موضوع:شرح قصیدۂ معراجیہ(قسط 11)
43
یہی سَمَاں تھا کہ پَیکِ رحمت خبر یہ لایا کہ چلئے حضرت
تمہاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:سماں:منظر۔پیکِ رحمت:رحمت کا قاصد یعنی فرشتہ۔کشادہ:کھلے۔کلیم:حضرت موسیٰ علیہ السلام ۔
مفہومِ شعر:ابھی یہی نظارہ قائم تھا کہ رحمت کا فرشتہ پیغام لے کر آیا کہ حضرت!تشریف لے چلئے۔اللہ پاک نے اپنا دیدار کروانے کے لئے آپ پر وہ راستے بھی کھول دیئے ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لئے بند تھے۔
شرح:اب عرش سے آگے بڑھنے کا مرحلہ اور کلیم وحبیب کا مختصر سا تقابل بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ انہی مبارک لمحات میں جبکہ حضور عرش پر اپنی ضیائیں لٹا رہے تھے اور ملک وفلک آپ پر قربان ہوئے جا رہے تھے رحمت کا فرشتہ پیغام لے آیا کہ حضرت چلئے!اللہ پاک نے اپنا دیدار کروانے کے لئے آپ پر وہ راستے بھی کھول دیئے ہیں جو حضرت موسیٰ کے لئے بند تھے،جن راستوں پر اُنہیں چلنے نہ دیا گیا وہ آپ کے لئے کھلے ہوئے ہیں،ان کو لَنْ تَرانِی(تم ہرگز مجھے نہیں دیکھ سکتے)کا پیغام تھا مگر آپ کو انتہائی قرب کے ساتھ وصال میسر ہوگا،کیونکہ صرف محبوب ہی کی آنکھیں ہیں جو اپنے رب کریم کا جلوہ دیکھنے کی تاب رکھتی ہیں۔کسی بھی نبی کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا جو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو عطا ہوا،چنانچہ جب رفرف بھی بہت سے حجابات و مقامات طے کرا کے رخصت ہوگیا تو حضور تنہا دربارِ عالی میں پہنچے اور ”اُدْنُ مِنِّی“ کی دل آویز صدا سے نوازے گئے۔
44
بڑھ اے محمد قریں ہو احمد قریب آ سرورِ مُمَجَّد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی یہ کیا سَمَاں تھا یہ کیا مزے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:قریں:قریب۔سرورِ ممجد:بزرگی والے سردار۔ندا:پکار۔
مفہومِ شعر:حضور جب حجاباتِ عظمت کو طے کرتے ہوئے خلوت گاہِ قدس میں پہنچے تو آپ کو جس انداز میں قریب آنے کے لئے پکارا گیا،اس پکار پر قربان جائیں،اس ندا میں جو مزہ اور لطف ومحبت کے راز اور اشارے پوشیدہ تھے انہیں لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
شرح:حجاباتِ عظمت سے آگے جب حضور حریمِ کبریا میں پہنچے تو آپ کو ندا دی گئی:اے احمد!قریب آئیے!حدیثِ پاک میں ہے:کسی پکارنے والے نے ابوبکر کی آواز میں مجھے پکارا: ٹھہرجائیے!آپ کا رب صلوٰۃ فرما رہا ہے،ابھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ کیا ابوبکر مجھ سے پہلے یہاں موجود ہے؟کہ اتنے میں علو اعلیٰ سے پکارا گیا:اے مخلوق میں سب سے بہترین!قریب آئیے!اے احمد!اے محمد!قریب آئیے! حبیب کو نزدیک آنا چاہیے۔([1])چنانچہ،
حضور قریب ہوئے اور بہت ہی نزدیک سے رب کا دیدار کیا، جیسا کہ ایک روایت میں حضور کا فرمان ہے:میں نے اپنے رب کو بہت اچھی صورت میں دیکھا ہے،پھر اس نے میرے دونوں کندھوں کے درمیان اپنے دستِ قدرت کو رکھا تو میں نے اس سے اپنے سینے میں ٹھنڈک محسوس کی اور جان لیا جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔([2])
45
تَبَارَکَ اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوشِ لَنْ تَرَانِی کہیں تقاضے وِصال کے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:تبارک اللہ:اللہ برکت والا ہے۔ زیبا:لائق/جچتی۔لن ترانی:(اے موسیٰ!)تو ہرگز مجھے نہ دیکھ سکے گا۔تقاضا:مطالبہ۔وصال:ملاقات۔
مفہومِ شعر:اے اللہ!تو بڑا ہی برکت والا ہے اور یقیناً بے نیازی تجھی کو لائق ہے کہ کہیں تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طلبِ دید کے باوجود فرمایا جا رہا ہے کہ تو ہر گز مجھے نہیں دیکھ سکے گا اور کہیں خود اپنے محبوب کو اپنا دیدار کروانے کے لئے جبرئیل و براق کو بھیجا جارہا ہے۔
شرح:قرآنِ مجید میں ہے:
قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْۚ- (پ 9،الاعراف:143)
ترجمہ:تو اس نے عرض کی:اے میرے رب!مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
(اللہ نے)فرمایا:تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا۔
حاشیہ صاوی میں ہے:جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ پاک کا کلام سنا تو کلامِ ربانی کی لذت نے انہیں اللہ پاک کے دیدار کا مشتاق بنا دیا۔چنانچہ انہوں نے عرض کی:اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں،یعنی صرف دل یا خیال کا دیدار نہیں مانگتا بلکہ آنکھ کا دیدار چاہتا ہوں کہ جیسے تو نے میرے کان سے حجاب اٹھا دیا اور میں نے تیرا کلامِ قدیم سن لیا ایسے ہی میری آنکھ سے پردہ ہٹا دے تاکہ تیرا جمال دیکھ لوں۔ مگر ارشاد ہوا:تم دنیا میں میرا دیدار کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔([3])
یہ اللہ پاک کی شانِ بےنیازی ہے کہ جنابِ کلیم کو طلب کے باوجود انکار فرما دے اور چاہے تو حبیب کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو خود اپنی بارگاہ میں طلب فرمالے،پھر خود ہی حضرت کلیم کی خواہش کا لحاظ رکھتے ہوئے اپنا نہ سہی مگر ان آنکھوں کا دیدار عطا فرمادے جنہوں نے اس کی ذاتِ باری کا دیدار کیا۔
یاد رہے کہ حضرت موسیٰ کی طلب پر انہیں یہ نہیں کہا گیا کہ ہم تمہیں دیدار نہیں کروا سکتے!کیونکہ اس میں مجبوری ہے جو اللہ پاک کے شایانِ شاں نہیں ہے،لہٰذا فرمایا گیا کہ ”تم مجھے نہیں دیکھ سکتے!“یعنی ہم تو دکھانے کو تیار ہیں مگر تمہاری آنکھوں میں وہ طاقت نہیں کہ تم ہمیں بےحجاب دیکھ سکو، ہمیں بے حجاب دیکھنے کی طاقت وصلاحیت تو صرف ایک ہی آنکھ میں ہے اور وہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی آنکھ ہے۔اس بات کو حضرت شیخ جمالی دہلوی سہروردی رحمۃُ اللہ علیہ نے کیا خوب بیان کیا ہے:
موسیٰ زہوش رفت بیک پرتو صفات
تو عین ذات می نگری در تبسمی
یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام جلوۂ صفاتی کی ایک تجلی سے ہی بےہوش ہوگئے مگر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم عین ذات کو دیکھتے رہے اور تبسم بھی فرماتے رہے۔
46
خرد سے کہدو کہ سر جھکالے گماں سے گزرے گزرنے والے
پڑے ہیں یاں خود جِہَت کو لالے کسے بتائے کدھر گئے تھے
مشکل الفاظ کے معانی:خرد:عقل۔یاں:یہاں کا مخفف۔ جہت: سمت۔لالے:فکر پڑنا۔
مفہومِ شعر:عقل کو کہہ دو کہ وہ سر جھکالے کہ جنہوں نے گزرنا تھا وہ گزر چکے ہیں،اب فکر کرنا چھوڑ دے یہاں تو خود شش جہت(آگے پیچھے،اوپر نیچے،دائیں بائیں)کو لالے پڑ گئے ہیں پھر وہ کیسے بتائے کہ آنے والے کدھر سے آئے اور کدھر گئے؟
شرح:حضور شبِ معراج لامکاں گئے،عالمِ بالا کی سیر کی،اس مقام تک پہنچے کہ جو شش جہت سے پاک ہے،یہاں،وہاں،کب کہاں؟ان تمام جہتوں اور سمتوں کی قید سے آزاد ہے،پھر عقل کی رسائی وہاں تک کیسے ممکن ہے؟لہٰذا عقل کے لئے عافیت اسی میں ہے کہ وہ حضور کی شان وعظمت کو تسلیم کر لے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ڈبل ایم اے(اردو،مطالعہ پاکستان)
گوجرہ منڈی بہاؤ الدین
Comments