موضوع:تنہائی میں سمجھانے کے فوائد
حضرتِ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جس نے اپنے مسلمان بھائی کو اکیلے میں سمجھایا،اس نے اس کو نصیحت کی اور زینت بخشی اور جس نے کسی کو سب کے سامنے سمجھایا اس نے اسے رسوا کیا اور اس کے ساتھ خیانت کی۔([1])
خلوصِ نیت کے ساتھ کسی کی اصلاح کرنا یقیناً اجر وثواب کا کام ہے اور حکمِ قرآنی بھی۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵)(پ27،الذریت:55)
ترجمہ:اور سمجھاؤ کہ سمجھانا ایمان والوں کو فائدہ دیتا ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
سمجھانے اور نصیحت کرنے کے فائدے ہی فائدے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ نصیحت اور اصلاح درست طریقے سے ہو۔دروازہ کھلوانے کے لئے دستک دی جاتی ہے دروازہ توڑا نہیں جاتا،اسی طرح کسی کی غلطی پر اس کی اصلاح کے لئے بھی پیار اور اخلاص بھرے انداز سے اس کے دل و دماغ پر دستک دینا زیادہ مفید ہے۔اس کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ اکیلے میں سمجھایا جائے،کیونکہ تنہائی میں کی جانے والی اصلاح انسان کی شخصیت کی حقیقی تعمیر کا سبب ہوتی ہے،جبکہ سب کے سامنے سمجھانے سے بات بننے کے بجائے بگڑ جاتی ہے۔ حضرت اُمِّ درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جس نے کسی کو سب کے سامنے سمجھایااس نے اسے عیب لگایا۔([2])
سمجھانے کے مثبت انداز
تنہائی میں اصلاح کرنے کے لئے چند امور پیشِ نظر رکھے جائیں تو بہت فائدہ ہوگا:اصلاح کرنے کی نیت کیجئے اور یہ خیال رکھیے کہ سامنے والی کسی بھی طرح کی توہین محسوس کرے نہ شرمندگی،جس کی اصلاح کر رہی ہیں اس سے شفقت کا اظہار کیجئے،محبت بھرا سلوک کیجئے،اس کی غلطی سے اسے نفرت دلانے کی کوشش کیجئے،اس کی غلطی کا نقصان بتانے کے ساتھ ساتھ اس سے محفوظ رہنے کی تدبیر بھی بتائیے اور ممکنہ صورت میں متبادل طریقہ بھی بتائیے۔اگر اس نے آپ کی بات مان لی تو شکریہ ادا کیجیے اور اگر بچہ ہے تو شاباشی دیجئے اور ہو سکے تو تحفہ بھی دیجیے،اگر آپ نے ایسا کر لیا تو یقین کیجیے سمجھانے کا بہت اچھا نتیجہ سامنے آئے گا۔البتہ!جو عمر اور مرتبے میں ہم سے چھوٹے ہوں ان کو سمجھانا تو بہت آسان ہے لیکن جو عمر اور رتبے میں بڑے ہوں ان کو سمجھانے کے لئے ایسا انداز اپنانا ہوگا کہ ان کی عزت پر حرف نہ آئے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا اصلاح فرمانے کا انداز بہت خوبصورت تھا،اگر کسی فرد یا جماعت سے کوئی برائی ہو جاتی تو حضور اپنے وعظ میں کسی کا نام لئے بغیر یوں فرمایا کرتے کہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسا ایسا کرتے ہیں۔جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور نے ایک کام کیا اور لوگوں کو بھی اس کی رخصت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے وہ کام نہ کیا۔جب حضور کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد کے بعد ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو اس کام سے پرہیز کرتے ہیں جو میں کرتا ہوں!اللہ پاک کی قسم!میں اللہ پاک کو ان سب سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اللہ پاک سے ڈرنے والا ہوں۔([3]) اسی طرح حضور کی چچا زاد حضرت درّہ بنتِ ابو لہب رضی اللہ عنہا کو بعض عورتوں نے ان کے باپ کے کفر کے طعنے دیئے اور انہیں اس پر عار دلایا تو حضور نے منبرِ اقدس پر جلوہ فرما ہو کر بغیر کسی کا نام لئے ارشاد فرمایا:اے لوگو!کیا بات ہے کہ مجھے میرے خاندان کے معاملے میں تکلیف دی جا رہی ہے!خدا کی قسم!میری شفاعت میرے قرابت داروں کو ضرور پہنچے گی۔([4])
منفی رویے اور تباہ کن نتائج
ہمارے معاشرے میں بسا اوقات اصلاح کرنے والیوں کو خود بھی اپنے اندازِ اصلاح کی اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ہر ایک کو غور کرنا چاہیے کہ وہ دوسروں کی راہ نمائی کس اسلوب سے کر رہی ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم نیت کے اعتبار سے مخلص ہوتی ہیں،لیکن ہمارا لہجہ یا طریقہ ایسا ہوتا ہے جو اصلاح کے بجائے رکاوٹ بن جاتا ہے۔کبھی ہم کسی کی غلطی سب کے سامنے اس انداز میں بیان کرتی ہیں کہ اس کے اندر قبولیت کے بجائے ضد پیدا ہو جاتی ہے۔ظاہر ہے،جب کسی کا وقار مجروح ہو یا اسے نیچا دکھایا جائے تو وہ دفاعی رویہ اختیار کرتی ہے اور یوں اصلاح کا مقصد حاصل نہیں ہو پاتا۔پھر ہم کہہ دیتی ہیں کہ اسے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں،حالانکہ مسئلہ سمجھانے میں نہیں بلکہ ہمارے طریقے میں ہوتا ہے۔
اسی طرح ماؤں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کے انداز پر غور کریں۔بچوں کو سب کے سامنے ڈانٹنا یا ان کی غلطیوں کو نمایاں کرنا مناسب نہیں۔اگر کوئی غلطی ہو جائے تو تنہائی میں پیار اور حکمت کے ساتھ سمجھائیے۔اگر بچے کا نتیجہ اچھا نہ آئے تو اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے بجائے الگ بٹھا کر حوصلہ دیجیے،اس میں خود اعتمادی پیدا کیجیے اور اسے یقین دلائیے کہ وہ محنت کے ذریعے بہتر مقام حاصل کر سکتا ہے۔ساتھ ہی اس کی کوتاہیوں کی نشاندہی بھی نرمی سے کیجیے اور آئندہ کے لئے راہ نمائی دیجیے۔اپنے جذبات کا اظہار بھی کیجیے تاکہ بچے کو احساس ہو اور اس کے دل میں آپ کے لئے محبت اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو۔
اسی طرح اگر کوئی ساس اپنی بہو کی اصلاح کرنا چاہے تو اسے بھی چاہیے کہ سب کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے تنہائی میں محبت اور خیرخواہی کے ساتھ بات کرے،تاکہ بات دل میں اتر سکے۔
یاد رہے!اصلاح میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ سمجھانے والی خود کیسی ہے۔اپنے آپ پر غور کیجیے کہ جو بات کسی کو سمجھانے جا رہی ہیں،خود اس پر عمل کر رہی ہیں یا نہیں۔جیسے ایک بے نمازی دوسری کو نماز کی تلقین نہیں کر سکتی،یا ایک بے پردہ عورت دوسروں کو پردے کی نصیحت نہیں کر سکتی۔اس لئے سمجھانے والی کا کردار سب سے اہم ہے۔
تنہائی میں سمجھانے کے فوائد
جب کسی کو سب کے سامنے ٹوکا جائے تو شرمندگی اور ناراضی پیدا ہوتی ہے،لیکن تنہائی میں سمجھانے سے عزت اور محبت برقرار رہتی ہے اور بات آسانی سے قبول ہو جاتی ہے۔
اصلاح کا مقصد رسوا کرنا نہیں بلکہ بہتر بنانا ہوتا ہے،اس لئے غلطی کو نرمی،خیرخواہی اور تنہائی میں بیان کرنا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول میں بھی یہی اصول اپنایا جاتا ہے:اگر کوئی برائی ظاہر ہو تو براہِ راست یا میسج کے ذریعے اصلاح کی جاتی ہے،کسی اور کے سامنے ذکر نہیں کیا جاتا۔
اگر گھر اور خاندان میں بھی یہی ماحول قائم کیا جائے کہ غلطیاں سب کے سامنے بیان نہ ہوں بلکہ تنہائی میں نرمی اور محبت کے ساتھ سمجھائی جائیں،تو گھر امن اور محبت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ساس بہو،شوہر بیوی یا والدین و بچوں کے درمیان غلطیوں کی اصلاح اسی طریقے سے کی جائے تو تعلقات مضبوط رہیں گے،محبت بڑھے گی اور احترام بھی قائم رہے گا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ذمہ دار شعبہ ماہنامہ خواتین (کراچی سطح)،رکن انٹرنیشنل افیئرز ڈیپارٹمنٹ
[1] حلیۃ الاولیاء،9/ 149،حدیث:13464
[2] شعب الایمان،6/112،حدیث:7641
[3] بخاری،4/127،حدیث:6101
[4] اسد الغابہ،7/114

Comments