سب کے سامنے سمجھانے کے نقصانات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:سب کے سامنے سمجھانے کے نقصانات

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 47ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں۔)


انسان ایک معاشرتی مخلوق ہے اور معاشرے میں رہتے ہوئے اسے ایک دوسرے کی اصلاح اور راہ نمائی کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔سمجھانا اور نصیحت کرنا بلا شبہ ایک اچھا عمل ہے،لیکن ہر اچھا عمل اگر غلط انداز یا غلط موقع پر کیا جائے تو وہ فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔خاص طور پر کسی کو سب کے سامنے سمجھانا بعض اوقات اس کی عزتِ نفس کو مجروح کر دیتا ہے،دل آزاری کا باعث بنتا ہے اور اصلاح کے بجائے ضد اور دوری پیدا کر دیتا ہے۔اسی لئے ضروری ہے کہ ہم سمجھانے کے صحیح طریقے اور مناسب موقع کا خیال رکھیں،تاکہ ہماری بات اثر بھی کرے اور کسی کی دل شکنی بھی نہ ہو۔بہتر یہ ہے کہ جس کی غلطی ہو اس کی الگ سے اصلاح کی جائے یوں اس کو اچھا بھی لگے گا اور شرمندگی بھی نہیں ہوگی اور بات بھی جلدی سمجھ آئے گی۔اگر علی الاعلان اصلاح کی کوشش کریں گی تو شیطان اس کو ضد میں مبتلا کر سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کے لئے مزید 10 غلطیاں اور کرے گی۔

حضرت اُمِّ درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جس نے اپنے مسلمان بھائی کو اکیلے میں سمجھایا اس نے اسے زینت بخشی اور جس نے اسے سب کے سامنے سمجھایا اس نے اسے عیب لگایا۔([1]) حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جس نے اپنے مسلمان بھائی کو اکیلے میں سمجھایا اس نے اسے زینت دی اور جس نے اسے سب کے سامنے سمجھایا اس نے اسے رسوا کیا اور اس کے ساتھ خیانت کی۔([2])

سب کے سامنے سمجھانا یا ڈانٹ دینا صرف دل کو ہی نہیں بلکہ دماغ اور جسم پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔یہ اثرات نفسیاتی بھی ہوتے ہیں اور جسمانی بھی۔چند باتیں یہ ہیں:

شرمندگی اور ذہنی دباؤ:

جب کسی کو سب کے سامنے ٹوکا جائے تو دماغ اسے خطرہ سمجھتا ہے۔اس وقت جسم میں اسٹریس ہارمون بڑھ جاتا ہے۔جس کے نتیجہ میں دل کی دھڑکن تیز، گھبراہٹ،دماغ کا صحیح سوچ نہ پانا،بات سمجھنے کے بجائے صرف شرمندگی محسوس ہونا پایا جاتا ہے۔

خود اعتمادی میں کمی:

بار بار سب کے سامنے سمجھانے سے انسان خود کو کمزور محسوس کرنے لگتا ہے،”میں کچھ نہیں کر سکتی“ والا احساس پیدا ہوتا اور شخصیت دب جاتی ہے۔

ضد اور دفاعی رویہ:

دماغ اپنی عزت بچانے کے لئے دفاعی ہو جاتا ہے۔بات ماننے کے بجائے بحث کرنا،دل میں ناراضی رکھنا،اصلاح کے بجائے دوری پیدا ہونا جیسے نتائج سامنے آتے ہیں۔نیز اس کا سماجی نقصان یہ ہے کہ سب کے سامنے سمجھانے سے رشتوں میں دراڑ اور دل میں کینہ پیدا ہوتا ہے اور بات اثر نہیں کرتی۔

مختصراً یہ کہ سمجھاتے ہوئے مسلمان کی عزت کا خیال رکھیے اور اچھے الفاظ کےساتھ سمجھائیے تاکہ سمجھنے والی کو آپ سے وحشت نہ ہو اور وہ آئندہ بھی آپ سے تربیت لینے میں کسی بھی ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہو۔

اللہ پاک ہمیں اچھے انداز کے ساتھ اصلاح کرنے کا جذبہ نصیب فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

محترمہ بنتِ مقصود عطاریہ

(فیضان آن لائن اکیڈمی بحرین، عرب)

اللہ پاک فرماتا ہے:

وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۵۵)(پ 27،الذریت:55)

ترجمہ:اور سمجھاؤ کہ سمجھانا ایمان والوں کو فائدہ دیتا ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ مبارکہ میں مسلمانوں کو سمجھانے کا حکم دیا گیا ہے لیکن یاد رہے کہ سمجھانا بھی ایک فن ہے،اللہ کرے یہ ہمیں آجائے۔اگر شرعی اعتبار سے کسی کو سمجھانا آپ پر ضروری ہو اور آپ اس کی اہل بھی ہوں تو بڑوں کو احترام سے اور چھوٹوں کو شفقت کے ساتھ سمجھائیے۔سب کے سامنے جارحانہ انداز میں یا ڈانٹ کر اگر سمجھائیں گی تو ہو سکتا ہے کہ سامنے والی چپ ہوجائے لیکن دلی طور پر اپنی اصلاح کرنے کے لئے تیار نہ ہو کیونکہ اس طرح کرنے سے  نصیحت پرتاثیر نہیں رہتی۔جیسا کہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے:جس نے اپنے مسلمان بھائی کو سب کے سامنے نصیحت کی اس نے اسے ذلیل کیا اور جس نے اپنے مسلمان بھائی کو تنہائی میں نصیحت کی اس نے اسے زینت بخشی۔([3])

سب کے سامنے سمجھانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے انسان کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے۔ہر انسان فطری طور پر عزت اور احترام چاہتا ہے۔جب کسی کو لوگوں کے سامنے ٹوکا جائے یا اس کی غلطی نمایاں کی جائے تو وہ شرمندگی اور ذلت محسوس کرتا ہے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جس نے اپنے مسلمان بھائی کو تنہائی میں سمجھایا اس نے اسے نصیحت کی اور زینت بخشی اور جس نے سب کے سامنے سمجھایا اس نے اسے رسوا کیا اور خیانت کی۔([4])

امام اجل حضرت شیخ ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بزرگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ کسی کی کوئی ناپسندیدہ حرکت دیکھتے تو تنہائی میں اسے سمجھاتے یا اس حوالے سے اسے خط لکھتے،کیونکہ نصیحت و فضیحت میں یہی فرق ہے۔سب کے سامنے سمجھانا فضیحت(رسوائی)اور تنہائی میں سمجھانا نصیحت کہلاتا ہے۔ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ لوگوں کے سامنے کسی کو سمجھاتے ہوئے رضائے الٰہی کی نیت بھی درست ہو،کیونکہ یہ انتہائی برا طریقہ ہے۔([5])

آخری نبی،محمد عربی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جب کسی کی کوئی ناگوار بات معلوم ہوتی تو اس کا پردہ بھی رکھتے اور اصلاح کے لئے یوں ارشاد فرماتے:لوگوں کو کیا ہوگیا جو ایسی ایسی بات کہتے ہیں۔([6])

کاش!ہمیں بھی اصلاح کا ڈھنگ آ جائے،ہمارا تو اکثر حال یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کو سمجھانا بھی ہو تو بلاضرورتِ شرعی سب کے سامنے نام لے کر یا اسی کی طرف دیکھ کر اس طرح سمجھائیں گی کہ بے چاری کی خامیاں سب کے سامنے کھول کر رکھ دیں گی،اپنے ضمیر سے پوچھ لیجئے کہ یہ سمجھانا ہوا یا اسے ذلیل کرنا ہوا؟اس طرح سدھار پیدا ہوگا یا مزید بگاڑ بڑھے گا؟

یاد رکھئے!اگر ہمارے رعب سے سامنے والی چپ ہوگئی یا مان گئی تب بھی اس کے دل میں ناگواری سی رہ جائے گی جو کہ بغض و کینہ اور غیبت و تہمت وغیرہ کے دروازے کھول سکتی ہے۔حضرت اُمِّ درداء رضی اللہ عنہا   فرماتی ہیں:جس نے اپنے مسلمان بھائی کو اکیلے میں سمجھایا اس نے اسے زینت بخشی اور جس نے اسے سب کے سامنے سمجھایا اس نے اسے عیب لگایا۔ ([7])

البتہ!اگر پوشیدہ نصیحت نفع نہ دے تو پھر (موقع اور منصب کی مناسبت سے) علانیہ نصیحت کرے۔([8])



[1] شعب الایمان،6/112،حدیث:7641

[2] حلیۃ الاولیاء،9/ 149،حدیث:13464

[3] تنبیہ الغافلین،ص 49

[4] حلیۃ الاولیاء،9/ 149،حدیث:13464

[5] قوت القلوب،2/371

[6] ابوداود،4/328،حدیث:4788

[7] شعب الایمان،6/112،حدیث:7641

[8] تنبیہ الغافلین،ص 49


Share