:میں نے حج اور عمرہ کر لیا ہے اور اللہ پاک نے مجھے حکم دیا ہے کہ اپنے گھر میں ٹھہری رہوں۔اللہ پاک کی قسم!میں اپنے گھر سے نہیں نکلوں گی یہاں تک کہ مجھے موت آ جائے۔راوی فرماتے ہیں:اللہ پاک کی قسم!وہ اپنے حجرے کے دروازے سے باہر نہ نکلیں یہاں تک کہ ان کا جنازہ نکالا گیا۔([2])
نیز ازواجِ مطہرات فرائض وواجبات وغیرہ میں ہی اللہ و رسول کی خوب فرمانبرداری نہ کرتی تھیں بلکہ مستحبات میں بھی ان کی اطاعت کا حال بے مثال تھا۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور سے عرض کی:یا رسولَ اللہ!دعا فرمایئے کہ اللہ پاک جنت میں بھی مجھے آپ کی زوجہ بنائے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اگر تم اس رتبے کی تمنا رکھتی ہو تو تمہیں چاہئے کہ کل کے لئے کھانا بچا کر نہ رکھو اور جب تک کسی کپڑے میں پیوند لگ سکتا ہے تب تک اسے بیکار نہ سمجھو۔چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فقر کو مالداری پر ترجیح دینے کی اس نصیحت پر اتنی مضبوطی سے عمل پیرا رہیں کہ(زندگی بھر)کبھی آج کا کھانا کل کے لئے بچا کر نہ رکھا۔([3])
یاد رہے!اس آیت میں اگرچہ بظاہر ازواجِ مطہرات کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ تمام احکامات اور ممنوعات میں اللہ پاک اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت کریں اور انہیں یہ زیبا نہیں کہ جس چیز کا اللہ و رسول نے حکم دیا اس کی مخالفت کریں۔ مگر اس حکم میں دیگر عام عورتیں بھی داخل ہیں۔([4]) چنانچہ معلوم ہوا!اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری ہم سب پر لازم ہے اور یہی ایمان کی اصل ہے کہ جو اللہ و رسول کی نافرمانی کرے،ان کا حکم نہ مانے اس کے لئے دنیا وآخرت میں ذلت و رسوائی ہے،جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے:
وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ یَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْؕ-وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِیْنًاؕ(۳۶) (پ22،الاحزاب:36)
ترجمہ:اور کسی مسلمان مرد اور عورت کیلئے یہ نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ فرما دیں تو انہیں اپنے معاملے کا کچھ اختیار باقی رہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کاحکم نہ مانے تووہ بیشک صر یح گمراہی میں بھٹک گیا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں:(1)حضور کی اطاعت ہر حکم میں واجب ہے۔(2)حضور پُر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا حکم اللہ پاک کا حکم ہے اور حضور کے مقابلے میں کوئی اپنے نفس کا بھی خود مختار نہیں۔(3)حضور کے حکم اور آپ کے مشورے میں فرق ہے،حکم پر سب کو سر جھکانا پڑے گا اور مشورہ قبول کرنے یا نہ کرنے کا حق ہو گا۔اسی لئے یہاں اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا یعنی جب اللہ و رسول کچھ حکم فرما دیں۔فرمایا گیا اور دوسری جگہ ارشاد ہوا:
وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِۚ- (پ4،اٰل عمرٰن:159)
ترجمہ:اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
نیز یہ بھی یاد رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت فرض ہے اور آپ کی نافرمانی حرام ہے۔([6])
آقا کی اطاعت سے جی اپنا چُراتے ہیں جو
ایسوں سے خوش ربِّ غفّار نہیں ہوتا
جس نے حضور کی اطاعت کی اس نے اللہ پاک کی اطاعت کی کہ حضور کی اطاعت اللہ پاک ہی کی اطاعت ہے۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے:جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ پاک کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اُس نے اللہ پاک کی نافرمانی کی۔([7])
کتابِ الٰہی یہ فرما رہی ہے
ہے طاعت خدا کی اِطاعت نبی کی
اللہ پاک نے کامیاب لوگوں کی نشاندہی یوں فرمائی ہے:
اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵۱) (پ18،النور:51)
ترجمہ:مسلمانوں کی بات تو یہی ہے کہ جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تا کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ فرما دے تو وہ عرض کریں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت میں اللہ پاک نے شریعت کا ادب سکھاتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ مسلمانوں کو ایسا ہونا چاہئے کہ جب انہیں اللہ و رسول کی طرف بلایا جائے تا کہ حضور ان کے درمیان اللہ پاک کے دئیے ہوئے احکامات کے مطابق فیصلہ فرما دیں تو وہ عرض کریں کہ ہم نے بُلاوا سُنا اور اسے قبول کر کے اطاعت کی اور جو ان صفات کے حامل ہیں وہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔([8])
نیز تفسیرِ نسفی میں پارہ 18 سورۂ نور کی آیت نمبر 52 کے تحت لکھا ہے:جو فرائض میں اللہ پاک کی اور سنتوں میں اس کے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت کرے اور ماضی میں اللہ پاک کی ہونے والی نافرمانیوں کے بارے میں اللہ پاک سے ڈرے اور آئندہ کے لئے پرہیز گاری اختیار کرے تو ایسے لوگ ہی کامیاب ہیں۔([9])
حضور کی اطاعت قبولیت کی چابی ہے
علامہ اسماعیل حقی فرماتے ہیں:حضور کی اطاعت قبولیت کے دروازے کی چابی ہے اور اطاعت کی فضیلت پر یہ بات تیری راہ نمائی کرتی ہے کہ اصحابِ کہف کے کتّے نے جب اللہ پاک کی طاعت میں اصحابِ کہف کی پیروی کی تو اللہ پاک نے اس سے جنت کا وعدہ فرمایا۔جب اطاعت کرنے والوں کی پیروی کرنے کی یہ برکت ہے تو خود اطاعت کرنے والوں کے بارے میں تیرا کیا گمان ہے!([10])
کروں ہر آن میں تیری اِطاعت یارسولَ اللہ
پئے مرشِد بنا دے نیک سیرت یارسولَ اللہ
اللہ پاک ہمیں شریعت کے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور اپنی اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معاونہ دار الافتاء اہلِ سنت دھوراجی کراچی
[1]الزہد لامام احمد،ص185،حدیث:911
[2]تفسیردُرِّمنثور،6/599
[3]مدارج النبوت،2/473،472
[4]تفسیر تعلیم القرآن،2/ 346،345ملتقطاًو ملخصاً
[5]عورت اور قرآن،ص166ملتقطاً
[6]تفسیر صراط الجنان،2/159
[7]بخاری،2/297،حدیث:2957
[8]تفسیر خازن،3/359
[9]تفسیر نسفی،ص787
[10]تفسیر روح البیان،6/ 172
Comments