موضوع:حضرت یوشع علیہ السلام کے معجزات و عجائبات(دوسری وآخری قسط)
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو اللہ پاک نے آپ کو آپ کی موت کی خبر دیتے ہوئے وحی فرمائی کہ آپ کے بعد حضرت یوشع علیہ السلام نبوت کے منصب پر فائز ہوں گے اور لوگوں کی قیادت کریں گے،پھر جب وہ لوگوں کی قیادت سنبھال لیں گے تو یہی وقت آپ کی دنیا سے رخصتی کا ہو گا۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یوشع علیہ السلام کو اپنی تمام ذمہ داریاں سونپ دیں تو جس دن دنیا سے رخصت ہونا تھا،اس کی صبح آپ حضرت یوشع علیہ السلام کے پاس تشریف لائے اور دروازہ کھٹکھٹایا، حضرت یوشع علیہ السلام اس وقت آرام فرما رہے تھے،جب بیدار ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا یوں منتظر پاکر گھبرا گئے۔مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں اس معاملے میں کچھ نہ کہا، البتہ! انہیں ساتھ لے کر پہاڑ کی طرف چل دئیے اور راستے میں انہیں وصیتیں بھی کرتے جاتے تھے کہ بنی اسرائیل کے ساتھ یوں یوں کیجئے گا۔ پھر جب ایک خاص مقام تک پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت یوشع علیہ السلام کو واپس جانے کے لئے فرمایا،(ادھر حضرت یوشع علیہ السلام بھی گویا جان چکے تھے کہ یہ لمحات حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دنیا سے رخصتی کے ہیں، لہٰذا ) انہوں نے ان لمحات میں انہیں تنہا چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ نہیں چاہتے تھے کہ دنیا سے رخصتی کے لمحات میں کوئی ان کے قریب ہو،لہٰذا انہوں نے حضرت یوشع علیہ السلام کو خود سے دور کرنے کے لئے اپنی جوتیاں اس طرح اتاریں کہ وہ پہاڑی ڈھلان پر سے نیچے کی جانب لڑھکنے لگیں اور آپ نے حضرت یوشع علیہ السلام سے فرمایا کہ (ٹھیک ہے نہیں جانا چاہتے تو نہ جائیں مگر)میری جوتیاں لے آئیں۔ جب حضرت یوشع علیہ السلام جوتیاں لینے کے لئے گئے تو اللہ پاک نے ایک نور حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع علیہما السلام کے درمیان حائل فرما دیا اور وہ واپسی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تک نہ پہنچ سکے۔چنانچہ وہ واپس بنی اسرائیل کے پاس آئے اور انہیں سارا واقعہ بتایا۔لوگ پہاڑ کے اس مقام پر پہنچے تو دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی روح قبض ہو چکی تھی اور ان پر پتھر چن دیئے گئے تھے۔ ([1])
مشنِ موسوی کی تکمیل:
اللہ پاک نے حضرت موسیٰ کو اپنی قوم کے ساتھ مل کر قومِ جبارین سے جنگ کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تھا،مگر قوم نے لڑنے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے انہیں میدانِ تیہ میں محصور کر دیا گیا،تیہ میں حضرت موسیٰ و ہارون سمیت تمام لوگ وفات پاگئے تھے سوائے حضرت کالب اور یوشع کے،چنانچہ جب تیہ کی سزا مکمل ہوئی اور حضرت یوشع نے ان کی نسلوں کو قوم جبارین سے جہاد کا حکم سنایا تو چونکہ وہ اپنے آباؤ اجداد کا انجام دیکھ چکے تھے،لہٰذا انہیں مجالِ انکار نہ ہوئی اور انہوں نے حضرت یوشع کی قیادت میں قومِ جبارین سے جہاد کیا۔([2])
حضرت یوشع بنی اسرائیل کو لے کر میدانِ تیہ سے نکلے تو اس وقت آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے چھ لاکھ سے زیادہ افراد تھے،حضرت یوشع نے ان کے ساتھ نہرِ اردن پار کی اور اریحا کے مقام پر پہنچے جو سب سے بلند اور مضبوط فصیلوں والا قلعہ تھا،چھ ماہ تک اس کا محاصرہ جاری رہا بالآخر ایک دن قلعے کی دیوار کا کچھ حصہ گرا کر شہر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور وہاں گھمسان کی جنگ ہوئی۔([3])
سورج کا رک جانا:
جس دن یہ جنگ ہوئی وہ جمعہ کا دن تھا،جنگ ابھی زور و شور سے جاری تھی اور فتح بالکل نزدیک تھی کہ سورج ڈھلنے کے قریب ہوگیا،بنی اسرائیل کے لئے ہفتے کے دن جنگ و جہاد اور شکار وغیرہ کی اجازت نہیں تھی،لہٰذا اگر سورج غروب ہوجاتا اور ہفتے کا دن داخل ہوجاتا تو جنگ بند کرنا لازم ہوجاتا اس طرح ان کی فتح شکست میں بدل جاتی،چنانچہ حضرت یوشع علیہ السلام نے سورج سے فرمایا:اے سورج!تو بھی اللہ پاک کے حکم کا پابند ہے اور میں بھی،اے اللہ!میری خاطر اسے روک دے، اللہ پاک نے سورج کو ان کے لئے روک دیا اور انہوں نے اریحا شہر فتح کرلیا۔([4])
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:ایک نبی غزوے کے لئے تشریف لے گئے اور اپنی قوم سے فرمایا:جس شخص نے ابھی نکاح کیا ہو اور اب تک اس نے شبِ زفاف نہیں گزاری اور وہ یہ عمل کرنا چاہتا ہے تو وہ میرے ساتھ نہ چلے اور وہ شخص بھی نہ جائے جس نے مکان بنایا اور ابھی تک اس کی چھت نہیں ڈالی اور نہ وہ شخص جائے جس نے بکریاں اور گابھن اونٹنیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچہ جننے کا منتظر ہے۔پھر اس نبی نے جہاد کیا اور عصر کی نماز کے وقت یا اس کے قریب وہ ایک دیہات میں پہنچے تو انہوں نے سورج سے کہا:تو بھی حکم ِالٰہی کے ماتحت ہے اور میں بھی حکمِ الٰہی کا تابع ہوں،اے اللہ!اس سورج کو تھوڑی دیر میری خاطر روک دے۔ان کی خاطر سورج روک دیا گیا یہاں تک کہ اللہ پاک نے انہیں فتح عطا فرمائی،پھر انہوں نے مالِ غنیمت ایک جگہ جمع کیا اور اسے کھانے کے لئے (آسمان سے) آگ آئی،لیکن اس نے مال نہ کھایا۔انہوں نے فرمایا:تم میں سے کسی نے خیانت کی ہے،لہٰذا ہر قبیلے کا ایک شخص مجھ سے بیعت کرے،پھر سب نے بیعت کی تو ایک شخص کا ہاتھ اس نبی کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔انہوں نے فرمایا: تمہارے قبیلے میں سے کسی نے خیانت کی ہے۔بالآخر وہ گائے کے سر کے برابر سونا نکال کر لائے تو نبی نے فرمایا:اسے مال غنیمت میں اونچی جگہ رکھ دو۔ اس کے بعد آگ آئی اور اس نے سارا مال کھا لیا۔حضور نے ارشاد فرمایا:ہم سے پہلے کسی کے لئے بھی مالِ غنیمت حلال نہیں کیا گیا لیکن جب اللہ پاک نے ہمارا ضعف و عجز دیکھا تو ہمارے لئے مالِ غنیمت حلال کر دیا۔([5])
شارحِ بخاری علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:وہ نبی حضرت یوشع بن نون تھے۔حضرت موسیٰ کے دنیا سے پردہ فرما نے کے چالیس سال بعد اللہ پاک نے انہیں مبعوث فرمایا،انہوں نے بنی اسرائیل کو خبر دی کہ میں اللہ پاک کا نبی ہوں اور اللہ پاک نے مجھے قوم جبارین سے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے۔بنی اسرائیل نے ان کی تصدیق کی اور ان کے ہاتھ پر بیعت بھی کی۔پھر انہوں نے بنی اسرائیل کے ساتھ اُرَیْحا کا قصد فرمایا،ان کے پاس تابوتِ میثاق بھی تھا انہوں نے چھ مہینے تک اس بستی کا احاطہ کیے رکھا،ساتویں مہینے اس بستی کی دیواریں گرانے میں کامیاب ہوئے،توانہوں نے بستی میں داخل ہوکر قومِ جبارین سے جہاد شروع کر دیا۔یہ جمعہ کا دن تھا۔پورے دن جہاد ہوتا رہا لیکن ابھی جہاد مکمل نہ ہوا تھا، قریب تھا کہ سورج غروب ہو جاتا اور ہفتے کی رات شروع ہو جاتی(ان کی شریعت میں ہفتے کو جہاد جائز نہ تھا([6]))چنانچہ
حضرت یوشع کو خوف ہوا کہ کہیں اُن کی قوم عاجز نہ آ جائے۔آپ نے اللہ پاک سے دعا کی:اے اللہ!سورج کو واپس لوٹا دے، انہوں نے سورج سے کہا:تو اللہ پاک کی اطاعت پر مامور ہے اور میں بھی اللہ پاک کے حکم کا پابند ہوں،یعنی تو غروب ہونے پر مامور ہے اور میں نماز پڑھنے پر یا غروب سے پہلے قتال کرنے پر مامور ہوں،پس اللہ پاک نے ان کے لئے سورج کو ٹھہرا دیا اور غروبِ آفتاب سے قبل انہیں فتح نصیب ہو گئی۔([7])
علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سورج کے رکنے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:جمعہ کے دن وہ(یعنی حضرت یوشع)بیت المقدس میں قومِ جبارین سے جہاد فرما رہے تھے ناگہاں (اچانک)سورج ڈوبنے لگا اور یہ خطرہ پیدا ہوگیا کہ اگر سورج غروب ہوگیاتو سنیچر(ہفتے)کا دن آجائے گا اورسنیچر کے دن موسوی شریعت کے حکم کے مطابق جہاد نہ ہو سکے گا تو اس وقت اﷲ پاک نے ایک گھڑی تک سورج کو چلنے سے روک دیا یہاں تک کہ حضرت یوشع بن نون علیہ السلام قومِ جبارین پر فتح یاب ہوکر جہاد سے فارغ ہوگئے۔([8])
ایک روایت میں ہے:بےشک کسی انسان کی وجہ سے سورج کو نہیں روکا گیا سوائے حضرت یوشع کے،(ان کے لئے) ایک رات (سورج غروب ہونے سے روک دیا گیا یہاں تک کہ)آپ بیت المقدس پہنچ گئے۔([9])
یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بیت المقدس کی فتح حضرت یوشع کے زمانے میں ہوئی نہ کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں،یہ حضرت یوشع علیہ السلام کے خصائص میں سے ہے۔([10])حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ توقع تھی کہ ارضِ مقدس کی فتح ان کے زمانے میں ہوگی،مگر تقدیرِ خداوندی کے مطابق یہ امر حضرت موسیٰ کے زمانے میں نہیں بلکہ ان کے ساتھی حضرت یوشع کے زمانے میں مقرر تھا،یہ واقعہ ایسا ہی ہے جیسے حضور نے شام میں رومیوں کے خلاف جہاد کا ارادہ فرمایا۔آپ 9 ھ میں تبوک تک تشریف لے گئے،پھر اسی سال واپس تشریف لائے۔اس کے بعد 10 ھ میں حج ادا فرمایا،پھر واپسی پر شام کی طرف پیش قدمی کے لئے حضرت اسامہ کی قیادت میں ایک لشکر تیار فرمایا جو آپ کے آگے پیش رَو تھا۔آپ خود بھی ان کے پیچھے نکلنے کا عزم رکھتے تھے،لیکن جب حضور نے لشکرِ اسامہ کو تیار فرمایا تو آپ کا وصال ہو گیا اور اس وقت لشکر جُرف کے مقام پر خیمہ زن تھا۔چنانچہ آپ کے سچے جانشین اور خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق نے اس لشکر کو روانہ کیا۔پھر جب جزیرۂ عرب میں پھیلی ہوئی فتنہ انگیزی ختم ہو گئی،حالات سنبھل گئے اور حق اپنے مقام پر واپس آ گیا،تو حضرت ابو بکر نے دائیں بائیں طرف لشکر روانہ کیے،ایک عراق کی جانب،جہاں فارس کے بادشاہ کسریٰ کی حکومت تھی اور دوسرے شام کی طرف، جہاں رومی بادشاہ قیصر کی سلطنت تھی۔اللہ پاک نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی،انہیں غلبہ بخشا اور دشمنوں کی پیشانیاں ان کے قبضے میں دے دیں۔
بالکل اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی اللہ پاک کے حکم کے مطابق بنی اسرائیل کو منظم کیا اور ان پر نگران مقرر فرمایا،مگر فتح سے پہلے آپ وصال فرماگئے اور جس مشن کا آغاز حضرت موسیٰ نے فرمایا تھا اس کی تکمیل آپ کے سچے جانشین اور نائب حضرت یوشع نے فرمائی،پھر جب بنی اسرائیل نے حکمِ خداوندی کو پورا کیا تو اللہ پاک نے ارضِ مقدس کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں اور سلطنتوں پر بھی انہیں غلبہ عطا فرمایا۔([11])
فتحِ ارضِ مقدس کے نتائج:
علامہ ابنِ کثیر نے لکھا ہے کہ اس جنگ میں بے شمار مال و دولت ہاتھ آیا،بارہ ہزار مَردوں اور عورتوں کو قتل کیا گیا، بہت سے بادشاہوں سے جنگ چھڑی۔کہا جاتا ہے کہ حضرت یوشع علیہ السلام نے شام کے اکتیس بادشاہوں پر غلبہ پایا تھا۔([12])
دیگر فتوحات:
حضرت یوشع علیہ السلام فتحِ ارضِ مقدس کے بعد کنعان کے دوسرے شہروں کو فتح کرتے ہوئے ارضِ فلسطین میں داخل ہوگئے۔اس طرح اللہ پاک نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے کنعان،فلسطین اور شام تک کا پورا علاقہ بنی اسرائیل کے حوالے کردیا۔
اس فتح کے بعد حضرت یوشع نے عمالقہ و دیگر بادشاہوں سے بھی جہاد کیا اور ان پر غلبہ پایا۔علامہ ابنِ جوزی کی کتاب” المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم“کے مطابق اس کی کچھ تفصیلات درج ذیل ہیں:
*حضرت یوشع نے عمالقہ قوم سے جنگ کی،جن کا سردار سمیدع بن ہویر تھا۔ایلہ کے مقام پر یہ مقابلہ ہوا،سمیدع مارا گیا اور عمالقہ کی بڑی تعداد قتل ہوئی۔
*ہشام بن محمد کلبی کا کہنا ہے کہ حضرت یوشع کے ہاتھوں قتل کے بعد کچھ کنعانی باقی رہ گئے تھے۔بعد میں افریقیش بن قیس نامی شخص افریقہ کی طرف جاتے ہوئے ان لوگوں کو ساتھ لے گیا،وہاں کے بادشاہوں کو قتل کیا اور ان کنعانیوں کو وہاں آباد کیا۔یہی لوگ بعد میں بربر کہلائے، کیونکہ افریقیش نے ان کی زبان سن کر کہا تھا:تم بہت زیادہ بربر بربر کرتے ہو،اسی سے ان کا نام بربر پڑ گیا۔
*اسی طرح حضرت یوشع نے ایک اور بادشاہ سے جنگ کی،اسے شکست دے کر سولی پر لٹکایا،شہر کو جلا دیا اور بارہ ہزار افراد کو قتل کیا۔
*ایک اور بستی کے لوگوں نے دھوکا دے کر امان حاصل کی،مگر بعد میں بدعہدی کی تو حضرت یوشع نے ان کے خلاف دعا کی کہ وہ ہمیشہ لکڑیاں کاٹنے والے اور پانی بھرنے والے رہیں۔چنانچہ وہ ایسے ہی بن گئے۔
*پانچ بادشاہ بھاگ کر ایک غار میں چھپ گئے۔حضرت یوشع نے غار کا دہانہ بند کروا دیا،دشمنوں سے فارغ ہو کر انہیں باہر نکلوایا،قتل کیا اور سولی پر لٹکا دیا۔
*الغرض حضرت یوشع علیہ السلام نے مجموعی طور پر 31 بادشاہوں کو شکست دی،زمین فتح کی اور بنی اسرائیل میں تقسیم کی۔([13])
فتحِ بیت المقدس کے بعد:
جب بنی اسرائیل بیت المقدس کو فتح کر کے اس میں رہائش پذیر ہو گئے تو آپ اللہ پاک کی کتاب تورات کے مطابق ایک عرصے تک ان کے درمیان فیصلے فرماتے رہے جب آپ کی عمر مبارک 127 سال ہوئی تو اللہ پاک نے آپ کی روح قبض فرمالی۔([14])حضرت موسیٰ کے بعد آپ نے 27 سال تک بنی اسرائیل کی قیادت فرمائی۔([15])
نیک و بد سب کی ہلاکت:
حضرت وضین بن عطاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اللہ پاک نے حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ میں تمہاری قوم کے ایک لاکھ چالیس ہزار نیک لوگوں اور ساٹھ ہزار برے لوگوں کو ہلاک کر دوں گا۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے(حکمت جاننے کے لئے)عرض کی: اے میرے رب!تو ان کے برے لوگوں کو ہلاک فرما دے لیکن ان کے نیک لوگ کس بنا پر ہلاک کیے جائیں گے۔ ارشاد فرمایا:یہ برے لوگوں کے پاس جاتے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں اور میری ناراضی سے صَرفِ نظر کر کے(ان کے گناہوں اور نافرمانیوں پر)غصہ نہیں کرتے۔([16])
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ پاک کے نافرمانوں کی صحبت میں بیٹھنا اور قدرت کے باوجود انہیں ربکی نافرمانی سے منع نہ کرنا اور برائیوں سے نہ روکنا نیک لوگوں کو بھی اللہ پاک کے غضب و عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔([17])
[1] تاریخ ابن عساکر،74/268،267
[2] المنتظم ،1/377 ماخوذاً
[3] البدایہ و النہایہ ،1/425 ملخصاً
[4] البدایہ و النہایہ ،1/425 ملخصاً
[5] مسلم،ص 743،حدیث:4555
[6] مرقاۃ المفاتیح،7/600،تحت الحدیث:4033
[7] عمدۃ القاری،10/453،454،تحت الحدیث:3124
[8] سیرت مصطفیٰ،ص 727
[9] مسند امام احمد،14/65،حدیث:8315
[10] البدایہ و النہایہ ،1/426
[11] البدایہ و النہایہ ،1/422
[12] البدایہ و النہایہ ،1/425
[13] المنتظم ،1/378،379 ملخصاً
[14] البدایہ و النہایہ ،1/429
[15] المنتظم ،1/379
[16] شعب الایمان،7/53،حدیث:9428
[17] سیرت الانبیاء،ص 657
Comments