موضوع:شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ،ضیائیہ،عطاریہ(قسط 6)
6
بہر شبلی شیر حق دنیا کے کتوں سے بچا
ایک کا رکھ عبد واحد بے ریا کے واسطے
مشکل الفاظ کے معنی:بہر:واسطے۔شیرِ حق:سچائی پر ڈٹے رہنے والا شیر۔دنیا کے کتے:لالچی،حریص۔عبدِ واحد:ایک بندہ۔ بے ریا: مخلص۔
مفہومِ شعر:یا اللہ!مجھے حضرت ابوبکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ کے صدقے دنیا کے حریص لوگوں سے بچا اور شیخ عبدُ الواحد تمیمی رحمۃ اللہ علیہ کے صدقے صرف اپنے ہی دَر کا بنا رہنے کی توفیق عطا فرما۔
شرح:اس شعر میں سلسلۂ عالیہ،قادریہ،رضویہ،عطاریہ کے 12ویں اور 13ویں شیخِ طریقت یعنی حضرت ابوبکر شبلی اور حضرت عبد الواحد تمیمی رحمۃ اللہ علیہما کے وسیلے سے دعا کی گئی ہے۔پہلے مصرعے میں بڑی مہارت کے ساتھ شیرِ حق کے مقابلے میں دنیا کے کتے کا لفظ لایا گیا،جوکہ ایک دوسرے کا متضاد ہے،جبکہ دوسرے مصرعے میں عبدِ واحد یعنی ایک خدا کا بندہ کے ساتھ دعائیہ کلمہ ایک کا رکھ لانے میں مناسبت یہ ہے کہ دونوں کلمات میں لفظ ایک کا معنی ہے۔مذکورہ دونوں عظیم ہستیوں کا مختصر تعارف پیشِ خدمت ہے۔
حضرت شیخ ابو بکر شبلی:
آپ کی ولادت 247ھ میں بغداد شریف کے قریب سامرہ نامی علاقے میں ہوئی اور یہیں آپ نے 27 ذوالحجۃ الحرام 334ھ کو 88 سال کی عمر میں وفات پائی۔آپ کا نام جعفر اور کنیت ابو بکر ہے۔شبلہ یا شبیلہ کے علاقے میں رہنے کی وجہ سے آپ کو شبلی کہا جاتا ہے۔([1])
آپ حضرت شیخ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید و خلیفہ ہیں۔آپ کو اللہ پاک کے مبارک نام سے اس قدر محبت تھی کہ جہاں کہیں لفظ اللہ لکھا دیکھتے فوراً چوم لیتے اور بڑی تعظیم کرتے۔([2])عبادات و ریاضات میں آپ کا مقام بہت ہی بلند ہے۔آپ کے شوقِ عبادت کا حال یہ تھا کہ ابتدائے مجاہدہ میں آپ اپنی آنکھوں میں نمک ڈال لیا کرتے تھے تاکہ ساری رات جاگتے رہیں اور آنکھوں میں نیند نہ آئے۔([3])آپ نے 30 سال علمِ دین حاصل کرکے فقہ و حدیث میں بُلند مقام حاصل کیا۔آپ مالکی تھے،حدیثِ پاک کی مشہور کتاب مُؤَطا امام مالک آپ کو زبانی یاد تھی۔([4])
حضرت شیخ عبد الواحد تمیمی:
حضرت شیخ ابوالفضل عبد الواحد تمیمی بن عبد العزیز تمیمی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے عظیم بزرگ،صوفیِ با صفا اور ولی کامل تھے۔آپ کا تعلق عرب شریف کے قبیلے بنو تمیم سے تھا،اس لئے آپ کو تمیمی کہا جاتا ہے۔یہ وہی مبارک قبیلہ ہے جس سے مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے۔
آپ نے حضرت ابوبکر شبلی رحمۃ اللہ علیہ سے شرفِ بیعت حاصل کیا اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔آپ عبادت و ریاضت میں یگانۂ روزگار اور عادات و اطوار میں اپنے پیر و مرشد کے آئینہ دار تھے۔فقہ میں آپ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مقلد تھے۔آپ نے 26 جمادی الثانی 410ھ کو وصال فرمایا اور آپ کا مزار مبارک بغداد شریف میں موجود ہے۔
اللہ پاک ان بزرگوں کے وسیلے سے ہمیں نفسانی خواہشات و ریاکاری سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* کراچی
[1] تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ،ص 202
[2] تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ،ص 205
[3] تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ،ص 201
[4] تذکرہ مشائخِ قادریہ رضویہ،ص 202
Comments