حضور ﷺ کی عشرہ مبشرہ سے محبت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضور کی عشرۂ مبشرہ سے محبت

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 46ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)

محترمہ بنتِ واصم عطاریہ(فرسٹ پوزیشن)

(طالبہ:درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)

آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تمام صحابہ کرام ہی عادل اور جنتی ہیں اللہ پاک نے ان سب سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے، جیسا کہ فرمانِ باری ہے:

وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ- (پ 27، الحدید: 10)

ترجمہ:اور ان سب سے اللہ نے سب سے اچھی چیز کا وعدہ فرما لیا ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دنیا میں ترتیب کے ساتھ بالخصوص نام لے کر دس صحابہ کرام کو جنت کی بشارت عطا فرمائی جنہیں عشرۂ مبشرہ کہتے ہیں۔ان نفوسِ قدسیہ میں سے چار خلفائے راشدین یعنی حضرت صدیقِ اکبر،حضرت فاروق اعظم،حضرت عثمانِ غنی اور حضرت مولا علی رضی اللہ عنہم ہیں، ان کے علاوہ باقی چھ حضرات کے اسمائے مبارکہ یہ ہیں: حضرت طلحہ،حضرت زبیر،حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص،حضرت سعید بن زید اور حضرت ابو  عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم ۔

یوں تو نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کو اپنے تمام صحابہ سے محبت تھی اور تمام ہی صحابہ پوری امت میں سب سے بہترین لوگ ہیں،مگر عشرۂ مبشرہ تمام صحابہ کرام میں سب سے افضل اور اولین ایمان لانے والوں میں سے ہیں،حضور کی ان سے محبت ان کے ایمان،تقویٰ،ایثار اور اطاعت کی وجہ سے تھی کہ ان حضرات نے اس دور میں اسلام کی دعوت قبول کی جب ہر طرف جہالت کی تاریکیاں پھیلی تھیں،کفار حضور کی دعوت کا انکار اور آپ کی مخالفت کر رہے تھے اس وقت ان حضرات نے حضور کی اطاعت کی اور اپنے مال و جان حضور پر قربان کرنے کو تیار ہوگئے۔حضور کی عشرۂ مبشرہ سے محبت کا اظہار متعدد احادیث میں ملتا ہے،چند پیشِ خدمت ہیں:

محبوبانِ مصطفےٰ:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ارشاد فرمایا:عائشہ،میں نے عرض کی:مردوں میں؟ فرمایا:ابو بکر،میں نے عرض کی:ان کے بعد کون؟ فرمایا: عمر، میں نے پھر عرض کی:پھر کون؟فرمایا:عثمان،میں نے پھر پوچھا:پھر کون؟فرمایا:علی بن ابو طالب۔حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ پھر میں خاموش ہو گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا:اے عبد اللہ!جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھو،میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ!علی بن ابو طالب کے بعد کون آپ کو زیادہ محبوب ہے؟فرمایا:طلحہ،پھر زبیر،پھر سعد،پھر سعید،پھر عبد الرحمٰن بن عوف اور پھر ابو  عبیدہ بن جراح۔([1])

اظہارِ محبت کا نرالا انداز:

ایک روایت میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایک دن حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مسجد میں اس طرح تشریف لائے کہ ان میں سے ایک آپ کی دائیں جانب اور دوسرے بائیں جانب تھے اور سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان دونوں کے ہاتھوں کو پکڑ رکھا تھا،آپ نے فرمایا:ہم قیامت کے دن اسی طرح اٹھائے جائیں گے۔([2])

رضائے مصطفیٰ کے حاملین:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خلافت کا اس جماعت سے زیادہ حق دار کوئی نہیں کہ حضور نے جب وفات پائی تو آپ ان سے راضی تھے،پھر حضرت عمر نے حضرت علی،عثمان،زبیر،طلحہ،سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کا نام لیا۔([3])یعنی یہ حضرات وہ جماعت ہیں جن کے متعلق فاروقِ اعظم نے فرمایا کہ حضور ان سے راضی تھے۔

عشرۂ مبشرہ سے بغض کا انجام:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   نے فرمایا:اے مسلمانوں کے گروہ!اگر تم اللہ  پاک کی عبادت کرو یہاں تک کہ تم کمان کی طرح ہو جاؤ اور خاموشی اختیار کرو یہاں تک کہ تم کیلوں کی طرح ہو جاؤ اور تم نماز پڑھو یہاں تک کہ تم سے سوار ٹھہر جائے اور تم اصحابِ عشرہ(مبشرہ)سے بغض رکھو تو اللہ تمہیں اوندھے منہ ضرور جہنم میں گرائے گا۔([4])

ان احادیثِ مبارکہ سے حضور کی عشرۂ مبشرہ سے محبت اور ان سے راضی ہونے کا ثبوت ملتا ہے نیز یہ معلوم ہوا کہ ان سے بغض رکھنے والا جہنم کا حق دار ہے۔

محترمہ بنتِ محمد اسماعیل عطاریہ

(طالبہ:درجۂ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ رضا سرجانی ٹاؤن)

عشرۂ مبشرہ سے مراد وہ خوش نصیب صحابہ کرام ہیں جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت عطا فرما دی،ان میں درج ذیل مبارک ہستیاں شامل ہیں:حضرت ابوبکر صدیق،حضرت عمر،حضرت عثمانِ غنی،حضرت علی المرتضی،حضرت طلحہ،حضرت زبیر،حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص،حضرت سعید بن زید، حضرت ابو  عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم ۔

خصوصیاتِ عشرۂ مبشرہ بزبانِ نبی الرحمہ:

نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم عشرۂ مبشرہ سے محبت فرمایا کرتے جس کا ثبوت کئی احادیثِ کریمہ سے ملتا ہے،کئی مقامات پر حضور نے امت کے ان روشن ستاروں کے فضائلِ عظیمہ کو اپنی زبانِ اقدس سے بیان فرمایا،چنانچہ

سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میری ساری امت میں سب سے زیادہ رحم دل ابو بکر ہیں۔دین میں سب سے زیادہ مضبوط عمر ہیں۔حیا میں سب سے بڑھ کر عثمان اور سب سے زیادہ قوتِ فیصلہ کے مالک علی بن ابو طالب ہیں۔ ہر نبی کے حواری(مددگار)تھے اور میرے حواری طلحہ و زبیر ہیں۔ سعد بن ابی وقاص جہاں ہوں گے حق ان کے ساتھ ہو گا، سعید بن زید محبوبانِ خدا میں سے ہیں،عبد الرحمن بن عوف اللہ پاک کے تاجروں میں سے ہیں،ابو عبیدہ بن جراح اللہ پاک اور اس کے رسول کے امین ہیں۔ہر نبی کا محرمِ راز ہوتا ہے اور میرا محرمِ راز امیر معاویہ بن ابی سفیان ہے۔ان سب سے محبت کرنے والا نجات پا گیا اور بغض رکھنے والا تباہ ہو گیا۔([5])

عشرۂ مبشرہ کے لئے رضائے مصطفی کا پروانہ:

حضرت سہل بن مالک رضی اللہ عنہ اپنے جدِ امجد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حجۃ الوداع سے لوٹے تو منبر پر تشریف لا کر اللہ پاک کی حمد و ثنا کے بعد ارشاد فرمایا:اے لوگو!ابوبکر نے مجھے کبھی بھی دکھ نہیں دیا۔اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو۔ اے لوگو!عمر،عثمان،علی،طلحہ،زبیر،سعد بن مالک،عبد الرحمن بن عوف اور اول مہاجرین تمام سے میں راضی ہوں اور اس بات کو بھی اچھی طرح سمجھ لو۔([6])اسی طرح کئی اور بھی واقعات و روایات اس محبت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ امت کے ان روشن ستاروں کی برکت سے ہمیں عشقِ رسول کی دولت نصیب فرمائے۔اٰمین



[1] ریاض النضرۃ،1/33

[2] ترمذی،5/378،حدیث:3689

[3] مشکاۃ المصابیح،2/431،حدیث:6108

[4] ریاض النضرۃ،1/34

[5] ریاض النضرۃ،1/36

[6] معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم،ص 1317،رقم:3313


Share