موضوع:عقل مند کون؟
عَنْ اَبِیْ یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ،عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ قَالَ:اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَ عَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ،وَ الْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا وَ تَمَنَّی عَلَی اللہ ترجمہ:حضرت ابو یعلٰیٰ شَدَّاد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد والی زندگی کے لئے عمل کرے اور عاجز وہ ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کے باوجود اللہ پاک سے آرزو اور تمنا کرے۔([1])
شرحِ حدیث
حضرت علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ المفاتیح میں الفاظِ حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اَلْکَیِّسُ وہ ہے جو عقل مند،دور اندیش اور اپنے معاملات میں احتیاط برتنے والا ہو۔مَنْ دَانَ نَفْسَہُ یعنی اپنے نفس کو اللہ پاک کے حکم کے تابع کرے اور اللہ پاک کے حکم،اس کے فیصلوں اور تقدیر کے سامنے جھکا دے۔نفس کا محاسبہ کرنے کا ایک معنی یہ ہے کہ نفس کو ذلیل کرے اور اسے غلام بنالے یعنی اس کی سرکشی کو روکے۔امام نووی فرماتے ہیں:امام ترمذی اور دیگر علمائے کرام رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں:دَانَ نَفْسَہٗ کا معنی یہ ہے کہ وہ دنیا میں اپنے اعمال،احوال اور اقوال کا محاسبہ کرے۔اگر اعمال اچھے ہوں تو شکرِ الٰہی بجا لائے،اگر اعمال برے ہوں تو سچی توبہ کرے،اعمال میں جو کمی وکوتاہی ہو اُسے پورا کرے اور حسابِ آخرت سے پہلے اپنا حساب خود کر لے۔اَلْعَاجِزُ وہ بیوقوف انسان ہے جو گناہِ کبیرہ کا اِرتِکاب کرے اور بغیر توبہ و استغفار کے جنت کی اُمید کرے یعنی حرام کام کرے،واجبات و فرائض کو چھوڑے،توبہ بھی نہ کرے اور جنت میں جانے کی امید بھی رکھے۔([2])
حقیقی عقل مند کون؟
آج کل عقل مند اسے سمجھا جاتا ہے جو زیادہ پیسے کماتا ہو،جس کے پاس مال و دولت زیادہ ہو،جس کا بزنس بہت وسیع ہو،جس کی کئی کئی فیکٹریاں ہوں،جو بہت چالاکی سے رشوت کا لین دین کر لیتا ہو،جو بڑی آسانی سے معاملات میں ہیر پھیر کر لیتا ہو،حالانکہ یہ عقل مند نہیں بلکہ مکار ہے،کیونکہ حدیثِ مبارک میں عقلمند اس کو فرمایا گیا ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کمانے کے بجائے آخرت کے لئے عمل کرے۔جیسا کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:سب سے زیادہ عقل مند وہ مومن ہے جو موت کو کثرت سے یاد کرے اور اس کے لئے اچھے طریقے پر تیاری کرے،یہی(حقیقی)عقل مند لوگ ہیں۔([3])
معلوم ہوا کہ عقل مند وہ ہے جو ہر وقت اپنے اعمال کی اصلاح کی کوشش میں لگا رہے اور اس کے لئے وقتاً فوقتاً اپنے اعمال کا محاسبہ بھی کرتا رہے۔جیسا کہ سورۂ حشر میں ارشاد ہوا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ- (پ28،الحشر:18)
ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لئے آگے کیا بھیجا ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت کے تحت تفسیر ابنِ کثیر میں ہے:یعنی اپنا محاسبہ کر لو،اس سے پہلے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور غور کرو کہ تم رب کی بارگاہ میں لے جانے کے لئے کیا جمع کروا رہے ہو۔([4])
محاسبہ کرنے والوں کا حساب آسان ہو گا:
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:قیامت کے دن ان لوگوں کا حساب آسان ہو گا جو اللہ پاک کی رضا کے لئے دنیا میں اپنا مُحاسبہ کرتے ہیں۔([5])
دنیا آخرت کی کھیتی ہے:
اس دنیا میں ہرانسان مہمان ہے،جو ایک مخصوص مدت تک دنیا میں رہتا ہے اور پھر یہاں سے روانہ ہو جاتا ہے،لہٰذا دنیا کو اپنا مستقل ٹھکانہ سمجھ لینا نادانی ہے۔دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کو ہی اپنا مقصدِ زندگی بنا لینا حماقت ہے۔عقل مندی تو یہ ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے لئے کوشش کی جائے کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔قرآنِ پاک میں اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ ابْتَغِ فِیْمَاۤ اٰتٰىكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ (پ20،القصص:77)
ترجمہ:اور جو مال تجھے الله نے دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر طلب کر۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
معلوم ہوا کہ اللہ پاک نے انسان کو دنیا میں جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان کے ذریعے آخرت کو طلب کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور انہیں اللہ پاک کی اطاعت و فرمانبرداری میں استعمال کرنا چاہیے۔حضرت ابو حازم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: دیکھو کہ جس چیز کو تم آخرت میں اپنے ساتھ رکھنا پسند کرتے ہو اسے آج ہی آگے بھیج دو اور دیکھو کہ جسے ساتھ رکھنا پسند نہیں اسے آج ہی چھوڑ دو۔([6])
دنیا دار العمل ہے:
جو لوگ دنیا میں مگن ہو کر آخرت کو فراموش کر دیتے ہیں اور دنیا کمانے میں اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ انہیں موت یاد ہی نہیں رہتی،شاید وہ اس گمان میں ہیں کہ ابھی بہت عمر پڑی ہے،نیک اعمال بھی کر لیں گے، اللہ پاک کو بھی راضی کر لیں گے یا پھر ان کا ذہن یہ ہے کہ ابھی عیش کی زندگی گزار لو،آخرت میں جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ حالانکہ یاد رکھنا چاہیے کہ آخرت عمل کی جگہ نہیں،عمل کی جگہ دنیا ہے۔جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم فرماتے ہیں:فَاِنَّكُمُ الْيَوْمَ فِی دَارِ الْعَمَلِ وَ لَا حِسَابَ وَ اَنْتُم غَدًا فِیْ دَارِ الْحِسَابِ وَ لَا عَمَلَ یعنی آج تم دارُ العمل یعنی عمل کرنے کی جگہ میں ہو جہاں حساب نہیں اور کل تم دارُ الحساب میں ہو گے جہاں عمل نہیں۔([7])
مقصدِ حیات:
اللہ پاک نے ہمیں دنیا میں اس لئے نہیں بھیجا کہ ہم اسی کی ہو کر رہ جائیں بلکہ دنیا میں بھیجے جانے اور زندگی عطا فرمانے کا مقصد کیا ہے،اسے اللہ پاک نے یوں بیان فرمایا ہے:
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ- (پ29،الملک:2)
ترجمہ:وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون زیادہ اچھے عمل کرنے والا ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
معلوم ہوا کہ دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد ہمارے اعمال کا امتحان ہے اور اس امتحان میں وہی انسان کامیاب ہو گا جس کے اعمال اچھے ہوں گے۔لہٰذا نفسانی خواہشات کی پیروی میں مصروف رہنا اور اللہ پاک کی نافرمانی کے باوجود رحمتِ الٰہی کی اُمید رکھنا جہالت اور بے وقوفی ہے۔نفسانی خواہشات کی پیروی انسان کو ہلاک کر دیتی ہے۔چنانچہ،
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:تین چیزیں ہلاکت میں ڈالنے والی ہیں:(1)وہ بخل جس کی اطاعت کی جائے(2)وہ نفسانی خواہشات جن کی پیروی کی جائے اور(3)آدمی کا اپنے آپ کو اچھا سمجھنا۔([8])
نفسانی خواہشات کی پیروی کی مذمت:
نفسانی خواہشات کی پیروی کی مذمت بیان کرتے ہوئے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِؕ- (پ20،القصص:50)
ترجمہ:اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون جو اللہ کی طرف سے ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
نیز نفسانی خواہشات سے بچنے کا حکم اللہ پاک نے کچھ یوں ارشاد فرمایا:
وَ لَا تَتَّبِـعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ- (پ23،صٓ:26)
ترجمہ:اور نفس کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ورنہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دے گی۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اللہ پاک کے تمام نیک بندے نفسانی خواہشات کی پیروی سے بچتے،یہاں تک کہ اللہ پاک کے آخری وپیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بھی ان الفاظ سے دعا مانگا کرتے تھے:اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ھَوَیً مُطَاعٍ وَ شُحٍّ مُتَّبَعٍ ترجمہ:اے اللہ!میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس خواہش سے جس کی اطاعت کی جاتی ہے اور اس بخل سے جس کے پیچھے چلا جاتا ہے۔([9])
حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو نصیحت:
حضرت لقمان رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا:اے بیٹے!میں سب سے پہلے تجھے تیرے نفس سے ڈراتا ہوں کیونکہ ہر نفس کی ایک خواہش اور آرزو ہے،اگر تو نے اسے اس کی خواہش دے دی تو وہ حد سے بڑھ جائے گا اور تجھ سے مزید کی طلب کرے گا۔بلا شبہ خواہش دل میں اس طرح چھپی ہوتی ہے جیسے پتھر میں آگ۔اگر تو اسے دوسرے پتھر پر مارے گا تو آگ نکلے گی ورنہ نہیں۔ ([10]) ایک شاعر کہتا ہے:
وَ اعْلَمْ بِأَنَّكَ لَنْ تَسُودَ وَلَنْ تَرَىٰ
طُرُقَ الرَّشَادِ اِذَا اتَّبَعْتَ هَوَاكَ
ترجمہ:اگر تو نے اپنی خواہشات کی پیروی کی تو نہ تو سرداری حاصل کر سکے گا اور نہ تجھے سیدھا راستہ ملے گا۔([11])
رضاؔ نفس دشمن ہے دَم میں نہ آنا
کہاں تم نے دیکھے ہیں چندرانے والے
نیک اعمال کیے بغیر جنت کی تمنا کرنا:
جو ہر وقت اپنی خواہشات کی پیروی میں لگا رہے اور اللہ پاک کی رضا والے کام نہ کرے،پھر بھی جنت کی تمنا رکھے تو وہ ایسا ہے جو بیج بوئے بغیر فصل کاٹنے کی تمنا رکھے،یا محنت کیے بغیر کامیابی کی امید رکھے اور ایسا شخص یقیناً نادان ہے۔جیسا کہ حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:عمل کے بغیر جنت کی طلب گناہ ہے،بغیر کسی تعلق و سبب کے شفاعت کی امید رکھنا فریب کے سوا کچھ نہیں۔اللہ پاک کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے رحمت کی امید رکھنا جہالت اور بے وقوفی ہے۔([12])
حضرت عمر بن منصور رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک دوست کو لکھا:تو بُرے اعمال کے ساتھ لمبی عمر چاہتا ہے اور اللہ پاک سے آرزو رکھتا ہے!ہوش کر!تو ٹھنڈا لوہا کوٹ رہا ہے۔(یعنی بے فائدہ کام کر رہاہے۔)([13])
نیک اعمال کرنے ضروری ہیں:
معلوم ہوا کہ گناہ کر کے رحمتِ الٰہی کی امید رکھنا در حقیقت امید نہیں،بلکہ دھوکا ہے جو گناہ کرنے والی خود اپنے آپ کو دے رہی ہے۔اللہ پاک سے رحمت و مغفرت کی امید ضرور رکھنی چاہیے لیکن اس کے لئے نیک اعمال کرنے بھی ضروری ہیں۔حقیقی امید تو یہی ہے کہ اللہ پاک کی رضا والے کام کر کے اس سے جنت کی امید رکھی جائے جیسے کسان بیج بو کر پھر فصل کاٹنے کی امید رکھتا ہے۔
نیک اعمال کا رسالہ:
اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور اپنی زندگی اللہ پاک کی فرمانبرداری والے کاموں میں گزارنے کے لئے امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے نیک کاموں کا مجموعہ بنام نیک اعمال عطا فرمایا ہے۔اسلامی بہنوں کے لئے بھی 63 نیک اعمال موجود ہیں۔نیک اعمال کا رسالہ مکتبۃ المدینہ سے بہت ہی کم قیمت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ان شاءاللہ ان پر عمل اور روزانہ اس رسالے میں دیئے گئے خانے پُر کر کے اپنے اعمال کا جائزہ لینا اللہ پاک کی رحمت سے جنت ملنے کا سبب بنے گا۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں نفسانی خواہشات سے بچنے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
نفس و شیطاں کے شر سے تو محفوظ رکھ
اور گناہوں سے ہر دم بچا یاخدا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ ٹیچر ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مجلس جامعۃ المدینہ گرلز
[1] ترمذی،4/208،حدیث:2467
[2] مرقاۃ المفاتیح،9/141،142،تحت الحد یث:5289ملتقطاً
[3] شعب الایمان،7/351،حدیث:10549
[4] تفسیر ابنِ کثیر،8/106
[5] ذم الہوی،ص51،رقم:122
[6] مصنف ابن ابی شیبہ،19/383،حدیث:36407
[7] شعب الايمان،7 /370،حدیث:10616
[8] شعب الایمان،1/471،حدیث:745
[9] مکاشفۃ القلوب،ص239
[10] مکاشفۃ القلوب،ص240
[11] مکاشفۃ القلوب،ص240
[12] اشعۃ اللمعات،4/251
[13] اشعۃ اللمعات،4/252


Comments