ہفتہ کے دن اور رات کی عبادت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع: ہفتہ کے دن اور رات کی عبادات

ہفتے کے دن کا یہود کے ہاں وہی مقام و مرتبہ ہے جو ہمارے ہاں جمعہ کا ہے گویا جس طرح جمعہ کا دن ہفتہ وار عید کا دن ہے،اسی طرح یہود کے لئے یہ دن ہفتہ وار عید کی حیثیت رکھتا ہے۔قرآنِ پاک میں یوم السبت یعنی  ہفتے کا  ذکر سات مقامات پر  آیا ہے۔([1])

*حضرت ابو ہریرہ سے منقول ہے کہ حضور نے فرمایا: زمین کو ہفتے کے دن پیدا فرمایا  گیا۔ ([2])

*ایک قول کے مطابق اللہ پاک نے ہفتے کا دن حضرت موسیٰ اور دیگر 50 انبیائے کرام کو عطا فرمایا۔([3])

*ہفتے کا دن بھی بہت با برکت اور با عظمت ہے۔ہفتے کے دن کو تاریخی اعتبار سے کئی نسبتیں حاصل ہیں: نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم 11رمضان المبارک بروز ہفتہ تین سو پانچ مہاجرین و انصار صحابہ کرام  علیہم الرضوان کے ساتھ مدینۂ منورہ سے بدر کی جانب نکلے۔([4])

*حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہر ہفتے کے دن کبھی سوار تو کبھی پیدل قُبا  تشریف لے جاتے۔([5])  بعض روایا ت میں ہے کہ جو مدینہ پاک سے وضو کر کے مسجد قبا جائے وہاں دونفل پڑھے تو عمرے کا ثواب پائے۔اب بھی حجاج وغیرہ ہفتہ کے دن یہ عمل کرتے ہیں۔([6])

*اللہ  پاک نے ہفتے کے دن حضرت داود علیہ السلام کی قوم کے ستّر ہزار افراد پر مچھلی کے شکار کو حرام فرما دیا تھا۔([7])

دینِ اسلام نے جس طرح ہر دن کو نیکیوں میں بسر کرنےکے لئے ہماری راہ نمائی فرمائی  ہے،اسی طرح ہفتے کے دن کو بھی نیکیوں میں گزارنے کے لئے  چند اعمال بتائے ہیں جن پر عمل کی برکت سے  ہمارا یہ دن بھی خیر و برکت والا  بن سکتا ہے۔

ہفتے کے دن کاروزہ

اس دن کے معمولات میں سے ہے کہ اس دن روزہ رکھا جائے۔ ام المومنین حضرت اُمِّ سَلَمہ سے مروی ہے کہ حضور ہفتہ اور اتوار کا روزہ اکثر رکھا کرتے اور فرماتے:یہ دونوں(ہفتہ اور اتوار)مشرکین کی عید کے دن ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کی مخالفت کروں۔([8])

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ہفتے کے دن کا روزہ فرض روزوں کے علاوہ مت رکھو۔ تو اس کے متعلق حضرت امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ حدیث حسن ہے اور یہاں ممانعت سے مراد کسی کا ہفتے کے روزے کو خاص کر لینا ہے کہ یہودی ہفتے کے دن کی تعظیم کرتے ہیں۔([9])

اس حدیثِ پاک کے تحت مشہور محدث،حکیم الاُمَّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:نفلی روزہ صرف ہفتہ کے دن نہ رکھو،کیونکہ اس میں یہود سے مشابہت ہے کہ وہ اگرچہ اس دن روزہ تو نہیں رکھتے مگر اس کی تعظیم بہت ہی کرتے ہیں،تمہارے اس روزے میں ان سے اشتباہ ہو گا۔جمہور علما  کا قول یہ ہے کہ یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے۔اگر ہفتہ کے ساتھ(کسی )اور دن (مثلاً:  اتوار یا جمعہ)کا بھی روزہ رکھ لیا جائے تو نہ مشابہت رہے گی نہ ممانعت۔([10])

معلوم ہوا ہفتہ والے دن روزہ رکھنا مطلقاً ممنوع یا مکروہ نہیں ہے بلکہ اس کی کچھ صورتیں ہیں:

*خاص صرف ہفتہ کے دن قصداً روزہ رکھنا۔یہ مکروہِ تنزیہی ہے یعنی جائز ہے لیکن نہ رکھنا بہتر۔

*خاص ہفتہ کے دن کا روزہ یہودیوں سے مشابہت کی نیت سے رکھنا یہ مکروہِ تحریمی ہے یعنی ناجائز و گناہ ہے۔

*مذکورہ دونوں صورتیں نہ ہوں جیسے کوئی شخص اپنے معمول کے روزے رکھ رہا ہے اور درمیان میں ہفتہ آ جائے،یا مستحب روزے ہفتہ کے دن آ جائیں،یا ہفتہ کے ساتھ ،آگے یا پیچھے ایک اور دن بھی روزہ رکھ رہا ہے۔یہ بالکل بلا کراہت جائز ہے۔ ([11])

ہفتہ کے دن کے اعمال

دیگر دنوں کی طرح ہفتے کے بھی اعمال منقول ہیں ، ان میں سے چند ملاحظہ کیجئے:

ہفتے کی با برکت صبح

ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں ہے:  عرض:حضور ایک استغاثہ پیش کرنا ہے(یعنی کورٹ میں درخواست دائر کرنی ہے)۔اس کے واسطے کونسا دن مناسب ہے؟ارشاد:اس کے لئے کوئی خاص دن مقرر نہیں البتہ حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ جو شخص کسی حاجت کو ہفتے کے دن صبح کے وقت قبلِ طلوعِ آفتاب اپنے گھر سے نکلے تو اس کی حاجت روائی(یعنی حاجت پوری ہونے) کا  میں ضامن(یعنی ذمہ دار) ہوں۔([12])

مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں: خیال رہے کہ سفر کے لئے ہفتہ ،سوموار اور جمعرات نہایت ہی مبارک ہیں جو کوئی ہفتہ کے دن سورج نکلنے سے پہلے سفر کو نکل جائے ان شاءالله کامیاب اور بامراد واپس ہوگا۔([13])

فاروقِ اعظم کا طریقہ

مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ ہر ہفتے کے دن مدینے شریف کے بالائی حصے میں تشریف لے جاتے،اگر آپ وہاں کسی غلام کو ایسا  کام کرتا دیکھتے جس کی اسے طاقت نہ  ہوتی تو آپ اس کا ہاتھ بٹاتے۔([14])  چنانچہ،

ہمیں بھی اس دن غریبوں اور کمزوروں کی مدد کرنی چاہیے کہ اس طرح امیرالمومنین حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے طریقے پر بھی عمل ہو جائے گا۔

ہفتے کا دن بھی دیگر دنوں کی طرح اللہ پاک کی عبادت، اطاعت اور نیکی کمانے کا قیمتی موقع ہے۔اس دن کو ہم فرض عبادات کے ساتھ ساتھ نفلی اعمال،ذکر و اذکار اور حُسنِ اخلاق کے ذریعے با برکت بنا سکتی ہیں۔جو ہر دن کو اللہ پاک کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے،اس کے لئے ہر دن خیر و برکت کا سبب بن جاتا ہے۔اللہ پاک ہمیں ہر دن کو اپنی عبادت اور اطاعت میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین



[1] فضائل الایام و الشہور،ص 240ملخصاً

[2] غنیۃ الطالبین،2/123

[3] غنیۃ  الطالبین،2/124

[4] فیضانِ فاروق اعظم،1/474ملخصاً

[5] مسلم،ص 556، حدیث:3396

[6] مراۃ المناجیح،1/432

[7] عجائب القرآن مع غرائب القرآن،ص34 ملخصاً

[8] ابنِ خزیمہ،3/318، حدیث:2167

[9] ترمذی،2/186،حدیث:744

[10] مراۃ المناجیح، 3/192ملتقطاً

[11] دار الافتاء اہلِ سنت غیر مطبوعہ،فتوی نمبر:WAT-1873

[12] مسند فردوس،3/519،حدیث:5620،ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت،ص 116

[13] مراۃ المناجیح،5/484

[14] احیاء علوم الدین،2/ 275


Share