موضوع: مصیبت زدہ کو پریشان مت کیجئے
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 46ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں۔)
محترمہ بنتِ محمد ناظم عطاریہ(فرسٹ پوزیشن)
(طالبہ: درجہ ٔرابعہ جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)
اسلامی تعلیمات اور اخلاقیات کی روشنی میں کسی مصیبت زدہ کو مزید پریشان کرنا انتہائی ناپسندیدہ کام ہے۔ کسی پریشان حال انسان کو طنز کا نشانہ بنانا یا اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا انسانیت کے خلاف ہے۔ایک سچا انسان وہی ہے جو دکھ میں دوسرےانسان کے کام آئے۔اگر آپ کسی بھی انسان کی مصیبت میں اس کی مدد نہیں کر سکتیں تو اپنی زبان یا عمل سے اس کو دکھ مت دیجیے۔
مصیبت زدہ کو پریشان کرنے کی صورتیں
*اکثر لوگ مصیبت زدہ کو صبر کی تلقین کرنے کے بہانے ایسی باتیں کہہ دیتے ہیں جو اسے مزید دکھ دیتی یا اس کے زخم کو تازہ کرتی ہیں، مثلاً:تم نے کوئی گناہ کیا ہوگا جس کی تمہیں یہ سزا مل رہی ہے!معاذ اللہ!یہ تو اخلاقی جرم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مسلمان سے بدگمانی بھی ہے۔ضروری نہیں کہ ہر پریشانی و تکلیف کسی گناہ کی سزا ہو،بعض آزمائشیں بلندیِ درجات کا سبب بھی ہوتی ہیں، جیسا کہ اللہ پاک نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) (پ2،البقرۃ:155)
ترجمہ: اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
انبیائے کرام پر سب سے زیادہ آزمائشیں آئیں جو ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ تھیں، اس لئے کسی مصیبت زدہ کو یہ احساس دلانا کہ وہ اللہ پاک کی نظر میں گر گیا ہے یا اسے کسی گناہ کی سزا مل رہی ہے، بہت بڑی زیادتی ہے۔
* اسی طرح کسی کو یہ کہنا کہ ”میں نے سمجھایا بھی تھا اگر میری مان لیتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے!“ یہ بھی بہت پریشان کن اور تکلیف دہ جملہ ہے، اس سے بھی بچنا چاہیے۔
*یونہی مریض کے پاس زیادہ دیر بیٹھے رہنا، مرض کی ہولناکی سے ڈرانا، مایوسی کی باتیں کرنا بھی اس کے لئے پریشانی میں اضافے کا سبب ہوتا ہے۔
اگر آپ کے پاس کسی کو تسلی دینے کے لئےالفاظ نہیں ہیں تو خاموش رہنا سب سے بہتر ہے۔یاد رکھیے!یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے،جو آج کسی کی مجبوری کا مذاق اڑاتی ہے یا اسے دکھ دیتی ہے تو کل وہ خود بھی ایسی صورتحال کا شکار ہوگی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کرو ،کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ پاک اس پر رحم فرما کر اسے(اس مصیبت سے) نجات دے دے اور تمہیں اس میں مبتلا کر دے۔ ([1])
اسی طرح ایک حدیثِ پاک میں ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ ([2])
بزرگ فرماتے ہیں: اگر تمہارے پاس کسی کے دکھ کا علاج نہیں ہے تو کم ازکم اپنی زبان کو لگام دو کیونکہ تمہارا ایک جملہ کسی گرتے ہوئے انسان کو مکمل تباہ کر سکتا ہے۔
اللہ پاک کے آخری و پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم چونکہ اپنی امت پر اتنے مہربان ہیں کہ آپ کو ان کی تکلیف گراں گزرتی ہے،لہٰذا اس سنت پر عمل کرتے ہوئے دوسروں کو مزید دکھ مت دیجئے۔
محترمہ بنتِ فضل الحق عطاریہ
(طالبہ: درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)
مصیبتیں انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں، کوئی بھی انسان اس سے خالی نہیں؛ کوئی بیماری کی وجہ سے پریشان ہے تو کوئی اولاد کی وجہ سے، کوئی تنگ دست ہے تو کسی کے کاروبار کے مسائل ہیں اور کوئی قرضے میں ڈوبا ہوا ہے۔الغرض بہت سی پریشانیاں ہیں جن کا شمار مشکل ہے،لہٰذا مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں چاہئے کہ ایک دوسرے کی تکالیف کا احساس کریں، مصیبت زدہ کو تکلیف دینے کے بجائے اس کے دکھ درد میں شریک ہوں، اسے مالی یا جسمانی مدد کی ضرورت ہو تو مدد فراہم کریں،نیز مصیبت میں مبتلا ہونے کے اسباب کی طرف توجہ دلائیں،جیسا کہ الله پاک قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ(۳۰) (پ 25، الشوریٰ: 30)
ترجمہ: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو وہ معاف فرما دیتا ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان پر آنے والی مصیبتوں کا ایک سبب اس کا الله پاک کی نافرمانی اور گناہ کرنا بھی ہے، لہٰذا ہمیں چاہئے کہ خود بھی گناہوں سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں،نیز نہایت حکمتِ عملی کے ساتھ مصیبت زدہ شخص کی اس طرف توجہ دلائیں،توبہ کی ترغیب دیں اور نیکیوں کی طرف راغب کریں۔
البتہ!کسی کے بارے بد گُمانی ہرگز نہ کریں کہ اس کی یہ مصیبت اس کے گناہوں کے سبب سے ہے، عین ممکن ہے وہ مصیبت اس کی آزمائش ہو جو اس کے گناہوں کے کفارے کا سبب ہو،جیسا کہ الله پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) (پ2،البقرۃ:155)
ترجمہ: اور ہم ضرور تمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس کے علاوہ مصیبتوں پر صبر کے فضائل اور گناہوں کے کفارے کا ذکر کر کے اس کا حوصلہ بڑھائیں، جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:مسلمان مرد و عورت کے جان و مال اور اولاد میں ہمیشہ مصیبت رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ الله پاک سے اس حال میں ملتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ ([3])
اسی طرح حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:مومن کو کوئی کانٹا نہیں چبھتا یا اس سے زیادہ کوئی تکلیف نہیں ہوتی مگر الله پاک اس سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا اس کی بنا پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے۔ ([4])
حضرت جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے،حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے کہ کاش!دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔ ([5])
دیکھا جائے تو مصیبتیں بھی الله پاک کی نعمت ہیں کہ یہ ہمارے گناہوں کے کفارے کا سبب بنتی اور درجات بلند کرتی ہیں۔الله کریم ہمیں مصیبتوں پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
[1] ترمذی، 4/227، حدیث: 2514 مفہوماً
[2] بخاری، 1/15، حدیث: 10
[3] ترمذی، 4/ 179، حدیث:2407
[4] مسلم، ص 1067، حدیث:6562
[5] ترمذی ،4/180،حدیث:2410
Comments