موضوع:سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا
اُمُّ المومنین سیدہ اُمِّ حبیبہ کا اصلی نام رملہ([1])اور ایک قول کے مطابق ہند ہے۔آپ کی کنیت اپنی صاحبزادی حبیبہ کی نسبت سے اُمِّ حبیبہ مشہور ہوئی۔([2])آپ سردارِ مکہ ابو سفیان کی صاحبزادی ہیں اور آپ کی والدہ سیدہ صفیہ بنتِ ابو العاص ہیں،جو امیر المومنین حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی پھوپھی ہیں۔([3])آپ کا نسب پانچویں جَدِّ محترم حضرت عبدِ مناف میں حضور کے نسب مبارک سے مل جاتا ہے، جو حضور کے چوتھے دادا ہیں۔سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کے بعد آپ کا نسب سب سے کم واسطوں سے حضور تک پہنچتا ہے،جس میں صرف چار واسطے ہیں۔([4])آپ کی ولادت اعلانِ نبوت سے 17 سال پہلے مکہ مکرمہ کی مبارک سر زمین پر ہوئی۔([5])
اوصافِ مبارکہ
سیدہ اُمِّ حبیبہ بہت پاکیزہ ذات،حمیدہ صفات کی جامع، نہایت ہی بلند ہمت،سخی طبیعت کی مالک اور بہت ہی مضبوط ایمان والی خاتون تھیں۔([6])آپ بہادری،دین داری،امانت اور دیانت میں اپنی مثال آپ تھیں۔آپ کے جوشِ ایمانی اور جذبۂ اسلامی کے واقعات عجیب و غریب ہیں جو تاریخوں میں لکھے ہوئے ہیں۔([7])اللہ پاک نے آپ کو سیرت کے ساتھ صورت کی خوبصورتی بھی عطا فرمائی تھی۔چنانچہ آپ کے والد ابو سفیان کا بیان ہے کہ میرے نزدیک عرب کی حسین تر اور جمیل تر عورت اُمِّ حبیبہ بنتِ ابی سفیان ہیں۔([8])آپ انتہائی عبادت گزار، حضور کی بے انتہا خدمت گزار اور وفادار بیوی تھیں۔([9])آپ السابقون الاولون صحابیات میں شامل ہیں۔ ([10]) آپ نے اور سیدہ اُمِّ سلمہ نے اپنے حبشہ کے قیام کے دوران نجاشی کی قبر پر نور چمکتے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔([11])آپ کا شمار ان 9 مقدس بیویوں میں ہوتا ہے جو وصالِ مصطفےٰ کے وقت حضور کی خدمت میں موجود تھیں۔([12])
اِتِّباعِ سنت کا جذبہ:
آپ حضور کے ہر قول و فعل کی پیروی میں کمال رکھتی تھیں۔ایک بار حضور نے روزانہ 12 رکعت نفل کی ترغیب دلائی تو آپ نے زندگی بھر اس کی پابندی کی۔([13])اسی طرح جب آپ کے والد حضرت ابو سفیان کی ملکِ شام سے وفات کی خبر آئی تو تیسرے دن آپ نے زرد رنگ کی خوشبو منگوا کر رخساروں اور کلائیوں پر ملی اور فرمایا کہ مجھے خوشبو کی حاجت نہ تھی،مگر میں نے حضور سے سنا ہے کہ شوہر کے علاوہ کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ جائز نہیں۔([14])
پہلا نکاح،ہجرتِ حبشہ اور عظیم آزمائش:
آپ کا پہلا نکاح (ام المومنین سیدہ زینب بنتِ جحش کے بھائی)عبید اللہ بن جحش سے ہوا۔میاں بیوی دونوں اسلام لائے اور حبشہ کی طرف ہجرتِ ثانیہ کی،جہاں بیٹی حبیبہ پیدا ہوئی۔([15])حبشہ میں آپ نے خواب دیکھا کہ آپ کے شوہر کی صورت بہت بد نما اور بد شکل ہو گئی ہے،جس سے آپ گھبرا گئیں۔صبح شوہر نے بتایا کہ وہ اسلام چھوڑ کر نصرانی(عیسائی)ہو گیا ہے۔آپ نے اسے خواب سنا کر ڈرایا اور اسلام کی طرف بلایا مگر وہ نہ مانا اور اسی حالت میں شراب پیتے پیتے مر گیا۔([16])مگر آپ اسلام پر استقامت کے ساتھ ثابت قدم رہیں۔([17])
نکاحِ مصطفےٰکی بشارت اور پیغامات:
آپ نے خواب دیکھا کہ کوئی آپ کو اُمُّ المومنین کہہ کر پکار رہا ہے۔جس کی آپ نے یہ تعبیر نکالی کہ حضور آپ سے نکاح فرمائیں گے۔([18])جب حضور کو ان کی حالت معلوم ہوئی تو قلب نازک پر بے حد صدمہ گزرا اور آپ نے ان کی دلجوئی کے لئے(اور آپ کی حالت و غربت کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے([19]))حضرت عمرو بن امیہ ضمری کو نجاشی بادشاہِ حبشہ کے پاس بھیجا اور خط لکھا کہ تم میرے وکیل بن کر سیدہ اُمِّ حبیبہ کے ساتھ میرا نکاح کر دو۔جب نجاشی کے پاس حضور کے مُبَارَک خطوط پہنچے تو انہوں نے نہایت ادب و احترام کے ساتھ لے کر اپنی آنکھ پر رکھ لئے،انتہائی عاجزی و انکساری سے تخت سے نیچے اتر کر زمین پر بیٹھ گئے اور حق کی گواہی دیتے ہوئے مسلمان ہو گئے۔([20])نیز تابعی کے منصب پر فائز ہوئے۔([21])
نجاشی نے اپنی لونڈی ابرہہ کے ذریعے پیغام بھیجا۔سیدہ اس خوشخبری کو سن کر اتنی خوش ہوئیں کہ اپنے زیورات اتار کر اسےعطا کر دئیے۔بعد میں جب حضرت اُمِّ حبیبہ رَمْلہ بنتِ ابو سفیان کے پاس مال آیا تو آپ نے ابرہہ کو بُلا کر فرمایا:پہلے میں نے تمہیں جو تھوڑا بہت مال دیا تھا وہ ایسا وقت تھا کہ خود میرے پاس بھی کچھ نہ تھا،اب یہ پچاس مثقال سونا ہے اِسے لو اور کام میں لاؤ۔یہ سن کر ابرہہ نے ایک تھیلی نکالی جس میں وہ سب چیزیں تھیں جو سیدہ اُمِّ حبیبہ نے انہیں عطا فرمائی تھیں،ابرہہ نے اِنہیں واپس کرتے ہوئے کہا:بادشاہ سلامت نے مجھ سے عہد لیا ہے کہ میں آپ سے کچھ نہ لوں اور میں تو بادشاہ کی خدمت گار ہوں۔مزید کہا:میں نے دینِ محمدی کی پیروی اختیار کرتے ہوئے خالص رضائے الٰہی کے لئے اسلام قبول کر لیا ہے۔نجاشی نے شاہی محل میں حضرت جعفر بن ابی طالب اور حبشہ میں موجود دیگر صحابہ کرام کی موجودگی میں خطبہ پڑھا اور نکاح کیا۔([22])اس طرح کہ حضور حجاز میں تشریف فرما تھے اور حضرت اُمِّ حبیبہ حبشہ میں،نجاشی بادشاہ نے ام حبیبہ سے اجازت لے کر مجمع کے سامنے ان کا نکاح حضور انور سے کر کے اطلاع حضور کو بھیج دی حضور نے یہ نکاح مجمع صحابہ میں قبول فرما لیا،اسے غائبانہ نکاح کہتے ہیں اب بھی جائز ہے۔([23])
ابرہہ لونڈی نے آپ کو تیار کیا۔عُود،زعفران،عنبر اور زباد جیسی خوشبویات پیش کیں اور اپنا سلام حضور تک پہنچانے کی درخواست کی۔جب آپ بارگاہِ نبوی میں پہنچیں،نکاح کا پیغام ملنے اور ابرہہ کے اچھے سلوک کے متعلق بتایا نیز اس کا سلام پہنچایا تو آپ نے مسکرا کر جواب دیا:وَ عَلَیْہَا السَّلَامُ وَ رَحْمَۃُ اللہ وَ بَرَکَاتُہُ۔حضور شاہِ حبشہ کی طرف سے سیدہ ام حبیبہ کی خدمت میں پیش کی گئی چیزیں سیدہ کے استعمال میں دیکھتے تو نا پسند نہ فرماتے تھے۔([24])سیدہ کی طرف سے ان کے وکیل حضرت خالد بن سعید بن عاص بنے۔([25])جو بی بی ام حبیبہ کے والد یعنی ابو سفیان کے چچا ہیں۔نجاشی نے حضور کی طرف سے چار سو دینار یعنی چار ہزار درہم اپنی جیب سے مہر ادا کیا۔([26])یہ نکاح 7 ہجری میں ہوا۔([27])اور ایک قول کے مطابق نکاح کی تاریخ 6 ہجری ہے۔([28])نکاح کے وقت آپ کی عمر مبارک 32 سال تھی۔([29])نکاح کے بعد نجاشی نے سنتِ انبیا کے مطابق تمام حاضرین کو شکم سیر ہو کر کھانا کھلایا۔ ([30]) پھر آپ کو حضرت شرحبیل بن حسنہ کے ہمراہ مدینہ روانہ کیا۔([31])حسنہ شرحبیل کی والدہ کا نام ہے۔([32])
بسترِ نبوی کی تعظیم:
صلحِ حدیبیہ کے موقع پر جب آپ کے والد ابو سفیان جو ابھی تک ایمان نہ لائے تھے،مدینے آئے اور حضور کے بستر پر بیٹھنے لگے تو آپ نے بستر لپیٹ دیا اور فرمایا:یہ بسترِ نبوت ہے اور آپ ناپاک مشرک ہیں،میں یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ آپ اس پاک بستر پر بیٹھیں۔([33])
بھائی سے محبت:
حضور نے آپ کو اپنے بھائی حضرت امیر معاویہ کے سر کو چومتے دیکھا تو فرمایا:کیا تم ان سے محبت کرتی ہو؟عرض کی:بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اپنے بھائی سے محبت نہ کروں!فرمایا:بے شک اللہ پاک اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔([34])
علمی مقام اور مرویاتِ حدیث:
سیدہ امِ حبیبہ نے حضور سے کئی احادیث روایت کی ہیں جو احادیث کی 6 مستند کتابوں میں موجود ہیں۔([35])آپ سے کتبِ احادیث میں 65 احادیث مروی ہیں۔ان میں سے دو متفق علیہ ہیں اور ایک تنہا مسلم میں ہے۔([36])آپ کے شاگردوں میں آپ کی بیٹی حبیبہ،آپ کے دو بھائی معاویہ و عتبہ،بھانجے ابو سفیان بن سعید،دو آزاد کردہ غلام سالم و ابو الجراح،([37])،بھتیجے عبدُ اللہ بن عتبہ بن ابِی سفیان،مشہور تابعی عُروہ بن زبیر،ابو صالح سَمَّان،صفیہ بنتِ شَیْبَہ،زینب بنتِ ابِی سَلَمَہ،شُتَیْر بن شَکَل،ابو المَلِیْح عامر ہُذَلِی اور دیگر کئی جلیل القدر حضرات شامل ہیں۔([38])
آخری ایام،وصال اور منفرد مشاہدات:
حضور کے ساتھ آپ کی زندگی کے 5 سال گزرے۔([39])وفات سے پہلے آپ نے سیدہ عائشہ اور سیدہ اُمِّ سلمہ کو بلایا اور سوکنوں کے درمیان ہونے والی بَشری رنجشوں کی معافی مانگی،جس پر انہوں نے خوشی سے دعا دی۔([40])آپ کا وصال مدینہ منورہ میں 44 ہجری میں حضرت امیرِ معاویہ کے دورِ خلافت میں ہوا۔ ([41]) ایک قول کے مطابق آپ کا وصال شام میں([42])40 ہجری میں ہوا۔([43])وصال کے وقت آپ کی عمر 69 سال تھی۔([44])آپ جنت البقیع میں ازواجِ مطہرات کے پہلو میں دفن ہوئیں۔([45]) یہ بھی منقول ہے کہ امام زین العابدین نے مدینے شریف میں مولیٰ علی کے مکانِ عالیشان کا گوشہ کھدواتے ہوئے ایک پتھر پر یہ لکھا دیکھا:یہ رملہ بنتِ صخر کی قبر ہے۔([46])
شیخ الحدیث حضرت علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی فرماتے ہیں: اﷲاکبر!حضرت بی بی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی زندگی کتنی عبرت خیز اور تعجب انگیز ہے!سردارِ مکہ کی شہزادی ہو کر دین کے لئے اپنا وطن چھوڑ کر حبشہ کی دور دراز جگہ میں ہجرت کر کے چلی جاتی ہیں اور پنا ہ گزینوں کی ایک جھونپڑی میں رہنے لگتی ہیں۔ پھر بالکل ناگہاں(اچانک)یہ مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے کہ شوہر جو پردیس کی زمین میں تنہا ایک سہارا تھا عیسائی ہو کر الگ تھلگ ہو گیا اور کوئی دوسرا سہارا نہ رہ گیا مگر ایسے نازک اور خطرناک وقت میں بھی ذرا بھی ان کا قدم نہیں ڈگمگایا اور پہاڑ کی طرح دینِ اسلام پر قائم رہیں۔اک ذرا بھی ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا،نہ انہوں نے اپنے کافر باپ کو یاد کیا،نہ اپنے کافر بھائیوں، بھتیجوں سے کوئی مدد طلب کی۔خدا پر توکل کر کے ایک نا مانوس پردیس کی زمین میں پڑی خدا کی عبادت میں لگی رہیں یہاں تک کہ خدا کے فضل و کرم اور رحمت للعالمین کی رحمت نے ان کی دستگیری کی اور بالکل اچانک خداوند قدوس نے ان کو اپنے محبوب کی محبوبہ بی بی اور ساری امت کی ماں بنا دیا کہ قیامت تک ساری دنیا ان کو اُمُّ المومنین کہہ کر پکارتی رہے گی اور قیامت میں بھی ساری خدائی خدا کے اس فضل و کرم کا تماشا دیکھے گی۔اے مسلمان عورتو!دیکھو ایمان پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے اور خدا پر توکل کرنے کا پھل کتنا میٹھا اور کس قدر لذیذ ہوتا ہے!اور یہ تو دنیا میں اجر ملا ہے ابھی آخرت میں ان کو کیا کیا اجر ملے گا؟اور کیسے کیسے درجات کی بادشاہی ملے گی؟اس کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ہم لوگ تو ان درجوں اور مرتبوں کی بلندی و عظمت کو سوچ بھی نہیں سکتے۔اﷲ اکبر!اﷲ اکبر۔([47])
[1]سیرت مصطفیٰ،ص668
[2]اصابہ،8/140،رقم:11190
[3]سیرت مصطفیٰ،ص668
[4]فیضان امہات المومنین،ص273
[5]اصابہ،8 /140،رقم:11190
[6]سیرت مصطفی،ص669
[7]جنتی زیور،ص490 ملخصاً
[8]مسلم،ص1043،حدیث:6409
[9]جنتی زیور،ص490
[10]فیضان امہات المومنین،ص25
[11]مراۃ المناجیح،8/273
[12]مراۃ المناجیح،5/81ماخوذاً
[13]مسلم،ص287،حدیث:1696ملخصاً
[14]بخارى،1/432،حديث:1280
[15]طبقات ابن سعد،8/76
[16]مستدرك،5/26،حديث:6837
[17]سیرت مصطفیٰ،ص668
[18]مستدرك،5/27،حديث:6837
[19]سیرت رسول عربی،ص 611
[20]الوفاء باحوال المصطفٰى،2/267،266
[21]مراۃ المناجیح،8/245
[22]مستدرك،5/27،حديث:6837 ملخصاً
[23]مراۃ المناجیح،5/71
[24]مستدرك،5/28،27،حديث:6837
[25]مدارج النبوت،2/481
[26]مراۃ المناجیح،5/71
[27]سیرت سید الانبیاء،ص405
[28]مراۃ المناجیح،5/71
[29]آخری نبی کی پیاری سیرت،ص138
[30]مدارج النبوت،2/481
[31]نسائی،ص545،حدیث:3347
[32]مراۃ المناجیح،5/71
[33]مدارج النبوت،2/481
[34]مجمع الزوائد،9/595،حدیث:15923
[35]شرح زرقانی،4/ 409
[36]مدارج النبوت،2/482
[37]شرح زرقانی،4/ 409
[38]سیر اعلام النبلاء،3/485
[39] آخری نبی کی پیاری سیرت،ص138
[40]طبقات ابن سعد،8/79
[41]استیعاب،4/403
[42]مدارج النبوت،2/482
[43]مدارج النبوت،2/482
[44]آخری نبی کی پیاری سیرت،ص138
[45]سیرتِ مصطفیٰ،ص670
[46]استیعاب،4/403
[47]جنتی زیور،ص490

Comments