موضوع:استقامت
جب رات ہوتی اور لوگ سو جاتے تو حضرت رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیہا خود سے کہتیں:رابعہ!شاید یہ زندگی کی آخری رات ہو،ہو سکتا ہے تجھے کل کا سورج دیکھنا نصیب نہ ہو،اُٹھ اور اپنے رب کی عبادت کر لے تاکہ قیامت کے روز شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے،ہمت کر! سونا مت!جاگ کر اپنے رب کی عبادت کر!پھر صبح تک نوافل ادا کرتیں، نمازِ فجر کے بعد دوبارہ خود سے کہتیں:اے نفس!تمہیں مبارک ہو! پچھلی رات تو نے بڑی تکلیف اُٹھائی مگر یاد رکھ!یہ دن زندگی کا آخری دن ہو سکتا ہے،یہ کہہ کر عبادت میں مشغول ہو جاتیں،نیند کا غلبہ ہوتا تو گھر میں ٹہلنے لگتیں اور خود سے کہتیں:رابعہ!یہ بھی کوئی نیند ہے!اس کا کیا لطف!اسے چھوڑ اور قبر میں مزے سے لمبی مدّت تک سوتی رہنا، آج تو تجھے زیادہ نیند نہیں آئی لیکن آنے والی رات نیند خوب آئے گی، ہمت کر اور اپنے ربّ کو راضی کر لے۔اس طرح کرتے کرتے آپ نے 50 سال گزار دئیے،نہ کبھی بستر پر دراز ہوئیں،نہ تکیے پر سر رکھا، یہاں تک کہ دنیا سے رخصت ہو گئیں۔([1])
سبحان اللہ!حضرت رابعہ رحمۃ اللہ علیہا کی استقامت پر قربان جائیے کہ مسلسل پچاس سال ربِّ کریم کی عبادت میں مصروف رہتے ہوئے گزارے۔استقامت واقعی ایک عظیم سعادت ہے جس کا بیان قرآن و حدیث میں کئی جگہ آیا ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم جوش میں آکر عبادات کا آغاز تو بڑے شوق سے کر دیتی ہیں،توبہ کے آنسو بہا کر گناہوں سے کنارہ کش ہونے کا عزم بھی کر لیتی ہیں،مگر چند ہی دنوں بعد سستی اور غفلت آہستہ آہستہ دل پر چھا جاتی ہے اور استقامت کا چراغ مدھم پڑنے لگتا ہے۔یاد رکھیے!فرض عبادات تو ہر حال میں ہماری ذمہ داری ہے،لیکن نوافل،تلاوت،ذکر و درود،اجتماعات اور درس و مطالعہ ہی وہ اعمال ہیں جو روح کو تازگی بخشتے ہیں۔ان پر ثابت قدمی کے لئے ضروری ہے کہ سستی کو بہانہ نہ بنائیں،بلکہ مضبوط ارادے کے ساتھ اپنے اوقات کو اس طرح سنواریں کہ نیکیاں معمول بن جائیں۔ کیونکہ ایک بار نیکی چھوٹ جائے تو دل کا شوق بھی کم ہونے لگتا ہے،اور پھر واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جن کاموں کو ہم مستقل مزاجی سے کرتی ہیں،وہ ہماری عادت بن جاتے ہیں اور بوجھ محسوس نہیں ہوتے، بلکہ اگر کبھی ناغہ ہو جائے تو دل میں ایک خلا سا پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ابتدا میں چاہے دل آمادہ نہ بھی ہو،خود کو عبادات کی طرف مائل کیجیے اور پابندی کے ساتھ نیک اعمال انجام دیتی رہیے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہی اعمال دل کی راحت اور روح کی لذت بن جائیں گے۔اگر کبھی مجبوری سے کوئی نیکی رہ جائے تو اسے معمول نہ بننے دیجیے،فوراً سنبھل کر دوبارہ اپنے راستے پر آ جائیے۔ توبہ پر ثابت قدمی کے لئے گناہوں کے اسباب سے دوری بھی ضروری ہے۔بری صحبت،نامناسب مجالس اور گناہ پر ابھارنے والے مناظر سے بچیے۔آغاز ہی میں نفس کی مخالفت کر لی جائے تو گناہ چھوڑنا آسان ہوتا ہے،ورنہ تکرار اسے عادت بنا دیتی ہے اور پھر واپسی دشوار ہو جاتی ہے۔
نیکیوں پر چلنے اور گناہوں سے بچنے کی راہ میں آنے والی آزمائشوں کا ہمت و حوصلے سے سامنا کیجیے۔حالات ذرا سے ناموافق ہوں تو استقامت کا دامن ہرگز نہ چھوڑیے،بلکہ بلند ہمتی کو شعار بنائیے۔ نیکیوں کے فضائل اور گناہوں کے انجام کو سامنے رکھ کر مضبوط عزم کے ساتھ ثابت قدم رہیے۔ساتھ ہی رب کی بارگاہ میں استقامت کی دعائیں بھی مانگتی رہیے۔اللہ پاک ہمیں ایمان،توبہ اور اعمالِ صالحہ پر استقامت عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہُ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی

Comments