موضوع:شرح قصیدۂ معراجیہ (قسط 12)
47
سُراغ اَین و متیٰ کہاں تھا نشانِ کیف و اِلیٰ کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگِ منزل نہ مرحلے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:سراغ:کھوج،نشان۔این:کہاں۔متی: کب۔کیف:کیسے۔الیٰ:تک۔راہی:مسافر،راہ گیر۔سنگِ منزل: وہ پتھر جو منزل کی نشانی کے طور پر لگایا گیا ہو۔
مفہومِ شعر:نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کب،کدھر،کیسے اور کہاں تک گئے تھے؟ اس کا کوئی سراغ یا نشان کسی کے پاس نہیں۔
شرح:یہ شعر پچھلے شعر کی وضاحت کر رہا ہے کہ واقعۂ معراج عقلِ انسانی میں کیونکر آسکتا ہے کیونکہ حضور وہاں تک گئے جہاں”کب،کہاں اور کیسے“کا سراغ ونشان بھی نہیں تھا۔یہ چاروں الفاظ”کب،کہاں،کدھر اور کیسے“سوال کے لئے استعمال ہوتے ہیں کہ آدمی کہاں گیا،کب گیا،کس طرف گیا اور کیسے گیا؟ان تمام سوالات کا جواب کسی کے پاس نہیں کیونکہ حضور اُس راہ پر چلے کہ جہاں نہ کوئی ساتھی تھا نہ ہم سفراور نہ کوئی نشان جو منزل کا پتا دے،بس آپ ہی آپ تھے،جہاں تک آپ گئے وہاں کوئی اور جا ہی نہیں سکتا تھا۔
وہی لامکاں کے مکیں ہوئے سرِ عرش تخت نشیں ہوئے
وہ نبی ہے جس کے ہیں یہ مکاں وہ خدا ہے جس کا مکاں نہیں
بقول امام بوصیری حضور رات کے ایک مختصر سے حصے میں حرمِ مکہ سے بیت الاقصیٰ کی طرف تشریف لے گئے،جیسے اندھیری رات میں چودہویں کا چاند گردش کرتا ہے اور حضور اس رات ترقی فرماتے رہے یہاں تک کہ قاب قوسین کی منزل پر پہنچے جو نہ کسی نے پائی نہ کسی کو ہمت ہوئی،حضور نے اپنی نسبت سے تمام مقامات کو پست فرما دیا۔حضور نے وہ تمام فخر جمع فرما لئے جس میں کسی کی شرکت کی گنجائش نہ تھی اور حضور تمام مقام سے گزر گئے جس میں اوروں کا ہجوم نہ تھا۔([1])
48
اُدھر سے پیہم تقاضے آنا اِدھر تھا مشکل قَدَم بڑھانا
جلال و ہیبت کا سامنا تھا جمال و رحمت اُبھارتے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:پیہم:مسلسل۔تقاضے:مطالبے۔جلال و ہیبت:رعب و دبدبہ۔
مفہومِ شعر:ادھر بارگاہِ الٰہی سے بار بار بلاوا آ رہا تھا اور ادھر ادب و احترام کے تقاضے کے پیشِ نظر حضور کو قدم بڑھانا مشکل ہورہا تھا،ہیبت وجلال آگے بڑھنے سے روک رہے تھے اور جمال و رحمتِ خداوندی آگے بڑھنے پر ابھار رہی تھی۔
شرح:حضور جب قربِ خاص میں پہنچے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی آواز میں آپ کو پکارا گیا:یَا خَیْرَ الْبَرِیَّۃ (اے مخلوق میں سب سے بہترین)قریب آئیے!اے احمد!اے محمد! قریب آئیے!حبیب کو نزدیک آنا چاہیے۔([2]) اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت فرما رہے ہیں کہ اللہ پاک کی بارگاہ سے بار بار حضور کو مزید قریب آنے کا کہا جا رہا ہے اور ادھر حضور کا حال یہ ہے کہ ادب سے قدم بڑھانا مشکل ہو رہا ہے،ایک طرف جلال وہیبت کا خوف ہے جو جھجک پیدا کر رہا ہے تو دوسری طرف جمال ورحمت کی امید ہے جو شوق بڑھا رہی ہے۔الغرض اسی خوف و ڈر اور امید و شوق کے ساتھ حضور آگے بڑھے اور اپنے رب سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔
49
بڑھے تو لیکن جھجھکتے ڈرتے حیا سے جُھکتے ادب سے رکتے
جو قرب انھیں کی رَوِش پہ رکھتے تو لاکھوں منزل کے فاصلے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:جھجکتے:شرماتے۔روش:رفتار۔
مفہومِ شعر:حضور اللہ پاک کے حکم کی تعمیل میں شرم وحیا سے جھجکتے اور ادب سے رکتے ہوئے آگے بڑھے یہاں تک کہ اگر قربِ خداوندی کا حصول آپ کی اسی رفتار پر موقوف ہوتا تو لاکھوں سال لگ جاتے اور یہ سفر مکمل نہ ہوپاتا۔
شرح:حضور شرم و حیا اور ادب و احترام کا لبادہ اوڑھ کر آگے بڑھتے ہیں،رکتے ہیں،پھر چلتے ہیں۔اگر اسی رفتار پر ہی قرب و دیدار موقوف ہوتا تو یہ فاصلہ لاکھوں منزلوں کا بن جاتا اور کبھی ختم نہ ہوتا۔اسی لئے اللہ کریم نے خود ہی فاصلے سمیٹ دیئے اور اپنے محبوب کو دنیٰ فتدلیٰ کے مقام پر فائز فرمایا۔
50
پر ان کا بڑھنا تو نام کو تھا حقیقۃً فِعل تھا اُدھر کا
تَنَزُّلوں میں ترقی اَفزا دَنیٰ تَدَلّٰے کے سلسلے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:تنزل:اترنا۔افزا:بڑھنا۔دنیٰ فتدلیٰ: قریب ہوا،بہت قریب۔
مفہومِ شعر:حضور کا آگے بڑھنا تو نام کا تھا حقیقت میں تو خود اللہ پاک اپنی شان کے مطابق آپ کی طرف نزول فرما رہا تھا جو آپ کے لئے ہزاروں ترقیوں کا سبب ثابت ہوا۔
شرح:حضور ڈرتے جھجکتے آگے بڑھ رہے تھے آپ کا یوں بڑھنا برائے نام تھا درحقیقت فاعلِ حقیقی اللہ پاک تھا،جیسا کہ معراج کروانے کے متعلق قرآن پاک میں ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا (پ15،بنی اسرائیل: 1)
ترجمہ:پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے کچھ حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک سیرکرائی۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اسی طرح یہاں بھی ربِّ کریم خود آپ کی طرف اپنی شان کے مطابق نزول فرما رہا تھا اور رب کا حضور کی طرف نزول فرمانا آپ کے لئے ہزاروں ترقیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور دنیٰ فتدلیٰ تک بات جاپہنچی۔سورۂ نجم میں ہے:
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹) (پ 27،النجم:8،9)
ترجمہ:پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یعنی اللہ پاک نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا۔اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ پاک اپنے لطف و رحمت کے ساتھ حضور سے قریب ہوا اور اس قرب میں زیادتی فرمائی۔اس کی تائید بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں حضور نے ارشاد فرمایا:اور جبار رب العزت قریب ہوا۔([3])
51
ہوا نہ آخر کہ ایک بجْرا تمَوُّجِ بحر ہُو میں اُبھرا
دَنیٰ کی گودی میں ان کو لے کر فنا کے لنگر اُٹھا دِیے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:بجرا:کشتی۔تموج:دریا میں لہر اٹھنا۔ہُو: ضمیر مرفوع منفصل،مراد اللہ پاک کی ذات۔دنیٰ:قرب۔ لنگر اٹھانا:بحری جہاز کی میخوں کو کھول کر تیرنے کے لئے تیار کرنا۔
مفہومِ شعر:پھر یوں ہوا کہ”ہو“کی نورانی لہروں سے(توفیقِ الٰہی کی) ایک کشتی ظاہر ہوئی جس نے حضور کو دنیٰ کی گود میں لیا اور فنا ہونے کے لئے کشتی کے لنگر اٹھا دیئے۔
شرح:یہاں اعلیٰ حضرت نے مختلف فنون کو سمیٹتے ہوئے مقامِ فنا و بقا کی کیفیت کو یوں بیان کیا ہے کہ جس طرح ایک کشتی کو سمندر کی لہریں اپنی طاقت سے بہا کر لے جاتی ہیں،اسی طرح معراج کی رات اللہ پاک کی خاص توفیق نے حضور کو قربِ خاص کی جو منزل عطا فرمائی یعنی فنا سے دور اور بقا کے اس مرتبے پر فائز کر دیا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ڈبل ایم اے (اردو،مطالعہ پاکستان)
گوجرہ منڈی بہاؤ الدین
[1] عصیدۃ الشھدۃ شرح قصیدۃ البردۃ،ص 237 تا248 ملتقطاً
[2] مواہب لدنیہ،2/381
[3] بخاری،4/ 581،حدیث:7517
Comments